آر۔ایس۔ایس۔ اور مسلمان
Al-Risala, May 1978, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر کیشو بلی رام ہیڈ گیوار (۱۹۴۰-۱۸۹۰) کے بانی ہیں۔ انھوں نے ۱۹۲۵ میں اس تنظیم کو قائم کیا تھا۔ ڈاکٹر ہیڈ گیوار کے بعد ۱۹۴۰ میں گرو گو لو الکر اس کے سرسنجا لک مقرر ہوئے، ۱۹۷۳ میں ان کے انتقال کے بعد سے بالاصاحب دیور اس (۶۳) اس تنظیم کے سرسنجا لک ہیں۔
مسٹر رمیش چندر نے ناگ پور میں بالاصاحب دیور اس سے ایک انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کا ایک سوال و جواب یہ تھا:
"Muslims Are Wary"
Q: Is it true that Muslims are rather wary about joining the Sangh? You had once earlier referred to certain changes that will have to be made before opening your doors to non-Hindus. What exactly are these? A: No, I don't think I have referred to certain changes that will have to be made be- fore opening our doors to other communities. But it is true that Muslims are rather wary and not enthusiastic about joining the Sangh. Which is why I did say that it is only the Hindus who ask us to admit Muslims and not the Muslims themselves. Till today they have not come forward. What I have said possibly in my speeches is that some Muslims came to see me here. We have had some discussions. I have told them: Look here, you are proselytising people. You believe you have the right to convert and you believe that it is your duty to convert. That is not our way of thinking. We started the shuddhi programme just recently. But, then again, that is only as a reaction. In the old days there was no shuddhi. Remember Swami Vivekananda went to America. He gave lectures on the Vedas, Upanishads, Gita. The Americans appreciat- ed the lectures. Thousands became his disci- ples. But he did not convert a single Ameri- can to Hinduism. That is our thinking. سوال: کیا یہ صحیح ہے کہ مسلمان آر۔ میں شامل ہونے کے معاملہ میں بہت محتاط ہیں۔ آپ نے اس سے پہلے ایک بار کہا تھا کہ غیر ہندوؤں کوسنگھ میں لینے سے پہلے اس میں کچھ تبدیلیاں کی جائیں گی ۔ وہ تبدیلیاں کیا ہیں۔
جواب : نہیں ۔ میں نہیں سمجھتا کہ میں نے ایسی تبدیلیوں کا ذکر کیا تھا جو دوسرے فرقہ کے لوگوں کے لئے سنگھ کا دروازہ کھولنے سے پہلے کی جائیں گی ۔ البتہ یہ صحیح ہے کہ سنگھ میں شامل ہونے کے معاملہ میں مسلمان محتاط ہیں نہ کہ پر جوش ۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ یہ صرف ہندو ہیں جو ہم سے کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو سنگھ میں شامل کیا جائے ، مسلمان خود نہیں کہتے۔ اب تک وہ آگے نہیں بڑھے ہیں۔ میں نے اپنی تقریر میں میں جو کچھ کہا ہوگا وہ صرف یہ کہ کچھ مسلمان یہاں مجھ سے ملنے کے لئے آئے ۔ ہمارے درمیان کچھ باتیں ہوئیں میں نے ان کو بتایا۔ دیکھیے ، آپ لوگوں کو مسلمان بناتے آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو مسلمان بنانے کا حق ہے اور یہ آپ کا فریضہ ہے مگر یہ ہمارا سوچنے کا طریقہ ہم نے شدھی کا پروگرام ابھی جلد ہی شروع یہ صرف رد عمل کے طور پر وجود میں آیا۔ زمانہ میں یہاں کوئی شدھی نہ تھی ۔
دیکھیے، سوامی دیویکانند امریکہ گئے ۔ انھوں نے ویدوں پر اپنشدوں پر اور گیتا پر لکچر دئے۔ امریکیوں نے ان لکچروں کو پسند کیا۔ ہزاروں ان کے معتقد بن گئے ۔ مگر انھوں نے ایک امریکی کو بھی ہندو یہ ہمارا سوچنے کا طریقہ ہے ۔ وال اسٹریٹ ڈیلی آنٹ انڈیا ۔ غلط وہ نہیں ہے جو غلطی کرے ــ غلط وہ ہے جو غلطی کا اعتراف نہ کرے
کوئی تحریک کیسی ہے، اس کو جاننے کا سب سے زیادہ یقینی ذریعہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اس سے جو لوگ متاثر ہوتے ہیں ان میں کیسا مزاج بنتا ہے۔ دورِ اول میں قرآن نے صحابہ کے اندر جو مزاج پیدا کیا، وہ خدا پرستی اور آخرت پسندی کا مزاج تھا۔ ان میں کے چند آدمی جب ایک جگہ بیٹھتے تو وہ خدا اور آخرت کے چرچے کرتے ، ان کے جوتے کا تسمہ بھی ٹوٹ جاتا تو ان کو خدا یاد آتا۔ ہوا اگر تیز ہو جاتی ، تب بھی وہ کانپ جاتے کہ کہیں قیامت نہ آگئی ہو۔
موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر جو تحریکیں اٹھیں اور ان سے جو لوگ متاثر ہوئے ، ان کو دیکھئے تو کسی میں یہ مزاج دکھائی نہ دے گا ۔ کسی تحریک نے یہ مزاج پیدا کیا ہے کہ اس کے چند وابستگان جب کہیں اکٹھا ہوتے ہیں تو ان کا سب سے زیادہ محبوب مشغلہ یہ ہوتا ہے کہ اپنے بزرگوں کی فضیلتیں اور کرامتیں بیان کسی تحریک نے اپنے لوگوں کو ایک قسم کا عملیاتی اسلام تقسیم کر رکھا ہے اور اس کا ہر فرد اس کے طلسماتی فوائد کا ٹیپ ریکارڈ بنا ہوا ہے۔ کسی تحریک نے اسلام کے نام پر ایک عجیب و غریب قسم کا سیاسی مزاج بنایا اس کے متاثر افراد کا لذیذ ترین موضوعِ گفتگو صرف وہ چیزیں ہوتی ہیں جن میں سیاست کی چاشنی ہو۔ وہیں متحرک ہوتے ہیں جہاں کوئی سیاسی اقدام کا موقع ہو۔ خواہ یہ سیاسی اقدام عملاً سیاسی خندق میں چھلانگ لگانے کے ہم معنی کیوں نہ ہو۔
آج کل جس اسلامی گروہ کو دیکھئے سب کا یہی حال نظر آئے گا۔ ان کی مجلسوں میں اپنے "حضرت" کے چرچے مگر خدا کے چرچے نہیں۔ ان کی زبانوں پر محض اسلام کی داستانیں ہیں۔ مگر اس اسلام کی گونج نہیں، جو خدا کا خوف اور بندوں کی خیر خواہی پیدا کرتا ہے۔ ان کے یہاں سیاسی مسائل پر بحثیں ہیں۔ مگر قیامت میں قائم ہونے والی عظیم عدالت کے ذکر سے ان کی صحبتیں خالی ان حالات میں بڑی بڑی اسلامی تحریکوں کے وجود میں آنے کے باوجود اگر اسلام سر بلند نہ ہو رہا ہو تو تعجب کی کوئی بات نہیں، کیونکہ خدا کی نصرت خدا والے دین پر نازل ہوگی نہ کہ ہمارے اپنے بنائے ہوئے دین پر۔ دفتر کو الرسالہ کے حسب ذیل شمارے درکار ہیں :