Al-Risala · May 1978

آگ: درخت کا خوبصورت بچہ

Al-Risala, May 1978, pp. 10–13

By Maulana Wahiduddin Khan

عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ علماء بنی اسرائیل میں سے تھے۔ جب رسول اللہ کے کے دست مبارک پر بیعت کی سعادت ان کو حاصل ہوئی تو انھوں نے عرض کیا کہ قرآن کے ساتھ تو رات کی تلاوت بھی جاری رکھوں۔ آپ نے فرمایا، اقرأ هذالليلة دهن الليلة (ایک رات قرآن پڑھا کرو اور ایک رات تورات)

"تذکرہ حفاظ ذہبی، جلد 1، صفحه 26 قرآن کی صحیح رہنمائی میں اس قسم کی کتابوں کے پڑھنے سے جہاں تک میرا ذاتی تجربہ ہے، خود قرآن کے سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ ایک دن میں مجریدید کے اردو ترجمہ کا مطالعہ کر رہا تھا، ایک جگہ مجھے یہ فقرہ ملا: "اے اگنی تو خوبصورت بچہ ہے، پودوں میں سے نکالا ہوا! تاریکی کو دور کرتا ہوا، ماؤں سے شور کرتا ہوا پیدا ہوا ہے" (ادھیا 4 ) اس اشلوک نے معاً میرے دماغ کو قرآن کی ان آیتوں کی طرف منتقل کر دیا جن میں ارشاد ہوا ہے کہ تم دیکھتے ہو اس آگ کو جسے تم پیدا کرتے یا نکالتے ہو، کیا تم نے اس درخت کو اگایا، یا ہم ہیں اس کے اگانے والے" (الواقعہ) قریب قریب یہی مضمون سورہ یسین میں بھی ہے۔ عام مفسرین، عرب کے بعض خاص درختوں کا ذکر کر کے لکھ دیتے ہیں کہ ان کی شاخوں کو باہم رگڑ کر عرب آگ پیدا کیا کرتے تھے، اسی کی طرف اشارہ ہے، لیکن مجریدید کا یہ طرز تعبیر قرآن کے طرز تعبیر سے اس درجہ ملتا جلتا تھا کہ خیال گزرا کہ کیوں نہیں قرآن میں بھی "درخت" کو عام درخت سمجھا جائے اور جیسے وید میں ہے کہ آگ خوبصورت بچہ ہے پودوں سے نکالا ہوا، یعنی آگ کا ظہور لکڑی ہی کے جلنے سے ہوتا ہے اور اسی سے شور کرتا ہوا پیدا ہوتا ہے، ،قرآن میں بھی کیا اسی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ (مولانا مناظر احسن گیلانی)

حدیث میں آیا ہے کہ ایک گھڑی کا سوچنا ستر برس کی عبادت سے افضل ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص تنہائی میں اللہ کو یاد کرے ، وہ ایسا ہے جیسے اکیلا کفار کے مقابلہ میں چل دیا ہو۔ ایک حدیث کے مطابق سات آدمی وہ ہیں جن کو اللہ اس دن اپنے سایہ کے نیچے جگہ دے گا جب کہ اس کے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔ سے ایک وہ ہے جو اللہ کو تنہائی میں یاد کرے اور اس کی آنکھ سے آنسو بہہ پڑے۔

ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ عقل والے لوگ کہاں ہیں ۔ لوگ پوچھیں گے ، عقل والے کون ہیں۔ جواب دیا جائے گا، وہ لوگ جو اللہ کو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے یاد کرتے رہے اور آسمان اور زمین کی تخلیق میں غور کرتے تھے اور کہہ اٹھتے تھے، خدایا تو نے ان کو عبث پیدا نہیں کیا۔ پس ہم کو جہنم کے عذاب سے بچا۔ ابن ابی الدنیا نے ایک مرسل روایت نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار صحابہ کی ایک جماعت کے پاس آئے۔ وہ لوگ چپ چاپ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا ، کیا سوچ رہے انھوں نے جواب دیا، اللہ کی مخلوقات میں غور کر رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا ۔ ہاں اللہ کی ذات میں غور نہ کرو اللہ کی مخلوقات میں غور کیا کرو۔

