Al-Risala · April 1978

میرالروایات

Al-Risala, April 1978, pp. 25–37

By Maulana Wahiduddin Khan

ظاہر ہے کہ جن باتوں کی حقیقت اللہ نے بیان نہ فرمائی ہو، اس کے متعلق آپ کا بیان لا محالہ انسانی علم کی بنیاد پر ہو گا۔ ایسی حالت میں آپ کے بیان کا دو میں سے کسی ایک غلطی کا شکار ہونا لازمی ہے۔ حقیقت کی تفصیلی نوعیت اگر انسان کے لیے ناقابلِ ادراک ہے اور اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اس سے سکوت اختیار فرمایا ہے، تو انسانی علم بھی اس کے ادراک سے ہمیشہ قاصر رہے گا۔ ایسی حالت میں مجرد علم انسانی کی بنیاد پر جو تشریح کی جائے گی وہ لازمی طور پر غلط ہوگی اور اگر بالفرض اس کو قابل ادراک مانا جائے، جب بھی اس معاملے میں، کم از کم موجودہ انسانی علم کوئی صحیح بنیاد فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا کیونکہ یہ انسانی علم خود اپنے اعتراف کے مطابق ابھی ارتقائی مرحلے میں ہے۔ کسی بھی درجہ میں یہ دعوی نہیں ہے کہ وہ حقیقت کے آخری عرفان تک پہنچ گیا ہے۔

مطلب یہ ہے کہ اگر ہم موجودہ انسانی علم کی بنیاد پر حقیقت انتقا یت کی تفصیلی نوعیت متعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ کوشش زمانی معیار کی روشنی میں دائمی حقیقت کو متعین کرنے کی کوشش ہوگی جو بالفرض آج غلط نظر نہ آئے ، جب بھی آئندہ یقینی طور پر غلط ثابت ہوگی۔ انسان کی تمام غور وفکر اپنی معلومات کے دائرے میں ہوتی ہے۔ معلومات کے باہر آدمی کوئی تصور قائم نہیں کر سکتا۔ انسان اپنے حواس کے ذریعہ معلومات اخذ کرتا ہے اور پھر عقل ان سے کلیات بناتی ہے اور انھیں کلیات کے بارے میں غور وفکر کرتی ہے۔ چیزیں ہمارے محسوسات سے باہر ہیں، ان کے معاملے میں وحی والہام کے بغیر مجرد عقل کام نہیں کر سکتی۔ متکلم کے لیے ضروری ہے کہ اس فرق کو واضح طور پر اپنے سامنے رکھے ورنہ وہ خود بھی غلط رائے قائم کرے گا اور دوسروں کو بھی غلطی میں مبتلا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ منکرین نے روح (وحی) کی حقیقت کے بارے میں سوال کیا، اس کے جواب میں روح کی اصل حقیقت پر بحث نہیں چھیڑ دی گئی بلکہ یہ جواب دیا گیا : يَسْئَلُونَكَ عَنِ الرّوحِ قُلِ الرّوحُ مِنْ امر ربي وہ تجھ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں کہو کہ روح خدا کے حکم سے ہے اور تم کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔

وما اؤتيتم من العلم الا قليلا 1 - اس : ۸۵ علم کلام کی جس حد بندی کی ہم نے وکالت کی ہے۔ اس کے سلسلے میں یہ آیت بہت اہم بنیاد کا کام دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس دائرہ فہم کے اندر رائے قائم کر سکتا ہے جو فطرت کی طرف سے اسے دیا گیا ہے۔ اس دائرے سے باہر جاکر رائے قائم کرنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ اس لیے حقیقت پسندی یہ ہے کہ جو امور ہمارے دائرہ فہم کے اندر ہوں ، ان کے بارے میں آخری حدود تک جانے کی کوشش کریں۔ امور عقل کے دائرے سے باہر ہوں ، ان میں مجمل اثبات پر قناعت کریں۔ قدیم زمانے میں یہ بات ممکن ہے صرف مذہبی عقیدہ نظر آتی ہو۔ مگر آج وہ سائنسی امر واقعہ بن چکی ہے۔ انیسویں صدی کی سائنس کے برعکس آج کی سائنس متفقہ طور پر یہ دعوی کر رہی ہے کہ حقیقت انتقایت انسانی عقل یا ریاضیاتی پیمائشوں سے باہر کی چیز ہے۔

