اسلام اور سیاست
Al-Risala, January 1978, pp. 16–23
By Maulana Wahiduddin Khan
سیاست اسلامی تحریک کا اشو نہیں، اسلامی تحریک کا ایک مرحلہ ہے جو کبھی پیش آتا ہے اور کبھی پیش نہیں آتا۔ اسلام کا خطاب انسان سے ہوتا ہے نہ کہ کسی سیاسی ادارہ سے۔ اس کا نشانہ ”قلب“ کو بدلنا ہوتا ہے نہ کہ نظام کو بدلنا۔ اسلام کا ایک علم بردار آخرت کی نجات کا پیغام لے کر اٹھتا ہے نہ کہ اقتصادی اور سیاسی نجات کا پیغام۔ یہ کہنا کہ «اسلام کا مقصد فرد سے لے کر سماج تک کی اصلاح ہے» اسی طرح ایک بے معنی جملہ ہے جیسے کوئی باغبان یہ کہے کہ ”میرا مقصد بیج سے لے کر پتی تک کو وجود میں لانا ہے کہ اس قسم کا کوئی جملہ باغبانی کی مکمل تشریح“ نہیں ہے، بلکہ باغبانی کی صرف ناقص تشریح ہے۔ کیوں کہ باغ در اصل بیج کے تحقق کا دوسرا نام ہے نہ کہ بیج سے لے کر پتی تک کی کسی مکمل جد و جہد کا۔ اس قسم کے مکمل منصوبے اینٹ پتھروں کی تعمیر کے لئے ہوتے ہیں نہ کہ زندہ ہستیوں کی تعمیر کے لئے۔ ایک بندۂ مومن کو جو چیز بے چین کرتی ہے، وہ یہ احہیں۔ اس ہے کہ اسے مرنا ہے اور مرنے کے بعد اللہ کے سامنے کھڑا یہ احساس، عین اپنی نوعیت کے اعتبار سے، ایک ذاتی احساس ہے۔ وہ شخصی انقلاب کا پرو گرام ہے ۔ زندگی کی سرگرمیاں، یا تمام انسانی تعلقات اشخاص ہی کے عمل کا دوسرا نام ہیں ساس لئے کسی معاشرہ میں جب اشخاص کی قابلِ لحاظ تعداد آخرت کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنے لگے تو جگہ جگہ ان کا سابقہ دوسرے انسانوں سے پیش آتا ہے۔ کبھی اعتقادی بحثوں تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیم کی مثال میں ہوا، کبھی وقت کے حکمران اور مدعو کے درمیان جزوی مصالحت ہو جاتی ہے جیسا کہ حضرت یوسف کی مثال سے معلوم ہوتا ہے۔ کبھی مدعو کی ضد دائی اور مدعو کے درمیان سیاسی ٹکراؤ کی صورت پیدا کردیتی ہے جیسا کہ نبی آخر الزمان کی مثال میں نظر آتا ہے۔ تاہم ایسا بھی نہیں ہوتا کہ دائی سیاسی انقلاب یا حکومتی تغیر کو اپنی دعوت کا اشو بنائے ۔ سیاست اور حکومت کا انقلاب بطور ایک امکانی نتیجہ کے اسلامی تحریک کا جزو بن سکتا ہے۔ مگر دہ تحریک کا ابتدائی اور بنیادی پرو گرام کبھی نہیں ہوتا۔
ایک باغبان کبھی ایسا یں کرتا کہ یہ اعلان کر کے فضاؤں اور بادلوں سے لڑنے لگے کہ ”میرا مقصد ایک مکمل درخت کو وجود میں لانا ہے“۔ وہ زمین کو درست کرتا ہے اور بیج کی جڑ جمانے پر ساری طاقت صرف کر دیتا ہے۔ اسی طرح اسلام کا دامی اگر ایسا کرے کہ وہ ”مکمل انقلاب“ کا نعرہ لگا کر وقت کے حکمرانوں سے لڑنا شروع کر دے کیونکہ ”معاملات زندگی کی باگیں حکمران طبقہ کے ہاتھ میں ہوتی ہیں“۔ تو یہ ایک نادانی کا فعل ہوگا۔ اسلام کے نقطہ نظر سے ”معاملات کی باگیں“ دنیا طلبی اور نفس پرستی کے ہاتھ میں ہوتی ہیں نہ کہ کسی سیاسی ادارہ کے ہاتھ میں ، اسلام کی کامیابی یہ ہے کہ لوگ دنیا طلبی کو چھوڑ کر آخرت پسند بن جائیں ، وہ نفس پرستی کے بجائے خدا پرستی کو اپنا دین بنالیں۔ یہی اسلام کی سیاست بھی ہے اور غیر سیاست اگر یہ بات حاصل ہو جائے تو گویا سب کچھ حاصل ہو گیا۔ اگر یہ حاصل نہ ہو تو نہ "مکمل انقلاب" کا پروگرام لے کر سیاست کی چٹان سے ٹکر کھانا آتنا ہی بے معنی ہے جتنا ”مکمل درخت“ کا منصوبہ لے کر فضاؤں میں اچھل کود کرنا ۔ پیغمبر اسلام کی بعثت کا مقصد بھی ٹھیک وہی تھا جو دوسرے پیغمبروں کا تھا۔ سب کو ایک ہی دین دیا گیا۔ سے کسی کا مقصد نہ تو دوسرے سے مختلف تھا اور نہ ایسا ہوا کہ کسی کو ناقص اور کسی کو کامل دین دیا گیا ہو۔ تاہم ان میں بعض اضافی فرق تھے۔ اصل مشن کے ساتھ ہر ایک کو کوئی منفرد وظیفہ بھی عطا کیا گیا اور اس کے لحاظ سے اس کو ضروری اسباب دیے گئے ۔ حضرت ابراہیم تو توحید آخرت کے اعلان کے ساتھ اس پر بھی مامور تھے کہ صحرائے عرب میں پہنچ کر خدا کا پہلا گھر تعمیر کریں۔ حضرت موسیٰ کے ذمہ کام تھا کہ اپنے اصل فریضہ (اعلان حق) کے ساتھ بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر باہر لے جائیں۔ حضرت مسیح اپنی پیغمبرانہ ذمہ داری کے ساتھ نئی آخر الزماں کے مبشر نہ کہے گئے، وغیرہ پیغمبر اسلام کے معاملہ کی نوعیت بھی ٹھیک یہی ہے۔ آپ سے اللہ تعالیٰ کو اصلاً جو چیز مطلوب تھی ، وہ تو یہ تھی کہ وہ دنیا کے لئے منذر و مبشر بنیں۔ اسی کے ساتھ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا منصوبہ یہ بھی تھا کہ خصوصی طبیعی مدد کے ذریعہ زمین پر اہل اسلام کی حکومت قائم کر دے تاکہ آخری کتاب کی حفاظت کا انتظام ہو سکے۔
اسلام کی جو تاریخ بنی، وہ پیغمبرانہ مشن کا اضافی جزو ہونے کے باوجود کوئی اتفاقی واقعہ نہ تھا۔ وہ بجائے خود مطلوب بھی تھا۔ مگر یہ مطلوبیت باعتبار وسیلہ تھی نہ کہ باعتبار مقصد ۔ اللہ تعالیٰ کو اپنی آخری کتاب کو محفوظ کرنا تھا۔ لئے ضروری تھا کہ قرآن کے ساتھ اقتدار کو جمع کیا جائے۔ اگر پچھلی آسمانی کتابوں کی طرح قرآن کے ساتھ اقتدار کو جمع نہ کیا گیا ہوتا تو ہزاروں برس کی پیغمبرانہ تاریخ کا تجربہ بتا رہا تھا کہ اس کا انجام بھی بالآخر وہی ہوگا جو پچھلی آسمانی کتابوں کا ہوا۔ اس مصلحت کے تحت اللہ تعالیٰ نے خصوصی فیصلہ کیا کہ وہ آخری شریعت کے ساتھ لازماً اقتدار کو بھی جمع کرے گا (الدین والسلطان تو آمان) خواہ یہ اجتماع شرک و کفر کے علم برداروں کو کتنا ہی ناگوار ہو (صف ۔ عرب میں جب اسلام کا غلبہ قائم ہو گیا تو سنہ میں یہ آیت اتری ۔
اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (مائده - ۳) آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور
تمھارے اور اپنی نعمن تمام کر دی۔
