اداریہ ——
Al-Risala, April 1978, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مشہور مسلم جماعت کے ترجمان نے ماہنامہ الرسالہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے " یہ نقطۂ نظر ایک عظیم فتنه کا سر چشمہ ہے۔ ایسا فتنه جس میں علامہ مشرقی کا دماغ ، پرویز کا قلم ، نیاز فتح پوری کی عقل اور علامہ مودودی کی زبان اپنے نقطۂ عروج پر پہنچ گئی ہے" (الجمعية 6 مارچ1978) دوسری طرف الرسالہ کے ایک مداح لکھتے ہیں: "فکر مودودی کے مقابلہ میں فکر وحید زیادہ عمیق اور سائنٹفک ہے۔ ان دونوں کے درمیان وہ لوگ ہیں جو اکثر ہم سے پوچھتے ہیں "کیا آپ کا الرسالہ ابھی نکل رہا ہے ؟ حالاں کہ یہ سوال اتنا ہی بے معنی سوال ہے جیسے کسی سے پوچھا جائے "کیا آپ کے صاحبزادے ابھی با حیات ہیں "
ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں لوگوں کو نہیں معلوم کہ تنقید دراصل اپنے بھائی کے ساتھ خیر خواہی کا نام ہے یا کم از کم علمی تجزیہ کا۔ اسی طرح لوگوں کو نہیں معلوم کہ ایک دعوت اگر انھیں حق نظر آئے تو اس کے سلسلے میں ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔ اپنے ملنے کے حق میں اپنی خیر خواہی کو خوب جانتے ہیں۔ میں کہ جو خدا ”ٹائٹل کے بغیر“، الرسالہ کو چلا رہا ہے وہ ”ٹائٹل کے ساتھ“ بھی الرسالہ کو چلائے گا۔ وما ذلك على الله بعزيز زندہ اور مردہ کا فرق ظہورِ اسلام: اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ان باتوں سے صحیح ذہن نہیں بنتا کتابوں کی عالمی نمائش تیسری ورلڈ بک فیئر میں کتابِ سبز میں نہیں جانتا محمد علی باکسر بھی موت کے دوسری طرف : جنت یا جہنم پہلا کام باشعور بنانا علمِ کلام کی حقیقت جہالت کی انسائیکلوپیڈیا سنڈے ٹائمس: جرمیہ اپنے ذاتی مصالح کے سلسلے میں وہ اپنی ذمہ داریوں سے اتنا زیادہ باخبر ہیں کہ وہ ان کے لاشعور کا جزو بن گیا ہے۔ مگر دوسروں کے لئے وہ صرف لفظی تنقیدیا لفظی تعریف کو کافی سمجھتے ہیں ۔
ایسی حالت میں الرسالہ کے اوپر ٹائٹل کا اضافہ صرف اس کے خسارہ میں اضافہ کے ہم معنی ہے ۔ یہ جانتے ہوئے صرف اس بھروسہ پر ہم یہ اقدام کر رہے ۴۳ علم کا دریا ما بعد الطبیعیات کی طرف ۴۴ ایک سفر ۴۶ تحقیق کے بغیر رائے قائم نہ کیجئے ۴۶ چپ رہنا سب سے مشکل کام ۴۷ سوال و جواب ۴۷ انسان سے کم اللہ سے زیادہ ۴۹ ایجنسی کی شرائط