اس کے بارے میں ہم یہی کر سکتے ہیں کہ بعض خارجی علامات کی بنا پر ایک قیاسی رائے دوسرے لفظوں میں سائنس کا سفر ایک حد کے بعد اس مقام پر آجاتا ہے جہاں محل ایمان کے بغیر چارہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں جدید سائنس نے تقریباً وہی موقف اختیار کر لیا ہے جس کی طرف قرآن نے ڈیڑھ ہزار برس پہلے نشاندہی کی تھی۔ قرآن کی ایک اور آیت ہے :

ھوالذي انزل عليك الكتاب منه آيات اللہ نے تم پر کتاب اتاری جس کا ایک حصہ وہ محکمات هن ام الكتاب واخر متشابهات آیتیں ہیں جو محکم ہیں۔ یہ ام الكتاب ہیں۔ فاما الذين في قلوبهم زيغ فيتبعون دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔ سو جن کے دل میں کجی ما تشا به منه ابتغاء الفتنة وابتغاء ہے وہ اس کے اس حصے کے پیچھے پڑجاتے ہیں تا ويله ۔ وما يعلم تا ويله الا اللہ جو متشابہ ہیں، فتنہ ڈھونڈنے کے لیے اور تاویل دا الراسخون في العلم يقولون آمنا به ڈھونڈنے کے لیے۔ حالانکہ ان کی تاویل اللہ كل من عند ربنا وما يذكر الا اولوالالباب کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور جو لوگ علم میں پختہ کار آل عمران ۔ ۷ ہیں، وہ یوں کہتے ہیں ہم اس پر اجمالاً یقین لائے۔

سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے۔ نصیحت وہی قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے ذریعہ جو حقیقتیں انسان پر ظاہر کی گئی ہیں، وہ دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ جن کو محکم الفاظ کی شکل میں بتایا گیا ہے۔ دوسرے وہ جن کا نزول تشبیہی الفاظ کے ذریعہ ہوا ہے۔ اول الذکر کا تعلق اس دنیا سے ہے جو پوری طرح ہماری عقل کی گرفت میں آتی ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں محکم بات بتا دی گئی۔ ثانی الذکر کا تعلق اس دنیا سے ہے جو براہ راست ہماری محدود عقل کی گرفت میں نہیں اس لیے ان کو تشبیہی الفاظ کے ذریعہ بتایا گیا۔ جیسے ایٹم کے نظام کو سمجھانے کے لیے شمسی نظام کی مثال دی جائے۔

محکم اور متشابہ کے فرق کو ربوا اور جنت و جہنم کی مثال سے سمجھایا جا سکتا ہے۔

کی حرمت کا معاملہ انسانی دائرے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس لیے اس کی بحث میں یہ کوشش بالکل صحیح اور جائز ہوگی کہ اس کے نفع و ضرر کو آخری حد تک معلوم کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس میں ہم کو مثالوں کا سہارا لینے یا اجمالی عقیدے پر قناعت کرنے کی مگر جنت اور جہنم کا معاملہ ایک ایسی دنیا سے تعلق رکھتا ہے جس کو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور نہ کوئی زندہ آنکھ اسے دیکھ سکتی ہے۔ اس لیے اس کی بحث میں ہمیں اس پر اکتفا کرنا پڑے گا کہ مجرد اس کے امکانی وجود کو ثابت کرنے تک اپنی گفتگو کو محدود اس کی تفصیلی نوعیت متعین کرنے کے چکر میں نہ پڑیں ۔ اگر ہم اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کرنے لگیں کہ جنت اور جہنم احوال ہیں یا مقامات ، تو یہ انسانی عقل کے دائرے سے باہر قدم رکھنا ہوگا۔ خوش قسمتی سے عصرِ حاضر کا سائنسی طرزِ فکر بعینہ یہی ہے۔ آج کا ایک سائنس دان یہ ثابت کرنے میں اپنا وقت صرف نہیں کرتا کہ مکان Space، خارجی چیز Objective ہے یا داخلی Subjective ۔ جانتا ہے کہ اس کے دائرہ امکان سے باہر ہے کہ اس کی حقیقی حیثیت متعین کر سکے۔ " مکان " پر گفتگو کرتا ہے نہ اس پر کہ وہ خارجی ہے یا داخلی۔ اس قسم کے مسئلہ کو سائنس میں داخل کرنا سائنس کو فلسفہ بنا دینا ہے، بالکل اسی طرح جیسے قدیم متکلمین نے علم کلام کو فلسفہ بنا دیا تھا۔

اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا معاملہ متشابہات" کے قبیل سے ہے۔ یعنی انسان موجودہ عقل کے ساتھ چونکہ ان کو پوری طرح سمجھ نہیں سکتا ، اس لیے ان کو تشبیہی الفاظ میں بیان کیا اس لیے اس بحث میں متکلمین کی صرف وہ باتیں ٹھیک کہی جاسکتی ہیں جو وحی کے ظاہری الفاظ سے ماخوذ ہیں۔ جہاں انھوں نے ایسی باتیں کہی ہیں جن کی کوئی بنیاد وحی الہام میں نہیں ہے اور وہ محض عقل کی پیداوار ہیں۔ ان کی صداقت نہ صرف مشکوک قرار پاتی ہے بلکہ خود یہ امر مشتبہ ہے کہ اس ممنوعہ حد میں قدم رکھنا ان کے لیے جائز تھا یا نہیں۔ مثلاً اتنی بات تو یقینی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے بہت سی صفات ثابت کی ہیں۔ لیکن ان صفات کی کیفیت و نوعیت کہ وہ صفات حادث ہیں یا قدیم ہیں ، عین ذات ہیں

یا غیر ذات ہیں، یا لا عین ولا غیر کی بحث، اس قسم کی تمام باتیں محض اپنی عقل سے نکالی ان کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ متکلمین نے یہاں علم کلام کے دائرہ سے باہر قدم رکھا ہے۔

البتہ اس میں بعض استثنائی صورتیں ہیں مثلاً چونکہ وحی کی بنا پر یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات خود قدیم ہے اور اس کے سارے ذاتی کمالات بھی قدیم ہیں، لہٰذا جو لوگ صفات کو حادث کہتے ہیں ان کی غلطی یقینی ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ صفات الہی کو قدیم کہتے ہیں، اگرچہ مجرد عقل سے کہتے ہیں، ان کی رائے صحیح ہے۔ مگر صفات کا عین ذات ہونا یا غیر ذات ہونا، یا لا عین اور لا غیر کا نظریہ، یہ سب نہ مجرد عقل سے معلوم ہو سکتا ہے اور نہ وحی الہام اس بارے میں رہنمائی کرتے ہیں۔ لہٰذا اس قسم کی تشریحات میں اگر خوض نہ کیا جائے اور صفات الہی کے مجرد اثبات پر اکتفا کی جائے تو یہ زیادہ صحیح بات ہے اور یہی قرن اول کے لوگ کرتے تھے۔

یہ صحیح ہے کہ پھر بھی بعض پہلوؤں سے علم کلام کو ایسے الفاظ استعمال کرنے پڑیں گے جو اپنے اندر زمانی قدر رکھتے ہوں اور جن کے متعلق یہ امکان ہو کہ مستقبل میں وہ اپنی موجودہ قدر کھو سکتے ہیں۔ مگر اس اندیشہ کو ضرورۃً اس لیے گوارا کیا جائے گا کہ بوقت استدلال وہ بہر حال مخاطب کے اوپر حجت ہیں۔ اور جہاں تک آئندہ کا تعلق ہے، ان سے نفس دین میں کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی۔

جب دین کی واقعیت ثابت کرنے کے لیے کسی خارجی مواد استدلال کو استعمال کیا گیا ہو تو اس بنا پر دین کی حقیقت پر کوئی حرف نہیں آتا کہ اس مواد کے کسی جزو نے بعد کے زمانے میں اپنا وزن کھو دیا ہے۔ ایسا کوئی واقعہ صرف مواد استدلال کو متاثر کرتا ہے نہ کہ موضوع استدلال کو۔ دین کی واقعیت اصولاً صرف اس وقت مشتبہ ہو سکتی ہے جبکہ مواد کی کمزوری ثابت ہونے کے بعد کوئی دوسری دلیل اس کی صحت کو ثابت کرنے کے لیے باقی نہ رہے۔ جبکہ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ دین ایک دائمی اور قطعی صداقت ہے اور ہر زمانے میں اس کے حق میں استدلال کے لیے قوی سے قوی تر مواد حاصل ہوتا رہا ہے۔

