آبيتی
Al-Risala, May 1978, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
جون ۱۹۷۰ کا واقعہ ہے۔ میں نینی تال کے ایک اسکول میں فزکس کا استاد تھا۔ ایک لڑکا میرے پاس ٹیوشن کے طور پر پڑھنے آتا تھا۔ اس کا نام وزیر سنگھ عمر تقریباً سترہ سال تھی ۔ ایک روز وہ کسی قدر دیر حال یہ تھا کہ قمیص پھٹی ہوئی ، ہونٹوں سے خون جاری ، بال بکھرے ہوئے ۔ اس کا یہ حلیہ دیکھ کر میں نے خیریت دریافت کی ۔
اس نے بتایا کہ وہ آرہا تھا کہ راستہ میں ایک مقام پر ایک رکشہ والے سے اس کا ٹکراؤ ہو گیا۔ اس کے بعد لڑکے میں اور رکشے والے میں تو تو میں میں ہوئی اور رکشے والا سر دار تھا اور اپنے روایتی حلیہ میں تھا۔ تربط کا بے داڑھی مونچھ اور بغیر پگڑی تھا۔ بظاہر معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ سردار ہے۔ لڑائی میں رکشے والے نے لڑکے کو پھینک دیا۔ اور مارنے لگا۔ اتنے میں لڑکے نے پنجابی زبان میں رکشے والے کو برا بھلا کہا۔ یہ سن کر رکشے والا ٹھٹھک گیا۔
"تم کون ہو، تمھارا نام کیا ہے"
"کیا تم سردار ہو،"
اس کے بعد رکشے والا فوراً اٹھ گیا۔ پہلے کیوں نہیں سردار سردار کو نہیں مارتا “ اس نے کہا اور دونوں گرد جھاڑتے ہوئے اپنے اپنے راستہ پر چلے گئے۔ سید حیدر علی ایم، ایس، سی (پیدائش ۴م ۱۹) دہلی