Al-Risala · March 1978

وقت گزرنے کے بعد

Al-Risala, March 1978, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

۳۰ جنوری ۱۹۴۸ء کو مہاتما گاندھی کو گولی سے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس وقت سے ہر سال یہ دن ”یوم شہیداں“ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ۳۰ جنوری ۱۹۸۰ء کو اس موقع پر جو تقریبات ہوئیں، ان میں سے ایک یہ تھا کہ برطانوی نوبل انعام یافتہ لاروڈ فلپ نويل بیکر کو لیکچر کے لئے مدعو کیا گیا۔ اس اجتماع کی صدارت مسٹر اٹل بہاری باجپئی نے انجام دی۔

مسٹر باجپئی، جو اس وقت ہندوستان کے وزیر MR ATAL BEHARI VAJPAYEE, EXTERNAL AFFAIRS MINISTER, CONFESSED HERE TODAY THAT HE HAD FOUND MAHATMA GANDHI WANTING AT THE TIME OF INDIA'S PARTITION IN HIS APPROACH TO THE COMMUNAL QUESTION. The Times of India, 31.1.1978 وزیر خارجہ مسٹر اٹل بہاری باجپئی نے اپنی تقریر میں اعتراف کیا کہ اُس وقت اُن کا خیال تھا کہ مہاتما گاندھی نے ملک کی تقسیم کے وقت فرقہ وارانہ سوال پر جو موقف اختیار کیا، وہ قومی معیار سے گرا ہوا تھا۔ اگر اب وہ سمجھتے ہیں کہ مہاتما گاندھی کا موقف ہی درست تھا) حقیقت پسند رہنماؤں کے ساتھ اکثر یہ المیہ حارج ہیں، 1930ء میں ڈاکٹر شیام پرشاد مکرجی پیش آتا ہے کہ ان کے وقت کے پرجوش لوگ ان کے رمندو مہاسبھا کے پرسنل سکریٹری تھے۔ مسٹر باچی کی طدارتی تقریر کی جو رپورٹ اخبارات میں آئی ہے ، اس کا ایک حصہ یہ ہے :

موقف کو پست ہمتی کا موقف سمجھتے ہیں ، حالاں کہ بعد کے حالات ثابت کرتے ہیں کہ وہی زیادہ صحیح اور قابل عمل تھا ۔

Printed page