Al-Risala · April 1978

اس قسم کی باتوں سے صحیح ذہن نہیں پیدا ہو سکتا

Al-Risala, April 1978, pp. 4–12

By Maulana Wahiduddin Khan

عن زید بن ارقم قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ زید بن ارقم سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وسلم من قال لا الہ الا اللہ مخلصا دخل الجنة فرمایا جو شخص لا الہ الا اللہ اخلاص کے ساتھ کہے وہ جنت قیل وما اخلا صھا قال ان تحجزہ عن محارم میں داخل ہوگا۔ پوچھا گیا کلمہ و اخلاص کیا ہے۔ اللہ (رواہ الطبرانی فی الاوسط والکبیر) اس کو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے روک دے۔ اس حدیث کی تشریح میں ایک بزرگ لکھتے ہیں :

اور یہ ظاہر ہے کہ جب حرام کاموں سے رک جائے گا اور لا الہ الا اللہ کا قائل ہوگا تو اس کے سیدھا جنت میں جانے میں کیا ترد د ہے۔ لیکن اگر حرام کاموں سے نہ بھی رکے تب بھی اس کلمہ پاک کی یہ برکت تو بلا ترد د ہے کہ اپنی بد اعمالیوں کی سزا بھگتنے کے بعد کسی نہ کسی وقت جنت میں ضرور داخل ہوگا۔ البتہ اگر خدا نخواستہ بد اعمالیوں کی بددلت اسلام کا ایمان ہی سے محروم ہو جائے تو دوسری بات ہے ۔

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں یہ نقل کیا گیا کہ خوش خبری سنو اور دوسروں کو بھی بشارت سنا دو کہ جو شخص سچے دل سے لا الہ الا اللہ کا اقرار کرے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اخلاص کے ساتھ تھوڑا سا عمل بھی بہت کچھ رنگ لاتا ہے، اس لئے اخلاص سے جو شخص کلمہ شہادت پڑھے اس کی ضرور مغفرت ہوگی، وہ ضرور جنت میں داخل ہو کر رہے گا۔ اس میں ذرا بھی تر دو نہیں۔ یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے کچھ دنوں سزا بھگت کر داخل ہو لیکن ضروری نہیں۔

اس عبارت پر خالص مسئلہ“ کی حیثیت سے اعتراض کرنا مشکل ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ محرمات سے رکنا اور محرمات سے نہ رکنا دونوں میں اگر ” بلا تر د د جنت کی خوش خبری دی جانے لگے تو اس سے کبھی صحیح ذہن نہیں پیدا ہو سکتا۔ یہود بھی تویہی کہتے تھے کہ لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَة (ہم کو آگ نہیں چھوئے گی مگر چند دن) پھر اسی قسم کا عقیدہ اگر ہم بھی بنا لیں تو ہمارے یہاں اس سے مختلف ذہن کیوں پیدا ہو گا جو یہود کے یہاں پیدا ہوا ۔ اس قسم کے مسائل وضع کرنے والے شاید کتاب الہی کی اس آیت کو بھول گئے ہیں۔

لَيْسَ بِأَمَانِيكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ نہ تمہاری خوش گمانیوں سے کچھ ہو گا نہ اہل کتاب کی خوش گمانیوں يَعْمَلْ سُوءاً يُجْزَ بِهِ سے، جو برا کرے گا وہ ضرور اس کا بدلہ پائے گا۔

یہاں سرخ نشان اس بات کی علامت ہے کہ آپ کی مدت خریداری ختم ہو چکی ہے براہ کرم اپنا سالانہ زر تعاون روانہ فرما کر شکریہ کا موقع دیں ۔

