۲۔ اتمامِ حجت
Al-Risala, April 1978, pp. 16–24
By Maulana Wahiduddin Khan
اول الذکر پہلو کا مطلب یہ ہے کہ دین کی علمی نمائندگی کے نتیجے میں عمومی طور پر ایسی ذہنی فضا بن جائے کہ دین اور خدا کی بات ہلکی بات نہ رہے بلکہ بھاری بھرکم بات
ذہنی غلبہ کی یہ فضا اسلام دو طریقوں سے حاصل کرتا ہے۔ ایک سیاسی قوت۔ دوسرے عقلی استدلال۔ اگر کسی علاقے میں اسلام کا سیاسی اقتدار قائم ہو جائے تو خواہ حکومت مذہبی معاملات میں غیر جانب دار ہی کیوں نہ ہو، اسلام کے حق میں ذہنی غلبہ کی ایک فضا خود بخود قائم ہو جاتی ہے۔ ہندوستان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آٹھ نو سو برس کی حکومت کے باوجود یہاں کے مسلم حکمرانوں نے کبھی اشاعتِ دین کی سنجیدہ کوشش نہیں اس غلطی کے لیے میں انھیں معذور قرار دینے کا وکیل نہیں بن سکتا۔ تاہم یہ واقعہ ہے کہ مسلم اقتدار نے عمومی غلبہ کی جو فضا پیدا کی، وہ تبلیغِ دین کی غیر سرکاری کوششوں میں مددگار جب اس علاقے کو خراسان اور ماوراء النہر کے سیاسی حوصلہ مندوں نے فتح کیا تو اسی کے ساتھ بخارا، بلخ، سمرقند، خوارزم، عراق اور ایران کے علماء قطار در قطار یہاں
آنا شروع ہونے۔ ابتدا از ملتان اور لاہور کا علاقے ان کے مرکز بنے۔ اس کے بعد جب ۷ء میں سلطان شمس الدین التمش نے دہلی کو دارالسلطنت بنایا تو ہر طرف سے علما اسمٹ سمٹ کر دہلی میں جمع ہونے لگے۔ اس طرح حکومت کے براہ راست تعاون کے بغیر مگر اسلام کے سیاسی غلبے کی عمومی فضا میں تبلیغ دین اور اشاعت اسلام کے وہ سارے کارنامے انجام پائے جن کا نتیجہ آج ہم اس برصغیر میں ۲۰ کروڑ مسلمانوں کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ ذہنی غلبے کی اس فضا کے لیے سیاسی غلبہ ناگزیر نہیں، وہ عقلی استدلال کے ذریعے بھی پیدا ہوتی ہے۔ حتی کہ عقلی مبنیادوں پر بنی ذہنی فضا اتنی وسیع اور قوی شکل اختیار کر سکتی ہے کہ سیاسی غلبے سے پیدا ہونے والی فضا پر بھی بھاری ثابت ہو۔ یہاں مثال کے طور پر مغربی قوموں کی موجودہ سائنس کا نام لیا جا سکتا ہے۔ مغربی قوموں کا سیاسی اقتدار آج ایشیا اور افریقہ سے تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ مگر مغربی قوموں نے دماغی علوم میں جو برتری حاصل کی ہے، اس کا یہ نتیجہ ہے کہ آج بھی آزاد شدہ ممالک پر ان کا مکمل ذہنی غلبہ قائم ہے۔ کسی چیز یا کسی نظریے کا " فارن " ہونا اس کی بہتری کا ایسا ثبوت ہے جو بلا بحث تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ یہ ایک مسلمہ بن گیا ہے کہ جو چیز مغرب سے آئے وہ ضرور حالانکہ صرف چند سو برس پہلے مغربی سائنس کی یہ حیثیت نہیں تھی۔ قدیم طرز کے کیمیادانوں کے ہاتھ میں تانبے کو سونا بنانے کا ایک خبط تھا اور فلکیات پرانے نجومیوں کے ہاں لوگوں کو مستقبل کی بات بتا کر ان کو لوٹنے کی ایک بدنام تعبیر تھی۔ ذہنی مرعوبیت اور تصوراتی غلبے کی یہ فضا جب کسی تحریک کے حق میں پیدا ہو جائے تو بہت سی مصنوعی اور غیر ضروری رکاوٹیں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں اور تحریک کی توسیع و ترقی کا کام ایک موافق فضا میں ہونے لگتا ہے۔ ذہنی غلبے کی فضا کی مثال پختہ سڑک کی اگر آپ اپنی گاڑی نا ہموار بیابان میں چلا رہے ہوں تو طرح طرح کی زحمتیں پیش اس کے برعکس اگر آپ کو ایک بنی بنائی پختہ سڑک مل جائے تو سفر نہایت تیزی اور آسانی سے ہونے لگے گا۔
علم کلام کا ایک کام اسی قسم کی ذہنی فضا پیدا کرنا ہے۔ علوم کا ایسا مطالعہ کہ وہ
اسلامی عقائد کے مؤید نظر آتے ہیں۔ تاریخ کی ایسی نقشہ کشی جس میں اسلام اپنی داخلی جگہ حقائق کائنات کی ایسی تعبیر جس سے اسلام کی تصدیق و تصویب ہو۔ صداقتوں کا ایسے انداز اور ایسے دلائل کے ساتھ اظہار جو وقت کے ذہن پر عظیم سوالیہ نشان بن کر مسلط ہو جائے۔ غرض برتر علمی تدوین اور اعلیٰ استدلال کے ذریعے لوگوں کے طرزِ فکر پر اس طرح چھا جانا کہ ان کی عقل کو نظر آنے لگے کہ اسلام کے سوا کوئی چیز حقیقت کے خانے میں بیٹھ ہی نہیں رہی ہے۔ جہاں اسلام کا احترام دلوں میں جگہ پا چکا ہو وہاں دعوتِ اسلام کا کام بہت آسان ہو جاتا ہے اور یہ ایک طاقتور علم کلام کا نہایت اہم فائدہ ہے۔
علم کلام کا ایک پہلو اتمام حجت ہے۔ اتمام حجت کے معنی ہیں ثبوت کو مکمل استدلال کو آخری حد تک پورا کر دینا۔ یہ کام کیونکر ہوگا۔ اس کی صرف ایک شکل وہ یہ کہ خود انسان کے پاس اور اس کے اپنے تجربے میں جانچنے پرکھنے کی جو صلاحیت ہے، اس کے اعتبار سے اپنے دعوے پر دلیل کو آخری حد تک پہنچنا یہ صلاحیت عقل کہلاتی ہے۔ اس لیے اتمام حجت کے معنی ہیں۔ پر کسی کے لیے دین کی صداقت کو آخری حد تک ثابت شدہ بنا دینا۔ پچھلے زمانوں میں انسان کی عقل خارق عادت واقعات کو اپنے لیے آخری فیصلہ کن چیز سمجھتی تھی، اس لیے قدیم دور میں اکثر انبیائے اتمام حجت کے لیے خارق عادت معجزات پیش کیے۔ مگر آخری رسول کی بعثت کے بعد دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی تھی جب کہ علم کو فیصلہ کن مقام ملنے والا تھا، اس لیے آپ کو کتابی معجزہ ۔ دیا گیا ، جو نہ صرف اپنی ابدی صداقت کی وجہ سے ممتاز ہے بلکہ ترقی یافتہ انسانیت کی عقل کے لیے حجت اور برہان بننے کا سارا سامان اپنے اندر رکھتا ہے۔
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نبی جب آتا تو وہ اپنی قوم کی اپنی زبان میں خطاب (وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه ، (ابراهیم-۴) اس وقت تک کسی قوم کو منکر قرار دے کر اسے سزا نہیں دی جاتی جب تک پیغمبر کی دعوت کا اس تک پہنچا معلوم
اور ثابت نہ ہو۔ (لَّمْ يَكُنْ ربک مُہْلِكَ القریٰ بظلم و اھلها غافلون ، انعام - ۱۳۱) اتنی قوت و شدت سے دعوت پیش کی جاتی کہ مخاطب پکار اُٹھتا کہ تم نے تو اپنا سبق ہم خوب پڑھ پڑھ کر سنا دیا ہے۔ (... ولی قولوا درست، ، انعام-۱۳۱) نبوت کے لیے خصوصیت سے موزوں صلاحیتوں والی شخصیت کا انتخاب کیا جاتا۔ اَللہُ يصطفى من الملائكة رسلا ومن الناس ، حج75-)
