Al-Risala · May 1978

پیرو مرشد

Al-Risala, May 1978, pp. 24–27

By Maulana Wahiduddin Khan

تولیہ خاں (چنگیز خاں کا پوتا) 655ھ میں چنگیز خاں کے تخت حکومت پر بیٹھا۔ یہ حکومت اس وقت چین سے لے کر یورپ تک پھیلی ہوئی تھی۔ سلطنت بہت ضعیف حالت میں تھی۔ اور یہودی مغلوں کے دربار میں رسوخ حاصل کر کے اسلام اور ممسلمانوں سے ان کو متنفر کرنے کی کوشش میں چنانچہ ایک مرتبہ ابا قا خاں ابن ہلاکو خاں نے خراسان سے تولیہ خاں کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ مجھ کو یہودیوں اور مجوسیوں نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کی کتاب قرآن میں لکھا ہے کہ مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو، آپ کا اس تعلیم کے متعلق کیا خیال ہے۔ اگر مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ ہم کو جہاں پائیں قتل کریں تو ایسی حالت میں مسلمانوں کی قوم کا دنیا میں باقی رہنا ہمارے لئے ایک مستقل اندیشہ کا باعث ہے۔ تولیہ خاں اسلام سے متاثر تھا چنانچہ اپنی حکومت میں اس نے ایک وزیر سلمان بھی رکھا تھا جس کا نام امیر احمد بناکتی تھا۔ ابا قا خاں کی اس عرضداشت کو پڑھ کر تولیہ خاں نے بعض مسلمان علماء کو بلایا اور پوچھا کہ کیا تمہارے قرآن میں ایسا حکم انھوں نے کہا " ہاں یہ حکم قرآن میں ہے " تولیہ خاں نے کہا کہ پھر تم ہم کو قتل کیوں نہیں کرتے۔ انھوں نے جواب دیا کہ اس وقت ہم قوت نہیں رکھتے۔ جب قوت پائیں گے، تم کو قتل کر دیں گے۔ نے کہا کہ اب چونکہ ہم قدرت رکھتے ہیں لہٰذا ہم کو چاہئے کہ ہم تمہیں قتل کریں۔ یہ کہہ کر اس نے ان علماء کو قتل کرا دیا اور حکم جاری کیا کہ مسلمانوں کو جہاں پاؤ قتل کرو۔ مولانا بدر الدین بیہقی اور مولانا حمید الدین سمرقندی کو ملی تو وہ قولیہ خاں کے دربار میں گئے اور کہا کہ آپ نے مسلمانوں کے قتل عام کا حکم کیوں جاری کیا۔ قولیہ خاں نے کہا یہ بتاؤ اقتلو المشرکین" کا حکم جو تمہارے قرآن میں ہے، اس کا کیا مطلب ہے۔ دونوں عالموں نے کہا کہ عرب کے بت پرست جو مسلمانوں کے قتل پر ہر وقت آمادہ ان کی نسبت خدا نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ اپنی حفاظت کے لئے ان کو قتل کرو۔ یہ حکم تمہارے لئے نہیں ہے کیونکہ تم تو خدا کی وحدانیت کے قائل ہو اور اپنے فرمان کے اوپر خدا کا نام ہمیشہ لکھتے ہو۔ سن کر قولیہ خاں بہت خوش ہوا اور اسی وقت حکم صادر کیا کہ میرا پہلا حکم جو مسلمانوں کے قتل کی نسبت جاری ہوا اس کو منسوخ سمجھا جائے (۸۰ - ۳۷۹)

سطحی علم اور گہرے علم کا فرق اس واقعہ سے حقیقت یہ ہے کہ جس شخص کے پاس گہرا علم نہ ہو، اس کو چاہئے کہ چپ رہے نہ کہ بے معنی باتیں بول کر غیر ضروری مسائل پیدا کرے۔