کتابوں کی بین الاقوامی نمائش ہندوستان میں پہلی بار ۱۹۷۲ میں نئی دہلی میں ہوئی۔ دوسری بار ۱۹۷۴ میں۔ اب اس قسم کی نئی نمائش ہمیشہ سے زیادہ بڑے پیمانے پر جون 1978ء میں نئی دہلی میں ہوئی ہے۔ نئی دہلی اب بین الاقوامی کتابی نمائش کے شہروں کے کلب کا ممبر ہو چکا ان شہروں میں فرینک فرٹ، لہرنگ ، دار سا ، بلگرینڈ، قاہرہ، مانٹریل ، سنگا پور، ٹوکیو، ماسکو وغیرہ

تیسری دہلی کی تیسری بین الاقوامی کتابی نمائش میں ملکی اور غیر ملکی شرکا ءکی تعداد توقع سے زیادہ ہو گئی۔ پرگتی میدان میں ۱۴۰۰۰ مربع میٹر جگہ اس کے لئے مخصوص کرنی پڑی جو پچھلی دونوں نمائشوں کے مقابلے میں بہت امریکہ، انگلستان، روس، مغربی جرمنی، مشرقی جرمنی، پالینڈ، از یو سلاوکیہ، بلغریبڈ ہنگری ، رومانیہ، سوئٹزر لینڈ، یوگوسلاویا، کینیا، زیمبیا، گھانا، سینیگال، عراق، مصر، کویت، بنگلہ دیش، پاکستان، سنگا پور، جاپان، کتابوں کی عالمی نمائش انڈونیشیا، نیوزی لینڈ وغیرہ ۳۵ غیر ملکوں کے ۲۰۰ ناشرین نے اس موقع پر شرکت کی اور اس نمائش میں اپنا ہندوستان کے جن ناشرین نے اس میں شرکت کی ان کی تعداد تقریباً ۳۰۰ ہے۔ ان کے علاوہ اقوام متحدہ اور متعدد دوسرے ملکوں نے اپنے اطلاعاتی دفاتر اس موقع پر قائم کئے پرائیویٹ اداروں کے علاوہ ہندوستانی کے مختلف مرکزی اور ریاستی اداروں نے نمائش میں اپنے اپنے اسٹال کھولے۔ تاہم تین بڑی عمارتوں اور ان کے درمیانی پارک میں پھیلی ہوئی اس وسیع نمائش میں سب سے زیادہ غلبہ انگریزی کتابوں کا رہا۔ دوسرے نمبر پر ہندی اور اس کے بعد اردو اور دوسری علاقائی زبانوں کی کتابیں نیز غیر ملکی زبانوں کی کتابیں مثلاً روسی، جرمن، جاپانی، عربی، فارسی وغیرہ۔

اس موقع پر کتابوں کی نمائش کے علاوہ دوسری معاون تقریبات کا پروگرام بھی رکھا گیا مثلاً کتابوں کی اشاعت کے مختلف پہلوؤں پر سمینار، ایک چار روزہ بین اقوامی سیمینار بھی ہوا جس میں دنیا کے مختلف حصوں کے ماہرین نے تعلیمی مطبوعات کے بارے میں بحث و مباحثہ کیا۔ اسی طرح نمائش کے دوران متعدد دوسرے پروگرام ہوتے مثلاً فیڈریشن آف انڈین پبلشرس کی طرف سے ریفرشر کورس، فیڈریشن آف پبلشرس اینڈ بک سیلرس ایسوسی ایشن کی طرف سے بین اقوامی کتابی صنعت پر لیکچر اور ٹریننگ کورس۔ آتھرس گلڈ آف انڈیا کی طرف سے

نئی دہلی کی تیسری ورلڈ بک فیئر فیئر(فروری1978)کا کا ایک منظر۔ کی قطار میں ”کتاب سبز“ دکھائی دے رہی ہے ــــــ

