Al-Risala · April 1978

سوال و جواب

Al-Risala, April 1978, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

الرساله ماه فروری ۱۹۷۰ء میں ایک مضمون بعنوان ” شہادتِ حسین “ شائع ہوا تھا۔ میں کشمیر سے ایک دوست تحریر فرماتے ہیں: ”سیاسی حریف بننا کوئی بری بات نہیں (اگر اس کا مقصد حصول رضائے الہی ہو) امام حسن ایک باغی کے حق میں خلافت سے دست بردار ہوتے ہیں۔ آپ اسے صحیح قرار دے کر تعریف کرتے ہیں۔ صاف مطلب تو یہ ہے کہ یا ہمت باغی چھا جاتے رہیں گے۔ اور من مانے طریقوں سے اپنی مرادیں برلاتے رہیں گے۔ کیا یہ ایک منفی رجحان نہیں ہے۔ ایک جائز طور پر بیعت شدہ خلیفہ کی دست برداری ــــــــ مقابل کی طاقت سے دب کر ــــــــ سراسر اسلامی روح کے خلاف ہے۔ مذکورہ مضمون کے سلسلے میں یہ بات مختلف لوگوں خودساختہ چیزوں کے نام ہیں یا جہاد وہ ہے جو قرآن و حدیث کے مطابق جہاد ہو۔ اور بزدلی وہ ہے جو قرآن و حدیث سے بزدلی ثابت ہو۔

مذکورہ مضمون میں جو کچھ کہا گیا ہے، وہ تمام تر قرآن اور حدیث اور تعامل صحابہ کی روشنی میں کہا گیا ہے۔ چیز بھی محض بیانیہ انداز سے بطور خود نہیں کہ دی گئی ہے مگر کیسی عجیب بات ہے کہ ہمارے کسی بھائی نے اب تک قرآن اور حدیث اور سیرت کے ان حوالوں کی بابت کچھ البتہ جہاد اور بزدلی کی خود ساختہ اصطلاحوں میں وہ ہمارے اوپر ریمارک دینے میں مشغول ہیں۔ کسی کو اختلاف ہو تو اس کو یہ ثابت کرنا چاہئے کہ مذکورہ مضمون میں جو حوالے دیئے گئے ہیں، وہ غلط ہیں۔ سے وہ بات نہیں نکلتی جو مضمون نگار نے ان سے نکالنے کی کوشش کی ہے اور یہ ساری بحث علمی انداز میں ہونی کی طرف سے مختلف الفاظ میں آتی رہی ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ امام حسن کے کردار کو نمایاں کر کے ہم لوگوں کے اندر سے جہاد کی اسپرٹ ختم کر رہے ہیں اور ان کو بزدل بنانا مگر سوال یہ ہے کہ “ جہاد” یا “ بزدل” ہماری چاہئے نہ کہ محض لفظی ریمارک کی صورت میں ۔ حق وہ نہیں ہے جو ہمارے اپنے ذہنی سانچہ میں حق نظر آئے ۔ حق وہ ہے جو قرآن وحدیث سے حق ثابت ہو ۔

Printed page