Al-Risala · May 1978

ذکر و دعا کی حقیقت

Al-Risala, May 1978, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

’’فلاں دعا بہت مجرب ہے، اس کو پڑھا کرو۔ ’’فلاں ذکر کی بڑی فضیلت ہے، صبح و شام اس کا ورد اس قسم کی باتیں اکثر سننے میں آتی ہیں۔ کتابیں لوگوں نے لکھ رکھی ہیں جن میں اس قسم کے ”مجربات“ جمع کئے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ کتنی بزرگی کی دکانیں اسی لئے قائم ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کو دعاؤں اور اذکار کے قیمتی نسخے معلوم ہیں، لوگ وہاں حاضری دیتے ہیں اور وہ پر اسرار طور پر ان کو ایسے مجربات کی تلقین کرتے ہیں جو ان کو سینہ بہ سینہ پہنچے ہیں۔

مگر یہ ساری باتیں قطعا بے اصل ہیں۔ دعا یا ذکر کوئی جادو کا منتر نہیں ہے جس کے سارے کمالات کچھ مقرر الفاظ میں چھپے ہوئے ہوں۔ اگر یہ خاص الفاظ مقرر طریقے پر زبان سے پڑھ دیئے جائیں تو اس کی تاثیر ظاہر ہو جائے گی اور اگر الفاظ اور طریقے میں کچھ فرق ہو گیا تو منتر کا طلسماتی کمال ظاہر نہیں ہوگا۔ دعا یا ذکر دل کی کیفیات اور اندرونی تڑپ کا نام ہے نہ کہ پر اسرار الفاظ کے کسی مجموعہ کا۔ قصہ مشہور ہے کہ کہیں ایک بند محل تھا۔ محل کے اندر بے شمار خزانہ بھرا ہوا تھا، مگر وہ کسی کنجی سے نہیں کھلتا تھا، بلکہ ایک منتر سے کھلتا تھا۔ ایک شخص کو اس محل کی تلاش ہوئی۔

برسوں تک پہاڑوں اور جنگلوں میں گھومنے کے بعد اسے ایک شخص ملا جو اس جادوئی محل کا راز جانتا تھا۔ اس نے اس کا پتہ بتایا اور کہا کہ تم اس کے سامنے پہنچو تو کہنا ”کھل اے سِم سم۔ یہ کہتے ہی محل کا دروازہ کھل جائے گا اور تم اس میں داخل ہو جانا۔ اب آدمی نے سفر شروع کیا۔ چلتے چلتے بالآخر وہ خزانہ کے اس محل تک پہنچ گیا، مگر بد قسمتی سے وہ اس کو کھولنے کا منتر بھول گیا۔ وہ محل کے بھاری دروازہ کے سامنے کھڑا ہو کر طرح طرح کے ملتے جلتے الفاظ دہراتا رہا: ٹم ٹم بم بم، چم چم۔ مگر دروازہ نہیں کیونکہ وہ تو ایک خاص لفظ کے بولنے ہی سے کھلتا تھا اور آدمی وہ لفظ بھول چکا تھا۔ وہ دوبارہ محل کے عارف کی طرف روانہ ہوا اور دریاؤں اور بیابانوں کا سفر کر کے اس سے عارف نے دوبارہ اس کو بتایا کہ اس جادوئی محل کا منتر ”سم سم“ ہے۔ اب اس نے اس منتر کو خوب رٹ ڈالا اور دوبارہ سفر کر کے محل کے اب وہ محل کے سامنے کھڑا ہوا تو اس کو اس کا جادوئی منتر خوب یاد تھا۔ اس نے کہا ”کھل اے سم سم“، ان الفاظ کا زبان سے نکلنا تھا کہ محل کا دروازہ کھل گیا اور خزانوں کی چمکتی ہوئی دنیا اس کے سامنے آگئی۔

بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دعا اور ذکر بھی اسی طرح ”سم سم“ کی قسم کے منتر ہیں، مگر یہ دین سے انتہائی نا واقفیت کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کو بندوں سے جو چیز مطلوب ہے وہ اخبات و انابت (دل کا جھکاؤ اور توجہ) ہے نہ کہ لفظی طلسمات۔ آتا ہے کہ ایک دیہاتی کا اونٹ گم ہو گیا۔ اس کو ڈھونڈ رہا تھا۔ لمبی تلاش اور دوڑ دھوپ کے بعد جب اونٹ اس کو ملا تو اس کا دل شکر الٰہی کے جذبہ سے بھر گیا اور بے اختیار اس کی زبان سے نکلانہ

اللھم انت عبدى دانار بش خدایا تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں لفظوں کے اعتبار سے دیکھئے تو یہ کفر کا کلمہ ہے، مگر الفاظ اللہ تعالیٰ کو اتنے پسند آگئے کہ اس کو خدا کے مقبول بندوں میں شامل کر دیا گیا۔ کیونکہ حدیث کے الفاظ میں " اللہ ہمارے ظاہر کو نہیں دیکھنا ، وہ ہمارے قلب اور ہمارے باطن کو دیکھتا ہے"

دعا اور ذکر دین کی سب سے اعلیٰ حقیقتیں ہیں، مگر اس کا مطلب نہیں کہ کچھ پر اسرار قسم کی عربی منتر ان کو شکر خاص خاص وقت میں دہراد و اور محل کے دروازے کھل جائیں گے۔ دعا کی حقیقت بندے کا اپنے مالک کو پکارنا ہے۔ اسی طرح ذکر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا خوف اور محبت اس طرح دل پر چھا جائے کہ ہر وقت اس کی یاد آتی رہے ۔ دعا اور ذکر وہی افضل ہے جو دل کی گہرائیوں سے نکلے، خواہ وہ اپنی مادری زبان میں ہو۔ والے کی طرح وہ بے ڈھنگے الفاظ میں کیوں نہ ادا

Printed page