مصنفین کا کنونشن وغیرہ ۔

یونیسکو کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان، کتابوں کی پیداوار کے معاملہ میں دنیا کا ساتواں سب سے بڑا ملک ہے۔ انگریزی کتابوں کی تیاری میں امریکہ اور انگلستان کے بعد ساری دنیا میں اس کا تیسرا نمبر ہے۔ ملکی اعتبار سے چند زبانوں کے اعداد و شمار یہ ہیں: ۱۹۷۶ میں انگریزی کتابیں ۱۷۳۳۷ یہ اعداد و شمار سرکاری ہیں۔ تاہم اصل تعداد غالباً اس سے زیادہ ہوگی۔ اندازہ ہے کہ ہندوستان میں ہر سال ۲۰ ہزار سے زیادہ کتابیں مختلف زبانوں میں چھپتی ہیں۔ ہندوستان دنیا کی آبادی کا پندرہ فی صد ہے، مگر ہندوستان کی مطبوعات دنیا بھر میں چھپنے والی کتابوں کا بمشکل چار فی صد ہوتی ہیں۔ یہ موضوع کے اعتبار سے ہندوستانی مطبوعات کی تقسیم یہ ہے:

ادبی کتابیں کل مطبوعات کا ۳۱ فی صد سیاسی اور معاشی کتابیں ۱۳ فی صد طب اور طبیعیاتی سائنس ۳ فی صد وہ کتابیں جن کی اشاعت (PRINT-RUN) زیادہ ہے وہ یا تو کورس کی کتابیں ہیں یا ناول۔ ترقی یافتہ ممالک میں ایک ملین آبادی پر ہر سال تقریباً 50 کتابوں کا اوسط ہے جب کہ ہندوستان میں یہ اوسط صرف 30 ہے۔ دوسرے ملکوں میں فی شخص سالانہ 200 صفحات کا اوسط ہے اور ہندوستان میں صرف 33 صفحات کار۔

ہندوستان کی مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے اشتراک سے ایک اسکیم چلائی جارہی ہے جس کا مقصد ملک کی علاقائی زبانوں میں یونیورسٹی سطح کی کتابیں شائع اس سلسلے میں اب تک تقریباً ساڑھے چار ہزار کتابیں شائع کی جاچکی ہیں۔ ان کتابوں کی قیمتیں " نہ نفع نہ نقصان " کے اصول پر رکھی جاتی ہیں۔

ایک ہندوستانی ڈائرکٹری میں گیارہ ہزار ملکی ناشرین کے نام و پتے چھاپے گئے ہیں۔ ان میں ڈھائی ہزار ہندی سترہ ہزار انگریزی، اور چودہ ہزار بنگالی۔ انگریزی زبان اب بھی ہندوستان میں غالب حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انگریزی ملک کے خوش حال طبقہ کی زبان ہے، اس لئے انگریزی زبان میں چھپنے والی کتابیں بہت جلد بازار میں اپنا مقام پالیتی ہیں۔ زبانوں کی مطبوعات زیادہ تر ادب، مذہب اور ثقافت سے متعلق ہوتی ہیں۔

ہندوستان میں تصنیف کے کام کو ترقی دینے کے لئے مختلف اقدامات کئے گئے ہیں۔ ان میں انڈین کاپی رائٹ ایکٹ میں کی گئی حالیہ ترمیم اور مصنفین کے لئے نقد انعامات

کبھی جاننا اس کا نام ہوتا ہے کہ آدمی یہ کہہ دے کہ " میں نہیں جانتا "۔

ہیوی ویٹ باکسنگ کے سابق چیمپین محمد علی (24) کولیون اسپینکس (۳۶) نے 15 فروری ۱۹۷۸ء کو ہرا دیا۔ محمد علی کے لئے یہ بے حد غیر متوقع تھا کیونکہ پچھلے، اسال کی مسلسل کامیابیوں نے محمد علی کے اندر اتنا زیادہ اعتماد پیدا کر دیا تھا کہ وہ کہنے لگے تھے :