متکلمین کی محلہ بالا غلطی کا اعادہ منطق کے استعمال میں بھی ہوا، منطق میں جن طریقوں سے کسی چیز کے حق میں حجت قائم کی جاتی ہے اس کی چھ قسمیں بتائی گئی ہیں۔ سفسطہ، ،خطابت شعر، مغالطہ۔

برہان اس قیاس منطقی کو کہتے ہیں جس کے مقدمات یقینی طور پر صادق ہوں۔ وہ قیاس ہے جس کے مقدمات اگر چہ مدعی کے نزدیک صادق نہ ہوں مگر خصم ان کو صادق ایسے مقدمات سے جو قیاس مرکب ہوتا ہے اس سے مقصود صرف خصم کو ساکت کرنا ہوتا ہے نہ کہ کسی بات کو ثابت کرنا۔ سفسطہ وہ قیاس ہے جس کے مقدمات صادق تو نہیں ہوتے لیکن بادی النظر میں صادق معلوم ہوتے ہیں۔ سفسطہ کے معنی ملمع کرنے یعنی کا ذب مقدمات پر صدق کا ملمع کر دیا گیا ہو۔ خطابت وہ قیاس ہے جو ایسے مقدمات سے مرکب ہوتا ہے جن کے لیے نہ صادق ہونا ضروری ہو گا نہ کا ذب۔ اگر چہ احتمال دونوں کا ہوتا ہے۔ چونکہ عوام میں وہ مقبول ہوتے ہیں، اس لیے ایسے مقدمات سے جو قیاس مرکب ہوتا ہے، اس کے نتیجے سے لوگ مطمئن ہو جاتے ہیں۔ شعر وہ قیاس ہے جس کے مقدمات زیادہ تر غلط اور کبھی صحیح بھی ہوتے ہیں۔ سے مقصود مخاطب میں کوئی خاص کیفیت پیدا کرنی ہوتی ہے۔ دھوکا دینا مقصود نہیں ہوتا۔ مغالطہ وہ قیاس ہے جس میں محض غلط اور جھوٹے مقدمات سے کام لیا جائے۔ مقصود و مخاطب کو دھوکے اور غلطی میں ڈالنا ہوتا ہے۔

منطق کے معاملے میں متکلمین کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے زیادہ تر جدلیات وغیرہ سے کام لیا، دلائل و براہین کو استعمال نہیں کیا۔ انھوں نے منطقی اسلحہ خانے کے صرف وہ ہتھیار لیے جو دشمن سے لڑنے کے واسطے ہوتے ہیں اورمنطق کے ان طریقوں سے کام نہیں لیا جن سے مخاطب کو متاثر اور مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے منطق انھیں دونوں چیزیں دے رہی تھی مگر انھوں نے پہلی کو لیا اور دوسری کو چھوڑ دیا۔ اگر چہ بعض مستثنی مثالیں بھی ہیں مگر اکثریت کے اعتبار سے صورت حال یہی ہے۔

اسی کانتیجہ تھاکہ ہمارے یہاں وہ علمِ کلام وجود میں آیا جو ” دلوں کو کھولنے کے بجائے

