Al-Risala · March 1978

ایک سفر

Al-Risala, March 1978, pp. 41–42

By Maulana Wahiduddin Khan

جنوری ۱۹۷۷ء کے دوسرے ہفتہ میں برہان پور کا سفر ہوا ، ۶ جنوری کی شام کو برہان پور پہنچا اور ۱۱ جنوری کو دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔

برہان پور، دہلی سے ۵۱۰ کلومیٹر کے فاصلے پر مدھیہ پردیش کے اس تاریخی شہر کی بنیاد پانچ سو سال پہلے شاہان فاروقی کے زمانہ میں ڈالی گئی تھی۔ موجودہ آبادی تقریباً پون لاکھ ہے جس میں نصف سے کچھ کم مسلمان ہیں۔ یہاں کے خاص کاروبار در درہیں۔ بیٹری - دوسرا یا ورلوم کے کپڑے ۔ شہر دو حصوں میں بٹا ہوا ہے ۔ ایک طرف مسلمان آباد ہیں۔ دوسری طرف ہندو صاحبان - ہندو مسلم تعلقات بہت اچھے ہیں۔ کثرت سے تاریخی عمارتیں ہیں۔ جامع مسجد بہت بڑی اور انوکھی تعمیر کا نمونہ ہے۔ یہ ۵۰ - ۱۴۳۶ء میں مکمل طور پر پتھر سے بنائی گئی۔ اس کے اندر عربی کے علاوہ ایک سنسکرت کا کتبہ ہے۔ اس کتبہ میں حمد کے بعد لکھا ہوا ہے ۔ "جب تک سورج اور چاند ستارے ہیں" شاہان فاروقی کا اقتدار بھی دنیا میں قائم رہے" فقہ کی مشہور کتاب فتاویٰ عالمگیری اسی شہر برہان پور میں اورنگ زیب کے آخری زمانہ میں لکھی گئی موجودہ محمد ان لا اسی کا خلاصہ ہے۔ اور نگ زیب کے حکم سے شیخ نظام الدین نے چار علمائے جون پور کی مدد سے اس کو مرتب کیا تھا۔ عبدالرحیم خان خاناں ۲۷ سال تک برہان پور کے گورنر رہے۔ اسی زمانہ میں ۱۰۳۵ھ میں ملا عبد الباقی نہاوندی نے مآثر رحیمی تصنیف کی۔ علی متقی (1909ء- 1606ء) مؤلف کنز العمال یہیں کے رہنے برہان پور مغل دور میں دکن کے چھ صوبوں کا صدر مقام تھا۔ اکبر، جہانگیر، شاہ جہاں، اور نگ زیب سب یہاں رہ چکے ہیں۔ پندرھویں اور سولہویں صدی میں یہاں شاہ ہیں فاروقی کی حکومت تھی جس کا پہلا بادشاہ عادل خاں اول (1503ء - 1520ء) گزرا ہے ۔

1601ء میں اکبر نے چاہا کہ دہلی اور دکن کے درمیان کے اس پتھر کو ہٹا دے 11 گیارہ مہینے تک اس کی فوجیں یہاں کے قلعہ کا محاصرہ کئے رہیں مگر اس کو فتح نہ کرسکیں۔ آخر میں اکبر نے صلح کی ترغیب اس نے دیکھا کہ طاقت سے وہ اسیر گڑھ کے قلعہ کو فتح نہیں کر سکتا تو اس نے سیاست کے ذریعہ اس کو فتح کیا۔

برہان پور میں کثرت سے تاریخی یادگاریں ہیں جن کو بیان کرنے کے لئے پوری کتاب درکار ہے۔ الحروف کو قلعہ کی مسجد نے بہت متاثر کیا۔ جہاں میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ 10 جنوری کو عصر کی نماز ادا کی۔ پتھر کی اس مسجد کا سنگ بنیاد 993ھ میں رکھا گیا تھا۔ مسجد اب بھی نہایت عمدہ حالت میں ہے ۔ بہت بڑا پہاڑ ٹولے کے اوپر 70 فٹ کی بلندی پر واقع اس دبیت مسجد تک ۔ اگر چہ پانچ وقتہ نماز نہیں ہوتی ، مگر ہم نے اس کو نہایت صاف ستھرا پایا۔