I AM KING OF THE WORLD میں دنیا کا بادشاہ ہوں ۔

تاہم یہ امکان ہے کہ یہ شکست محمد علی کی زندگی کے لئے ایک نیا موڑ پیدا کرنے کا باعث ہو۔ تین سال پہلے محمد علی نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ وہ کھیل کی دنیا سے ریٹائر ہو جائیں گے تا کہ اسلام کی خدمت کریں اور اپنی قوم کی تعلیمی اور اقتصادی ترقی کے لئے کام کریں ۔ جون1975 میں محمد علی کی ملاقات حاجی بی بی کی حسن (کالی کٹ) سے ہوئی تھی۔ اس وقت وہ کوالالمپور میں تھے۔ حاجی حسن کی باتوں سے محمد علی بے حد متاثر ہوئے۔ Heavyweight boxing champion Muhammad Ali (centre) prayer at Kuala Lumpur's National Mosque on Friday Inst. On right is Ali's brother Rahman and on left Fred Stephen, Governor of Sabah. (Times of India June حاجی حسن نے مجھ کو اسلام کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کیا “ محمد علی نے کہا ” اس نے حیرت انگیز طور پر میرے نقطہ نظر کو بدل دیا۔ میں نے طے کر لیا ہے کہ مذہب کے لئے زیادہ سے زیادہ وقت صرف کروں۔ مگر اس کے بعد محمد علی اپنے ارادہ پر قائم نہ رہ سکے۔ انھوں نے کھیل کے میدان میں اپنی مشغولیت کو بدستور تاہم موجودہ شکست نے دوبارہ ان کے ذہن کو ماضی کی طرف موڑ دیا ہے۔ 17 فروری کو لندن میں اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں دوبارہ اسپینکس سے لڑوں گا اور چمپیئن کا ٹائٹل اس سے چھینوں گا، تاہم اگر میں ایسا نہ کر سکا تو میں سمجھوں گا کہ اب وقت آگیا ہے کہ میں اپنی زندگی کا رخ مذہب کی طرف موڑ دوں۔ THEN I WOULD GIVE MY LIFE TO THE LOVE OF GOD AND THE HOLY KORAN AND BECOME A FULL-TIME DEDICATED MUSLIM EVANGELIST. 'WHAT I REALLY WANT TO DO IS CONVERT PEOPLE,' ALI WENT ON. 'IN 50 YEARS, EVERYONE WHO READS THIS INTERVIEW WILL BE DEAD AND GOING TO HEAVEN OR HELL. I WANT THEM TO GO TO The Times of India, 18.2.1978 پھر میں اپنی زندگی کو خدا کی محبت اور مقدس قرآن کے لئے وقف کر دوں گا۔ میں ہمہ وقتی طور پر مسلم مبلغ بن جاؤں گا۔ در حقیقت میں جو کچھ چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں لوگوں کو آج جو لوگ میرے اس انٹرویو کو پڑھ رہے ہیں، ان میں سے ہر ایک پچاس برس بعد مر چکا ہوگا اور اس کے بعد یا تو جنت میں اس کا ٹھکانا ہوگا یا جہنم میں۔ میں چاہتا ہوں کہ ان کو جنت میں پہنچانے کی کوشش کروں ٹائمٹس آف انڈیا (۱۸ فروری ۱۹۷۸ء)

جو لوگ ان سطروں کو پڑھ رہے ہیں، ان میں سے ہر شخص پچاس برس بعد اس کے بعد اس کا ٹھکانا یا تو جنت ہے یا جہنم ۔ میں چاہتا ہوں کہ ان کو جنت میں پہنچانے کی کوشش کروں۔ کیسی عجیب ہے یہ بات۔ اور اس سے بھی زیادہ عجیب یہ ہے کہ یہ بات ایک کھلاڑی کی زبان سے آج کی دنیا کو سننے کو ملتی ہے۔ مسلمان کی حیثیت سے ہماری اصل ذمہ داری یہ ہے کہ ہم دنیا کو آنے والے دن کی چیتاونی دیں۔ ہر دن لاکھوں انسان زمین پر مررہے ہیں۔ مگر ان کو نہیں معلوم کہ وہ مرکر کہاں جارہے ہیں۔ پیغمبر کے ذریعہ اللہ نے اس راز کو کھولا ہے اور پیغمبر کے بعد ہمارے اوپر یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ ہم اس سب سے بڑی حقیقت سے اہل عالم کو باخبر کریں تا کہ لوگ زندگی کے اگلے مرحلہ میں داخل ہونے سے پہلے اس کے مسائل سے واقف ہوجائیں اور ابھی سے اس کی تیاری شروع کر دیں۔

