علمِ کلام کی حقیقت
Al-Risala, April 1978, pp. 13–16
By Maulana Wahiduddin Khan
ابو الہذیل العلاف نویں صدی عیسوی کا ایک متکلم تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے ہاتھ پر تین ہزار آدمیوں نے اسلام قبول کیا۔ ابو الہذیل کا کہنا تھا کہ صفت کسی طرح ذات کی محمول نہیں ہو سکتی، صفت یا تو عین ذات ہے یا غیر ذات۔ وہ آخرت میں کسی مادی زندگی کا قائل نہ تھا۔ کیونکہ مادی یا جسمانی زندگی کے لئے حرکت ضروری ہے اور "حرکت" کی ایک ابتدا ہے اور ہر ابتدا اپنی انتہا پر پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے"__ مذہب کی تعلیمات کو قدیم فلسفہ کی اصطلاحوں میں سمجھنے کی ان کوششوں نے ہمارے متکلمین کو عجیب و غریب قسم کی بے فائدہ موشگافیوں میں الجھا علمِ کلام، فلسفہ و منطق کے بجائے اگر قرآنی بر ہانیات (بالفاظِ دیگر حقائقِ کون) کی بنیاد پر وضع کیا جاتا تو علمِ کلام اس الہیاتی استدلال کا علم ہوتا جس کو قرآن میں "حجتِ ابراہیم" کہا گیا ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نبی کو کوئی ایسی چیز دی جاتی تھی جس سے وہ اپنی مخاطب قوم پر اپنی صداقت کو مدلل کر سکے۔ مختلف انبیاء کو اس سلسلے میں مختلف چیزیں دی گئیں جو ان کے اپنے حالات کے لحاظ سے انھیں درکار تھیں :
تلک الرسل فضلنا بعضہم علیٰ بعض منہم یہ پیغمبر کہ ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت من کلم اللہ ورفع بعضہم درجات وآتینا بخشی ہے۔ کوئی ان میں ہے کہ اللہ نے اس سے عیسیٰ بن مریم البینات وأیدناہ بروح کلام کیا اور بعض کے درجے بلند کیے اور ہم نے القدس (بقرہ - ۲۵۳) عیسیٰ بن مریم کو کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے ان کی تائید کی۔
حضرت ابراہیم کو اس مقصد کے لیے جو چیز دی گئی وہ حجت عقلی تھی۔ اگرچہ یہ استعداد ہر نبی کے اندر موجود تھی مگر آپ کو خصوصی طور پر اس کا فیضان ہوا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو خاص طور پر آپ کی طرف منسوب فرمایا۔ ارشاد ہوا ہے:
وَتِلْكَ حجتنا آتیناہا ابراہیم علی قومہ اور یہ ہماری دلیل ہے کہ ہم نے ابراہیم کو اس (انعام - ۸۳) کی قوم کے مقابلے میں دی۔
قرآن میں حجت ابراہیم کے دو واقعات بصراحت مذکور ہیں۔ ایک، قوم کی ستارہ پرستی پر آپ کا اعتَرَض۔ دوسری، بادشاہ وقت (نمرود) سے آپ کی گفتگو۔ میں یہاں دوسری حجت کو نقل کرتا ہوں :
الم ترا الی الذی حاج ابراہیم فی ربہ ان کیا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم آتاہ اللہ الملک۔ اذ قال ابراہیم ربی الذی سے بحث کی اپنے رب کے بارے میں، اس یحیی و میت قال انا أحیی و امیت قال ابراہیم واسطے کہ اللہ نے اس کو سلطنت دی تھی۔ فان اللہ یاتی بالشمس من المشرق فات بها ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو جلاتا ہے اور من المغرب فبہت الذی کفر مارتا ہے، بولا کہ میں جلاتا ہوں اور مارتا ہوں۔ پھر ابراہیم نے کہا اللہ سورج کو مشرق سے لاتا ( بقرہ - ۲۵۸ ) ہے تو اس کو مغرب سے لادے، اس پر وہ منکر ہو چکا ہو گیا۔
