فکری ڈھانچہ
Al-Risala, March 1978, pp. 29–42
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر دور کا ایک فکری ڈھانچہ ہوتا ہے۔ آدمی اسی فکری ڈھانچے میں سوچتا ہے اور اسی کے مطابق چیزوں کو اپنے لئے قابل فہم بناتا ہے۔ روسی کمیونسٹ پارٹی کی بیسویں کانگریس (۱۹۵۶) میں خروشیچف، نے اشتراکی دنیا کے "جہنی حالات" کا انکشاف کیا تھا۔ اس کے بعد سابق امریکی کمیونسٹ ہورڈ فاسٹ ( ) نے کمیونزم سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ”میں خود اپنے فکری ڈھانچے میں کمیونسٹ بنا۔ “ مارکس کی نظریاتی تشریح نے اس کو کمیونسٹ نہیں بنایا تھا۔ وہ ایک انسانیت دوست آدمی تھا اور اس ذہن کے تحت کمیونسٹ بن گیا تھا کہ یہ ظلم اور لوٹ کھسوٹ کو ختم کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ مگر جب اس کو معلوم ہوا کہ "مزدور ڈکٹیٹر شپ میں پہلے سے بھی زیادہ" شدید شکل میں سماجی ظلم جاری ہے، تو اس نے کمیونزم کو چھوڑ دیا۔ ہورڈ فاسٹ اپنے فکری ڈھانچے ہی میں کمیونزم کو لے سکتا تھا۔ جب کمیونزم اس کو اپنے فکری ڈھانچے میں نہیں ملا تو وہ اس کے لئے قابل قبول نہ رہا۔ قدیم زمانہ میں عام طور پر دو قسم کے فکری ڈھانچے دنیا میں رائج تھے۔ ایک مشرکانہ، دوسرا فلسفیانہ۔ مشرک کا نہ فکری ڈھانچہ اس مفروضہ پر عمل کرتا تھا کہ دنیا کی ہر نمایاں چیز اپنے اندر خدا کا ایک "انس" لئے ہوئے ہے، وہ خدائی ہستی کی ایک توسیع ہے۔ اسی طرح فلسفیانہ فکر ذہنی قیاسات پر قائم تھا۔ یونان میں اس فلسفہ نے ترقی پا کر قیاسی منطق (SYLLOGISM) پیدا کی۔ پچھلے زمانہ میں پیغمبروں کے لائے ہوئے دین میں جو خرابیاں پیدا ہوئیں، وہ انھیں فکری ڈھانچوں کے رواج عام کی وجہ سے تھیں۔ اس کی ایک مثال موجودہ مسیحیت ہے۔ حضرت مسیح وہی سادہ اور فطری دین لے کر آئے جو قرآن میں ہم کو نظر آتا ہے۔ مگر آنجناب کے بعد آپ کے پیرووں نے زمانی فکری ڈھانچے سے متاثر ہو کر مسیحیت کو شرک اور فلسفہ کا ایک آمیزہ بنا دیا۔ "ابن اللہ"، کا تصور مشرکانہ فکر سے متاثر ہونے کی وجہ سے مسیحیت میں شامل ہوا۔ اسی طرح کفارہ کے عقیدہ کے لئے قدیم فلسفیانہ فکر نے زمین فراہم کی۔
ساتویں صدی میں اسلام کے عظیم انقلاب کے باوجود مشرکانہ اور فلسفیانہ فکری ڈھانچہ دنیا سے ختم نہ ہو سکے۔ اس کی وجہ سے اسلام، مختصر ابتدائی وقفہ کے بعد، بار بار مضاہات (تو بہ ۳۰) کا شکار ہوتا رہا۔ قرآن کی صورت میں اسلام کا الہی متن اگر چہ مکمل طور پر محفوظ تھا، مگر مسلمان قومیں عمل اسلام کو مروجہ افکار کے نقشہ میں ڈھالتی رہیں۔ زندہ اور مردہ بزرگوں کا مرکز عقیدت بننا جو مختلف صورتوں میں اسلام میں رائج ہوا، وہ مشرکانہ فکر سے متاثر ہونے کی مثال ہے۔ اسی طرح علم فقہ اور علم کلام، قیاسی منطق سے متاثر ہونے کی مثال۔ موجودہ زمانہ میں اسلام اس قسم کی تیسری اثر پذیری سے دوچار ہوا ہے۔ یہ "نظامی طرز فکر" ہے۔ انیسویں صدی میں، صنعتی انقلاب کے پیدا کردہ حالات کے نتیجہ میں، سیاسی اور معاشی اصطلاحوں میں سوچنے کا رواج ہوا تو مسلمانوں نے اسلام کو بھی سیاسی نظام اور معاشی نظام کی صورت میں پیش کرنا شروع کر دیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ اسلام جو حقیقتہ "تعمیر آخرت کا موضوع تھا، تعمیر دنیا کا موضوع بن کر رہ گیا۔
بیسویں صدی کے نصف آخر میں پہلی بار یہ واقعہ پیش آیا ہے کہ دنیا کا مروجہ فکری ڈھانچہ اور قرآن کا فکری ڈھانچہ دونوں ایک ہوگئے ہیں۔ قرآن کا فکری ڈھانچہ برہانیات پر قائم ہے، وہ حقائق اور واقعات کی بنیاد پر بنتا موجودہ زمانہ میں سائنسی طرز فکر اس کی عملی صورت ہے۔ اس کے رواج نے تاریخ میں پہلی بار انسانی فکر اور قرآنی فکر کی دوری کو ختم کر دیا ہے۔ انسان کی فکری زمین آج وہی برہانیاتی زمین ہے جو قرآن کی زمین ہے۔ آج یہ ضرورت نہیں کہ اسلام کو لوگوں کے لئے قابل فہم بنانے کی خاطر کسی دوسرے فکری ڈھانچہ کا سہارا لیا جائے۔ آج ہم کو صرف یہ کہنا ہے کہ قرآن کو اس کی اپنی برہانیاتی زبان (نسار ۳، ۱) میں پیش کر دیں۔ یہی اس کو لوگوں کے نزدیک قابل قبول بنانے کے لئے کافی ہوگا۔ ایک پروفیسر سے راقم الحروف کی اسلام کے بارے میں گفتگو ہورہی تھی۔ میری زبان سے نکلا: ISLAM MEANS REALISM - اسلام کا مطلب ہے، حقیقت پسندی۔ وہ اسلام کی اس تشریح سے بے حد متاثر ہوئے۔ انھوں نے کہا: "اسلام اگر حقیقت واقعہ سے مطابقت کا دوسرا نام ہو، تو کون ہوگا جو اس کا انکار کرے گا۔ اسلام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ آدمی صورت واقعہ کو تسلیم کرلے۔ سوچ کا معاملہ ہو یا عمل کا، آدمی وہی کرے جو عالم خارجی کے تقاضوں کے مطابق ہو: أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کسی اور طریقہ کو چاہتے ہیں وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً (آل عمران - ۸۳) حالانکہ اسی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے خوشی سے اور ناخوشی سے۔
سائنس اس قسم کے ایک "دین" کے لئے بہترین ذہنی زمین فراہم کرتی ہے۔ سائنس، یعنی علوم قطعیہ (EXACT SCIENCES) اپنی عین فطرت کے مطابق قطعیت فکر (EXACT THINKING) یا صحت فکر (پی سائنز ڈھنگ) پیدا کرتے ہیں۔ اس قسم کے ایک ذہن کے لئے اسلام کی بات اسی طرح قابل فہم بن جاتی ہے جس طرح ایک قانون پسند آدمی کے لئے ایک قانونی نکتہ۔
کہا جاتا ہے کہ ایک بار کسی مجلس میں خدا کے وجود پر بحث ہورہی تھی۔ مسئلہ طے نہیں ہو رہا تھا۔ بستی میں ایک جب بحث لمبی ہوگئی تو کچھ لوگ ان کے پاس گئے اور کہا کہ آپ ہماری مجلس میں چلیں اور ہماری مدد فرمائیں ۔ وہ اپنے حجرے سے نکل کر آئے۔ مگر مجلس کے سامنے انھوں نے کوئی لمبی تقریر نہیں کی۔ وہاں پہنچ کر انھوں نے یہ آیت پڑھی: اَفَی اللّٰہِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمٰوَاتِ وَالارضِ اور اٹھ کر چلے آئے، بحث ختم ہوگئی۔ لوگ خدا کے وجود کے قائل ہوگئے۔
