اعتدال سے ہٹنے کے بعد
Al-Risala, May 1978, pp. 20–23
By Maulana Wahiduddin Khan
نظام ایک معتزلی تھا۔ معتزلہ کے عقیدہ کے مطابق اس کا کہنا تھا کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہمیشہ جہنم میں جلے گا ۔ اور چونکہ شراب پینا گناہ کبیرہ میں سے ہے ۔ اس لئے شراب پینے والا ہمیشہ جہنم میں جلے گا۔ نے اپنے ایک قصیدہ میں اس کا جواب دیتے ہوئے کہا: فقل لمن يدعى فى العلم فلسفة حفظت شيئا وغابت عنك اشياء اس شخص سے کہہ دو جو فلسفہ کا دعوے دار ہے کہ تم نے ایک چیز یاد کر لی ہے اور بہت سی چیزیں تم سے اوجھل ہیں۔ اصل یہ ہے کہ معتزلہ نے جنت اور جہنم کے اثبات کے لئے اشیاء کے لازمی خواص سے استدلال کیا۔ تو لها جس طرح آگ کا نتیجہ گرمی ہے اور برف کا نتیجہ ٹھنڈک ، اسی طرح اعمال کے بھی لازمی نتائج ہوتے ہیں۔ یہ بات ایک حد تک صحیح تھی ۔ مگر وہ اس کو آخری حدود تک لے گئے ۔ یہاں تک کہ گناہ کبیرہ کا خاصہ ان کے نزدیک اتنا قطعی بن گیا کہ ارتكاب جرم کے بعد بھی وہ اس سے الگ نہیں ہو سکتا تھا۔
معتزلہ کی غلطی یہ تھی کہ وہ بھول گئے کہ یہاں اسباب وعلل کے درمیان خدا کی ذات بھی ہے ۔ کی شرمساری کو پسند کرتا ہے اور توبہ کو قبول فرماتا ہے ۔ حتی کہ وہ کسی بندہ کو اس طرح پاک کر دیتا ہے گویا اس سے گناہ ہی سرزد نہ ہوا ہو۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ، وہ اپنے بعض بندوں کے لئے ان کے گناہ کو بھی ثواب کے خانہ میں لکھ دیتا ہے : أُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتِ - ( (فرقان70-)
اصل کام خلود فی النار والوں کو خلود فی الجنۃ کے دائرہ میں لانا ہے میں ایک ناخواندہ قسم کا آدمی ہوں، ڈگری بھی اے کی ہے وہ بھی انگریزی کی نہیں اردو کی (جامعہ ملیہ دہلی کی ! ) عربی فارسی میں بھی مبتدی ہوں۔ واقعہ یعنی اس درجہ کا ہوں کہ تیس برس حجاز مقدس میں ہو گئے، نہ اچھی طرح عربی بول سکتا ہوں نہ لکھ سکتا ہوں، نہ غیر کی امداد کے سوا پوری طرح سمجھ سکتا ہوں۔ یہ تو ہوئی تعلیمی حالت، اخلاقی کمال کا یہ حال ہے کہ ایک ایسے گناہ کا مرتکب ہوں جو نہ بیان ہو سکتا ہے نہ اس کا کوئی مداوا ہے۔ اسلام نہیں پوری انسانیت کا مجرم ہوں، نہ مجنوں کی کوئی حقیقت ہے میرے سامنے، نہ حجاج بن یوسف کی ۔ لیکن یہ سب وہ باتیں ہیں کہ کسی کو میری بات پر کان نہیں دھرنا چاہئے، لیکن کہنے پر مجبور ہوں ہماری قوم ایک آوارہ قوم ہے اور اسی لئے ناکارہ ـــ آوارہ کیوں ہے ؟ اس لئے کہ اس کا کوئی مقصد نہیں !
۲ عارضی طور پر کوئی مقصد کسی خطہ ارضی یا قطعہ ملّی کا بن گیا ، بن گیا۔ ورنہ ملی طور پر انفرادی اغراض اور بے مقصدی ہمارا مقصد ہے۔
کیا واقعی ہم بے مقصد پیدا کئے گئے ہیں ، بے فائدہ، عبث ؟
نہیں مقصد ہے ، خوشنودی خدا اور رضائے الہی، والدخول فی الجنہ !