ابو ہریرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص چھت پر لیٹا ہوا آسمان اور ستاروں کو دیکھ رہا تھا۔ اس پر خدا کی عظمت کا تاثر قائم ہوا اور بولا: " خدا کی قسم مجھے یقین ہے کہ تمھارا پیدا کرنے والا کوئی ضرور ہے، اے اللہ تو مجھے بخش دے۔ " خدا کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہوئی اور وہ بخش دیا گیا۔ بن عباس کہتے ہیں ، ایک ساعت کا غور تمام رات کی عبادت سے افضل ہے۔ ام درداء سے پوچھا گیا کہ ابو دردار کی محبوب عبادت کیا تھی، فرمایا غور و فکر۔ ابو ہریرہ کی ایک روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک ساعت کا غور و فکر ساٹھ برس کی عبادت سے افضل ہے۔ حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی وہ مخفی یاد جس کو فرشتے بھی نہ سن سکیں، اس کا ثواب ستر درجہ زیادہ ہے۔

عبادہ بن صامت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ بہترین ذکر خاموش ذکر ہے اور بہترین رزق وہ ہے جو کفایت کا درجہ رکھتا ہو۔ ایک حدیث کے مطابق آپ نے فرمایا کہ اللہ کو ذکر شامل سے یاد کیا کرو، پوچھا گیا، ذکر خامل کیا ہے۔ فرمایا " مخفی یاد "

یہی وہ ذکر (یاد الہیٰ) ہے جس کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ جو ایسا کرے، اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں خواہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔

عن ابی ھریرۃ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ علیه نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، دنیا ملعون ہے اور جو کچھ

وسلم يقول الدنيا ملعونۃ وملعون ما فيها دنیا میں ہے وہ بھی۔ مگر اللہ کی یاد اور وہ چیز جس کے إلا ذكر الله وما دالا ہ دعالما ومتعلما قریب ہو اور عالم (اور طالب علم۔

امام غزالی نے لکھا ہے کہ غور و فکر کو افضل عبادت اس لئے کہا گیا کہ اس میں ذکر (یا دالہٰی) تو موجود ہوتا ہی ہے، اسی کے ساتھ اس میں دو چیزوں کا اور اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک اللہ کی معرفت ، کیونکہ غور و فکر معرفت کی کنجی ہے ، دوسرے، اللہ کی محبت کہ وہ فکر سے پیدا ہوتی ہے۔

عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں، اگر علم چاہتے ہو تو قرآن کے معانی پر غور کرو کہ اس میں اولین و آخرین کا علم ہے۔ یوں آتی ہے آفت ، اور آخرت کی آفت سب سے بڑی ہے جب کسی کو مال و اولاد کی نعمت ملتی ہے تو وہ وہ صبح کو اٹھے اور ایک دوسرے کو پکارا، اگر تم کو دراصل خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس کا شکرانہ یہ ہے پھل توڑنا ہے تو سویرے اپنے کھیت پر چلو۔ پھر وہ لوگ کہ آدمی ان کو اپنی ذاتی چیز نہ سمجھے بلکہ دوسروں کو بھی چل پڑے ۔ آپس میں چپکے چپکے کہہ رہے تھے کہ آج تمھارے اس میں حق دار سمجھے اور کمزور طبقات کے لئے بھی اس باغ میں کوئی محتاج نہ آنے پائے۔ وہ یہ سمجھ کر جا رہے تھے میں حصہ لگائے۔ خدا کی نعمت پانے کے بعد منافع للغیر" کہ وہ اس پر قادر ہیں۔ مگر جب وہاں پہنچے اور باغ کی بن جانا خدا کو سخت ناپسند ہے۔ اس قسم کا فعل نہ صرف حالت دیکھی تو کہنے لگے "یقیناً ہم راستہ بھول گئے ہیں۔ آخرت میں آدمی کے لئے بوجھ بنے گا۔ بلکہ اندیشہ ہے کہ پھر جب حقیقت معلوم ہوئی تو بولے "ہماری قسمت دنیا میں بھی ملی ہوئی نعمت اس سے چھین نہ لی جائے۔ پھوٹ گئی "