کیسی عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں بے شمار مسلم تحریکیں ساری دنیا میں کام کر رہی ہیں۔ مگر کوئی ایسی تحریک نہیں جو فی الواقع اس لئے اٹھی ہو کہ دنیا والوں کو اس آنے والے ہولناک دن سے آگاہ کرے۔

یاد رکھئے اللہ کی نظر میں ہماری قیمت صرف اس وقت ہے جب کہ ہم اس کا مطلوبہ کام کر رہے ہوں۔ اگر ہم اس کام کو انجام نہ دیں تو اللہ کی نظر میں ہماری کوئی قیمت نہیں۔ نہ ہماری کراماتوں کی ضرورت ہے اور نہ ہمارے انقلابی نعروں کی۔ اس کو نہ شان دار عمارتیں درکار ہیں اور نہ جگمگاتے ہوئے پنڈال۔ اس کو تو صرف یہ مطلوب ہے کہ اس کے بندے اس سے باخبر ہوجائیں کہ ان کا رب بالآخر ان سے کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ آدمی دن کی روشنی میں یہ سمجھ کر اپنا نظام بناتا ہے کہ تھوڑی دیر میں شام آنے والی ہے اور رات کو اس یقین کے ساتھ سوتا ہے کہ چند گھنٹوں کے بعد ضرور صبح ہوگی ۔ مگر آخرت کی دنیا کا کسی کو ہوش نہیں۔ کوئی نہیں جو موت کو اس طرح دیکھ رہا ہو جس طرح دن کا ایک مسافر آنے والی شام کو دیکھتا ہے۔ اور ایسے لوگ تو معدوم کے درجے میں ہیں جو موت کے دوسری طرف جہنم کو بھڑکتا ہوا دیکھ رہے ہوں۔ ہر آدمی اس طرح زندگی گزار رہا ہے جیسے موت بھی دوسروں کے لئے ہے اور جہنم بھی دوسروں کے لئے

سب سے پہلا کام جذباتیت کو ختم کرنا اور لوگوں کو باشعور بنانا ہے ایک بادشاہ اور اس کے وزیر میں بحث ہوئی۔

سوال یہ تھا کہ طبیعت غالب آتی ہے یا تربیت۔ کا خیال تھا کہ تربیت کے ذریعہ کسی کے اندر نئے اوصاف پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ جب کہ وزیر کا کہنا یہ تھا کہ تربیت سے کسی کو بدلا نہیں جا سکتا۔ کسی کی جو اصل طبیعت ہے، وہ بالآخر غالب آکر رہتی ہے۔