دلوں کے دروازے بند کرنے والا تھا۔ اس نے داعی اور مدعو کی گفتگو کو شطرنج کا کھیل بنا دیا جس میں آدمی پہلے سے سیکھی ہوئی چالوں کے ذریعہ فریق ثانی کو زک دینے کی کوشش چنانچہ آدمی کو گھیر کر منطقی تدبیروں سے چت کر دینا، یہ علم کلام کا کمال بن گیا۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کی کوشش کو ایک ذہنی کھیل تو قرار دیا جا سکتا ہے مگر اسلام کی دعوت کا یہ طریقہ نہیں ہے۔ تاہم اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ خود علم کلام کی خرابی نہیں ہے بلکہ منطق کے غلط استعمال کی خرابی ہے۔ علم کلام میں وہ اس لیے دخل ہوگئی کہ اسی طریقے کو علم کلام کی بنیاد فرض کر لیا گیا۔ مناظرہ، جس نے دعوت کے کام کو ایک بازی بنا دیا اور مناظرہ بازی کا فن وجود میں آیا، وہ زیادہ تر اسی غلطی کا نتیجہ ہے۔ خلاصہ یہ کہ علم کلام، اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے نام ہے اس بات کا کہ دین کو عقل کے ذرائع سے ثابت کیا جائے۔ چونکہ انسان کے اپنے پاس کسی بات کو سمجھنے کا واحد ذریعہ عقل ہے، اس لیے اسلام عقل کے ذریعہ اپنی بات سمجھا کر انسان کو مطمئن کرتا بارھویں صدی عیسوی میں جب یونان کی منطق و فلسفہ ترجمہ ہو کر مسلمانوں کے اندر پھیلے تو لوگوں نے سمجھا کہ یہ بہترین عقلی ذریعہ ہے جس سے دین کو ثابت کیا جا سکتا ہے مگر یہ اندازہ صحیح نہیں تھا۔ چنانچہ علم کلام کو یونانی منطق و فلسفہ پر ڈھالنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم کلام ایک فرضی اور قیاسی علم بن گیا جس کا تعلق حقیقت کی دنیا سے نہ تھا۔ یہ کام اس وقت ہوا جبکہ خود قرآن میں علم کلام کی دوسری بنیاد موجود تھی۔ وہ تھی تخلیق کائنات کی بنیاد جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ حق کی بنیاد پر ہے : ما خلقنا السموات والارض وما بينهما ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے الابالحق احقاف - ۳ درمیان ہے ، حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔

اس لیے یہ بالکل فطری بات ہے کہ اس کے اندر اثبات حق کا سارا مواد چھپا ہوا ہو۔ زمین و آسمان کی تخلیق میں اثبات دین کی جو حقیقی بنیاد تھی، وہ ارسطو کی منطق کی خیالی بنیادوں سے زیادہ قوی تھی۔ قدیم زمانے میں لوگوں کو قرآن کی اس کلامی بنیاد کی اہمیت سمجھ میں نہ آتی ہو۔ مگر موجودہ زمانے میں سائنس نے قرآن کے اشارات کو

تفصیلات کی صورت دیدی ہے اور قرآن کے اجمالی دلائل کو مکمل اور متعین دلائل بنا دیا اب یہ سمجھنا نہایت آسان ہو گیا ہے کہ قرآن کی کلامی بنیاد ہی واحد بنیاد ہے جس پر علم کلام کی تعمیر کی جانی چاہیے ۔ یہ وہ علم کلام ہوگا جو آدمی کے لیے آیت ہوگا ، جو اس کو ذکر کرنے والا بنائے گا ، دینی فکر کی صلاحیت پیدا کرے گا ، جس کے بعد آدمی کا دل پکار اٹھے گا کہ حق یہی ہے ، جو آدمی کو آخرت کے احساس سے سرشار کر دے گا ، جیسا کہ ارشاد تا کہ تہذیب ہے، جوادی کی وراثبت ہے، اس ہوا ہے :

ان في خلق السماوات والارض واختلاف الليل والنهار لآيات لاولى الالباب ۔ الذين يذكرون الله قياما وقعوداً على جنوبهم ويتفكرون في خلق السماوات والارض ربنا ما خلقت هذا باطلاً، سبحانک فقنا عذاب النار آل عمران: ۱۹۰-۱۹۱ کے سرسار ندے کا جیا کے ارشاد بلا شبہ آسمان اور زمین کے بنانے میں اور رات اور دن کے آنے جانے میں، نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے جو کہ اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ۔ اور غور کرتے ہیں آسمان اور زمین کے پیدا ہونے میں، وہ پکار اٹھتے ہیں، اے رب تو نے اس کو عبث پیدا نہیں کیا، تو پاک ہے سو بچا ہم کو آگ کے عذاب سے۔ Arguments from design استدلال کا یہ طریقہ تقریباً وہی ہے جس کو فلاسفہ یہاں میں عہد حاضر کے ایک مشہور ترین منکر خدا کا ایک اقتباس نقل کروں گا جس نے صریح طور پر اس طریق استدلال کی اہمیت تسلیم کی ہے۔ برٹرینڈرسل (۱۹۷۰ء - ۱۸۷۲ء) اپنی کتاب ” میں کرسچین کیوں نہیں “ کے آغاز میں لکھتا ہے : اپنے صاحبِ کمال سے "It is true that scholastics invented what professed to be logical argu- ments proving the existence of God, but the logic to which these traditional gh. This argument, however. was destroyed by Darwin.