یہ سب کیوں تھا۔ اسی لیے کہ دعوت کو پہنچانے کا وہ اعلیٰ ترین معیار حاصل ہو سکے جو مخاطب کے ذہن کے اعتبار سے اُس کے لیے آخری دلیل بن جائے۔ تعقل سے محروم ہو چکا ہو اور ہٹ دھرمی کے سوا کوئی بنیاد اس کے پاس باقی نہ رہے۔ ظاہر ہے کہ انسان کے پاس سوچنے اور رائے قائم کرنے کی جو سب سے بڑی صلاحیت ہے وہ عقل ہی ہے۔ اس لیے انسان کا یہ جرم کہ ایک بات جو حق تھی، اس کو پوری طرح سمجھ لینے کے باوجود اس نے نہیں مانا، اسی وقت متحقق ہو سکتا ہے جب اس کے اپنے عقلی معیار کے مطابق اس حق کو ثابت کر دیا گیا ہو کسی اور معیار کے لحاظ سے کوئی بات خواہ کتنی ہی مسلم الثبوت کیوں نہ ہو۔ ایسے شخص کو مجرم قرار دینے کے لیے وہ کافی نہیں ہو سکتی جس نے اپنی عقل کی بساط کے مطابق اس کا برحق ہونا جان نہ لیا ہو۔ ہے جس کے لیے پیغمبر کُشتی لڑا جس کے لیے عصا کو سانپ کی شکل دی گئی، جس کے لیے حجت ابراہیمی ظاہر ہوئی۔ جس کے لیے قرآن کو معجزہ ادب کی شکل میں اُتارا گیا۔ دعوت کا یہ اہتمام کبھی صرف حجت کا اتمام ہو کر رہ جاتا ہے اور کبھی ذہن کے دروازے کھول دیتا ہے، جیسا کہ واقعات سے ثابت ہوتا ہے۔
اوپر کی گفتگو نے ہم کو جس مقام پر پہنچایا ہے، اس کے بعد یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ علمِ کلام کی اصل حقیقت کیا ہے۔ علمِ کلام کا کام اصلاً یہ نہیں ہے کہ دین کی حقیقت کو اس کے ابدی مفہوم میں بیان کرے ۔ بلکہ علم کلام یہ ہے کہ وہ لوگ جن کے لیے شخصی یا زمانی اسباب کی بنا پر دین، عقلی طور پر قابل فہم نہ رہا ہو، ان کے لیے دین کو عقلی اصطلاحوں میں قابلِ فہم بنا دے۔ یہ تعریف بلاشبہ ایسی نہیں ہے جو پوری صورت حال
کا احاطہ کیے ہوئے ہو۔ دوسری چیزوں کی طرح یہاں بھی استثناء صرف ممکن بلکہ بنگر عمومی طور پر ایک قابل عمل توضیح کے اعتبار سے) یہ کہنا صحیح ہوگا کہ علم کلام کی حقیقت یہی ہے۔
علم کلام کی یہ تعریف اس کو بیک وقت دو چیزوں سے الگ کر دیتی ہے۔ فلسفہ سے جو حقیقت کو (اس کی ذاتی حیثیت میں، فی نفسہ متعین کرنا چاہتا ہے دوسرے معروضی سے جو کم از کم اپنے ادعا کے مطابق Objective Study حقیقت کی غیر جانبدارانہ تحقیق کا نام ہے۔ علم کلام کے نزدیک اسلام کی حیثیت خود ایک (دریافت شده مسلم الثبوت نظام فکر کی ہے۔ علم کلام کا کام صرف اس کی زمانی تشریح اور اس کو مخصوص حالات کے اعتبار سے مدلل کرنا ہے۔ اسی طرح نام نہاد معروضی طریق مطالعہ اختیار کرنے کا مطالبہ بھی علم کلام سے نہیں کیا جا سکتا۔ کلام حقیقۃً کوئی علمی تلاش نہیں بلکہ تلاش میں کامیاب ہونے کے بعد ان عقلی دلائل کو مرتب شکل میں دوسرے کے سامنے پیش کرنا ہے جو خود پیش کرنے والے کے لیے متعلقہ سچائی پر مطمئن ہونے کا سبب بنے تھے۔ ” اسلام ایٹ دی کر اس روڈس کے مصنف کے سامنے غالباً یہی پہلو تھا جس کی بنا پر انھیں اپنی کتاب کے آغاز میں کہنا پڑا : It does not pretend to be a dispassionate survey of affairs: It is the state- ment of a case: the case of Islam versus Western civilization. یعنی اس کتاب میں ٹھنڈے دل سے غیر جانبدارانہ جائزے کا انداز اختیار نہیں کیا گیا ہے، اس کا انداز ایک مقدمہ جیسا ہے۔ اسلام کا مقدمہ مغربی تہذیب