بادشاہ نے طے کیا کہ وہ وزیر کو غلط ثابت کرے۔ اس نے محل کے خادموں کو حکم دیا کہ دو بلیاں حاصل کریں اور ان کو اس بات کی تربیت دیں کہ وہ اپنے دونوں اگلے پیروں میں مشعل لے کر کھڑی رہیں ۔ تربیت شروع ہوگئی۔ یہاں تک کہ کچھ عرصہ کی مشق کے بعد دو بلیاں ایسی تیار کرلی گئیں، جو مشعل لے کر کھڑی ہو سکتی تھیں۔ بادشاہ کو جب بلیوں کے تربیت یافتہ ہونے کا پورا اطمینان ہو گیا تو اس نے ایک تاریخ مقرر کرکے اعلان کر دیا کہ اس روز خصوصی دربار ہوگا، وزیر کو بھی اس میں شریک ہونے کا حکم دے دیا گیا۔ مقررہ تاریخ پر سارے لوگ جمع ہوئے۔ دربار سجایا گیا۔ اس کے بعد دونوں تربیت یافتہ بلیاں لائی گئیں۔ ان کو بادشاہ کے تخت کے دونوں طرف اس طرح رکھا گیا کہ دونوں بالکل ساکت و صامت دو مشعلوں کو لئے ہوئے دونوں طرف کھڑی ہوئی تھیں۔ اب بادشاہ وزیر کی طرف مخاطب ہوا۔ یہ بلیاں کیا بتا رہی ہیں ۔ طبیعت غالب آتی ہے یا تربیت"۔ وزیر کو بادشاہ کی ان تیاریوں کا حال پہلے سے معلوم تھا۔ چنانچہ دربار کے لئے آتے ہوئے اس نے ایک چوہا اپنی جیب میں رکھ لیا تھا۔ بادشاہ اپنے قریہ چیلنج کو پیش کر چکا تو وزیر بولا "حضور جان بخشی ہو تو میں اس کا جواب بادشاہ نے پورے اعتماد کے ساتھ کہا، ہاں اپنا جواب پیش کرو۔ تم کو پوری اجازت ہے "۔ اس کے بعد وزیر بلیوں کے قریب آیا اور جیب سے چوہا نکال کر ان کے سامنے چو ہا سامنے آتے ہی جو واقعہ ہوا وہ یہ کہ دونوں بلیاں مشعل کو پھینک کر چوہے کے اوپر جھپٹ پڑیں۔ کے چیلنج کا یہ اتنا مؤثر جواب تھا کہ اس کے بعد وزیر کو یہ کہنے کی ضرورت بھی نہ تھی کہ " حضور دیکھ لیجئے تربیت کے اوپر طبیعت غالب آگئی"۔

تمثیل، کم از کم جزوی طور پر، ان ملکوں پر صادق آتی ہے جہاں اسلامی جماعتیں عوامی ووٹ کی طاقت سے اسلام کو غالب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ عوام کو اسلام کے نام پر اکٹھا کرتی ہیں اور اس کے بعد ایک شاطر سیاست داں ایک" شوشہ " چھوڑ دیتا ہے اور معاشارے اسلامی ووٹر اسلامی کیمپ کو چھوڑ کر ان کی طرف دوڑتے ہیں۔ بلی کی تربیت کی ساری کوشش " چو ہے" کو دیکھتے ہی ختم ہوجاتی ہے یہ اسلامی جماعتیں اسلامی حکومت قائم کرنے کے نام پر میدان سیاست میں کودتی ہیں۔ برسوں تک پریس اور پلیٹ فارم کے ذریعہ ملک کی رائے عامہ کو اسلام کے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ " خلاف کعبہ " اور "شوکت اسلام " کے نام پر ہونے والے جلوسوں میں لوگ جوق در جوق شرکت کرتے ہیں۔ " اسلام زندہ باد " کے نعروں سے فضا گونج اٹھتی ہے۔ اسلام کی یہ دھوم دیکھ کر اسلامی قائدین کو گمان ہونے لگتا ہے کہ 99 فی صد لوگ

ان کے ساتھ ہیں۔ یہاں تک کہ ان میں سے کسی اسلامی قائد کو یہ پر فخر الفاظ کہنے کا موقع مل جاتا ہے کہ "اب ہمارا نقطہ نظر بہتر طور پر سمجھا جانے لگا ہے۔ ہماری اکثریت ہے ۔ ہر فرد اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ اسلامی نظام قائم کیا جائے (ذکری ، دسمبر ۷ ۱۹) ۔ اس " صد فی صد" اکثریت کے باوجود جب الیکشن ہوتا ہے تو یہ اسلامی جماعتیں بری طرح ہار جاتی ہیں ، حتیٰ کہ ان کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہو جاتی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جب ملک کے " صد فی صد "

لوگ اسلامی جماعتوں کے حلقہ متفقین میں شامل ہیں تو وہ لوگ کہاں سے آتے ہیں جو " دھاندلی " کرکے ان کو شکست فاش دے دیتے ہیں ۔

