خارجی ذمہ داری
Al-Risala, January 1978, pp. 14–16
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرے بندگانِ خدا کے سلسلے میں ایک مومن سے جو چیز مطلوب ہے، وہ نصح (خیر خواہی) ہے۔ میں اس خیر خواہی کا اظہار قسط (انصاف) کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اُخروی معاملہ میں شہادت حق کی صورت میں۔
قسط یہ ہے کہ ہم اپنے دوسرے بھائی کے لئے وہی چاہیں جو ہم خود اپنے لئے پسند کرتے ہیں۔ ہم جب دوسرے کے بارے میں بولیں یا دوسرے کے ساتھ کوئی معاملہ کریں تو ہماری کارروائی ضد، عصبیت، انانیت یا اضطہ می نفسیات کے زیر اثر نہ ہو بلکہ بے لاگ انصاف کے مطابق ہو۔ قرآن میں کہا گیا ہے: کسی کی دشمنی تمہیں ایسا نہ کر دے کہ تم انصاف سے بلکہ انصاف کرو۔ یہی روش تقویٰ سے ملتی ہوئی ہے (مائدہ ۔ یہ بہترین جانچ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی قسط پر قائم ہے یا نہیں ___ جب کوئی شخص آپ کے اوپر تنقید کرے، جب کسی سے آپ کا اختلاف ہو جائے جب کسی سے آپ کو کسی قسم کی ٹھیس پہنچے، وہی وقت دراصل اس بات کی جانچ کا ہوتا ہے کہ آپ مقام قسط پر ہیں یا
مقامِ ظلم پر، مگر انسان اکثر ٹھیک اسی مقام پر نا کام ہو جاتا ہے جہاں اس کو سب سے زیادہ کامیابی کا ثبوت دینا چاہیے خیر خواہی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ آپ لوگوں تک حق کا پیغام پہنچائیں۔
رسول کی حیثیت داعی الی اللہ کی ہے۔ امتِ مسلمہ بھی آپ کی تبعیت میں ذمہ داری کے اسی مقام پر کھڑی کی گئی ہے (یوسف۔ ۱۰۸) دنیا میں رسول اور آپ کے متبعین کا رشتہ، دوسرے انسانوں سے، داعی اور مدعو کا رشتہ آخرت میں یہ رشتہ شاہد اور مشہود کی صورت میں ظاہر ہو گا جب کہ رسول اور آپ کے پیرو خدا کی عدالت میں کھڑے ہو کر لوگوں کے بارے میں گواہی دیں گے کہ انھوں نے دعوت الی اللہ کا جواب کس طرح دیا تھا۔ اللہ کے ان گواہوں کو آخرت میں سب سے اونچے مقام پر کھڑا کیا جائے گا جہاں سے وہ تمام اقوام کو دیکھیں اور ان کے بارے میں اپنا بیان دیں۔ لئے قرآن میں ان کو بلند یوں والے (اصحابِ اعراف) کہا گیا ہے۔ ابن جریر اور ابن المنذر نے جابر بن عبد اللہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں اور میری امت والے اونچے ٹیلوں پر سر ہوں گے اور اوپر سے مخلوق کو دیکھ رہے ہوں گے۔ پیغمبر اسلام پر چوں کہ نبوت کا سلسلہ ختم ہونے والا تھا، اس لئے آپ اپنی امت پر گواہ بنائے گئے۔ آپ کے بعد آپ کی امت کی یہ ذمہ داری قرار پائی کہ وہ قیامت تک تمام انسانوں کو اوپر گواہ بنے رہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اس ذمہ داری کا اتنا زیادہ احساس رہتا تھا کہ ہر وقت اس کے لئے دکھی رہتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس غم میں آپ اپنے کو ہلاک کر ڈالیں گے، لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ الا تَكُوْنُوا مُؤْمِنِينَ شعرای - ۳ شاید تم اس غم میں اپنے کو ہلاک کر ڈالو گے کہ لوگ ایمان نہیں لاتے مکہ کے آخری دور میں جب کہ حالات انتہائی سخت ہو چکے تھے ایک طرف مخالفین کا غصہ اتنا بڑھ گیا تھا کہ ایک بار جب کہ ابو بکر صدیق خانہ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے، مخالفین نے گھیر کر آپ کو مار نا شروع کیا۔ کسی دیکھنے والے نے پوچھا یہ کون ہے، مارنے والوں میں سے ایک شخص نے غصہ میں کہا : مجنون بن ابی قحافہ (ابو قحافہ کا پاگل لڑکا)۔ ایک طرف یہ تھا، دوسری طرف مسلمانوں کی معاشیات مکمل طور پر بر باد کر دی گئی تھیں۔ زندگی کے تمام راستے ان کے لئے بند ہو چکے تھے۔ اس کے باوجود صبر و برداشت کے سوا کسی اور چیز کی اجازت نہ تھی۔ اس زمانہ میں وہ آیت اتری جو سورہ ہود میں شامل ہے فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا تم اور تمھارے ساتھی حکم کے مطابق قائم رہو اور حد سے انَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ۔ وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا نہ بڑھو۔ خدا دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کرتے ہو، اور ظالموں کی فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ هود - ۱۱۳ طرف مت جھکو ورنہ آگ تم کو پکڑلے گی۔
ان حالات میں یہ حکم کتنا سخت تھا ، اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ آپ نے فرمایا:
شَيَّتَنِي هُود و اخواتها سورہ ہود اور اس کی ساتھ کی سورتوں نے مجھ کو بوڑھا کر دیا۔
اللہ تعالیٰ کا وعوہ ہے وہ اسلام کے ماننے والوں کو اسلام کے مخالفین کے اوپر غالب کرے گا۔ یہ وعدہ جو قرآن میں بار بار دہرایا گیا ہے، شہادت کے معاملہ ہی کا ایک پہلو ہے۔ دنیا میں اہل اسلام کا غیر اہل اسلام پر غلبہ در اصل آخرت میں ان کے اصحابِ اعراف (بلند یوں والے) ہونے کا ایک دنیوی اظہار ہے۔ جب کبھی خدا پرستوں کا کوئی گروہ اپنے دعوتی عمل سے شاہدِ آخرت بننے کا استحقاق حاصل کرتا ہے، وہ خدا کی سنت کے مطابق ”فوقیت“ کا درجہ دوسری قوموں کے اوپر اس کی یہ فوقیت آخرت میں یقینی طور پر ظاہر ہو گی۔ اور جب خدا چاہتا ہے دنیا میں بھی اس کے لئے فوقیت کا فیصلہ فرما دیتا ہے (بقرہ - ۲۱۲)
اس سے معلوم ہوا کہ غلبہ اسلام کا راستہ دعوتِ اسلام کی سمت سے ہو کر جاتا ہے۔ دعوتی عمل کے بغیر محض سیاسی کارروائیوں کے ذریعہ اسلام کو غالب کرنے کی کوشش ایک ایسا منصوبہ ہے جو خدا کی اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