اپنے خول سے باہر آنا
Al-Risala, January 1978, pp. 17–14
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں کہا گیا ہے کہ "زمین و آسمان کی تمام چیزیں خدا کی تسبیح کر رہی ہیں۔ مگر لوگ ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے (اسرار - ۴۳)۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وحی کے ذریعے جو حقیقت لفظوں میں بیان کی گئی ہے اسی کی آواز ساری کائنات میں غیر ملفوظ شکل میں بلند ہو رہی ہے۔ پھول اسی کی خوشبو اور رنگینی بکھیر رہے ہیں، ہوا اسی پیغام کو لے کر چل رہی ہے۔ ستارے اسی کی خبر رسانی کے لئے روشن ہیں۔ آسمان اسی کے اعلان کے لئے کھڑا ہوا ہے۔ درخت اور پہاڑ اور سمندر، تمام چیزیں اسی کے ابدی نغمے ہر آن نشر کر رہے ہیں۔ مگر یہ سب چیزیں خاموش زبان میں ہیں۔ انسان چونکہ اپنے آپ میں اتنا زیاوہ مشغول ہے کہ چپ کی زبان کو سن نہیں پاتا۔ اس لئے خدا کو نطق کی زبان میں اپنا کلام اتارنا پڑا۔
مگر قرآن حقیقت کے غیر ملفوظ نشریات الہی کو سننے کے لئے ایک ملفوظ رہنما ہے۔ خدا کو کوئی شخص اسی وقت پاتا ہے جب کہ وہ خاموش وحی کو سننے لگے، جب چھپی ہوئی کائنات میں وہ خدا کو دیکھنے لگے۔ جب غیر محسوس دنیا میں وہ اپنے لئے زندگی کا سامان پالے۔ یہ مقام آدمی کو اس وقت ملتا ہے کہ وہ مادیات سے اوپر اٹھ جائے، جب وہ اپنی ذات کے خول سے باہر آکر سانس لینے لگے۔
یہ معرفت کی وہ سطح ہے جہاں اپنی سطح پر جینے کا نام کفر اور خدا کی سطح پر جینے کا نام اسلام ہوتا ہے۔ اپنے اوپر اس حد تک قابو پالے کہ اپنے آپ کو اپنے لاشعور سے جدا کر کے دیکھ سکے تو وہ اپنے آپ کو پا لیتا ہے۔ بعد ایک اور زندگی شروع ہوتی ہے۔ وہ لاشعور کے زیر اثر زندگی گزارنے کے بجائے شعور کے تحت زندگی گزارنے لگتا ہے۔ وہ اپنے آپ سے باہر آکر اپنے آپ کو دیکھ لیتا ہے۔ وہ اپنی ذات سے گزر کر خدا تک پہنچ جاتا ہے۔ ہر آدمی جو اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، بہت جلد اس کے گرد افکار اور جذبات کا ایک خود ساختہ خول بن جاتا ہے اس قری فکری خول سے دھیرے دھیرے وہ اتنا مانوس ہو جاتا ہے کہ اس کو وہ حقیقت کے روپ میں دیکھنے لگتا ہے۔ اپنے ذاتی احساس کو خارجی حقیقت کے ہم معنی سمجھ لیتا ہے۔ کسی آدمی کے لئے سچائی تک پہنچنے کی سب سے بڑی رکاوٹ یہی ہے۔ جب تک وہ اس خول کے اندر ہے، وہ صرف اپنے آپ کو جانتا ہے۔ اس خول سے نکلنے کے بعد اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایک اور برتر ہستی ہے جو اس کی اپنی ذات کے مقابلہ میں زیادہ حقیقی ہے ۔ وہ زوال کے مقابلہ میں کمال سے آشنا ہوتا ہے، وہ عجز کے مقابلہ میں قدرت کو پا لیتا ہے۔
