ایک وضاحت
Al-Risala, April 1978, pp. 37–39
By Maulana Wahiduddin Khan
امام ابوحنیفہ پہلے متکلم تھے پھر انھوں نے اس کو چھوڑ کر فقہ کا میدان اختیار کیا۔ اشعری نے ۴۰ سال کے اعتزال کے بعد بصرہ کے منبر پر کھڑے ہو کر اس سے براءت کا اعلان کیا۔ کا انتقال ہوا تو صحیح بخاری ان کے سینہ پر رکھی ہوئی تھی۔ امام جوینی کی زبان پر مرتے وقت یہ فقرہ تھا: " میں نیشاپور کی بڑھیوں کے عقیدہ پر مرتا ہوں "۔ اسی قسم کے اقوال علامہ آمدی، شہرستانی اور خسرو شاہی وغیرہ متکلمین سے بھی منقول ہیں۔ امام رازی نے اپنی کتاب اقسام اللذات میں لکھا ہے کہ "میں نے دیکھ لیا کہ کلام و فلسفہ سے نہ بیمار تندرست ہوتا ہے اور نہ پیاسا سیراب"۔ امام موصوف نے مرض الموت میں ۲ محرم ۶۰۶ ھ کو اپنا وصیت نامہ لکھوایا۔ اس کا ایک فقرہ یہ تھا:
ولقد اختبرت الطرق الكلامية والمناهج میں نے کلام اور فلسفہ کے طریقوں کو آزمایا مگر میں الفلسفية فرأيت فائدة تساوي الفائدة نے ان کا فائدہ اس فائدہ کے برابر نہیں پایا جس التي وجدتها في القرآن العظيم کو میں نے قرآن میں پایا۔
اس قسم کے " اعترافات " جو قدیم متکلمین کے یہاں ملتے ہیں، وہ متکلمین کی غلطی کو بتاتے ہیں نہ کہ خود علم کلام کی غلطی کو۔ علم کلام، دینی تعلیمات کا استدلال کی زبان میں پیش کرنے کا نام ہے۔ قدیم متکلمین کے زمانہ میں جس فلسفہ و منطق کا رواج تھا، انھوں نے اسی کو عقلی استدلال کا معیار سمجھ چونکہ یہ فلسفہ و منطق خیالی موشگافیوں پر قائم تھا، اسلامی علم کلام بھی خیالی موشگافیوں کی دادی
میں بھٹک گیا اور کہا جانے لگا: من تمنطق تزندق (جو منطق میں مشغول ہوا وہ زندیق ہو گیا حالانکہ عین اسی وقت عقلی استدلال کی ایک اور زیادہ محکم بنیاد موجود تھی۔ یہ وہ استدلال تھا جو آیات کائنات میں غور و فکر سے حاصل ہوتا ہے۔ قرآن نے اسی طرز استدلال کی تعلیم دی تھی۔ علم کلام کی بنیاد اگر آیات کائنات پر رکھی جاتی تو علم کلام لوگوں کے لئے اضافہ ایمان کا سبب بنتا، بجائے ایک متکلم کو آخر وقت میں اس سے توبہ کرنے کی ضرورت پیش آئے۔
تصوف اور علم کلام کی علحدگی کی وجہ بھی یہی ہے کہ دونوں اپنے اصل سرے کو پانے میں ناکام رہے ۔ تصوف جس روحانیت کو عملیاتی ورزشوں میں ڈھونڈ رہا ہے اس کا راز خلق اللہ میں غور و فکر میں چھپا ہوا ہے۔ اسی طرح علم کلام جن دلائل کو خیالی قیاس آرائیوں میں تلاش کر رہا ہے وہ زیادہ بہتر طور پر آسمان و زمین کی نشانیوں میں موجود ہیں۔ قرآن کے الفاظ میں ذکر و فکر (آل عمران) علم کلام کی بنیاد بھی ہے اور تصوف کی بنیاد بھی۔ اگر چہ دونوں اپنی اس حقیقی بنیاد سے محروم ہو کر دو الگ الگ دادیوں میں بھٹک رہے ہیں۔
یہ بات علم کلام کے خلاف کوئی دلیل نہیں ہے کہ کسی متکلم کا انتقال ہونے لگا تو اس نے اپنے سینے پر صحیح بخاری رکھ لی۔ یہ چیز علم کلام کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ کسی بھی شرعی کام کے سلسلے میں پیش آسکتی ہے۔ یہ بالکل فطری بات ہے کہ جب آدمی کا آخر وقت آئے تو وہ ہر دوسری چیز کو چھوڑ کر براہ راست خدا سے لو لگانا مثال کے طور پر ایک شخص جنگی حالات میں اسلامی علاقے کی سرحد پر پہرہ دے رہا ہے۔ اس اثنا میں اتفاق سے دشمن اس پر قابو پا لیتا ہے اور اس کا کام تمام کر دینا چاہتا ہے تو وہ فوراً سرحد کی رکھوالی کا کام چھوڑ کر دو رکعت نماز کی نیت باندھ لیتا ہے۔ حالانکہ اس قسم کے پہرے دار کو حدیث میں المرابط فی سبیل اللہ کہا گیا ہے اور اس کو نہایت افضل کام بتایا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ شخص چاہتا ہے کہ موت کے فرشتے آئیں تو وہ ہتھیار بند نہ ہو بلکہ سجدے میں بعض متکلمین کے اس قسم کے واقعات کی نوعیت بس اتنی ہی ہے۔
ایک جان دار کی آنکھ نکال کر اس کو دوبارہ الٹ کر لگا دیا جائے تو وہ جان دار اب بھی دیکھے گا۔ مگر اس کو ہر چیز الٹی دکھائی دے گی جسم کے مختلف اعضا کو صحیح کام کرنے کے لئے کتنی نازک ترکیب درکار ہوتی ہے ۔ اتنا پیچیدہ نظام اس قدر صحت کے ساتھ ، کیا خود بخود چل رہا ہے لندن سے ایک انسائیکلوپیڈیا چھپی ہے جس کا نام ہے "قاموس جہالت" ، اس میں ساٹھ مشہور سائنسداں مختلف علمی شعبوں کا جائزہ لیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انسان کن چیزوں کے بارے میں ابھی تک لاعلم ہے۔ ان میں سے دس مختلف سائنس دانوں کا بیان نقل کیا انھوں نے اپنے تحقیقی شعبوں کے بارے میں بتایا ہے کہ ان کے شعبہ کی واحد سب سے بڑی نامعلوم حقیقت کیا ہے ۔
کائنات اتنی نگیاں کیوں یا پر ہو سکتا ہے وجود کے لئے ان اعداد میں وہی مناسب قدر ضروری ہے جو ہم دیکھتے ہیں ۔