۵ - مگر ان چیزوں کا تعلق آخرت کے ساتھ ہے، دونوں غیر مرئی اور غیر محسوس ہیں۔
دنیا میں ظاہری مقصود : عبادت و اطاعت، مگر اُمم سابقہ کے لئے !
ہمارے لئے ساری اصطلاحی عبادات ذریعہ ہیں ، مقصود نہیں ، ہاں سب سے بڑی عبادت عبدیت کی دعوت، وہ ہمارا مقصود قرار دیا گیا - اُخرجت للناس (لللمسلمین نہیں)۔
اُخرجت للناس - یعنی - لِإخراج الناس مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ - مِنَ النَّارِ إِلَى الْجَنَّةِ - مِنَ الكُفْرِ إِلَى الْإِسْلَامِ ۹- یہ مرئی اور محسوس بھی ، اس کی چیکنگ ( CHECKING ) بھی ہو سکتی ہے ، محاسبہ بھی ہو سکتا ہے ۔
۱۰- یہ ہر شخص کا مقصد ہے ، مقصد حیات - عملاً ایسا فریضہ جیسے نماز ، ہر صغیر و کبیر پر واجب ۔ حال میں ہر جگہ ، مرد وزن ، صحیح و معذور سب برابر - اس میں وہ رخصت بھی نہیں جو نماز کے لئے عورت کو اور زکوٰۃ کے لئے غلام کو مل جاتی ہے ۔ ہاں ” وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ “ کی بنا پر ایک مستقل طائفہ بھی اس کے لئے مقرر یا منتخب ہو سکتا مگر اس طرح کہ ہر شخص مانی اور جانی طور پر اس کے ساتھ اس طرح مربوط و موثوق ہو کہ کسی حال میں اپنے آپ کو قلبی طور پر اس سے جُدا نہ پاسکے۔ یہی ہو کہ : « خُلُود فى النَّارِ» والوں کو: «خُلُود فِي الَجَنّة‘‘ “ کے دائرے میں لانا ہے - حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہی کام تھا، ساری عمر اسی کو انجام
ہم کو ایک ہزار سال دیئے گئے، سارا ملک مسلمان ہو سکتا تھا، نہیں اٹھے حکومت ضبط کر لی گئی، ذلیل و خوار ہوئے، لاکھوں نذرِ اجل ہوئے، پھر شراب خور کی نہیں، پیشاب خوری کی غلامی میں ڈال دئے ہزار سال میں سارا ملک مسلمان ہو سکتا تھا۔ اسپین میں چھ سو سال دیئے گئے، قوت، وسطوت اور علم و فن کے ساتھ، نہیں اٹھے سمندر میں ڈبو دئے گئے ساگر سارا انہیں تو آدھا یورپ تو مسلمان ہو سکتا تھا۔
خلافت عثمانیہ کو سات سو سال دیئے گئے، اسلام کہاں سے کہاں پہنچاپورپ نہیں امریکہ بھی مسلمان ہو سکتا تھا، سلطنت مٹ گئی، خود ہی برباد آج سارے عالم کی باگ ڈور کفر کے ہاتھ میں ہے، جیسا چاہتے ہیں نچاتے ہیں یہ سب ترک دعوت کا نتیجہ ہے۔
قادیانی اور کچھ نہیں، یہ تو صرف رتا گیا کہ دعوت دو تو آج بھی لاکھوں مسلمان ہو سکتے ہیں، اور غلط اسلام اس طرح پھیل سکتا ہے تو صحیح اسلام تو کس تیزی سے جائے گا، بلکہ اُن کے ہاں اس کا بھی جواب ہے کہ جب تک مسلمان خود کامل مسلمان نہیں بن جائیں گے، وہ دعوت کے ناقابل ہیں۔
تاریخ اسلام میں ہزاروں نہیں لاکھوں ہی عالم پیدا ہوئے خدا معلوم کیا قصہ ہے، ہر ایک نے اس کو شجر ممنوعہ ہی سمجھا، چاروں طرف سے گھر گئے تو مدافعت تو ضرور فرمائی، مگر ہجوم کو کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا۔
