reign of his father
Al-Risala, March 1978, pp. 43–45
By Maulana Wahiduddin Khan
نے میں شہزادہ جہانگیر سے ملاقات کی تھی۔ سے اس کا یہ مقام تھا کہ شیخ علی متقی کے استاد کا انتقال مکہ میں ہوا تو ان کی تاریخ وفات "مشیع مکہ" سے نکالی گئی۔ مغل حکمرانوں کے نزدیک برہان پور کی سیاسی اہمیت اتنی زیادہ تھی کہ بادشاہ کا بیٹا یا کوئی قریبی رشتہ دار ہی یہاں کا گورنر بنایا جاتا تھا۔ آج اگرچہ یہ چیزیں موجود نہیں ہیں ۔ تاہم یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہاں کی پچاس ہزار مسلم آبادی ، امکانی طور پر، اس پوزیشن میں ہے کہ ہر قسم کی ترقی کا بہترین نمونہ دینی ترقی اور دنیوی استحکام دونوں کے لئے نہایت کامیاب منصوبہ بندی کے امکانات پنہاں موجود ہیں۔ امکان واقعہ بننے کے لئے ابھی کسی آنے والے دن کا انتظار واضح احکام دو) اب ہمارے ہمدرد ہم کو یہ سکھاتے ہیں: ISSUE VAGUE ORDERS مبہم احکام جاری کرو) یہ باتیں پورے زور شور سے جاری تھیں اور میں خاموش سامع بنا ہوا سوچ رہا تھا۔ ملک میں پیدا وار تیار کرنے والوں اور انتظامیہ چلانے والوں کا یہ حال ہو، اس کا مستقبل میں کیا انجام ہوگا۔ اکتوبر ۱۹۵۷ میں یہ خبر آئی تھی کہ فیروز رستم جی دارو والا نے اپنا ایک گر دو محمد دلواؤ کو دے دیا تاک کر رہا ہے۔
پنجاب میل میں میری کیبن میں میرے علاوہ جو تین دارو شاہ کے پاپائے بیچارگی پر رو دوں یا دعا یا مہار ان کی صحت کو بچایا جا سکے ۔ ۳۲ سالہ دارو والا جو بھی غیر شادی شدہ تھے ، ۳۱ دسمبر ۱۹۰۵ ء کو انھیں برادا ہوگی تھے، ان میں ایک صنعت کار تھے۔ اور دو سرکاری افسر، ان لوگوں نے ملک کے بگاڑ اور بھر شا چار پر گفتگو شروع کی ۔ تینوں نہایت جوش وخروش کے ساتھ ثابت کر رہے تھے کہ ملک میں ہر سطح پر بگاڑ اور بد نظمی عام ہوچکی ہے۔ جیل میں پھانسی دے دی گئی ۔ جو لوگ حمید دلوائی سے اختلاف رکھتے ہیں، وہ شاید یہ سمجھیں کہ ایک دشمنِ اسلام کی مدد کرنے کے نتیجہ میں دارو والا کو یہ سزا ملی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ دارو والا پر الزام تھا کہ انھوں صنعت کار، مزدوروں کی یونین بازی اور حکومت کی غلط پالیسیوں کی تفصیل بیان کر رہا تھا۔ سرکاری افسران اپنے شعبوں میں وزیروں کی مداخلت اور ہٹیاگردی کے تجربات ایک نے کہا: "خرابی کی اصل وجہ یہ ہے کہ آج کسی افسر کو اچھے کام کا انعام ملتا ہے نہ برے کام کی اس لئے وہ سوچتا ہے کہ جو ہو رہا ہے ہونے دو۔ دوسرے نے کہا: آج کل سرکاری افسروں کا حال یہ ہے کہ کام کرنے کے بجائے اپنے کو بچانے کی فکر میں رہتے ہیں۔ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ:
نے ۲ فروری ۱۹۷۱ء کو ایک پارسی خاندان کے چار افراد کو قتل کر دیا ہے۔ ۲۲ دسمبر ۱۹۷۲ء کو مقدمہ کا فیصلہ ہوا اور دار و رس والا مجرم قرار دیئے گئے۔ یہ واقعہ جو ”گردہ دان“ سے چار سال پہلے واقع ہوا تھا، اسی کے جرم میں دارو والا کو پھانسی دی گئی۔
اکثر خارق عادت واقعات اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ تاریخ، مقام، اشخاص وغیرہ کے تعینات کے بغیر مجہول شکل میں بیان کئے جاتے ہیں۔ کے ساتھ بیان کیا جائے تو تحقیق کے بعد فوراً ان کی حقیقت کھل جائے گی۔
"الاسلام" کے بعد ادارہ "الرسالہ" کی دوسری کتابی پیش کش کے بعد ادارہ ارتقا سے ہی دوسری کتاب شائع ہوئی ۔
از مولانا وحید الدین خاں آفسیٹ کی اعلیٰ طباعت کے ساتھ جدید اسلامی لٹریچر میں اپنی نوعیت کی پہلی کتاب قرآن پہلی کتاب ہے جس نے انسانی تاریخ میں دورِ نشر کا آغاز کیا۔ علی طرف فکر کی بنیاد رکھی اور سائنسک استدلال کو رائج کیا۔ موجودہ دور کا علمی انقلاب، قرآن ہی کے پیدا کردہ انقلاب کا نتیجہ ہے ۔ مگر عجیب بات ہے کہ قرآن کے حاملین اس انقلاب کو سمجھنے میں سب سے پیچھے ہیں ـــــــــ وہ ابھی تک شعو شاعری کی فضا سے نکل نہ سکے ۔ حتیٰ کہ ان کی نثر بھی خطابت اور رشا ءی کی ایک صورت ہوتی ہے ۔ میں ان کے پیچھے ہونے کا حال یہ ہے کہ ان کے علما را ب بھی سائنٹفک استدلال اور مغرب زدگی کو بد معنی سمجھتے ہیں ۔
مسلمانوں کی اس علمی پس ماندگی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ دورِ جدید کے معیارِ فکر پر ابھی تک اسلام کا علمی اظہار نہ ہوسکا۔ یہ دور کا ایک اسلوب اور ایک علمی معیار ہوتا ہے اور یہ دور کے مسلمانوں کی ذمہ دارانہ ہے کہ اپنے دور کے فکری معیار پر خدا کے دین کا اعلان کریں۔ بعید اسلامی تاریخ کی پہلی کتاب ہے جس میں اسلام کو وقت کے معیار پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
پوٹاشیم سائانائڈ (POTASSIUM CYANIDE) ایک سفید چمک دار کیمیکل ہے۔ وہ مختلف صنعتوں میں استعمال ہوتا ہے، اگر چہ سستے سوڈیم سائانائڈ کی دریافت نے اس کے صنعتی استعمال کو کم کر دیا ہے۔ اسی کے ساتھ پوٹاشیم سائانائڈ ایک انتہائی طاقت ور زہر ہے۔ اس کا کھانا فی الفور موت کا باعث ہو جاتا ہے۔ سائنس دانوں کو خیال ہوا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ اس کا مزا کیا ہے۔ مزہ معلوم ہونے کے لئے اس کو کھانا ضروری بالفاظ دیگر کوئی شخص اپنے کو ہلاک کر کے ہی دوسروں کو خبر دے سکتا تھا کہ اس کا مزہ کیسا ہے۔ ایک شخص نے طے کیا کہ وہ اس خدمت کو انجام دے گا۔ اس نے ایک ہاتھ میں پوٹاشیم سائانائڈ لیا اور دوسرے ہاتھ میں قلم۔ زہر کو کھانے کے بعد اس نے اس کا مزا لکھنا چاہا۔ اس نے صرف ایک لفظ ایس (S) لکھا تھا کہ اس کا خاتمہ ہو گیا۔ انگریزی میں اس کے حرف سے دو لفظ بنتے ہیں۔ ایک سوئیٹ (میٹھا) دوسرا سالٹ (نمکین)۔ پیدا ہوا کہ مرنے والے کی مراد میٹھے سے تھی یا نمکین سے۔
اب ایک اور شخص اٹھا۔ اس نے کہا کہ میں زہر کو کھاؤں گا اور "ایس" کو چھوڑ کر اگلا حرف لکھوں گا۔ ڈبلیو (W) لکھوں تو سوئیٹ سمجھنا اور اگر اے (A) لکھوں تو سالٹ۔ اس نے دوسری بار زہر کو چکھ کر قلم کو حرکت دی۔ حرف "اے" لکھ کر اس کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ اس طرح دنیا نہ جانا کہ پوٹاشیم سائانائڈ کا مزہ نمکین ہے۔ اس قصہ کو یہاں نقل کرنے کا مقصد ایک واقعہ کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ میر البڑ کا ظفر الاسلام خاں (پیدائش ۱۹۳۸) جو اس وقت لیبیا میں ہے، اس نے مجھے خط لکھا کہ میرا ارادہ ہے کہ لیبیا کا کام چھوڑ کر ہندوستان واپس آجاؤں اور ماہنامہ الرسالہ اور الدار العلیبیہ کے تحت آپ احیائے اسلام کی جو کوششیں کر رہے ہیں، اس میں آپ کی مدد کروں۔ میں نے جواب میں مذکورہ بالا قصہ کا حوالہ دیتے ہوئے ظفر الاسلام کو لکھا: تمھارے باپ نے ایک بار "پوٹاشیم سائانائڈ" کھا کر "ایس" لکھا ہے۔ اگر تم دوسری بار اس کو کھا کر اگلا حرف "اے" لکھنے والے بننا چاہتے ہو تو آجاؤ۔
اسلام کا احیار موجودہ زمانہ میں کچھ زندگیوں کی قیمت مانگتا ہے۔ جانوں کی نہیں، حوصلوں اور رضاؤں کی۔ "ظہور اسلام" اس امید میں شائع کی جا رہی ہے کہ وہ کچھ لوگوں کو اس قربانی کے لئے آمادہ کرے گی، اگر چہ اس قسم کی امید قائم کرنا بڑی جرات کا کام ہے۔ حوصلوں اور تمناؤں کی قربانی، جانوں کی قربانی کے برعکس، ہمیشہ کمیاب تھی اور اب تو شاید وہ نایاب کے درجہ میں پہنچ چکی ہے۔