سیکڑوں برس پہلے جس چیز نے لوگوں کو مطمئن کیا تھا، وہ آیت کا ادبی زور یا قیاسی استدلال تھا۔ یعنی یہ کہ جب ایک کائنات ہے تو اس کا پیدا کرنے والا بھی ہونا چاہئے، تاہم آج کے انسان کے لئے اس کے اندر ایک زبردست واقعاتی استدلال موجود ہے۔ "فاطر" کے معنی عربی زبان میں ہیں، پھاڑنے والا۔ آج کا انسان جس زمین و آسمان سے واقف ہے، وہ ایک پھیلی ہوئی کائنات ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک ایسی کائنات جو ابتدا کو سکڑی ہوئی تھی۔
پھر چاڑی گئی۔ اس وقت اس کے تمام اجزار (ٹائم) اندر کی طرف بے پناہ طاقت کے ساتھ کھنچے ہوئے تھے۔ مجموعہ مادہ (سپرائیم) کے منشا کا پھٹ کر بیرونی خلا میں منتشر ہونا کسی خارجی قوت کی مداخلت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ پندرہ ملین سال پہلے اس سپرائیم میں اخراج طاقت (ENERGY RELEASE) کا ایک واقعہ ہوا اور اس کے بعد کائنات اپنے چاروں طرف تیزی سے پھیلنے لگی ________ کل کا انسان جس خدا کی ہستی کو قیاس کے تحت سمجھتا تھا، آج کے انسان کے لئے ممکن ہو گیا ہے کہ وہ اس کو واقعات و حقائق کی روشنی میں سمجھ لے۔ عرب میں اسلام کو سر بلند کرنے کے لئے جو طریق عمل اختیار کیا گیا، اس کو قرآن میں اطراف ارض کو گھٹانے کے عمل (رعد ۴۳) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی حریف سے یکبارگی لڑ پڑنے کے بجائے دھیرے دھیرے اس کی دنیا میں یہ بات قدیم زمانہ میں زیادہ تر اخلاقی طور پر ہی سمجھی جاسکتی تھی۔ آج وہ ایک ٹھوس حقیقت کے طور پر قابل فہم بن گئی ہے۔ کیونکہ آج کا انسان جن بڑے بڑے منصوبوں کا تجربہ کر رہا ہے، وہ اس کے سواکسی اور طریقے سے مکمل ہی نہیں کئے جاسکتے۔
والٹر شیرا (WALTER M. SCHIRRA) ایک امریکی خلا باز ہے۔ وہ انسان سوار تین خلائی کشتیوں پر بالائی خلا کا سفر کر چکے ہیں۔ ستمبر ۱۹۷۲ء میں وہ ایک عالمی دورہ کے تحت ہندوستان آئے تھے۔ ایک تقریر میں انھوں نے امریکہ کی خلائی مہم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:
THE TECHNOLOGY THAT ESSENTIALLY PERMITTED US TO GET INTO SPACE WAS A NIBBLING PROJECT. WE DID ONE THING AT A TIME --- WE TOOK SMALL STEPS INSTEAD OF GIANT STEPS. THE GIANT STEP WAS FINALLY TAKEN, OF COURSE. Link weekly (Delhi) October 22, 1972 وہ ٹیکنالوجی جس نے بنیادی طور پر ہم کو خلا میں داخل ہونے کا موقع دیا، وہ تھوڑا تھوڑا آگے بڑھنے کا منصوبہ ہم نے ایک وقت میں صرف ایک کام کیا۔ ہم نے چھوٹے چھوٹے اقدامات کئے ۔ ایسا نہیں کیا کہ یکبارگی بڑا قدم بلاشبہ بڑا قدم اٹھایا گیا۔ مگر سب سے آخر میں۔
اسلام نے تدریجی عمل کی تلقین کی تھی۔ مگر شاعری اور تلوار کے زمانہ کا انسان اس کو پوری طرح سمجھ نہیں سائنس کے دور میں اس قسم کا عمل ایک ایسی تکنیکل ضرورت بن چکا ہے جس کے بغیر کوئی نتیجہ خیز کام کیا ہی نہیں جا سکتا۔ آج کے سائنسی انسان کے لئے اسلام کا طریق عمل، پچھلے دور کے انسان کے مقابلہ میں، زیادہ بہتر طور پر قابل فہم بن چکا ہے۔
۱۹۶۵ کی بات ہے ۔ لکھنو میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ انھوں نے فلسفہ میں ایم ۔ اے کیا تھا۔ اور برٹرینڈ رسل پر ریسرچ کی تھی۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وہ پورے طور پر ملحد ہو چکے تھے۔ ایک روز گفتگو کے دوران انھوں نے کہا:
خدا کو ثابت کرنے کے لئے آپ کے پاس کیا شیئرن (معیار استدلال) کیا ہے ۔
میری زبان سے نکلا ؛ " وہی کری ایٹر جن کو آپ کے پاس کوئی چیز ثابت کرنے کے لئے ہو۔ " ایک جملہ انھوں نے کہا۔ ایک جملہ میں نے۔ اور اس کے بعد گفتگو ختم ہوگئی۔ اس کی وجہ مخاطب کا سائنٹفک ذہن تھا۔ وہ جانتے تھے کہ سائنس نے جو دنیا دریافت کی ہے، وہ اتنی پیچیدہ ہے کہ کسی چیز پر بھی براہ راست دلیل قائم نہیں کی جاسکتی۔ ہمارے لئے بالواسطہ استدلال، بالفاظ دیگر استنباطی استدلال ، کے سوا چارہ نہیں اور خدا کے وجود کو ثابت کرنے میں عقل مشکلات صرف اس وقت تک ہیں جب تک براہ راست استدلال پر اصرار کیا جائے ۔ استدلال کو جائز استدلال تسلیم کرنے کے بعد خدا کے وجود کو ثابت کرنا اتنا ہی یقینی بن جاتا ہے جتنا کسی دوسری معلوم چیز کے وجود کو ثابت کرنا۔
یہ چند مثالیں ہیں جن سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ زمانہ کا ذہنی ڈھانچہ، ابتدائی زمین کی حد تک کتنا زیادہ اسلام کے موافق ہو چکا ہے۔ اسلام کا پیغام۔ آج کے انسان کے لئے، تاریخ کے تمام معلوم زمانوں سے زیادہ، قابل قبول ہو چکا ہے۔ آج ساری ضرورت صرف یہ ہے کہ اسلام کو ، تمام انسانی اضافوں سے الگ کر کے، اس کی بے آمیز شکل میں لوگوں کے سامنے رکھ دیا جائے۔ اس کے بعد اس واقعہ کو ظہور میں آنے سے کوئی چیز روک نہیں سکتی کہ "کوئی خیمہ یا مکان نہ بچے جہاں اسلام داخل نہ ہو گیا ہو " اور کوئی سینہ نہ ہو جس کے اندر اسلام کی فطری آواز نے اپنی جگہ نہ بنالی ہو۔
مسیح کی زبان سے آسمان کی بادشاہی اس بڑے جال کی مانند ہے جو دریا میں اور اس نے ہر قسم کی مچھلیاں سمیٹ لیں۔ اور جب بھر گیا تو اسے کنارے پر کھینچ لائے۔ اور بیٹھ کر اچھی اچھی تو برتنوں میں جمع کرلیں اور جو خراب تھیں پھینک دیں۔ دنیا کے آخر میں ایسا ہی ہوگا۔ فرشتے نکلیں گے اور شریروں کو راست بازوں سے جدا کر دیں گے ۔ اور ان کو آگ کی بھٹی میں ڈال دیں گے۔ رونا اور دانت پیسنا ہوگا۔ متی ۱۳ : ۵۰ - ۴۷