اب آدمی کی سوچ اور چاہت کا مرکز اس کی ذات کے بجائے خالق کی ذات بن جاتی ہے۔ وہ اپنی پرستش کے دائرہ سے نکل کر خدا کی پرستش کے دائرہ میں داخل ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ سے بلند ہو کر اپنے رب کو پا لیتا ہے۔ آدمی جب تک اپنی ذات کے خول سے نہ نکلے وہ نہ اپنے آپ کو سمجھ سکتا ہے اور نہ اپنے خدا کو۔ نفسیاتی گہر ہوں سے آنا د انسان :
خدا کا وہ بندہ جس سے خدا خوش ہوگا اور اس کو اپنی جنت میں داخل کرے گا، اس کو قرآن میں نفس مطمئن (فجر ۲۷)
کہا گیا ہے۔ نفس مطمئن سے مراد پیچیدگیوں سے آزاد روح (COMPLEX-FREE SOUL) ہے۔ آدمی اس دنیا میں جو رویہ ظاہر کرتا ہے، وہ کچھ نفسیاتی پیچیدگیوں کے تحت ہوتا ہے۔ کچھ دنیوی کامرانی حاصل ہو جائے تو وہ اپنے کو بڑا سمجھنے لگتا ہے۔ دنیوی محرومی لاحق ہو تو احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے کسی سے دل چسپی ہو تو آدمی کو اس کی ہر بات اچھی لگتی ہے۔ کسی سے ان بن ہو جائے تو اس کی ہر بات آدمی کو اچھی دکھائی دیتی ہے۔ جس سے کوئی امید وابستہ ہو، اس کے آگے آدمی جھکتا ہے۔ جس سے کسی نفع کی امید نہ ہو، اس سے بے نیازی برتتا ہے۔ جس محفل میں آدمی کی " اننا " کو تسکین ملے، وہاں وہ خوب اپنے جوہر دکھاتا ہے۔ جہاں انا کو تسکین ملنے والی نہ ہو، وہاں جانے کی زحمت بھی گوارا یہ سب زیادہ تر لاشعور کے تحت ہوتا ہے۔ مختلف عوامل کے اثر سے آدمی کا جو ایک ذہن بن جاتا ہے، اس کے تحت وہ تمام کام کرتا رہتا ہے۔ وہ اپنے احساسات کے پرلے سے باہر آ کر خالص بے آمیز شکل میں رائے قائم نہیں کر پاتا۔ کا ہر رو یہ متاثر ذہن کے تحت نکلا ہوا رویہ ہوتا ہے نہ کہ حقیقتاً آزاد رویہ۔
ایمان لانا گویا اپنے آپ کو ہر قسم کے اضافی محرکات اور مصنوعی رجحانات سے اوپر اٹھانا ہے۔ جب آدمی حقیقی معنوں میں اپنے آپ کو خدا کے حوالے کرتا ہے تو وہ نفسیاتی گرہوں سے آزاد انسان بن جاتا ہے۔ وہ خالص فطری حالت میں اشیاء کو دیکھنے لگتا ہے۔ وہ اپنے آپ سے الگ ہو کر اپنا مشاہدہ کر لیتا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جس کو قرآن میں نفس مطمئنہ کہا گیا ہے۔ یہ مقام کسی کو اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا جب تک وہ دنیوی علائق اور مادی محرکات سے اوپر نہ اٹھ جائے۔ حتی کہ وہ ان داعیات کو بھی دیکھنے لگے جو لاشعور کے تحت عمل کرتے ہیں اور عام حالات میں خود متعلقہ شخص کو بھی ان کی خبر نہیں ہوتی۔ جب تک ایسا نہ ہو، خدا کے ساتھ آدمی کا مطمئن نہیں ہو سکتا۔ خدا کی شان صمدیت ہے۔ وہ ہر قسم کی پیچیدگیوں سے ماورا ہے۔ وہ واقعات کو ان کی بے آمیز صورت میں دیکھتا ہے۔ اس لئے خدا کی معیت اسی بندے کو حاصل ہو سکتی ہے جو اپنے اندر اس اخلاق خداوند ی کو پیدا کرے۔ اس کے برعکس جو آدمی اپنے لاشعور کی گرہوں میں پھنسا ہوا ہو، جو اپنی ذات کے مدار سے باہر نہ نکل سکے، وہ خدا کو نہیں پاسکتا، وہ " خدا کے ساتھ چلنے والا " نہیں بن سکتا۔
