۲- کیا کوئی زڈ ذرہ ہے
Al-Risala, April 1978, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
عبدالسلام، پروفیسر نظری طبیعیات، امپیریل کالج، لندن: اگلے دس برسوں میں ہمیں یا تو ز ڈ ذرہ کا وجود تسلیم کرنا ہے یا یہ ثابت کرنا ہے کہ اس کا کوئی وجود اگر اس کا وجود ثابت ہو گیا جیسا کہ موجودہ نظریہ کی پیشین گوئی ہے، تو اس کے بعد عالم فطرت کی چار طاقتیں جن کا ہمیں علم ہے، ان میں سے دو طاقتوں کا ایک ہونا ثابت ہو جائے گا ۔ (یہ چار طاقتیں یہ ہیں: کشش ثقتی آئن رکسیرگ، پروفیسر تطبیقی ریاضیات، کوئین میری کالج، لندن: کائنات تعجب خیز حد تک یکساں ہے۔ خواہ کسی طور پر بھی اس کو دیکھیں ، کائنات کے اجزار میں وہی ترکیب اسی تناسب سے پائی جاتی ہے۔ زمین پر جو طبیعیاتی قوانین دریافت کئے گئے ہیں، وہ تحکمی اعداد پر مشتمل ہیں جیسے کسی الیکٹران کی مقدار مادہ کا تناسب ایک پروٹان کے مقدار مادہ سے جو کہ تقریباً 1840کے مقابلہ میں ایک ہوتا ہے۔ یہی تناسب ہر جگہ اور ہر وقت پایا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ کیا ایک خالق نے تحکمی طور پر انھیں اعداد کا انتخاب کر رکھا ہے۔ کیا کائنات کے
مقناطیسیت، طاقت ور نیو کلیر فورس جو کہ ایٹم کے نیوکلیس کو آپس میں باندھے رہتی ہے، اور کمزور نیو کلیر فورس جو ریڈیائی لہروں سے متعلق ہے) پروفیسر عبدالسلام اور دوسرے سائنس دانوں نے حال میں کمز ور نیوکلیر فورس اور برقی مقناطیسیت کو ایک ثابت کرنے میں کچھ کامیابی حاصل کی ہے۔ زڈ ذرہ کی دریافت سے قومی تجرباتی تائید حاصل ہوگی۔