جواب یہ ہے کہ یہ وہی عوام ہیں جن کے " ہر فرد " کو اپنا حامی سمجھ لیا گیا ہے مسلم ملکوں ، خاص طور پر برصغیر ہند کے مسلمان اتنے زیادہ جذباتی ہیں کہ کسی بھی تماشے کی بات کے پیچھے نہایت آسانی سے دوڑ پڑتے ہیں۔ ۷۱ء میں محمد علی کے مقابلہ میں لیون اسپینکس کی جیت عیسائی حلقوں کے لئے زبردست خوشی کا باعث تھی۔ یہ ناقابل تصور ہے کہ اُس کے بعد اسپینکس کو امریکہ کی طرف سے کسی ملک کا سفیر بنا دیا جائے ۔ جب کہ محمد علی کو شکست کے باوجود ، بنگلہ دیش کی حکومت کی غیر معمولی مہمانی کا شرف حاصل ہوا اور ۲۲ فروری کو ڈھاکہ میں اعلان کیا گیا کہ محمد علی ، امریکہ میں حکومت بنگلہ دیش کے اعزازی نمائندہ (کونسل جنرل) ہوں گے اور ان کی کار اورمان کے مکان پر بنگلہ دیش کا سرکاری جھنڈ الہرائے گا۔ امریکہ میں کھیل کا ایک ہیرو میدان سیاست کا ہیرو نہیں بنایا جاسکتا۔ جب کہ برصغیر ہند میں ایک فلم ایکٹر وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے اور ایک مکاباز سرکاری سفیر:

مسلم ملکوں کے عوام کی یہی جذباتیت اور بے شعوری ہے جس نے ان کو فقرہ باز سیاست کے لئے زرخیز زمین بنا دیا اسلام کے نعرہ میں روایتی اور جذباتی کشش انھیں اپنی طرف کھینچتی ہے۔ مگر اس کشش کی کوئی زیادہ گہری بنیاد نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شاطر سیاستداں میدان میں آتا ہے اور کوئی ایسا پُر فریب شوشہ چھوڑتا ہے جس میں وقتی دل چسپی کا سامان ہو تو وہ نہایت آسانی سے اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ اس وقت ان ملکوں کے عوام کا ٹھیک وہی حال ہوتا ہے جو تربیت یافتہ بلیوں کے سامنے چوہا چھوڑنے کاہی تھا۔ اس طرح اسلامی سیاست کا نتیجہ عملاً اس کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا کہ ایک "مسٹر شاطر" کی جگہ دوسرے مسٹر شاطر اقتدار کی کرسی پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ "مولانا اسلام" کی محرومی "انقلاب" کے بعد بھی اسی طرح باقی رہتی ہے جیسے وہ انقلاب سے پہلے تھی۔ ہندوستان میں لوک سبھا کی میعاد میں دو بار ایک ایک سال کی توسیع کے بعد ۱۸ جنوری ۱۹۷۷ء کو جب وزیر اعظم اندرا گاندھی نے چھٹے عام الیکشن (اپریل ۱۹۷۷ء) کا اعلان کیا تو پاکستان میں مسٹر بھٹو کو موقع مل گیا کہ وہ اپنے ووٹروں سے یہ کہہ سکیں کہ ہندوستان نے ان کے زیر اثر لوک سبھا کا الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حسن اتفاق مسٹر بھٹو کا ساتھ دے رہا تھا کہ انھوں نے ہندوستان سے کسی قدر پہلے اپنے ملک میں دوسرے عام الیکشن (مارچ ۱۹۷۷ء) کے انعقاد کا اعلان کر دیا تھا۔ یونیئر پر یہ خاص کہتا نے ان دنوں پاکستان کی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا:

