یہ نظام عصبى کس طرح بنتا ہے
Al-Risala, April 1978, pp. 42–43
By Maulana Wahiduddin Khan
فرانس کریک، سالک انسٹی ٹیوٹ، کیلی فورنیا : حیاتیاتی ترقیات میں شاید سب سے بڑا علمی چیلنج یہ سوال ہے کہ ایک جاندار میں عصبی نظام کی تشکیل کس طرح ہوتی بہت سال پہلے راجرا سپری نے تجربہ کر کے دکھایا تھا کہ اگر ایک دریائی چھپکلی کی آنکھ اس طرح نکالی جائے کہ اس کی نظر کی نس آنکھ سے دماغ تک ٹوٹ جائے ۔ بعد اگر اس کی آنکھ کو دوبارہ الٹ کر بھی لگا دیا جائے تو نظر ایسا ہونا چاہئے کہ کشش کی لہریں روشنی کی سی رفتار سے ریڈی ایشن کی دوسری تمام صورتیں کوانٹم کے مطابق ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلسل نہیں ہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی مقداروں کی شکل میں غیر مسلسل طور پر آتی ہیں۔ یہ بات مشکل قابل فہم ہے کہ کشش کی لہریں مقداروں کی شکل میں نہیں ہوتیں ۔ مگر ابھی تک کوئی اس بات کو ثابت نہیں کر سکا ہے ، حالانکہ بہت سے لوگ اس کی کوشش کر چکے ہیں۔
دماغ کے مختلف حصے کس طرح رابطہ قائم کرتے ہیں کی نس آنکھ کے پردہ سے دوبارہ شروع ہوکر دماغ کی خطر ٹ رہے گی اور دوبارہ اس سے جڑ جائے گی ۔ کچھ عرصہ کے پرو فیسر ہور س مار لو، کیمبرج: ہم تقریباً مکمل طور پر 4 دماغ کے تعلق رکھنے کی طرح رابطہ قائم کرتے ہیں پرزے کی اندر دوبارہ اس بات پر بھروسا جاتا ہے، چھہ عرصہ کے بعد جانور اس آنکھ سے دوبارہ دیکھ سکتا تھا۔ مگر ہمیشہ الٹی شکل میں (کیونکہ آنکھ الٹی لگی ہوئی تھی) دوسرے لفظوں میں یہ کہ نیا تعلق بالکل درست تھا۔ نیز اس کے کہ آنکھ کو یہ پتہ نہ تھا کہ وہ الٹی لگی ہوئی ہے۔ یہ نتائج بتا رہے ہیں کہ اعصاب کے ایک نظام کو اعصاب کے دوسرے نظام سے ٹھیک ٹھیک مربوط کرنے کے لئے بہت ہی درست اور پیچیدہ طریقے کار فرما ہوتے ہیں۔ مگر یہ طریق عمل کیا ہے، اس کو ہم متعین طور پر نہیں جانتے۔ لفظوں میں خود یہ واقعہ کہ آنکھ الٹی لگی تھی، اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ رابطے کس قدر متعین ہوتے ہیں) ۷- کوانٹم نظریہ کی کشش کے نظریہ پر بھی چسپاں ہوتا ہے سر ہرمن بونڈی، چیف سائنٹسٹ، شعبہ انرجی :
اگر ہم آئن سٹائن کے مقبول عام نظر یہ کشش کو مانیں تو کسی مقناطیسی میدان کے مرکز میں یکایک تبدیلی (مثلاً دو ستاروں میں جو ایک دوسرے کے گرد گھوم رہے ہوں) سے پروفیسر ہوریں بارنو، مییرنا : ہم تقریباً مکمل طور پر اس بات سے بے خبر ہیں کہ دماغ کے مختلف حصے کیوں کر ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اُس وقت دماغ کے سننے والے حصے میں اور بقیہ حصوں میں کس قسم کا ارتباط قائم ہوتا ہے جب کہ ہم کسی مانوس آواز کو پہچانتے ہیں تم بول کو مثال میں پیش کر سکتے ہو۔ وہ صوتی لہروں پر چلتی ہے۔ مگر وہ ایک بچہ کی توتلاہٹ سے کہیں زیادہ با معنی ہوتی ہے جو خود بھی صوتی لہروں پر چلتی ہے۔ دماغ کے اندر عصبى حرکات صوتی لہروں کے مساوی ہوتی مگر ہم کچھ نہیں جانتے کہ وہ کس طرح با معنی ہو جاتی ہیں۔ انسان کب سے زمین پر ہے ڈاکٹر ڈونالڈ جانسن، میوزیم آف نیچرل ہسٹری، کلیو لینڈ، او ہائُو : یورپ، افریقہ اور ایشیا میں جو متحجرات (فوسلز) برآمد ہوئے ہیں، وہ انسان کی ابتدا کو اور زیادہ پیچھے کی طرف لے جاتے ہیں۔ بہر حال یہ بات دن بدن نمایاں ہوتی جا رہی ہے کہ ارتقاء کا معاملہ (سابقہ تصور کے خلاف)
کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، وہ مدت جس کا تعین ایک مسئلہ ہے، وہ تین ملین سے لے کر دس ملین سال پیچھے تک ہے۔
انسان کے امکانی آبا و اجداد میں بظاہر بہت زیادہ فرق اور ہم کو یں معلوم کہ ان کے درمیان باہمی رشتہ (اس کی درجہ جزوی طور پر ڈاکٹر جانسن کی حبشہ میں دریافتیں ہیں۔ نیز اس سے بھی زیادہ قدیم فاصل پاکستان میں ملے ہیں)
علم کا دریا حیرت انگیز طور پر اقرار خدا کی طرف جا رہا ہے طبیعی تحقیقات سے مابعد الطبیعی حقائق برآمد ہو رہے ہیں موجودہ زمانہ میں ہونے والی طبعی تحقیقات حیرت انگیز طور پر انسان کو ” مافوق الطبیعی‘‘ منزل پر ہر علمی شعبہ میں یہ صورت حال پیش آرہی ہے کہ محققین اپنی تلاش و جستجو میں جب آگے بڑھتے ہیں تو بالآخر وہ ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ طبعی قانون کی حد ختم ہو گئی اور مافوق الطبیعی قوتوں کی کار فرمائی شروع ہو گئی۔ 1978ء میں لندن سے شائع ہونے والی قاموس جہالت (THE ENCYCLOPAEDIA OF IGNORANCE) دراصل اسی صورت حال کا ایک علمی اعتراف ہے۔
کائنات کے ابتدائی منجمد مادہ میں انفجار سے موجودہ دنیا کا وجود میں آنا۔ ۳۰ سال پہلے تک ایک سادہ طبعی واقعہ نظر آتا تھا۔ مگر اب معلوم ہوا کہ نہ وہ عام معنوں میں کوئی طبعی یا مادی واقعہ نہ تھا بلکہ ایک بے منظم واقعہ تھا جو اخراج طاقت (ENERGY RELEASE) کے ذریعہ وجود میں آیا۔ عالم مادی کے ترکیبی اجزاء کی تصویر پہلے ایک بے ترتیب ڈھیر کی مانند تھی۔ اب محققین بتا رہے ہیں کہ کائنات ایک بے حد یکساں (UNIFORM) واقعہ ہے۔ الیکٹران کے مقدار مادہ کا تناسب ایک پروٹان کے مقدار مادہ سے ۱۳۸۰ کے مقابلہ میں ایک ہوتا ہے۔ یہی تناسب ہر جگہ اور ہر زمانہ میں باقی رہتا ہے۔ گویا کسی خارجی طاقت نے محکمی طور پر (ARBITRARILY) کائنات کو ریاضیاتی یکسانیت کا پابند کر رکھا زمینی حالات میں ارتقائی طور پر زندگی کے وجود میں آنے کے تمام مفروضات بے دلیل ثابت ہو رہے ہیں اور اب علمائے حیاتیات کا رجحان یہ ہوتا جا رہا ہے کہ زندگی ” اوپر سے‘‘ زمین پر بھیجی گئی ہے۔ عالم فطرت کو کنٹرول کرنے والی طاقتیں ”کئی سے گھٹ کر‘‘ ایک‘‘ ہوتی جا رہی ہے اس وحدت کے لئے کوئی مناسب سائنسی لفظ نہ ہونے کی وجہ سے کوئی اس کو زڈ ذرہ (Z-PARTICLE) اور کوئی جادوئی ذرہ (CHARMED PARTICLE) کہتا ہے۔