اسلامی دعوت بیک وقت اپنے ساتھ دو متضاد تقاضے رکھتی ہے۔ اس کو اس نازک مگر دائمی رشتہ کی وضاحت کرنی ہے جو بندے اور خدا کے درمیان اس وقت قائم ہوتا ہے جبکہ وہ ایمان کی دولت کو پا گیا ہو۔ یہ ایک ابدی آواز ہے جس کو ابدی الفاظ میں بیان کرنا ہے۔ دوسری طرف اسلامی دعوت کا ایک پہلو یہ ہے کہ
(ذہنوں میں تقریب پیدا کی جائے) اور دین کو قابل فہم بنانے کے لیے اس کو مخاطب کے عقلی معیار کے مطابق ثابت کیا جائے۔ یہ دوسری چیز، اول الذکر کے برعکس، بڑی حد تک زمانی نوعیت کی حامل ہے۔ چونکہ انسان کا عقلی معیار اس کی معلومات کے تابع ہے اور یہ معلومات دن بدن بڑھتی اور بدلتی رہتی ہیں۔ اس لیے عقلی معیار بھی اس کے ساتھ تغیر و تبدل کا شکار ہوتا رہتا ہے۔ وقتی اصطلاحوں میں دائمی حقیقت کی تعبیر نہیں کی جاسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ امام رازی کی تفسیر کے فلسفیانہ اور طبیعیاتی مباحث آج بے معنی ہو کر رہ
بلاشبہ اسلامی دعوت میں ان دونوں پہلوؤں کی اہمیت ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ مستثنیٰ حالات کو چھوڑ کر دونوں میں سے کسی ایک کو دوسرے کا بدل نہیں بنایا جاسکتا۔ جب بھی ہم ایک کو دوسرے کی جگہ پر رکھیں گے ، بیشتر حالات میں کوئی ایک یا دونوں مقصد مجروح ہو جائیں گے۔ اس لیے عملی بات یہ ہے کہ دونوں کے درمیان تقسیم عمل کے اصول کو مان لیا جائے۔ تشریح دین کا علم مثبت دائرے کے لیے ہے اور علم کلام اس کے مقابلے میں دفاعی یا منفی دائرے میں اپنی خدمت انجام اول الذکر کا کام دین کو ایک مطلق صداقت کی حیثیت سے ظاہر کرنا ہے۔ ثانی الذکر سے بنیادی طور پر جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ مخاطب کی ذہنی رکاوٹوں کو دور کرے تا کہ وہ اصل دعوت کو سمجھ سکے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ مثبت تعبیرات منفی استدلال کے لیے بالکل غیر مفید ہیں یا کہ منفی استدلال کا مثبت تعبیر کے لحاظ سے کوئی فائدہ نہیں۔ نازک علمی مسائل ، وہ بھی ایسے مسائل جن کا تعلق انسان کی نفسیات سے ہو، اس طرح کی مطلق تقسیم قبول نہیں دونوں مختلف پہلوؤں سے ایک دوسرے سے بندھے ہوئے ہیں اور اکثر حالات میں ایک دوسرے کے لیے معین و مددگار بھی۔ تاہم نوعیت کے فرق کو سمجھنے کے لیے دونوں کے درمیان اس قسم کی تقسیم ناگزیر ہے۔
یہیں سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ فلسفہ اور علم کلام دونوں ہم معنی الفاظ
