جولائی ۱۹۴۴ء
Al-Risala, May 1978, pp. 17–19
By Maulana Wahiduddin Khan
جو لوگ فراہم کر سکتے ہوں براہ کرم مطلع فرمائیں
اس کا حسد اس کے لئے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بن گیا قرآن میں ایک کردار کو ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے :
" ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی نشانیاں دی تھیں۔ مگر وہ اس سے نکل بھاگا۔ پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا۔ یہاں تک کہ وہ گمراہ ہو کر رہ گیا۔ اگر ہم چاہتے تو اس کو ان نشانیوں کے ذریعہ بلند مرتبہ کر دیتے ۔ مگر وہ تو بالکل دنیا کی طرف جھک پڑا اور اپنی خواہش کی پیروی کرنے لگا۔ سو اس کی حالت کتے کی سی ہو گئی کہ اگر تم اس پر بوجھ لادو تب بھی ہانپے اور چھوڑ دو تب بھی ہانپے ۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جو ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں۔ تم یہ قصہ ان کو سناؤ ، شاید کہ وہ سوچیں ۔ یہاں ایک شخص کی مثال دے کر بتایا گیا ہے کہ آدمی جب حق سے انکار کرتا ہے تو اس کی نفسیات کیا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر فطری طور پر حق کی معرفت رکھ دی ہے۔ اس کے بعد مزید اہتمام یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے ایسے واقعات لائے جاتے ہیں اور ان پر ایسی حقیقتیں روشن کی جاتی ہیں کہ سچائی ان کے لئے ایک جانی پہچانی چیز مگر اس کے باوجود اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی محض مفادات اور مصالح کی بنا پر حق کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے، وہ حق کی پرستش کو صرف اس لئے چھوڑ دیتا ہے کہ اسے اندیشہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد وہ خود اپنی پرستش کرنے یا کرانے کے مواقع سے محروم ہو جائے گا۔
مفسرین کا ایک گروہ اس طرف گیا ہے کہ اس آیت میں جس شخص کی مثال دی گئی ہے، وہ عرب کا رئیس اور شاعر امیہ ابن ابی الصلت ثقفی ہے۔ اس نے اپنی تمام زندگی کاروبار میں گزاری۔ تجارتی سفروں کے سلسلے میں شام اور یمن وغیرہ کا سفر کرتا رہتا تھا۔ ان سفروں میں اس کی ملاقات عیسائی راہبوں اور پادریوں سے ہوئی۔ قدیم آسمانی کتابوں کے کچھ حصے سنے۔ چونکہ اس کی طبیعت میں دینداری تھی، بہت جلد متاثر ہو گیا۔ شراب چھوڑ دی۔ ٹاٹ پہننے لگا۔ بتوں پر اعتقاد نہ رہا۔ دین ابراہیمی کی بابت اس کا ایک شعر ہے :
کل دین یوم القیامۃ عند اللہ الا دین الحنیفۃ زور قیامت کے دن اللہ کے یہاں دین حنیفی کے سوا ہر دین باطل ہوگا ایک نظم کے چند اشعار یہ ہیں :
الحمد لله أمسانا ومصبحنا بالحمد صبحنا ربی د مسانا رب الحنيفۃ لم تنقد خزائنه مملوءة طبق الآفاق سلطان الأنبى لنا منا نخبرنا ما بعد غايتنا من رأس محيانا تعریف خدا کی ہے صبح و شام جو ہماری صبح و شام بنجیر کر رہا ہے۔ دین ابراہیمی کا رب ہے، اس کے خزانے بھرے ہوئے ہیں کبھی ختم نہیں ہوتے۔ سارے جہان پر اس کی فرماں روائی ہے۔ کیا ہمارا کوئی پیغمبر نہیں جو ہمیں بتائے
کہ ہماری زندگی کی ابتدا اور انتہا میں کتنا فاصلہ ہے۔
اس کے ان الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک مخلص شخص تھا، اور اس کو خداکے پیغمبر کی تلاش تھی مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک "مردِ کامل" کے لئے اپنے شوق کا اظہار کرتا ہے۔ حالاں کہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ لوگ خود اس کو مردِ کامل مان لیں اور اس کی پرستش شروع کر دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اس کے اپنے زمانہ میں ہوئی۔ مگر آپ پر ایمان لانے کے بجائے وہ آپ کے خلاف حسد کرنے لگا۔ اس نے کہا: " مجھے امید تھی کہ نبوت مجھے ملے گی ۔ اس کے بعد وہ لوگوں کو آپ کے خلاف اکسانے لگا۔ غزوہ بدر میں جو مخالفین اسلام قتل ہوئے تھے، ان کا مرثیہ لکھ کر لوگوں کو بھڑکاتا رہا۔ جب اپنی تخریبی کوششوں میں اسے کامیابی ہوتی نظر نہ آئی تو وہ اپنی بیٹی کو لے کر یمن کی آخری حدود کی طرف چلا گیا۔ وہاں سے پھر طائف آیا اور وہیں مر گیا ۔ میں اس کی زبان پر یہ اشعار تھے :