نفس مطمئن کے مقام پر پہنچنے کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو حدیث میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے: اتقوا فراسة المؤمن فانه ينظر بنور الله مومن کی ہوشیاری سے بچو، کیوں کہ وہ خدا کے نور سے دیکھتا ہے۔ جب آدمی نفسیاتی گرہوں سے آزاد ہو جائے تو وہ حالت فطری کو پہنچ جاتا ہے۔ وہ مکمل طور پر بے آمیز رائے قائم کرنے کے قابل بن جاتا ہے۔ وہ محبت اور نفرت، خوف اور امید، عزت اور بے عزتی، فائدہ اور نقصان کے احساسات کے تحت نہیں سوچتا۔ وہ ان تمام محرکات سے اوپر اٹھ جاتا ہے جو آدمی کے گرد ہالہ بن کر اس کی عقل کو گھیر لیتے ہیں اور اس کو صحیح رائے تک پہنچنے نہیں دیتے۔ ایسا شخص معاملات میں مکمل طور پر غیر جذباتی اور حقیقت پسندانہ رائے قائم کرتا ہے۔ کی نگاہیں تمام مصنوعی دیواروں کو توڑ کر حقائق کو دیکھ لیتی ہیں۔ وہ واقعات کا مشاہدہ اس سطح سے کرنے لگتا ہے جہاں سے خدا کا ل اور ابدی شکل میں ان کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ جو اس مقام پر پہنچ جائے، اس کی رائے لازماً صحیح ہوگی۔
جو شخص صحیح رائے قائم کرنے کی صلاحیت پیدا کرے، اس کی طاقت کا کون مقابلہ کر سکتا ہے۔ رزقِ رب :
ایمان زندگی کی حالت ہے اور کفر موت کی حالت (انعام ۔ ۱۲۲) ہر آدمی حقیقتاً ایک مردہ آدمی ہے، وہ زندہ آدمی اس وقت بنتا ہے جب کہ وہ ہدایت کی روشنی کو پالے۔ جب خدا کی طرف سے اس کو رزق رب پہنچنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں رزق کے دو دستر خوان کھولے ہیں ۔ ایک مادی دستر خوان جس میں غلہ اور سبزی اور پھل اور گوشت جیسی چیزیں ہیں۔ یہ حیوانی رزق ہے۔ اس رزق میں حصہ پانا ایسا ہی ہے جیسے کسی جانور کو ایک اچھی چراگاہ مل جائے یا کسی بھیڑیے کو اپنے ناشتہ کے لئے عمدہ گوشت حاصل ہو جائے۔ اگر کسی نے اپنے لئے ہر قسم کے رزق کی جمع کرنے ہوں تو یہ زیادہ سے زیادہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے حیوانی سطح کو پا لیا ہے۔ مگر اعلیٰ انسانی سطح کا درجہ اس سے آگے ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی کو خدا سے رزق ملنے لگے۔ جب مخلوقات کے بجائے خود خالق اس کے رزق کا سر چشمہ اسی لئے آپ نے فرمایا :
ان ربی یطعمنی ویسقینی میرا رب مجھے کھلاتا، اور پلاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی کسی نہ کسی رزق پر جی رہا ہے۔ رزق کے بغیر زندگی اس دنیا میں ممکن نہیں۔ کفر کی تعریف، اپنی حقیقت کے اعتبار سے کی جائے تو وہ یہ ہوگی ____ کفر کی حالت یہ ہے کہ آدمی موجودہ دنیا کے مادی رزق پر جی رہا ہو۔ اور اسلام کی حالت یہ ہے کہ آدمی اپنے کو اتنا اونچا اٹھائے کہ خود خالق کائنات سے اس کو رزق فیضان الہی کی ابدی دنیا میں وہ اپنے لئے زندگی کا سامان پالے۔