نہیں ہیں، جیسا کہ ماضی میں غلطی سے سمجھ لیا گیا تھا۔ ایک زمانے میں فلسفہ عام طور پر مذہب کے ایک شعبے کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔ اس زمانے میں فلسفہ کا کام زیادہ تر یہ تھا کہ مذہبی عقائد کو فلسفیانہ اصطلاحات میں بیان کر دیا جائے۔ یہ فلسفہ جب عباسی دور میں (ترجمہ ہو کر) مسلم سوسائٹی میں پھیلا تو ابتداءََ بہت سے لوگوں کو توحش ہوا۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ مذہب کے بالمقابل کوئی اور چیز ہے۔ بعد کو زیادہ تحقیق سے سمجھ میں آیا کہ زیادہ تر فرق صرف اندازِ اظہار کا ہے۔ ورنہ فلسفہ اور مذہب میں کوئی تضاد چنانچہ فلسفہ میں تھوڑا سا رد و بدل کر کے اس کو مسلمان بنا لیا گیا اور اسی مسلمان فلسفے نے بالآخر علمِ کلام کی شکل اختیار کر لی۔
اس واقعے سے یہ فائدہ تو ہوا کہ فلسفہ اور مذہب دو متصادم چیزیں نہیں رہیں بلکہ فلسفہ خود مذہب کا خادم اور مؤید بن گیا مگر اس ترکیب نے علمِ کلام میں ایک غلطی بھی شامل کر دی۔ وہ یہ کہ علمِ کلام کے موضوعات وہی بن گُھسے جو خود فلسفہ کے موضوعات تھے۔ علامہ تفتازانی لکھتے ہیں :
ثم لما نقلت الفلسفة عن اليونانية الى پھر جب فلسفہ یونانی زبان سے عربی زبان میں العربية وخاض فيها الاسلاميون و منتقل ہوا اور مسلمان اس میں گھسے اور انھوں حاولوا الرد على الفلاسفة فيما خالفوا نے فلاسفہ کا ان مسائل میں رد کرنے کا ارادہ فيه الشريعة فخلطوا بالكلام كثيراً کیا جو شریعت کے خلاف تھے تو انھیں اپنی من الفلسفة ليحققوا مقاصدها بحث میں فلسفہ کا کافی حصہ لینا پڑا تاکہ وہ فلسفہ فيتمكنوا من ابطالها وهلم جرا الى ان کے اصل مسائل کو محقق کر دیں اور پھر ان کا غلط ادرجوا فيه معظم الطبيعيات والالهيات ہونا ثابت کر سکیں۔ یہاں تک کہ مسلمانوں نے فلسفہ وخاضوا الى الرياضيات حتى كاد لا يميز میں طبیعیات اور الہیات کا بھی بڑا حصہ لے لیا۔ عن الفلسفة لولا اشتماله على الالهیات اسی طرح مسلمان ریاضی کی طرف متوجہ ہوئے تو شرح العقائد النسفيه، صفحه ٦ اس میں ایسا گئے کہ اگر اس میں الہیات کا حصہ نہ ہوتا تو اس کو فلسفہ سے ممتاز کرنا دشوار ہو جاتا۔
فلسفہ کا کام اصلا حقیقت کی علمی دریافت تھا۔ نیز اپنی فطرت کے اعتبار سے وہ حقیقت کو اس کی آخری حدود تک متعین کرنا چاہتا تھا۔ جب دونوں علوم با ہم مخلوط ہوئے تو نتیجہ یہ ہوا کہ علم کلام نے بھی اپنے ذمہ یہی کام لے لیا اور یہ کوشش شروع کر دی کہ حقیقت کے بارے میں فلسفہ کے پیدا کردہ تمام سوالات کا جواب اس طرح دیا جائے کہ حقیقت اپنی آخری شکل میں متعین ہو کر سامنے آجاۓ۔