ترجمہ : یہ صحیح ہے کہ علمائے مذہب نے کچھ ایسی دلیلیں ایجاد کی ہیں جن کے متعلق دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ منطقی دلائل ہیں اور ان سے خدا کا وجود ثابت ہوتا ہے مگر وہ منطق جس پر ان روایتی استدلالات کی بنیاد قائم ہے ، ارسطو کی قدیم منطق ہے جس کو علما اب تمام علمائے منطق رد کر چکے ہیں۔ ہاں ان دلائل میں ایک دلیل ایسی ضرور ہے جو خالص منطقی نہیں ہے۔ میری مراد نظم کائنات کی دلیل سے ہے۔ مگر ڈارون نے اس دلیل کو ختم کر دیا ہے۔ برٹرینڈ رسل نے مذکورہ استدلال کا وزن تسلیم کرتے ہوئے ڈارونزم کے حوالے سے اس کو رد کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر کائنات کا نظم تو ایک واقعہ ہے جبکہ ڈارون کا نظریہ ارتقاء کوئی ثابت شدہ واقعہ نہیں۔ وہ صرف ایک کام چلاؤ نظریہ Workable Theory ہے اور ظاہر ہے کہ محض ایک کام چلاؤ نظریے کی بنیاد پر کسی چیز کی واقعیت کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

تو ہماتی مذہب کو دیکھ کر ایک شخص نہایت آسانی سے یہ خیال قائم کر لیتا ہے کہ مذہب تو ہم پرستی کا نام ہے، یہی حال علم کلام کی اس شکل کا ہے جو آٹھ سو برس پہلے یونانی فلسفے کی زمین پر وجود میں آئی اور بعد کو صدیوں تک ہمارے دینی نصاب تعلیم کا ایک لازمی جز بنی رہی۔ آج جب علم کلام کا لفظ بولا جاتا ہے تو فوراً ذہن اس مخصوص علم کی طرف چلا جاتا ہے جو حقیقۃً علم کلام کی تاریخ کا ایک جزو ہے نہ کہ کل علم

ایک بزرگ نے علم کلام پر تنقید کرتے ہوئے مولانا شبلی نعمانی (صاحب الکلام) کا یہ اعتراف نقل کیا ہے :

فلسفی سر حقیقت نتوانست کشود گشت راز دگر آن راز که افشا می کرد شعر میں فلسفی “ کی نارسائی کا ذکر ہے نہ کہ متکلم کی۔ مگر قدیم متکلمین کے تتبع میں علم کلام اور فلسفہ کو ہم معنی سمجھ لیا گیا۔ حالانکہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں علم کلام حقیقتہ

علم دعوت ہے۔ جبکہ فلسفہ خود ایک مذہب ہے جو کسی چیز کو پہلے سے تسلیم کیے بغیر مجرد عقلی ذرائع سے حقیقت کی تلاش کرتا ہے۔

علم کلام کا یہ غلط تصور صرف ایک علمی اور فنی غلطی نہیں ہے بلکہ پچھلی صدیوں میں ہمیں اس کی وجہ سے زبردست نقصانات پہنچے ہیں۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ ہمارے یہاں سنجیدہ طبقے میں یہ ذہن بن گیا کہ دعوت و تبلیغ کے لیے علم کلام کوئی اچھا معاون نہیں ہے کیونکہ وہ زیادہ تر کج بحثی کا محرک ہوتا ہے۔ اس کا رد عمل یہ تھا کہ قدیم محدثین کی طرح بعد کے صوفیا نے بھی اس کو ترک کرنا ضروری سمجھا اور دوسری انتہا پر پہنچ گئے۔ سمجھا کہ کراماتی طریقہ تبلیغ کی راہ میں زیادہ بہتر نتائج پیدا کرتا ہے۔ یہ طرزِ فکر اگرچہ جزوی صداقت کا حامل تھا مگر اسی کے ساتھ نقصان کا پہلو لیے ہوئے تھا۔