"مسٹر بھٹو کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنی شاہ ضرب سے

فی الواقع برصغیر ہند کی قیادت چھین لی ہے۔ ان کا پراسرار استدلال یہ ہے کہ پاکستان میں الیکشن کے انعقاد کا اعلان کر کے انھوں نے مسز اندرا گاندھی کو مجبور کر دیا کہ وہ بھی ان کی پیروی کریں اس کے بعد ان کے لئے یہ مشکل نہ ہوگا کہ دوسرے معاملات میں بھی وہ ہندوستان کو آمادہ کر سکیں کہ وہ پاکستان کا لحاظ کرے “۔

(انڈین ایکسپریس 11فروری1977)

اسی قسم کے شوشے تھے جنھوں نے پاکستان کے پچھلے دو الیکشنوں میں مسٹر بھٹو کو کامیاب کیا، اندر اگر پاکستان میں دوبارہ الیکشن ہوں تو اسی طرح کوئی ”مسٹر بھٹو“ دوبارہ شوشے چھوڑ کر یقینی طور پر ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کرلے گا اور ”مولانا اسلام“ حیرت کے ساتھ دیکھیں گے کہ ان کا بیلٹ بکس خالی پڑا ہوا ہے۔ غلطی پر غلطی یہ ہے کہ یہ اسلامی جماعتیں مسئلہ کو گہرائی سے نہ دیکھ کر فوراً یہ کہہ دیتی ہیں کہ ہماری شکست اس لئے ہوئی کہ ”فریق ثانی نے دھاندلی کی تھی“۔ خالص منطقی طور پر صحیح ہونے کے باوجود الکثنی سیاست کے سلسلے میں بالکل بے معنی ہے۔ دھاندلی اگر شکست و فتح کے لئے اتنی ہی مؤثر ہے تو سوال یہ ہے کہ شیخ مجیب الرحمٰن کے مقابلہ (دسمبر ۱۹۷۰ء) میں یحییٰ حکومت ساری دھاندلیوں کے باوجود کیوں ہار گئی۔ اور اندرا گاندھی کی بے مثال دھاندلیوں کے باوجود جنتا پارٹی کو کیوں کامیابی (اپریل ۱۹۷۷ء) حاصل ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ”دھاندلی“ کا لفظ بول کر اپنی شکست کی توجیہہ کرتے ہیں، وہ صرف یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ دو میں سے کسی ایک دیوالیہ پن کی سرحد تک پہنچ گئے ہیں۔ سیاسی تدبر کا دیوالیہ پن یا

حقیقت یہ ہے کہ اسلامی جماعتوں کی یہ باتیں اس قدر خالی از معنی ہیں کہ اگر منطقی اعتراض سے بچنے کے لئے ان کو " سیاسی جھوٹ " نہ کہا جائے تو اس انتہائی لا حاصل سیاسی مشغلہ کے بارے میں کم از کم یہ تو یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ان پر انگریزی کی یہ کہاوت پوری طرح صادق آتی ہے:

FOOLS RUSH IN WHERE ANGELS FEAR TO TREAD نادان لوگ وہاں جاگھستے ہیں جہاں فرشتے قدم رکھنے سے گھبراتے ہیں۔

ایسی سیاست جو ذرائع و وسائل کی بربادی کے ہم معنی ہو۔ جو اہل ملک کی منفی جذباتیت میں اضافہ کرے، جو بار بار ایسے نا کام ہنگامے کھڑے کرے جن سے قدیم روائتیں ٹوٹ جائیں اور نئی صالح روائتیں قائم نہ ہوں، جو بے شمار اقتصادی اور سماجی نقصانات کے بعد عملاً صرف یہ نتیجہ دکھائے کہ ایک ظالم حکمراں کی جگہ دوسرا اس سے ظالم تر حکمراں تخت اقتدار پر قبضہ کر لے، حتی کہ جو اپنے " اسلامی محاذ " کو مضبوط بنانے کے لئے تخریبی عناصر کو اس طرح ابھارے کہ وہ زندہ ہو کر خود مسلم ملک کے ٹکڑے کر ڈالیں ایسی سیاست کو کم سے کم جو نام دیا جا سکتا ہے وہ یہی ہے۔

Printed page