Al-Risala · May 1978

خلیفہ ثانی کی نصیحت

Al-Risala, May 1978, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت عمر کی خلافت کے زمانہ میں عراق پر شاہان کسریٰ کا قبضہ تھا۔ اس وقت جس بادشاہ کی حکومت تھی اس کا نام یزدگرد تھا۔

عراق کے ساتھ لڑائی کے زمانہ میں ایک بار خلیفہ ثانی نے ارادہ کیا کہ وہ خود محاذ جنگ پر جاکر اسلامی فوجوں کی کمان کریں، مدینہ میں مشورہ ہوا۔ کی رائے ہوئی کہ آپ کو خود جانا چاہئے ۔ مگر خواص نے رائے دی کہ آپ دارالسلطنت میں ٹھہریں اور یہاں رہ کر لشکروں کی رسدانی کا انتظام کریں، یہی زیادہ بہتر ہے۔ دوسری رائے کے حق میں فیصلہ ہوا اور سعد بن ابی وقاص کو عراق روانہ کیا گیا جہاں اس وقت قادسیہ کے مقام پر جنگ ہورہی تھی۔ حضرت سعد روانہ ہونے لگے تو حضرت عمر نے ان کو وصیت فرمائی۔ اس وصیت کا خلاصہ یہ تھا :

" سعد ! تمہیں یہ بات دھوکے میں نہ ڈالے کہ تم رسول اللہ کے ماموں کہلاتے ہو اور آپ کے صحابی ہو۔ اللہ برائی کو برائی سے نہیں دھو تا بلکہ برائی کو بھلائی سے دھوتا ہے۔ اللہ اور بندوں کے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں۔ کے یہاں صرف اس کی بندگی مقبول ہوتی ہے۔ کے یہاں شریف رذیل سب برابر ہیں۔ سب اس کے بندے ہیں اور وہ سب کا رب ہے اس کے انعامات بندگی سے حاصل ہوتے ہیں۔ ہر معاملہ میں اس چیز کو دیکھتا جو رسول اللہ کا طریقہ تھا ، وہی عمل کی چیز ہے۔ نصیحت کو یاد رکھنا تم ایک بڑے کام کے لئے بھیجے جا رہے ہو۔ اس سے چھٹکارا صرف حق کا تپانا سے ہو سکتا ہے۔

اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو خیر کا اللہ کے خوف کو اختیار کرنا۔ اور اللہ کا خوف دو باتوں میں جمع ہوتا ہے۔ اس کی اطاعت میں اور گناہ سے پر ہیز کرنے میں۔ اور اللہ کی اطاعت جس کو بھی نصیب ہوئی، دنیا سے بے رغبتی اور آخرت سے محبت کے ذریعہ نصیب ہوئی۔

Printed page