اس مثال میں مخاطب نے پیغمبر سے حجت کی ہے یعنی وہ اس دعوے کے لیے دلیل کا مطالبہ کرتا ہے جو دونوں کے درمیان زیر بحث ہے۔ سوال یہ تھا کہ کسی کو قابل بندگی ہونے کا حق کس بنیاد پر ملتا ہے۔ مخاطب کا دعویٰ تھا کہ یہ معیار مقتدر اعلیٰ ہونا ہے اور چونکہ وہ ملک کا مقتدر اعلیٰ ہے، اس لیے وہ بندگی کا مستحق ہے۔ حضرت ابراہیم نے عقلی استدلال کے ذریعے ثابت کیا کہ زمین و آسمان کے حقیقی اقتدار کا مالک بادشاہ نہیں خدا ہے۔ آپ کا استدلال اتنا قوی تھا کہ مخاطب مبہوت ہو کر رہ گیا۔
اس مثال سے چند باتیں معلوم ہوتی ہیں :
جب مخاطب عقلی دلیل مانگے تو دعوت کا حق ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے سامنے عقلی دلیل پیش کی جائے۔
یہ عقلی استدلال اس معیار استدلال کے مطابق ہونا چاہیے جو خود مخاطب نے
پیش کیا ہو۔
استدلال اتنا تیہی ہو کہ مخاطب اپنے کو دلیل سے عاجز سمجھنے لگے جس کا نفسیاتی نام مبہوت
یہی علم کلام ہے۔ علم کلام کا مقصد بنیادی طور پر یہ ہے کہ مخاطب کے پیش کردہ معیار استدلال کے مطابق اپنی دعوت کو مدلل کیا جائے ۔ مخاطب جن اصطلاحوں میں بات کو سمجھنا چاہتا ہے، انھیں اصطلاحوں میں اس کو سمجھایا جائے اور اس کے مانوس فکری ڈھانچے کے مطابق اس کے لیے دین کو قابل فہم بنایا جائے۔
دین کو پوری طرح ماننے کے لیے” ایمان“ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ کی تعریف یہ ہے کہ وہ داخل القبلب ایمان (حجرات۔ یہ ایمان کسی کے دل میں اُترنے کے لیے جس راستے سے گزرتا ہے‘ وہ عقل کا راستہ ہے۔ عقل داخلہ ایمان کا دروازہ ہے۔ جب تک ایمان کسی کے قلب میں جاگزیں نہ ہو، اس وقت تک سوال یہ رہتا ہے کہ عقل کے دروازے میں کون سا قفل لگا ہوا ہے اور وہ کس کنجی سے کھل سکتا ہے۔ چونکہ قفل متعدد ہو سکتے ہیں، اس لیے اس پہلے مرحلے کے لیے کنجیاں بھی متعدد درکار ہوتی ہیں۔ مگر جب دروازہ کھل جائے تو اس کے بعد سوال کئی نہیں رہتے بلکہ صرف ایک بن جاتا ہے۔ جس طرح خدا ایک ہے، اسی طرح انسان کی فطرت صحیحہ بھی ایک ہے۔ داخل القلب ایمان حاصل ہونا گویا فطرت صحیحہ کی وحدت کا کائنات کی وحدت سے مربوط ہو جانا ہے۔ وہی وہ چیز ہے جس کو مذہب کی اصطلاح میں تعلق باللہ کا حصول کہا جاتا ہے۔ تعلق باللہ بلا تشبیہ اسی قسم کا ایک واقعہ ہے جیسے میرے کمرے کے لب اور پاور ہاؤس کے درمیان بجلی کے رشتے کا قائم ہو جانا۔ اس طرح کا تعلق باطنی طور پر ہمیشہ صرف ایک معنی رکھے گا اور وہ ہے بجلی کی رو “ مگر اس بہاؤ کو دو طرفہ قائم کرنے کے لیے سوچ مختلف حالات میں مختلف ہو سکتے ہیں۔
معلوم ہوا کہ علم کلام اصلاً معرفت الہی کا علم نہیں ہے بلکہ اثبات الہی کا علم ہے۔ استدلال کے طریقے ہر دور میں جُدا گانہ ہو سکتے ہیں مگر معرفت کا علم ہر دور میں یکساں رہے گا کیونکہ
عقلِ انسانی ایسا کرسکتی ہے کہ اپنے دروازے کھولنے اور بند کرنے کے لیے نئے نئے تالوں اور کنجیوں کا تجربہ کرے۔ مگر خدا کے یہاں اس قسم کی تبدیلی کا کوئی سوال نہیں۔ ذات میں ایک ازلی اور ابدی حقیقت ہے۔ اسی طرح فطرتِ انسانی کا اصل جوہر جس کے تاروں کے ذریعے خدا اور بندے کا تعلق قائم ہوتا ہے، وہ بھی ایک مستقل اور غیر تغیر پذیر اس لیے تعددِ کلام کی ضرورت صرف اس وقت تک رہتی ہے جب تک فطرت صحیح بیدار نہ ہوئی ہو۔ جب فطرت بیدار ہو جائے اور دنیاءِ حقیقت میں بندے اور خدا کا تعلق اپنی اصل حیثیت میں قائم ہو جائے، اس وقت وحدتِ کلام تعددِ کلام کی جگہ لے لیتی ہے۔
علمِ کلام کی ضرورت کے دو اور پہلو ہیں :
ذہنی غلبہ کی فضا پیدا کرنا۔