Al-Risala · May 1978

یہ احترام نہیں، ناقدری ہے

Al-Risala, May 1978, pp. 7–10

By Maulana Wahiduddin Khan

فقہ کی کتابوں میں علی مرغینانی (۵۹۳۔ ۵۱۱ ھ) کی کتاب "ہدایہ"، بہت مشہور اور مقبول کتاب علمائے احناف کے فتاوی کا مدار زیادہ تر اسی پر ہے۔ اگر کوئی شخص کہے کہ ہدایہ کی جلدوں کو سمجھ کر پڑھنے یا اس کا مطالعہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ بس اس کی "تلاوت" کر لینا کافی ہے ۔ اس کو جلی حرفوں میں چھپوا لیا جائے اور الفاظ کی صحیح ادائیگی کی ضمانت کے لئے اعراب بھی لگا دیئے جائیں اور اس کے بعد لوگوں کو دے دیا جائے کہ وہ صبح و شام اس کے الفاظ کو دہرایا کریں، اگر کوئی ایسا کہے تو سارے علماء اس کے مخالف ہو جائیں گے ۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ قرآن کے بارے میں وہ ٹھیک اسی عمل پر راضی ہو گئے ہیں۔ جو بات انھیں شامی اور در مختار اور ہدایہ اور کنز الدقائق کے معاملہ میں بے معنی نظر آتی ہے، وہی بات قرآن کے معاملہ میں عین مطلوب بن گئی ہے۔

مجھے ایک بار سفر میں ایک نوجوان کی ہم راہی کا اتفاق ہوا۔ یہ ایک فیض یافتہ نوجوان تھا اور صوم و صلوۃ کا نہایت پابند تھا۔ وہ اپنے گلے میں ایک حمائل لٹکائے ہوئے تھا۔ ہمیشہ باوضو رہتا اور جہاں موقع ملتا، قرآن کھول کر اس کی تلاوت شروع کر دیتا۔ اس کا ذوق شوق دیکھ کر میں نے کہا: آپ عربی زبان بھی سیکھ لیجئے تاکہ جب آپ قرآن پڑھیں تو اس کو سمجھ بھی سکیں، میری اس بات کے جواب میں اس نے جو کچھ کہا وہ عام مسلمانوں کی نفسیات کی مکمل ترجمان تھی : " ہم تو صرف ثواب کے لئے قرآن پڑھتے ہیں " یہ حال اس کتاب کا ہے جس میں اللہ تعالی نے اس کے اتارنے کا مقصد یہی بتایا ہے کہ لوگ اس پر غور کریں اور اس سے نصیحت اور عبرت حاصل کریں : (ص۔

* * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * پاتے ہیں (۱۸۵۲)

زبانوں کی کُثرت اس کے مقابلہ میں جدید ہندوستانی لٹریچر کی مغرب نے جب ہندوستان کے علمی ذخیرہ کی طرف طرف مغرب نے بہت کم توجہ دی ہے۔ توجہ کی تو اس نے زیادہ تر قدیم کلاسیکی ادب، سنسکرت (۱۸۵۲) اور ڈاکٹر سوجیت کرتی (۱۹۰۷) کے ادب کو دیکھا۔ سر ولیم جونز نے کالی داس کو ہندوستان کا بیان کے مطابق اس کی وجہ ہندوستانی زبانوں کی کُثرت شکسپیر کہا (۱۷۸۹) گوٹے نے ویدوں میں ایک نئی ہے۔ قدیم لٹریچر سے واقفیت کے لئے صرف سنسکرت کو دنیا پائی جس میں وہ رہ سکتا تھا (۱۸۱۱) شونیار جاننا ان کے لئے کافی ہو گیا تھا جب کہ جدید لٹریچر سے نے اعتراف کیا کہ اپنشداس کے لئے زندگی کی تسکین واقفیت کے لئے انھیں اتنی زیادہ زبانیں سیکھنی پڑیں گی رہی ہیں (۱۸۱۰) میکس مولر نے کہا کہ دیدے ہم اتنے جو البرسٹ ویپر کے الفاظ میں کسی ایک اسکالر کے امکان تنا ہم سبق سیکھ سکتے ہیں جیسے کہ ہم چومرا در اور چل میں سے زیادہ ہیں۔