مغل حکومت کی یہ روایت رہی ہے کہ ہمایوں سے لے کر اور نگ زیب تک تمام مغل شہزادے خود اپنے باپ کے خلاف بغاوت کرتے رہے۔ اور نگ زیب تخت نشین ہونے سے پہلے برہان پور کا گورنر تھا۔ 1609ء میں اپنے والد شاہ جہاں سے بغاوت کی۔ کا فارسی کتبہ قلعہ میں لگا ہوا ہے۔ ایک شعر یہ ہے :

چو شاہزادہ اور رنگ زیب دیں پرور گرفت جائے پدر را بہ قوت شمشیر برہان پور میں کچھ باذوق لوگوں نے حلقہ نیرنگ خیال کے نام سے ایک تنظیم قائم کی ہے۔ اس تنظیم کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسی خاص نظریہ سے بندھی ہوئی نہیں ہے۔ فکری توسع کی قائل ہے۔ لوگوں میں آزادانہ طور فکر کا مزاج ابھارنا چاہتی ہے۔ راقم الحروف کے پاس تنظیم کی طرف سے دعوت نامہ موصول ہوا جس میں لکھا گیا تھا : " تقریبا تیرہ سو برس پہلے ایک عظیم سانحہ کربلا میں گزرا تب سے آج تک علما کرام نے اس پر بہت کچھ لکھا اور اپنی تقریروں میں بہت کچھ کہا اور ہر سال کسی نہ کسی صورت میں اس کی یادگار منائی جاتی رہی ہے۔ اندر رہے گی ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعہ یا حادثہ ایک رد عمل کا محتاج تھا جو ہمارے سامنے ہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ کوئی آج کا محقق " روایتی نقطۂ نظر سے ہٹ کر " اس موضوع " شہادت عظمی اور اس کا رد عمل "

پر اپنی محققانہ تقریر میں اس انداز سے روشنی ڈالے کہ اسے ہر قوم اور ہر مذہب خیال کے لوگ اگر نہ مانیں تو کم از کم سوچنے کے لئے ایک نئی راہ نکل آئے۔

اس سلسلہ میں جب غور کیا گیا اور ایک قابل، عالم، مدیر اور محقق شخصیت کی تلاش ہوئی تو احباب کی غالب اکثریت نے آپ کی شخصیت کی طرف رہنمائی کی۔ نتیجہ یہ ہے کہ یہ مکتوب آنجناب کی خدمت میں پیش ہے۔ اس توقع کے ساتھ کہ آپ اسے شرف قبولیت بخشیں گے اور ہمیں پہلی فرصت میں جوابی ڈاک اپنے مثبت جواب سے ممنون فرمائیں گے ۔

عام حالات میں شاید مجھ کو اس موضوع سے دلچسپی نہ ہوتی ۔ مگر حلقہ نیرنگ خیال کے دعوت نامہ کی اس بات نے مجھے متاثر کیا کہ وہ روایتی نقطۂ نظر سے ہٹ کر " اس کے بارے میں کچھ سننا چاہتے ہیں۔ میں نے دعوت قبول اور ہر جنوری کی شام کو شہادت حسین کے موضوع پر میری تقریر ہوئی۔ بندھے ہوئے پنڈال میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شریک تھے۔ اجتماع کے اگلے دن شہر کی ایک ممتاز شخصیت ڈاکٹر جی۔ گیتا میری قیام گاہ پر تشریف لائے اور کہا " آپ نے جو باتیں کہیں، مجھ کو بہت ٹھیک لگیں۔ یہی بات اگر سب مولوی کہنے لگیں تو مسلمان ترقی کر جائیں ۔ در جنوری کے اجتماع کے علاوہ دو نشستیں اور ہوئیں۔ ایک رؤسا شہر کی جس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شریک دوسری مقامی جماعت اسلامی کی طرف سے اس کے قیام کے دوران میں غیر رسمی طور پر کثرت سے لوگوں سے گفتگوئیں ہوتی رہیں۔

قدیم زمانہ میں برہان پور پارچہ بافی کا اتنا بڑا مرکز تھا کہ اس کے کپڑے بیرونی ممالک کو برآمد ہوتے تھے۔ ٹویر نیر نے اپنی دوسری چار کی یاترا کے ورنن میں لکھا ہے ۔ " . It has a large castle still standing in the middle of the town and it is there that the Governor resides. The Government of this province is so important that it is conferred only upon a son or an uncle of the king, and Aurangzeb, who now reigns, was for a long time Governor of Burhanpur during the ( 1657 A. D. ) "

Printed page