اس کی وضاحت ایک مثال سے ہو جائے گی۔ ہندوستان کی جو قومیں صوفیا کی تبلیغ سے مسلمان ہوئیں، ان میں عام طور پر بدعات و توہّمات کا اس سے زیادہ زور ہے جتنا ان مسلم خاندانوں میں جو مسلم اقتدار کے زمانے میں باہر سے آئے اور یہاں آباد ہوگئے، اس کی وجہ کیا ہے۔ وجہ بالکل سادہ ہے۔ صوفیا، کے ذریعے جو لوگ مسلمان ہوئے وہ عام طور پر کسی ذہنی و فکری انقلاب کے نتیجے میں مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ بلکہ دعا و تعویذ اور کشف و کرامات سے متاثر ہو کر مسلمان ہو گئے تھے۔ یہ لوگ بالکل فطری طور پر اپنے ساتھ وہ تمام رسوم و رواج بھی لے آئے جو ان کے اپنے پچھلے سماج میں ہزاروں برس سے چلے آ رہے تھے یہ رسوم و رواج ان کے مسلمان ہونے کے باوجود، کہیں بالکل سابقہ حالت میں باقی رہے جیسا کہ ہریانہ کے میواتیوں اور راجستھان کے میراتیوں کی مثال میں نظر آتا ہے اور کہیں ان سوم و رواج میں صرف اتنا تصرف ہوا کہ ان کو اسلامیا لیا گیا، جیسے ڈھ وارہ کی جگہ شہیدوارہ وغیرہ۔ صوفیاء کے طریقِ تبلیغ کے برعکس علم کلام کا طریقِ تبلیغ فکری تبدیلی اور ذہنی انقلاب کی طرف سے اپنا عمل کرتا ہے۔ اس لیے جب کوئی اس راستے سے اسلام کو اختیار کرتا ہے تو وہ مکمل شعور کے ساتھ ایک مجموعہ عقائد کو چھوڑ کر دوسرے مجموعے عقائد کو اپنا تا ہے۔ اس لیے فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے زیر اثر جو شخص اپنا مذہب بدلتا ہے، وہ

پورے معنوں میں ایک نیا اور مختلف انسان بن جاتا ہے ۔

یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ علم کلام اپنے حقیقی مفہوم کے اعتبار سے عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں تعلیم بالقلم (علق) کہا گیا ہے۔ یعنی علم و فکر کی راہ سے کسی کے اندر نفوذ کرنے کی کوشش کرنا ۔ اللہ تعالیٰ نے اسی طریقے کو اپنا طریقہ بتایا ہے : علم بالقلم علم الانسان ما لم یعلم خدا نے قلم کے ذریعے تعلیم دی، انسان کو ان چیزوں کی تعلیم دی جن کو وہ نہ جانتا تھا۔

تمام انبیاء اپنی مخاطب قوموں کی ذہنی سطح اور زمانی حالات کے مطابق اسی ڈھنگ پر دین کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے رہے۔

آخر میں ایک اور بات کا ذکر کرنا ضروری ہے، ورنہ علم کلام کی بحث ادھوری رہ جائے اوپر میں نے علم کلام پر جو گفتگو کی ہے وہ دراصل اس پہلو سے ہے کہ ہم دیگر علوم سے الگ کر کے علم کلام کو سمجھنا چاہیں تو وہ کیا قرار پا تا ہے ۔ بلاشبہ علم کلام فی نفسہ ایک دفاعی علم ہے مگر اس کی یہ حیثیت صرف اس وقت تک ہے جبکہ اس کو متکلم کی ذات سے الگ کر کے خالص منطقی مفہوم میں دیکھا جا رہا ہو۔ جب کلام کے ساتھ متکلم کو ملالیا جائے تو بات بدل جاتی ہے۔ اس وقت علم کلام صرف ایک دفاعی علم نہیں رہتا بلکہ وہ سب کچھ بن جاتا ہے جو ایک صحیح اور مطلوب اسلامی دعوت کے اندر ہونا چاہیے ۔ اس کو میں ایک مثال سے واضح کروں گا۔ نماز کیا ہے۔ اگر آپ منطقی طور پر اس کا خارجی تعین کرنا چاہیں تو نماز نام ہے چند کلمات کو زبان سے دہرانے اور کچھ مقررہ حرکات انجام دینے کا۔ نماز کا خارجی تعین کسی بھی طرح اس کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا۔ بات ہے کہ نماز صرف اس کا نام نہیں ہے۔ نماز کا دوسرا لازمی جزو خشوع ہے۔ یہ جزو اتنا اہم ہے کہ اس کے بغیر کوئی نماز حقیقی نماز نہیں بنتی۔ (لاصلوة لمن لم يتخشع) نماز میں یہ دوسرا جزو کہاں سے آیا۔ یہ نماز کی اس شکل میں نہیں ہے جس کو ہم خارجی طور پر جان سکتے ہیں۔ بلکہ یہ وہ جزو ہے جو انسان کی نفسیات اس کے اندر شامل کرتی ایک برقی انسان ایسا بنایا جاسکتا ہے جو فقہ کے سارے تعینات کے ساتھ ایک