قرآن میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے جس کا ترجمہ ان میں جو بہتر آدمی تھا، وہ بولا۔ میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم خدا کی پاکی کیوں نہیں بولتے۔ " ہم نے اسی طرح ان کو آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح جواب دیا۔ واقعی پاک ہے ہمارا رب! بے شک ہم ہی ہم نے باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا۔ جب انھوں نے قصور وار ہیں۔ پھر ایک دوسرے پر ملامت کرنے لگا، نے قسم کھائی کہا اپنے باغ کا پھل صبح سویرے ضرور انھوں نے کہا، افسوس ہمارے حال پر، بلاشبہ ہم سرکش ان کو ایسا وثوق تھا کہ انھوں نے یہ نہ کہا کہ ہو گئے تھے، بعید نہیں کہ ہمارا رب اس کے بدلے ہمیں " اگر خدا چاہے۔ پھر رات کو جب کہ وہ ابھی سورہے اس سے بہتر باغ عطا کرے۔ ہم اس کی طرف رجوع کرتے تھے، تمھارے رب کی طرف سے ایک آفت اس باغ پر ہیں ۔ یوں آتی ہے آفت اور آخرت کی آفت تو سب پھر گئی اور اس کا حال ایسا ہوگیا جیسے روندی ہوئی فصل۔ سے بڑی ہے۔ القلم ۳۳ - ۱۷

بہت سے چمک دار سکے آخرت کے بازار میں کھوٹے ثابت ہوں گے سعدی شیرازی کا ایک شعر ہے بزرگ زاده تا داں پہ پر و داماند کامیاب دکھائی دیتے ہوں کہ در دیار غریبش بہ بیج نستانند لاشہ پر واہ“ کے معنی ہیں رواج داد، حکومت اس سے مراد وہ نقود یا سکے ہیں جن کو کسی حکومت نے راستوں پر چلتے ہیں، ان کو یہاں بہت جلد عزت اور ترقی حاصل ہو جاتی ہے۔ مگر اس قسم کے لوگ جیسے ہی اگلی دنیا میں داخل ہوں گے وہ بالکل بے قیمت ہو جائیں سعدی شیرازی کہتے ہیں کہ بڑے آدمی گے کیونکہ اگلی دنیا وہ ہے جہاں شیطان کی عمل داری مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔ جو لوگ شیطان کی سرپرستی وطن میں اپنے باپ کی وجہ سے عزت دار بنے رہتے کی وجہ سے موجودہ دنیا میں عزت دار بنے ہوئے تھے وہ وہاں مکھی اور مچھر سے زیادہ بے قیمت ہوں گے کیوں کہ وہاں عزت صرف اس کے لئے ہے جس کو خدا اپنی قیمت کھو دیتا ہے۔

اپنی سرپرستی میں لے لے۔

علی بن ابی طالب ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے۔ ان کے یہاں پہلا لڑکا پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام حرب (جنگ) تجویز کیا۔ آپؐ نے اس کو پسند نہیں کیا اور اس کے بجائے لڑکے کا نام ”حسن“ رکھا۔ علی بن ابی طالب کے یہاں دوسرا لڑکا پیدا ہوا تو انھوں نے دوبارہ چاہا کہ اس کا نام حرب رکھیں۔ آپؐ نے فرمایا نہیں، اس کا نام حسین رکھو۔ (منہاج السنة النبویة لابن تیمیہ)

جنگ اور تصادم اسلام میں اتنا زیادہ ناپسندیدہ ہے کہ ہر قیمت پر اس سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے، قرآن میں ہدایت کی گئی ہے کہ تمہارا حریف اگر صلح کے لئے آگے بڑھے تو تم بھی آگے بڑھ کر اس سے صلح کرلو۔ حتیٰ حتیٰ کہ اگر یہ اندیشہ ہو کہ حریف صلح کے پردہ میں تم کو دھوکا دینا چاہتا ہے تب بھی اس کی پروا مت کرو اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس سے صلح کرلو (انفال (۹)

Printed page