یہاں اکمالِ دین اور اتمام نعمت سے مراد اصلاً قانونِ اسلامی کی دفعات کی تکمیل نہیں ہے۔ بلکہ آخری شریعت کے ساتھ اقتدار کو جمع کرنا ہے یہی وجہ ہے کہ آیت میں اسی کے ساتھ ارشاد ہوا ہے کہ اب عرب کی تسخیر کے بعد کافر اس سے مایوس ہو گئے ہیں کہ وہ تمھارے دین کو مغلوب کر سکیں (الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ)۔ دوسرے مقامات سے اس کی مزید وضاحت ہوتی ہے جہاں غلبہ اسلامی کو اتمامِ نور (صف - ۸) سے تعبیر کیا گیا ہے، اور اتمام کلام الہی کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ اب اس کلام کو کوئی بدل نہیں سکے گا (انعام - ۱۱۵) اللہ تعالیٰ نے قرآن کے نزول کے بعد اس کی پشت پر وقت کی عظیم ترین سلطنت قائم کر دی۔ یہ سلطنت قرآن کو اپنے زیرِ حفاظت لئے ہوئے نسل در نسل چلتی رہی۔ تاآنکہ صنعتی انقلاب ہوا اور پریس کا دور آگیا اور سرے سے اس کا امکان ہی ختم ہوگیا کہ کوئی شخص یا گروہ قرآن میں تحریف کر سکے یا اس کو مٹا سکے ۔
اسلام کا مطالعہ کرتے ہوئے عقیدہ اور تاریخ کے فرق کو سمجھنا اور دونوں کو الگ الگ کر کے دیکھنا انتہائی طور اگر ہم ایسا نہ کریں تو ہم قتال اور سیاست کے معرکے گرم کرتے رہیں گے اور سمجھیں گے کہ ہم پیغمبرانہ مشن کو زندہ کر رہے ہیں۔ حالاں کہ در حقیقت ہم دین کو ذبح کررہے ہوں گے ۔ کیوں کہ خدا کا آخری رسول، دوسرے تمام رسولوں کی طرح، لوگوں کو آخرت کی چیتاؤنی دینے آیا تھا نہ کہ لوگوں سے سیاسی لڑائیاں لڑنے کے لئے ۔ مزید یہ کہ اس قسم کا سیاسی جہاد، خود اصل مقصد (اسلام کا غلبہ تک پہنچانے کے لئے بھی قطعاً بے سود ہے۔ کیونکہ اسلام کا غلبہ خدا کی نصرت سے حاصل ہوتا ہے (وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللهِ) اور خدا کی مقرر کردہ صراطِ مستقیم کو چھوڑ کر پہلے ہی ہم اس کی نصرت کا استحقاق کھو چکے ہیں۔ یہی نہیں ، عین ممکن ہے کہ ہمارا یہ سیاسی جہاد ہمارے لئے دنیا و آخرت میں رسوائی کا سبب بن جائے۔ کیوں کہ دین خداوندی کو آخرت کا سوال بنانے کے بجائے سیاست کا سوال بنانا ، دین کی الٹی شہادت دینا ہے ۔ آنے والی دنیا کے مسئلے کو موجودہ دنیا کے مسئلے کی حیثیت سے پیش کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کی الٹی شہادت آدمی کو سزا کا مستحق بناتی ہے نہ کہ انعام کا۔
ه (الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ ) يئسوا منه ان يبطلوه او يئسوا من دينكم ان يغلبوك : الاذ الله تعالى وفى بوعده من اظهارة على الدين كله فلا تخشوهُم) بعد اظهار الدين وزوال الخوف مت الكفار وانقلابهم مغلوبين بعد ما كانوا غالبين (الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ ) بان كفيتم خوف عد و کم و اظهر تكم عليهم كما يقول الملوك اليوم كمل لنا الملك، اى كفينا من كنا نخافه (وَأْتَمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي) بفتح مكة ودخولها آمنين ظاهرين دهم منار الجاهلية ومناسكهم تفسير نسفی ، جلد اول ، صفحہ ۲۶۰