اسی غلطی کا نتیجہ تھا کہ ملت کے عام اور معروف عقائد کے بالمقابل عقائد کا ایک طویل مجموعہ تیار ہو گیا۔ یہ مجموعہ نہ صرف امت کے اصل عقائد پر اضافہ تھا بلکہ بہت سے پہلوؤں سے وہ قرآن وسنت کے اسلام سے ٹکرانے والا تھا۔ پھر جب متکلمین کے موضوعہ عقائد کے لوازم و نتائج پر نظر گئی تو معلوم ہوا کہ یہ شریعت سے الگ ایک شریعت ہے جس نے خدا کے قرآنی تصور تک کو بدل ڈالا ہے۔ یہی وہ صورت حال تھی جس نے متکلمین اور محدثین کے درمیان زبردست کش مکش پیدا کر دی اور وہ سارے ناخوشگوار واقعات وجود میں آئے جن کو ہم تاریخ میں دیکھتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ علم کلام کا کام اصلاً دفاعی ہے نہ کہ اثباتی۔ یعنی علم کلام کو یہ نہیں بتانا ہے کہ دین کیا ہے۔ اس کو صرف یہ کرنا ہے کہ دین کے خلاف جو علمی حملے یا اس کی راہ میں ذہنی رکاوٹیں ہیں، ان کا فکری سطح پر مقابلہ کر کے انھیں ختم کرنے کے دوسرے لفظوں میں علم کلام کا کام ذہنی میدان میں وہی ہے جو بدر وحنین کے معرکے میں تلوار کا۔ تلوار بلاشبہ اسلام کے دفاع کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ لیکن اگر تلوار کو توجیہہ دین کے مقام پر رکھ دیا جائے تو پھر وہ چیز وجود میں آتی ہے جس کو "بیلچہ پارٹی" کہا جاتا ہے۔ اسی طرح علم کلام اگر چہ اسلام کے دفاع کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے لیکن اگر اس کو دین کی فلسفیانہ توجیہہ کے لیے استعمال کیا جانے لگے تو وہ چیز وجود میں آئے گی جس کو ایک مصنف نے "فنی مفروضات" کا نام دیا ہے اور جو مصنف مذکور کے الفاظ میں ایک ایسا اسلام ہے جس کو ملت کے عقائد سے ذرا تعلق نہیں۔ " مثال کے طور پر تفسیر بیضاوی کے آغاز میں "رحمان" کی حقیقت کی طویل بحث، جو صرف اس لیے
پیدا ہوئی ہے کہ ذہن رحمانیت کو فلسفیانہ سوالات کی روشنی میں متعین کرنا چاہتا ہے۔ سادہ طور پر سمجھنے کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ ہمارے اعمال کی جو جزا خدا کی طرف سے ملتی ہے، اسے مجازاً رحمت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قدیم فلسفہ کے اتباع میں متکلمین نے یہ نظریہ قائم کر لیا کہ عرض قائم بالغیر ہوتا ہے اور اس کا وجود آنی اور فانی ہے۔ مسئلے کو علم کلام میں شامل کرنے کی وجہ سے بہت سے غیر ضروری مسئلے پیدا ہو گئے۔ کی وجہ سے اعمال کے وزن کو سمجھنا نا ممکن ہو گیا۔ افعال کے صدور سے قبل استطاعت کا وجود محال قرار پایا۔ قیامت کے دن ہاتھ پاؤں کی شہادت نا قابل تصور ہو گئی۔ تھا کلمتان خفیفتان علی اللسان ثقیلتان فی المیزان، اس کی کوئی اصلیت باقی نہیں
علم کلام کو فلسفے سے مخلوط کرنے کی یہ غلطی اس طرح پھیلی کہ بعد کے لوگ بھی اپنے آپ کو اس سے بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ حتی کہ ڈاکٹر اقبال جب ”الہیات اسلامی کی تشکیل جدید“ کرنے بیٹھے تو وہ بھی اس میں مبتلا ہو گئے۔ مثلاً اسلام کا ایک عقیدہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد جنت اور جہنم ہے۔ اس عقیدے کے سلسلے میں بہت سے فلسفیانہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ سوال کہ جنت اور جہنم مادی ہیں یا غیر مادی۔ اقبال نے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی تو انھیں کہنا پڑا :