کبھی سیاست کو ترک کرنے ہی کا نام سیاست ہوتا ہے اکتوبر1944 میں دوسری عالمی جنگ اپنے شباب امریکہ، بحرالکاہل کے جزائر کو فتح کرتے ہوئے، جاپان کے دروازہ تک پہنچ چکا تھا۔ اس وقت جاپان کےوائس ایڈمرل اونسٹی (TAKJIJORO ONISHI) نے اپنی فوج کے اعلیٰ افسروں کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا : " میرے خیال سے اب ایک ہی راستہ رہ گیا ہے جس میں ہم یقین کر سکیں کہ ہماری معمولی طاقت زیادہ سے زیادہ موثر بن سکتی ہے۔ وہ یہ کہ ہم " زیرو فائٹرس " کا ایک دستہ بنائیں جو ۲۵۰ کلوگرام کا بم لے کر دشمن کے سمندری جنگی جہازوں پر اپنے آپ کو گرادیں "

اونسٹی کی یہ تجویز ہوا بازوں تک پہنچائی گئی۔ منظوری کا فیصلہ ہو گیا۔ ہوا بازوں کا ایک دستہ بنایا گیا جس کا نام تھا کامیکیر (KAMIKAZE) یہ ایک جاپانی لفظ ہے جس کے معنی ہیں " خدائی آندھی "۔ اس لئے اختیار کیا گیا کیونکہ تیرہویں صدی میں قبلائی خاں کے حملے سے " ایک خدائی آندھی نے جاپان کو بچایا تھا " جس میں اس کی جنگی کشتیاں ایک سمندری طوفان نے تباہ کر ڈالی تھیں۔

ساتھ یہ قربانیاں دی تھیں، اس کا اندازہ ایک خط سے ہوگا، سسومو (SUSUMO KIJITSU) اسی قسم کا ایک ۲۲ سالہ جاپانی ہواباز تھا جس نے ایک بم لے کر اپنے ہوائی جہاز کو دشمن کے ایک سمندری جنگی جہاز پر گرایا تھا، اس نے آخری دن اپنے دفتر سے اپنے خاندان کو حسب ذیل خط لکھا :

"میرے پیارے والدین، پیارے بھائیو اور میری پیاری بہن !

یقیناً آپ کو اس کا علم نہیں ہوگا، مگر چند دن پہلے میں نے آپ کو الوداع کہی ہے جب کہ میں اپنے گھر کے اوپر پرواز کر رہا تھا، میرے جہاز کے بازوؤں کے سائے نے ہمارے مکان کی چھت کو چھوا میرے خیالات ہمہ تن آپ کی طرف لگے ہوئے تھے۔ میں جانتا ہوں کہ بہت جلد میرا وقت آجائے گا۔ مگر مجھے موت کا ڈر نہیں۔ مجھے صرف یہ فکر ہے کہ میرا عمل کیا جاپان کو بچانے کے لئے مفید اور فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ میں اور میرے ساتھی یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہماری قربانیاں ہمارے بعد کی نسلوں کے لئے فتح لے آئیں گی۔ ہم نہایت پرسکون ہیں۔ ہم اکثر مذاق کرتے ہیں اور اپنا وقت پڑھنے اور تاش کھیلنے میں گزارتے آپ ہمارے لئے غمگین نہ ہوں ۔ اس کے برعکس آپ کو فخر کرنا چاہئے کہ میرا جسم اگر چہ جلدی ختم ہو جائے گا مگر میری روح ہمیشہ آپ کے پاس رہے گی۔ اگست ۱۹۴۵ میں جنگ ختم ہوئی تو پانچ ہزار کی | الوداع، کیونکہ آخری وقت کی گھنٹی بج چکی ہے۔ تعداد میں جاپانی ہوا باز اس طرح اپنی جانیں دے چکے تھے۔ | (آپ کا بیٹا اور بھائی سسومو) انہوں نے اکتوبر 1944 اور جون 1945 کے درمیان ۳۳ امریکی جنگی جہازوں کو تباہ کر دیا تھا۔ جاپان کے بہادر ہوابازوں نے کن جذبات کے تا ہم تاریخ کی یہ انوکھی قربانی جاپان کو بچانے والی ثابت نہ ہوسکی ، کیوں کہ دشمن کے پاس ایک اور بر تر طاقت تھی جس کے مقابلہ میں جاپانی ہوا بازوں کی یہ لامثال قربانی