۱۷- غزالئ، رومئ، حسبِ اصلاحِ نفس اور اصلاحِ مسلمین میں لگے رہے۔ کسی نے اس ضرورت کو ضرورت، فریضہ کو فریضہ، مقصد کو مقصد نہیں گردانا۔ ۱۸- یہودیوں کا ایک مقصد ہے، دو ہزار برس بعد اس کو پا ہی لیا۔ ساری قوم لگی اور ہر دور میں لگی رہی، مسلمانوں کی بیخ کنی اور ہیکلِ سلیمان کی واپسی۔ ۱۹- عیسائیت کا ایک مقصد ہے۔ ہر دم، ہر لمحہ، ہر وقت اس میں مشغولی۔ مشن (مقصد) کیا چیز ہے، نام سے ظاہر ہے۔ ساری قوم کا مقصد، غلام اور بادشاہ دونوں کا مقصد (مشنری) مقصد زندگی ہر وقت نظر کے سامنے۔ اُن کی حکومت اور ان کا حاکم بھی اسی لئے ہوتا ہے۔ پوری قوم اسی میں لگی ہوئی ہے۔ ۲۰- عیسائی دنیا کی مصنوعات میں چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی کوئی چیز ایسی نہیں ہوتی جو صلیب سے خالی ہو۔ یہ ان کی سب سے ادنیٰ خدمت دین ہے، اس طرح وہ دنیا کے ہر گھر میں عیسائیت کا شعار پہنچاتے ہیں، بلکہ گھروں کو ان نشانوں سے بھر دیتے ہیں۔ ہمارے شاہوں اور گداؤں دونوں کے گھر ان نشانوں سے آباد ہیں، مَزَّین ہیں۔ شریفین کی جانمازوں اور قالینوں پر ہزاروں صلیبیں بنی ہوئی ہیں اور عمارتیں تو بنائی جاتی ہیں صلیب کی بنیاد پر !
۲۱- کیا یہ نفس کا دھوکا نہیں ہے کہ پہلے اپنے آپ کو بنالیں، پھر دوسروں کو دعوت دیں گے؟ برس ہوگئے آج تک تو بنے نہیں، دس ہزار برس مزید درکار ہیں۔ (قادیانیوں کی مثال بھی اِس دھوکے کا جواب ہے !
تحریکِ خلفت میرے بچپن اور لڑکپن کی چیز ہے، جلسوں میں نظمیں پڑھتے تھے، عورتوں کے مجمع میں جاکر چندہ جمع کرتے تھے۔ اس وقت تو کبھی خیال بھی نہیں آیا، اب سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے، ہم جھولیاں بھر بھر کر لاتے تھے اور کبھی ایک چھلا اس میں سے لینے کا خیال نہیں پیدا ہوا۔ عالی اخلاق کو خود بنا دیتا ہے۔ بلکہ کروڑوں انسان یکایک بن گئے تھے۔ بھی اس کا ایک مظہر تھی۔ قرآن کی تلاوت میں اور تہجد کی نماز میں ایک فیشن بن گئی تھیں۔
مقصد مشترک کے لئے جب متحد ہوئے ہیں (اور مقصد مشترک خود ہی متحد کر دیتا ہے! آپس کے اختلاف دب جاتے ہیں، کام مسلسل ہو تو فنا بھی ہوسکتے ہیں ۔ یہ ہم نے خلافت میں دیکھا ، یہی آپ متحدہ محاذ میں دیکھ رہے ہیں ۔ ہمارے ہاں سیکڑوں فرقے پیدا ا ہی اس لیے ہوئے کہ ملت کے سامنے کوئی مشترک مقصد نہیں تھا ۔ آج مقصد کی تڑپ پیدا ہو جائے ، ساری حماقتیں ختم ہو جائیں گی ۔
یہ ایک مکتوب ہے جس کو میثاق (لاہور)
بابت مارچ ۔ اپریل ۱۹۷۰ء سے یہاں نقل کیا گیا ہے ، مکتوب نگار کا نام و پتہ یہ ہے : عبد القيوم (عبد الملک)