مکمل نماز کو دہرائے۔ یہ نماز ظاہری طور پر مکمل ہونے کے باوجود خشوع سے خالی ہوگی۔ مگر نماز کی اسی شکل کو جب ایک خدا سے ڈرنے والا انسان دہراتا ہے تو اس وقت اس کی نفسیات کی آمیزش سے نماز خشوع کی نماز بن جاتی ہے۔ نماز انسان سے الگ ہو تو وہ الفاظ اور حرت کا ایک ڈھانچہ ہے۔ نماز انسان کے ساتھ ہو تو وہ ایک پر کیف

یہی حال علم کلام کا ہے۔ اگر آپ کاغذ کے اوپر اس کا خارجی مطالعہ کر رہے ہوں تو علم کلام ایک دفاعی علم نظر آئے گا جو اس لیے ہے کہ مخاطب کے عقلی سوالات کا جواب لیکن جب اسی کے ساتھ آپ متکلم کوبھی ملالیں، اس متکلم کو جو حقیقی داعی ہو اور خدا کے بندوں کو خدا کی راہ کی طرف لانے کے لیے بے قرار ہو، تو علم کلام صرف اتنی سی چیز نہیں رہتا جو کاغذ کے اوپر منطقی تعین میں نظر آتا ہے بلکہ اس کے اندر انسان کی سچی کی وہ تمام چیزیں شامل ہو جاتی ہیں جو داعیانہ جذبات کے تحت پیدا ہوئی ہیں۔ اپریل1967 ءکا واقعہ ہے۔ لکھنؤ میں ایک صاحب سے میری چند ملاقاتیں ہوئیں۔ ایک نہایت ذہین اور محنتی آدمی ہیں۔ انھوں نے فلسفہ میں ایم اے کیا ہے اور سات سال کی ریسرچ کے بعد برٹرینڈ رسل پر اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ تیار کیا ہے۔ فلسفہ کا طالب علم یوں بھی عام طور پر مذہب کے بارے میں مشک ہو جاتا ہے اور برٹرینڈ رسل تو اس دور میں ملحدوں کا سردار ہے۔ پھر برٹرینڈ رسل پر ریسرچ کرنے والے کا عالم کیا ہوگا۔ تعلیم اور برٹرینڈرسل پر ریسرچ نے ڈاکٹر صاحب موصوف کو پورے معنوں میں علمی الحاد تک پہنچا دیا تھا۔

ان ملاقاتوں میں اتفاق سے چند علماء بھی شامل تھے۔ میں نے گفتگو کی تو ساری گفتگو میں کہیں خدا ، آخرت ، رسالت وغیرہ کا کوئی نام نہ تھا۔ "منھ بند کرنے" کی تکنیک بھی ساری گفتگو میں کہیں استعمال نہیں کی گئی تھی مگر گفتگو کے خاتمے پر انھوں نے تقریباً تمام باتوں کو مان لیا تھا۔

علما جو خاموش بیٹھے ہوئے ساری گفتگو کو حیرانی کے ساتھ سن رہے تھے، بعد کو

انھوں نے کہا کہ ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ آپ کی اس گفتگو کو علم کلام کے خانے میں رکھیں یا دعوت کے خانے میں۔ اگر علم کلام کے خانے میں رکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو عین دعوت ہے اور دعوت قرار دینا چاہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو پورے معنوں میں علم کلام ہے۔ میں نے کہا کہ یہ علم کلام بھی ہے اور دعوت بھی ، حقیقت یہ ہے کہ علم کلام اور دعوت دونوں الگ الگ صرف اس وقت رہتے ہیں جبکہ ان کا مطالعہ منطق کی میز پر کیا جا رہا ہو۔ علم کلام جب ایک داعی کی ذات میں شیر و شکر ہو جائے ، اس وقت ایک ایسی چیز وجود میں آتی ہے جو دعوت بھی اتنا ہی ہوتی ہے جتنا علم کلام۔

Printed page