بھی بے اثر تھی۔ یہ تھا ایٹم بم ۔ ۶ اگست ۱۹۴۵ کو امریکی ہوائیہ نے دو ایٹم بم جاپان کی زمین پر گرائے جس نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی جیسے عظیم صنعتی شہروں کو چند منٹ میں خاک کا ڈھیر بنا دیا ۔ اب جاپان کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہ تھا کہ وہ امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈال دے ۔ تاہم جاپان کے لیے اب بھی راستے بند نہیں اب اس نے دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ " جنگ کو جاری رکھنے کے لیے جنگ کے خاتمہ " کا اعلان جاپان کے شہنشاہ ہیرو ہیٹو نے ریڈیو پر قوم کو خطاب کرتے ہوئے کہا :

" ہم ایک ناقابل برداشت صورت حال سے مگر ہمیں اس ناقابل برداشت کو برداشت کرنا ہے تاکہ ہم جاپان کی اگلی نسلوں کی تعمیر نو کر سکیں ۔ جاپان نے امریکہ کے سیاسی اور فوجی اقتدار کو تسلیم کر لیا اور اس کے تحت غیر سیاسی میدانوں میں ترقی و استحکام کی تدبیریں شروع کر دیں ۔ اب ان کا خصوصی نشانہ تھا سائنسی تعلیم اور جدید صنعت ۔ " جنگ کو ختم کر کے جنگ جاری رکھنے " کی تدبیر کامیاب ۱۹۴۵ میں کئے گئے اس خاموش فیصلے کا نتیجہ ۱۹۴۰ میں بڑا مدعا ۔ ۲۵ سال تک " سیاست "

چھوڑنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان ایک ناقابل تسخیر سیاسی طاقت بن گیا۔ سائنسی تعلیم ، ٹکنالوجی ، صنعت اور قومی کردار کی تعمیر میں جاپان نے جو غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی تھیں ، اس نے اپنے بالواسطہ اثرات پیدا کرنے شروع یہاں تک کہ امریکہ کے لئے اس کو نظر انداز کرنا نا ممکن امریکہ نے جزائر جاپان کا اقتدار جاپانی باشندوں کے حوالے کر دیا ۔ اس کی فوجیں اور کی فوجیں ان کی ناوا میں اپنے عظیم فوجی اڑہ کو خالی کرکے اپنے وطن واپس چلی گئیں ۔ وہ ہار کو ماننا جانتا تھا امریکہ کے ایک شخص نے ۱۸۳۱ میں تجارت کی ۔ اس میں وہ ناکام ہو گیا۔ ۱۸۳۲ میں اس نے الیکشن میں شکست کھائی ۔ ۱۸۳۴ میں اس نے دوبارہ تجارت کی مگر اس بار بھی ناکام رہا ۔ اس کو امید تھی کہ اس کی پارٹی اس کو کانگریس کی ممبری کے لئے نامزد کرے گی۔ مگر اس کی امید پوری نہ ہوسکی ۔ 1855 میں وہ سینٹ کے لئے کھڑا ہوا مگر ہار گیا ۔ ۱۸۵۰ میں دوبارہ اس کو سینٹ کے الیکشن میں شکست ہوئی ۔ یہ بار بار ناکام ہونے والا شخص ابراہام لنکن ( ۱۸۶۵ - ) تھا جو بالآخر ۱۸۶۰ میں امریکہ کا صدر چناگیا اور آج وہ نئے امریکہ کا معمار سمجھا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر نارمن ونسنٹ پیل نے لنکن کی کامیابی کا راز یہ بتایا ہے: HE KNEW HOW TO ACCEPT DEFEAT وہ جانتا تھا کہ شکست کو کس طرح تسلیم کیا جائے۔

جو بہت سی کتابوں پر صادق آتا ہے ’’بھیم راؤ جی امبیڈ کر" ایک تازہ مطبوعہ انگریزی کتاب ہے، ٹائمس آف انڈیا کا تبصرہ نگار اس کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتا ہے :

یہ کتاب کون سی مفید خدمت انجام دے گی، میں اس کو سمجھنے سے بالکل معذور رہا۔ میرا خیال ہے کہ یہ کتاب اس بات کی ایک شاندار مثال ہے کہ کس طرح ایک عمدہ موضوع، محنت اور نیا پن نہ ہونے کے سبب سے ایک ناقابل مطالعہ کتاب کی صورت اختیار کر سکتا ہے جب کہ اس موضوع پر لکھنے کے لئے کافی مواد موجود ہو۔

Printed page