کامبی کا راز خاموش منصوبہ بندی ہے نہ کہ پرشور معرکہ آرائی جنگ کو کامیاب طور پر جاری رکھنے کا سب سے اعلیٰ طریقہ یہ ہے کہ دشمن کو جنگ بند کرنے پر راضی کر لیا جائے صدر مصر انور سادات کا دورہ اسرائیل کوئی اتفاقی واقعہ نہ تھا۔ جیسا کہ سابق وزیر اعظم مسٹر گولڈا میر نے کہا ہے، مصر اور اسرائیل کے درمیان اکتوبر 1973 کی جنگ کو آخری جنگ بنانے کی گفتگو پچھلے تین سال سے جاری تھی ۔ ۱۹ نومبر1977 کومسٹر سادات کایر وشلم میں اتر نا صرف اس کا آخری نتیجہ تھا۔
دشمن سے صلح کرنا، جنگ کو زیادہ بہتر طور پر جاری رکھنے کی اعلیٰ ترین صورت ہے۔ مگر اس میں شبہ ہے کہ اقتصادی حیثیت سے برباد شدہ مصر کے حکمراں کے لئے صلح کا محرک یہی ہے۔ اگر یہ اعلیٰ محرک اس اقدام کا سبب بنا ہو تو کیا وجہ ہے کہ ایک طرف تو وہ اسرائیل کی سرحد پر اپنی بندوقوں کو خاموش کرنے کے لئے بے چین ہیں۔ طرف انھیں بندوقوں کا رخ انھوں نے انتہائی بے صبری کے ساتھ فلسطینیوں اور اپنے ہم قوم عربوں کی طرف کر دیا ہے۔
تاہم پر جوش عرب اور اس سے زیادہ پر جوش فلسطینی بھی اس معاملہ میں کسی تحسین و آفریں کے مستحق نہیں انور سادات نے بالفرض اگر کوئی غیر صحیح قدم اٹھایا یا تھا تو کیا آپ کے لئے یہی ایک صورت تھی کہ ان کے خلاف فوراً محاذ آرائی کا معرکہ گرم کر دیں۔ مفاہمت کی خاموش صور میں تلاش کرنے کا راستہ بھی تو آپ کے لئے کھلا
موجودہ زمانہ میں مسلم قوموں کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے قائدین کو صرف ایک ہی طریقہ۔ محاذ آرائی کا طریقہ۔ خاموش جدوجہد کا سبق ان میں سے کسی نے نہیں سیکھا۔
اسرائیل کے وزیر اعظم منش بیگن سے پوچھا گیا ” کیا اسرائیل اس کے لئے تیار ہے کہ مقبوضہ مغربی اردن اور فلسطینیوں کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے گفتگو کرے “ انھوں نے جواب دیا:
WE WILL FIND A SOLUTION TO THE PALESTINIAN PROBLEM, BUT NOT IN FRONT OF THE TELEVISION CAMERAS ہم فلسطینی مسئلہ کا حل پالیں گے۔ مگر ٹیلی وژن کیمروں کے (ٹائمز آف انڈیا ۱۳ دسمبر، دسمبر،1977) قوموں کے مسائل کا حل خاموش منصوبہ بندی میں ہوتا مگر اکثر قائدین اس کو پُر رونق ہنگاموں میں تلاش شاید اس لئے کہ اس طرح دو فائدوں میں سے کم از کم ایک فائدہ یقینی طور پر حاصل ہو جاتا ہے۔ ۳۰، کے ذریعہ قائد کی اپنی شخصیت بہر حال نمایاں ہو جاتی ہے ۔ خواہ قوم کا مسئلہ حل ہو یا نہ ہو۔ الرسالہ1977 کے مندرجہ ذیل شمارے درکار ہیں جو صاحبان یہ شمارے فراہم کرسکتے ہوں، وہ براہ کرم ہم کو مطلع فرمائیں ۔
عربی زبان نئی اہمیت حاصل کررہی ہے ہزار برس پہلے ایشیا اور افریقہ کے بڑے حصہ پر مسلمانوں کا اقتدار قائم تھا۔ یہ صرف ایک سیاسی غلبہ نبیں بلکہ مسلمان اس وقت کی دنیا میں علمی اور فکری امام بنے ہوئے تھے۔ اسپین میں مسلم عہد کے عروج کے وقت اسپینی عیسائیوں میں ایک ایسا طبقہ پیدا ہوگیا تھا جس نے عملاً عرب تمدن کو اختیار کر لیا تھا۔ ایسے لوگوں کو اس زمانہ میں مستعرب (MOZARABES) کہا جاتا تھا۔
قرطبہ کے بشپ (ALVARO) نے ان عیسائی مستعربین پر افسوس کرتے ہوئے لکھا تھا :