پیغمبر عربی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بعثت اس لئے ہوئی تھی کہ وہ انسان کو نظری اور عملی ہر اعتبار سے ، وہ راستہ بتا دیں جس پر چل کر انسان، خواہ وہ فرد ہو یا جماعت، نصرت الہی کا استحقاق حاصل کرے اور اپنی دنیا و آخرت کو کامیاب بنائے۔ اسی معنی میں کہا گیا ہے : خیْرُالْہَدْیِ ہَدْیُ مُحَمَّدِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ ہے

وہ بادشاہ ہو کر بھی اعتراف کرنا جانتے تھے معاویہ بن ابی سفیان (۳۸ - ۶۰ھ) نے اپنی خلافت کے زمانہ میں جمعہ کا خطبہ دیا اور کہا: ایہا الناس ان المال مالنا والفیء فیناس من شئنا اعطینا ومن شئنا منعنا اے لوگو، ساری دولت ہماری دولت ہے اور سارا مال غنیمت ہمارا مال ہے۔ ہم جس کو چاہیں دیں اور جس کو چاہیں نہ دیں ۔ کسی نے اس کا کوئی جواب نہ دیا ۔ جمعہ آیا تو انھوں نے پھر یہی بات دہرائی۔ مگر کوئی نہ بولا۔ پھر جب تیسرا جمعہ آیا تو معاویہ نے پھر یہی بات کہی۔ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا:

کلا، انھا المال مالنا والفیء فیناس، من حال بیننا و بینه، حکمناہ الی الله باسیافنا مال ہمارا ہے۔ مال غنیمت بھی ہمارا ہے۔ ہمارے اور اس کے درمیان حائل ہوگا، ہم اپنی تلوار کے ذریعہ اس کا فیصلہ اللہ کے پاس لے جائیں گے۔ یہ سن کر معاویہ منبر سے اتر آئے۔ اس شخص کو بلوایا۔ جب اسے معاویہ کے پاس داخل کیا گیا تو لوگ کہنے لگے کہ یہ شخص مارا گیا۔ لیکن معاویہ نے دروازے لوگ اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ شخص معاویہ کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ معاویہ نے کہا: اللہ اس شخص کو زندہ رکھے ، اس نے مجھے زندہ کر دیا (ان ھذن احیانی احیاء الله) میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ " میرے بعد کچھ اسرار ایسے آئیں گے جو باتیں کہیں گے مگر ان کا جواب نہیں دیا جائے گا، ایسے لوگ آگ میں بندر وں کی طرح داخل ہوں گے۔ میں نے ایک بات کہی تھی، کسی نے اس کی تردید نہ کی تو مجھے ڈر ہوا کہ میں ان اسرار میں داخل نہ ہو جاؤں۔ میں نے دوبارہ وہی بات پھر بھی کسی نے جواب نہ دیا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں انھیں لوگوں میں سے ہوں۔ پھر میں نے تیسرے جمعہ میں وہی بات کہی تو یہ شخص کھڑا ہو گیا اور اس نے میری تردید کی۔ اللہ اسے زندہ رکھے۔ مجھے زندہ کر دیا۔ اب مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے ایسے اسرار کے زمرہ سے نکال دے گا۔ پھر معاویہ نے اس شخص کو انعام دیا۔

الذہبی: تاریخ الاسلام، جلد ۲، صفحہ ۳۲۱ بعض اوقات آدمی کا کام اتنا بلند ہو جاتا ہے کہ اعتقادی اختلافات اس کو قبول کرنے میں حارج نہیں مثال کے طور پر زمخشری (۳۸۰ - ۵۳۸ ھ) معتزلی تھا اور ابن منظور (۱۱۷ - ۶۳۰ ھ)

مگر ان کی یہ حیثیت تفسیر کشاف اور لسان العرب کو عام اہل سنت کے درمیان مقبول بنانے میں حارج نہ ہو سکی کیونکہ انھوں نے ایسی کتابیں تیار کیں جن کے مثل اس موضوع پر دوسری کوئی کتاب نہیں۔

BOOKS ON DISPLAY AT THE THIRD WORLD BOOK FAIR, NEW DELHI (Feb 1978). THE GREEN BOOK (AL-KITAB-UL-AKHTAR) CAN BE SEEN IN THE SECON ملی جل کی (نئی دہلی ۱۹۷۸)

رہی ہے ۔

کتابوں ءکی بین الاقوامی نمائش ہندوستان میں پہلی بار ۱۹۷۲ میں نئی دہلی میں ہوئی۔ دوسری بار ۱۹۷۶ میں۔ اب اس قسم کی تیسری نمائش ہمیشہ سے زیادہ بڑے پیمانہ پر جون ۱۹۷۸ میں نئی دہلی میں ہوئی ہے۔ نئی دہلی اب بین الاقوامی کتابی نمائش کے شہروں کے کلب کا ممبر ہو چکا ان شہروں میں فرینک فرٹ ، لیپزگ ، وارسا ، بلگرینڈ ، قاہرہ ، مانٹریال ، سنگاپور ، ٹوکیو ، ماسکو وغیرہ

نئی دہلی کی تیسری بین الاقوامی کتابی نمائش میں ملکی اور غیر ملکی شرکا کی تعداد توقع سے زیادہ ہوگئی چنانچہ پرگتی میدان میں ۱۴۰۰۰ مربع میٹر جگہ اس کے لئے مخصوص کرنی پڑی جو پچھلی دونوں نمائشوں کے مقابلہ میں بہت امریکہ، انگلستان ، روس، مغربی جرمنی ، مشرقی جرمنی، ہالینڈ، ازیکو سلاوکیہ، بلگرینڈ ، ہنگری ، رومانیہ، سوئسرلینڈ، یوگوسلاویا ، کینیا، زیمبیا، گھانا، سنیگال، عراق، مصر، کویت، بنگلہ دیش، پاکستان، سنگاپور، جاپان، کتابوں کی عالمی نمائش انڈونیشیا، نیوزی لینڈ وغیرہ ۳۵ غیر ملکوں کے200 ناشرین نے اس موقع پر شرکت کی اور اس نمائش میں اپنا ہندوستان کے جن ناشرین نے اس میں شرکت کی، ان کی تعداد تقریباً ۳۰۰ ہے۔ ان کے علاوہ اقوام متحدہ اور متعدد دوسرے ملکوں نے اپنے اطلاعاتی دفاتر اس موقع پر قائم کئے ۔

پرائیویٹ اداروں کے علاوہ ہندوستان کے مختلف مرکزی اور ریاستی اداروں نے نمائش میں اپنے اپنے اسٹال کھولے، تاہم تین بڑی عمارتوں اور ان کے درمیانی پارک میں پھیلی ہوئی اس وسیع نمائش میں سب سے زیادہ غلبہ انگریزی کتابوں کا رہا۔ دوسرے نمبر پر ہندی اور اس کے بعد اردو اور دوسری علاقائی زبانوں کی کتابیں نیز غیر ملکی زبانوں کی کتابیں مثلاً روسی، جرمن ، جاپانی ، عربی ، فارسی وغیرہ ۔

اس موقع پر کتابوں کی نمائش کے علاوہ دوسری معاون تقریبات کا پروگرام بھی رکھا گیا۔ مثلاً کتابوں کی اشاعت کے مختلف پہلوؤں پر سمینار، ایک چار روزہ بین اقوام سیمینار بھی ہوا جس میں دنیا کے مختلف حصوں کے ماہرین نے تعلیمی مطبوعات کے بارے میں بحث و مباحثہ کیا۔ اسی طرح نمائش کے دوران متعدد دوسرے پروگرام ہوتے مثلاً فیڈریشن آف انڈین پبلشرس کی طرف سے ریفرشتر کورس، فیڈریشن آف پبلشرس اینڈ بک سیلرس ایسوسی ایشن کی طرف سے بین الاقوامی کتابی صنعت پر لکچر اور ٹریننگ کورس اور مصنفین کا کنونشن وغیرہ

Printed page