یا الہیٰ یہ ماجرا کیا ہے
Al-Risala, March 1978, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا ابوالکلام آزاد نے ۱۹۱۴ء میں "دار الارشاد" کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا تھا۔ ادارہ کے مقاصد بیان کرتے ہوئے انھوں نے لکھا: " ہمارے کاموں کی بڑی قسمیں صرف دو ہی ہیں۔ مسلمانوں کی داخلی اصلاح واحیائے علم و عمل، اور غیر قوموں میں اسلام کی تبلیغ۔ یہ دونوں کام بغیر کسی ایسی جماعت کی موجودگی کے انجام نہیں پا سکتے، جس قدر تحریکیں، انجمنیں، کانفرنسیں اور متفرق کوششیں بغیر اس کے ہوں گی، وہ اسی طرح ضائع ہو جائیں گی جس طرح اب تک ضائع ہو چکی ہیں"۔ البلاغ ۱۲ نومبر ۱۹۱۵ء چالیس سال پہلے مولانا آزاد کا یہ تجزیہ کس قدر مگر ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ دنوں بعد وہ ان دونوں کاموں کو چھوڑ کر "متفرق کوششوں" بالفاظ دیگر سیا کی لائن پر چل پڑے ۔ اگرچہ وہ آخر وقت تک یہی اعلان کرتے رہے کہ " میں نے ۶۴ سال کی عمر میں اپنے لئے جو راستہ مقرر کیا تھا ، اسی پر میں آج بھی قائم ہوں " یہی موجودہ زمانہ میں تقریباً تمام شخصیتوں کا حال وہ آغاز میں ایک خالص دینی مقصد لے کر مگر دھیرے دھیرے ان کی گاڑی سیاست کی پٹری پر اترگئی ۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر ایک آخر وقت تک یہی اعلان کرتا رہا کہ وہ اب بھی اسی مقصد پر قائم ہے جو اس نے شروعات میں اپنے سامنے رکھا تھا۔