" میرے مسیحی بھائی عربی اشعار اور حکایات سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور مسلمان علماء اور فلاسفہ کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس نیت سے نہیں کہ ان کی تردید کریں بلکہ اس ارادہ سے کہ وہ عربی کے صحیح اور شستہ طرز ادا سے آشنا ہو سکیں۔ آج کل ہماری کتب مقدسہ کی لاطینی تفاسیر کا پڑھنے والا کہاں ملتا ہے، اور ایسے لوگ کہاں ہیں جوانا جیل اور انبیاء کے صحف کا مطالعہ کرتے ہوں ۔ افسوس کا مقام ہے کہ تمام عیسائی نوجوان جو اعلیٰ قابلیت کے مالک ہیں عربی زبان اور ادب کے سوا اور کسی ادب سے واقف نہیں ہیں۔ یہ لوگ عربی کتا ہیں بڑے ذوق شوق کے ساتھ پڑھتے ہیں اور ان کو اپنے کتب خانوں کے لئے زر کثیر صرف کر کے حاصل کرتے ہیں اور علانیہ کہتے ہیں کہ یہ لٹریچر بڑی تحسین کے لائق ہے۔ اس کے برعکس اگر ان کے سامنے مسیحی کتابوں کا ذکر کیا جائے تو وہ حقارت سے جواب ۲ طالبة وطالبة قدموا من الارجنتين من جزر القمر العربية في المدرسة موزعين على صف متقدم واخر اولي بيرس میں عراق کی طرف سے ایک اسکول قائم کیا گیا ہے جس میں مغربی نوجوانوں کو عربی زبان سکھائی جاتی ہے اس میں ۷۰ طلبہ وطالبات ہیں جو مختلف ملکوں، ارجنٹائن، بالینڈ امریکہ، یوگوسلاویا، بلجیم، جرمنی فرانس، سینیگال وغیرہ کے ہیں۔
دیں گے کہ اس قسم کی کتابیں ان کی توجہ کے لائق نہیں، افسوس کہ مسیحی اپنی زبان تک بھول گئے ہیں۔ ہزار میں سے مشکل ایک شخص ایسا ملے گا جو معقول قسم کی لاطینی میں اپنے دوست کے کے نام معمولی ساخط بھی لکھ سکے لیکن اگر عربی قابلیت پوچھے تو بہت سے ایسے اشخاص ملیں گے جو نہایت فصیح و بلیغ عربی میں اپنے خیالات ادا کر سکتے ہیں۔ بلکہ اس زبان میں ایسی عمدہ شاعری کرتے ہیں کہ خود عرب بھی اس کا مقابلہ نہ کر سکیں:۔ یہ اقتباس ہسپینی مستشرق پروفیسر پالنسیا (PALENCIA) کی کتاب سے ماخوذ ہے جس کا پہلا ایڈیشن ۱۹۳۰ میں شائع ہوا تھا جسے فاضل حسین یونس نے اس کو ہسپینی سے عربی میں منتقل کیا ہے۔ مطبوعہ قاہر ہ 1955)
تاتاریوں نے جب عالم اسلام کو تاراج کیا تو صورت حال بدلنے لگی ۔ اب نہ صرف سیاسی اعتبار سے بلکہ فکری او علمی حیثیت سے بھی مسلم قوم پستی کی طرف چلی گئ۔
صدی عیسوی کے شیخ عبد القادر جرجانی (م471ھ کے قلم یہ الفاظ نکلے کہ اب ایسا زمانہ آگیا ہے کہ انسانی طبیعتیں بدل گئی ہیں۔ جہل اور لاعلمی نے علم و فضل کا درجہ لے لیا ہے۔ جو اوصاف پہلے قابل تعریف سمجھے جاتے تھے، وہ قابل مذمت بن گئے ہیں:
حَتَّى صَارَ اعْجَزَالنَّاسِ عِنْدَ الْجَمْعِ مَنْ كَانَتْ لَهُ هِمَّةٌ فِي أَنْ يُسْتَفِيدَ عِلْماً أَوْ يَزْدَادَ فَهُمَا أَوْ يَكْتَسِبَ فَضْلًا أَوْ يَجْعَلَ لَهُ ذَالِكَ بِحَالِ شُغْلًا۔ دلائل الاعجاز، صفحه ۲۸ یہاں تک کہ اب یہ حال ہے کہ لوگوں کے نزدیک وہ شخص سب سے زیادہ ناکارہ سمجھا جاتا ہے جو علوم عربیہ کا شوق اور اس میں استفادہ و ترقی میں مشغول ہو۔ اٹھارویں صدی میں جب مغربی قومیں عالم اسلام پر غالب آگئیں تو اس میں اور ترقی ہوئی۔ برس تک یہ حال رہا کہ عربی زبان اور عربی علوم میں مشغول ہونا، کم از کم دنیوی اعتبار سے، بالکل بے فائدہ سمجھا "مسٹر" ہونا عزت کی علامت اور "مولوی" ہونا بے وقتی کا نشان بن گیا۔ مگر بیسویں صدی کے نصف Acclaimed the best in the world Reconnus comme les meilleurs du monde Anerkanntermaßen das Beste auf der Welt Reconocidas como las mejores del mundo أجمع الناس على أنها الاجود في العالم Far East/Pacific Division Snap-on Tools International Ltd. 103-104 Hollywood Commercial House 3-5 Old Bailey Street P.O. Box: 1619 Hong Kong, B.C.C. 16 on inquiry card Latin American/Caribbean Division Snap-on Inter-Americas Ltd. Dadeland Towers-Suite 314 9200 South Dadeland Boulevard Miami, Florida 33156 ایک عالمی تجارتی ادارہ کا اشتہار ہانگ کانگ کے اخبار میں لند ٹائم میں فروخت جائداد کا اشتہار عربی زبان میں آخر میں صورت حال دوبارہ تبدیل ہورہی ہے۔ ہندوستان میں بہت سے ادارے ہیں جو مختلف بیرونی زبانیں سکھانے کا کورس چلاتے ہیں۔ چند برس پہلے ان میں عربی زبان کو کوئی مقام حاصل نہ تھا۔ آج یہ حال ہے کہ بڑے سے بڑے انگریزی اخبارات میں جب ان اداروں کا اشتہار چھپتا ہے تو عربی زبان مختلف غیر ملکی زبانوں کی فہرست میں صرف انگریزی کے بعد نمبر ۲ پر درج ہوتی ہے۔ ہندوستانی اخبارات میں ایسے اشتہارات شائع ہونے لگے ہیں جن میں خصوصیت کے ساتھ عربی میں اشتہاری عبارتیں شامل رہتی ہیں۔
یہ محض ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عربی زبان موجودہ زمانہ میں کتنی اہمیت اختیار کرتی جارہی اب وہ نہ صرف اقوام متحدہ اور اس کی دوسری ایجنسیوں کی سرکاری زبان ہے بلکہ جدید دنیا کی تمام بڑی بڑی سرگرمیوں میں اس کا استعمال ہونے لگا ہے۔
عربی زبان کی اس جدید اہمیت نے ہمارے عربی مدارس کی تعلیم میں ایک نئی اہمیت پیدا کردی ہے۔ کے طلبہ اگر تکمیل نصاب کے ساتھ عربی لکھنے اور بولنے کی استعداد بھی لے کر نکلیں تو انھیں یہ شکایت نہ ہوگی کہ " آج کی دنیا میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں "۔
یہ امکانات ہمارا انتظار کر رہے ہیں "ہندوستان زیادہ ترقی کرتا اگر اس نے آزادی کے بعد اپنی توجہ اس پر لگادی ہوتی کہ بیل گاڑی کو زیادہ بہتر اس قسم کے جملے پر ایک عام آدمی ہنس دے گا۔ مگر سب سے زیادہ سچی بات ہے جو آزاد ہندوستان کے لئے کہی جاسکتی ہے۔ بیل گاڑی محض بیل گاڑی کا نام نہیں؛ وہ ایک ذہنیت، ایک طرزِ فکر ہے۔ جس طرح آزادی سے پہلے گاندھی جی کا چر خا محدود معنوں میں محض "چر خا" نہیں تھا، وہ ایک ذہنیت تھا۔ بیل گاڑی پر توجہ دینے کا مطلب مقامی ذرائع پر توجہ دینا تھا۔ اور اگر ایسا کیا گیا ہوتا تو یقیناً آج ہندوستان دگنا زیادہ طاقت ور ہوتا۔ جیسا کہ چین کی مثال میں نظر آتا ہے۔
