بناوٹی قصے
Al-Risala, March 1978, pp. 39–40
By Maulana Wahiduddin Khan
شیخ ابو یزید قرطبی فرماتے ہیں، میں نے یہ سنا کہ جو شخص ستر ہزار بار لا الہ الا اللہ پڑھے اس کو دوزخ کی آگ سے نجات ہے۔ میں نے یہ خبر سن کر ایک نصاب یعنی ستر ہزار کی تعداد اپنی بیوی کے لئے بھی پڑھا۔ اور کئی نصاب خود اپنے لئے پڑھ کر ذخیرہ آخرت بنایا۔
ہمارے پاس ایک نوجوان رہتا تھا جس کے متعلق مشہور تھا کہ وہ صاحب کشف ہے۔ جنت دو رُخ کا بھی اس کو کشف ہوتا ہے۔ مجھے اس کی صحت میں کچھ ترد د تھا۔ ایک مرتبہ وہ نوجوان ہمارے ساتھ کھانے میں شریک تھا۔ دفعتاً اس نے ایک چیخ ماری اور اس کا سانس پھولنے اس کی ماں مر چکی تھی۔ اس نے بتایا کہ میں نے ابھی اپنی ماں کو دیکھا ہے۔ وہ دوزخ میں جل رہی ہے، اس وقت مجھے خیال آیا کہ میرے پاس لا الہ الا اللہ کے پڑھے ہوئے جو نصاب ہیں، ان میں سے ایک نصاب اس کی ماں کو بخش دوں۔ اس طرح اس نوجوان کی سچائی کا بھی تجربہ ہو جائے گا۔ چنانچہ میں نے ایک نصاب ستر ہزار کا، ان نصابوں میں سے حجاپنے لئے پڑھے تھے، اس کی ماں کو بخش دیا۔ یہ میں نے چپکے ہی سے اپنے دل میں بخشا تھا اور میرے اس پڑھنے کی خبر بھی اللہ کے سوا کسی کو مگر اس کے بعد فوراً ہی وہ نوجوان کہنے لگا کہ میری ماں دوزخ کے عذاب سے بچا دی گئی"۔ یہ ایک معمولی سی مثال ہے۔ اس طرح کے بے شمار قصے گھڑ گھڑ کر امت کے اندر پھیلا دیئے گئے ہیں۔ صدیوں میں لا تعداد کتابیں لکھی گئی ہیں جو اس قسم کی بناوٹی کہانیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ ان قصوں اور کرامات کی جعلی داستانوں نے بہت سے لوگوں کو موقع دیا ہے کہ وہ ان کے ذریعہ مذہب کی دکانیں قائم کریں۔ کیونکہ عوام بہت جلد طلسماتی قصور کے قریب آجاتے ہیں ۔
دیکھو رول نمبرہ ماہنامہ الرسالہ ۔ جمعتہ بلڈنگ ، قاسم جان اسٹریٹ، دہلی ۶ مقام اشاعت جمعتیہ بلڈنگ ، قاسم جان اسٹریٹ، دہلی ۶ وقفه اشاعت ماهانه نام پرنٹر(طابع) ثانی اثنین خاں پته جمعتیہ بلڈنگ ، قاسم جان اسٹریٹ، دہلی ۶ نام پبلشر(ناشر) ثانی اثنین خاں پته جمعتیہ بلڈنگ ، قاسم جان اسٹریٹ، دہلی ۶ نام ایڈیٹر(ایڈیٹر مسئول) ثانی اثنین خاں
پته جمعتیہ بلڈنگ ، قاسم جان اسٹریٹ، دہلی ۶ نام اور پتہ مالک رسالہ ثانی اثنین خاں جمعتیہ بلڈنگ ، قاسم جان اسٹریٹ، دہلی ۶ میں ثانی اثنین خاں تصدیق کرتا ہوں کہ جو تفصیلات اوپر دی گئی ہیں، میرے علم و یقین کے مطابق صحیح ہیں۔ ثانی اثنین خاں یکم مارچ ۱۹۷۸ء
سمندری قوانین اب بھی بنیاد یطور پر دی ہی ہیں جو قدیم نو آبادیاتی طاقتوں نے بنائے تھے قدیم زمانے میں سمندروں کی حد بندی کا کوئی مسئلہ بحری طاقت وجود میں آنے کے بعد یہ مسئلہ پیدا ہوا۔ طے کیا گیا کہ کسی ملک کی سرحد سے تین میل تک کا سمندری پانی اس کا علاقائی پانی شمار ہو گا۔ تین میل کی حد اس سادہ سے حساب پر مقرر کی گئی تھی کہ ساحلی توپوں کی مار تین میل تک اس وقت سمندر زیادہ سے زیادہ کسی دشمن کے لئے آبی سڑک کا معنی رکھتی تھی۔ اس لیے سرحدی ریاستوں نے اتنے فاصلے کو کافی سمجھا جو جنگی جہازوں کے حملے سے انھیں محفوظ رکھے۔
موجودہ زمانہ میں سمندری ساحل نے نئی اہمیت حاصل کر لی ہے۔ اب معلوم ہوا ہے کہ سمندر کے نیچے قیمتی معدنیات خصوصاً پٹرول کے ذخائر موجود ہیں۔ اب ملکوں کو فکر ہوئی کہ اپنے ساحلی علاقوں میں اضافہ کریں۔ ایشیا اور افریقہ کے ممالک کی آزادی کے بعد سے مسلسل مسئلہ نظر ثانی کے لئے اٹھایا جارہا ہے۔ مئی ۱۹۶۷ء میں نیویارک میں ۱۰ اقوام کی کانفرنس اس مسئلہ پر ہوئی۔ ہندوستان اور دوسری زیر ترقی اقوام کی طرف سے یہ تجویز تھی کہ علاقائی منطقہ (TERRITORIAL ZONE) کو تین میل سے بڑھاکر بارہ میل کردیا جائے۔ اور اسی کے ساتھ ساحلی ریاستوں کی خشکی کی سرحد سے دو سو میل تک کے پانی کو اقتصادی منطقہ (ECONOMIC ZONE) قرار دیا جائے جس میں ان ریاستوں کو سمندری ذرائع کے خصوصی استعمال کا حق ہو۔ تاہم یہ تجویز نیویارک کانفرنس میں منظور نہ ہوسکی