آج بھی ہندوستان میں تیرہ ملین بیل گاڑیاں ہیں وہ دس ملین ٹن سامان ڈھوتی ہیں اور اس پر ملک کا تین ہزار کروڑ روپیہ لگا ہوا ہے۔ اس سے ۲۰ ملین لوگوں کو روزگار ملتا ہے ۔ کافی تاخیر کے بعد اب ملک کے سائنس داں بیل گاڑی کو ترقی یافتہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ کوشش ہے کہ بیل کے کندھے کے اوپر سے گاڑی کے بوجھ کو گھٹائیں اور پہیہ کو بریک دینے کا طریقہ دریافت بیل گاڑی کے پہیہ میں بال بیرنگ اور ربڑ ٹائر کا رواج اس سے پہلے ۱۹۵۰ میں شروع ہوا تھا۔
سری لنکا کے ایک صحافی وریندر تازي وتاسي (VARINDRA TARZIE VITTACHI) ۱۹۴۶ میں مہاتما گاندھی سے دہلی میں ملے تھے۔ "ہم ایشیا کے لوگ بہت جلد آزاد ہونے والے ہیں" انھوں نے گاندھی جی سے کہا "اگر آپ کو کوئی ایک مشورہ دینا ہو تو آپ انھیں کیا مشورہ دینا پسند کریں گے" یہ سوال سن کر گاندھی جی کا چہرہ مرجھا گیا۔ انھوں نے غمگین لہجہ میں کہا: "REDUCE YOUR WANTS AND SUPPLY YOUR NEEDS. OUR NEEDS MAKE US VULNERABLE ENOUGH. WHY INCREASE OUR VULNERABILITY WITH WANTS. Newsweek, Jan. 26,1976 اپنی مانگ کو کم کرو اور اپنی ضرورت کی چیزیں خود مہیا کرو ہماری ضرورتیں ہم کو کمزور اور جراحت پذیر بناتی ہیں۔ عام تصور یہ ہے کہ کسی "قدیم " تہذیب کو دوبارہ " جدید" نہیں کیا جا سکتا ۔ جس طرح آدمی کو جوانی صرف ایک بار ملتی ہے، اسی طرح تہذیب کو بھی صرف ایک بار عروج نصیب ہوتا ہے۔ اس کے بعد تہذیب پر بڑھاپا آ جاتا ہے۔ بوڑھا ہو گیا اس کو دوبارہ جوان نہیں کیا جا سکتا ۔ عمر چین کی مثال نے اس مفروضہ کی تردید کر دی ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے نامہ نگار جیمز رسٹن (JAMES RESTON) نے پیکنگ میں اپنے طویل قیام کے بعد اپنے ذاتی مشاہدہ پر مبنی ایک رپورٹ تیار کی ہے جس کا عنوان ہے NEW LOOK OF AN ANCIENT LAND اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ " چین کی قدیم ترین تہذیب کے بارے میں جو بات سب سے زیادہ نمایاں ہے، وہ یہ کہ آج وہ دوبارہ جوان نظر آتی ہے ۔ ایک امریکی مشاہد کے نزدیک چین کی سب سے زیادہ نمایاں خصوصیت اس کا "شباب" ہے ۔
کیوں اپنی ضرورتوں کو بڑھا کر دوسروں کے مقابلہ میں اپنی کمزوری کو بڑھائیں۔
مذکورہ صحافی لکھتے پیس " جب میں پچھلے ۳۰ سال کے واقعات کو دیکھتا ہوں تو مجھے نظر آتا ہے کہ گاندھی جی کے مشورہ پر صرف چین نے عمل کیا ، جب کہ گاندھی جی کا مشورہ چین کو پہنچا بھی نہیں تھا۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج چین ایشیا کا سب سے طاقت ور اور خود کفیل ملک ہے۔ بقیہ تمام ممالک مغربی قوموں کے اقتصادی غلام ہیں اور ان کے قرضوں کے بوجھ کے نیچے دبے ہوئے ہیں ۔
ہندوستان نے آزادی کے بعد اندھا دھند بدیسی تہذیب کی نقل شروع کر دی۔ ملک کے ذرائع کو کام میں لانے کی طرف کبھی سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی۔ نکولس جیکوئے NICOLAS JEQUIER نے ایک کتاب شائع کی ہے: