Al-Risala · May 1978

اپنے لاشعور کو پڑھیے

Al-Risala, May 1978, pp. 29–31

By Maulana Wahiduddin Khan

محمد جاوید اقبال بی۔ اے (پیدائش ۱۹۳۸) نگینہ ضلع بجنور کے رہنے والے ہیں۔ آج کل دہلی میں ایمر جنسی کے دوران گرفتار ہوئے۔ ان کو سنٹرل جیل (ناسک روڈ) میں رکھا گیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ جیل میں ان کے ساتھیوں میں سے ایک عبد الستار صاحب (پربھنی) تھے ۔ کی ایک مجلس میں انھوں نے یہ واقعہ بتایا۔ میری بھابی عرصہ سے بیمار رہتی تھیں۔ کو پیٹ کے عارضے تھے۔ بہت کمزور ہو گئی تھیں۔ مختلف حکیموں اور ڈاکٹروں کا علاج ہوتا رہا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بالآخر میں نے تجویز کیا کہ موصوفہ کو کسی نفسیاتی ڈاکٹر کو دکھایا جائے۔ کو حیدر آباد لے گئے اور وہاں ایک مشہور نفسیاتی ڈاکٹر کو دکھایا۔ ان کی فیس ۵۰۰ روپیہ تھی۔ ڈاکٹر نے مریضہ کو دیکھا۔ مختلف قسم کے سوالات کئے ۔ مگر مرض کی جڑ معلوم نہ ہو سکی۔ کے بعد ڈاکٹر نے ایک انجکشن دیا۔ یہ بے ہوشی کا مگر وہ آدمی کو پوری طرح بے ہوش بلکہ نیم بے ہوشی کی حالت میں پہنچا

نیم بے ہوشی کی کیفیت طاری کرنے کا مقصد یہ تھا کہ مریضہ کا شعور دب جائے اور لا شعور ابھر اب ڈاکٹر کے لیے ان کے لا شعور سے ربط قائم کرنا ممکن ہو گیا۔ ڈاکٹر نے موصوفہ سے سوال و جواب نیم بے ہوشی کی وجہ سے مریضہ اب بھی سنتی تھی اور سوال کا جواب دیتی تھی۔ مگر یہ جواب اس کے لا شعور سے آتا تھا نہ کہ شعور سے۔ ڈاکٹر سوال و جواب کے ذریعہ موصوفہ کے لا شعور کو کریدتا رہا۔ بالآخر معلوم ہوا کہ اصل بات یہ ہے کہ موصوفہ کے بچے جب چھوٹے تھے تو ان کو اندیشہ لاحق ہو گیا کہ اگر میں مر گئی تو میرے بچوں کا کیا ہوگا ۔ وہ برباد ہو جائیں گے۔ یہ اندیشہ عرصہ تک موصوفہ کو پریشان کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ ان کے لا شعور کا جزو بن گیا۔ لڑکے بڑے ہو گئے۔ ان میں سے کوئی لڑکا کام بھی کرنے لگا۔ اب بظاہر اندیشہ کی کوئی وجہ باقی نہیں تھی۔ حتی کہ خود مریضہ نے بھی اس انداز سے سوچنا چھوڑ دیا۔ شعوری طور پر اب یہ سوال ان کے ذہن میں نہیں تھا کہ میں مر جاؤں گی تو میرے بچوں کا کیا ہوگا" مریضہ اب اپنے خیال میں بچوں کے مستقبل کی طرف سے مطمئن تھی۔ مگر امن کی بیماری بدستور

ڈاکٹر نے موصوفہ کے لا شعور سے ربط قائم کرنے کے بعد اندازہ کیا کہ بچوں کے مستقبل کا اندیشہ اگرچہ اب ان کے شعوری ذہن میں موجود نہیں ہے، مگر وہ ان کے لاشعور کا جزو بن کر اب بھی پوری طرح باقی ہے اور وہی دراصل ان کی بیماری کا سبب ہے۔ اس تشخیص کے بعد علاج آسان تھا۔ کی حالت میں ڈاکٹر نے موصوفہ سے جو گفتگو کی، اس میں اس نے ان کے لاشعور میں یہ خیال ڈالا کہ وہ بالکل تندرست ہیں اور وہ مرنے والی نہیں ہیں۔ کے بچوں کے لئے کسی قسم کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ ہوش میں آنے کے چند دن بعد موصوفہ کی حالت میں

نماياں فرق تھا۔ چند مہینوں کے وقفہ سے عمل تین بار کیا گیا۔ ہر بار موصوفہ کو نیم بے ہوش کر کے ڈاکٹر ان کے لاشعور میں یہ خیالات ڈالتا کہ وہ بالکل تندرست ہیں اور ہرگز مرنے والی نہیں ہیں۔ ان کے بچوں کے لئے کسی قسم کے اندیشہ کا کوئی سوال نہیں ہے ۔ تیسری بار مریضہ بالکل اچھی ہو چکی تھیں۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لاشعور کس طرح آدمی کے اوپر اثر انداز ہوتا رہتا ہے جدید نفسیات نے ثابت کیا ہے کہ آدمی کا بیشتر عمل اس کے لاشعور کے زیر اثر واقع ہوتا ہے۔ محبت اور نفرت، ہمارا اتفاق اور اختلاف، ہماری تعریف اور تنقید، ہماری رائیں اور فیصلے، زیادہ تر لاشعور سے صادر ہوتے ہیں، ان میں بہت کم حصہ ہمارے شعور کا ہوتا ہے۔ کوئی شخص جب ایک چیز کو قبول اور دوسری چیز کو رد کر دیتا ہے تو بظاہر اس لئے کرتا ہے کہ ایک چیز اس کو ٹھیک معلوم ہوئی اور دوسری غلط نظر آئی۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ یہ بڑی حد تک اس کے لاشعور کا کرشمہ ہوتا ہے۔ سے وہ جس قسم کے افکار و خیالات کو اپنے ذہن میں جگہ دے رہا تھا، وہ سب اس کے لاشعور میں جمع ہو رہے تھے، یہاں تک کہ انھوں نے اس کے لاشعور کو ایک خاص نہج پر ڈال دیا۔ اب جو چیز اس کے سامنے آتی ہے وہ خالص ذاتی وصف کی بنیاد پر اس کا جائزہ نہیں لے پاتا۔ اس کے لاشعور میں جو مزاج بنا ہوا ہے وہ اندر اندر اپنا کام کر کے آدمی کی رائے قائم کرنے کی قوت کو ایک سمت میں موڑ دیتا ہے۔

اس کا تجربہ نہایت آسانی سے اس طرح کیا جاسکتا ہے کہ کسی شخص کے سامنے دو ایسے آدمیوں کا معاملہ پیش کیا جائے جن میں سے ایک ان کا پسندیدہ شخص ہو اور دوسرے کو وہ ناپسند کرتا ہو۔ ایک درجہ کی غلطی کو دونوں کی طرف منسوب کیا جائے۔ اپنے مبغوض شخص کی غلطی فوراً اس کی سمجھ میں آجائے گی۔ وہ اس پر شدید ردِ عمل کا اظہار کرے گا۔ اس کے برعکس اپنی پسندیدہ شخصیت کے بارے میں وہ ٹھیک اسی درجہ کی غلطی کی تاویل کرے گا۔ اس کا غلطی ہونا اس کو نظر ہی نہ آئے گا۔ ایسا کرتے ہوئے وہ آدمی پوری طرح ایسا نہیں ہو گا کہ وہ جان بوجھ کر دو متضاد رویے اختیار کر رہا ہو۔ اسے مطلق خبر نہیں ہوگی کہ وہ ایک ہی معاملہ میں دو متضاد رویے اختیار کر رہا کیونکہ وہ لاشعور کے تحت بول رہا ہوگا نہ کہ شعور

مگر اس ’’انجان غلطی کے لئے انسان کو معاف نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ آدمی کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے لاشعور کی رکھوالی کرے۔ وہ لاشعور کو غلط بننے سے روکے۔ تاہم لاشعور میں غلط باتوں کے داخلہ کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا۔ اس لئے آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ خود فکری کی صلاحیت پیدا کرے۔ خود اپنے خلاف سوچے_ حتی کہ اپنے لاشعور کو دیکھنے لگے۔ جب اس کا لاشعور کسی سے غلط قسم کی محبت اور کسی سے غلط قسم کی نفرت کا جذبہ ابھارے تو وہ جان لے کہ یہ داعیات کہاں سے آرہے ہیں۔

ہر وہ شخص جو یہ چاہتا ہو کہ آخرت میں اس کو رسوا نہ ہونا پڑے، اس کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے لاشعور سے باخبر ہونے کی کوشش کرے_

فرد کا جھکنا قوم کا سر بلند ہونا ہے لارڈ سالسبری (۱۹۰۳ء۔ وکٹوریہ کے زمانہ حکومت میں برطانیہ کے وزیر اعظم تھے۔ اس زمانہ میں کار کا رواج نہ تھا۔ وزیر اعظم سالسبری اپنی سائیکل پر سوار ہو کر جا رہے تھے۔ ایک مقام پر وہ سڑک کے غلط رخ سے گزرنے لگے۔ سٹرک پر متعین کانسٹیبل نے انھیں روکا۔ وزیر اعظم نے کانسٹیبل کو بتایا کہ میں وزیر اعظم ہوں اور چوں کہ مجھے عجلت تھی اس لئے مجھ سے ٹریفک کے ضابطہ کی خلاف ورزی کانسٹیبل نے جواب دیا کہ میں اپنی ڈیوٹی کو بجا لانے والا کانسٹیبل ہوں۔ میرا فرض صرف یہ ہے کہ کہ ٹریفک کی خلاف ورزی نہ ہونے دوں۔ چوں کہ آپ ایک سفید ریش بزرگ ہیں اس لئے میں صرف اتنی رعایت کر سکتا ہوں کہ آپ کا چالان نہ کروں۔ اتنا آپ کو بہر حال کرناپڑے گا۔ کہ آپ واپس جائیں اور جوہاں سے سٹرک شروع ہوتی ہے وہاں سے سیدھی سمت میں آئیں ۔ وزیر اعظم نے بے چون و چرا ٹریفک کانسٹیبل کا حکم مان لیا۔ نیز اس واقعہ کا ذکر ملکہ وکٹوریہ کے پرائیویٹ سکریٹری سے خود کر کے اس فرض شناس کانسٹیبل کو خراج تحسین پیش کیا۔ برطانیہ کے دوسرے وزیر اعظم مسٹر بالڈون ۱۸۶۷) کا واقعہ ہے۔ وہ اپنی کار میں سفر کر رہے تھے۔ ایک چوراہہ پر کار کی ٹریفک کی قطار میں ان کی گاڑی پیچھے تھی۔ راستہ کھلا تو ڈرائیور نے قبل اس کے کہ آگے کی موٹریں گزریں، وزیر اعظم کی موٹر آگے نکال لینے کی کوشش کی۔ نے فی الفور روکا۔ ڈرائیور نے کہا کہ وزیر اعظم صاحب کو سرکاری کام کی وجہ سے جلدی ہے۔ کہا، مجھے اس سے کوئی بحث نہیں کہ موٹر نشین کون ہے۔ قانون کی رو سے ٹریفک کی پابندی عام شہری اور وزیر اعظم دونوں پر لازم ہے۔ یہ سن کر وزیر اعظم نے موٹر سے اتر کر کانسٹیل سے معافی مانگی اور ڈرائیور کو ہدایت کی کہ وہ کانسٹیل کے حکم کی تعمیل کرے ۔ (نیشنل ہیرلڈ جنوری ۱۹۷۸ء)

لیڈر اپنے کو اصول کے آگے جھکالے تو ساری قوم اصول کے آگے جھکنے والی بن جاتی ہے اور یہی کسی قوم کی طاقت کا سب سے بڑا راز ہے سیاست کا راز ابو فراس حمدانی عباسی دور کا شاعر ہے۔ اپنے ایک قصیدہ میں کہتا ہے:

اذا ما ارسل الامراء جیشا الى الاعداء ارسلنا الکتابا یعنی ہماری دھاک کا یہ عالم ہے کہ جہاں دوسرے امراء کو مقابلہ کرنے کے لئے لشکر بھیجنا پڑتا ہے، ہاں ہم صرف خط بھیج دیتے ہیں اور وہی فیصلہ کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔

یہاں ایک شعر میں شاعر نے سیاست کا راز بتا دیا ہے، سیاست یہ نہیں ہے کہ حریف سے لڑائی بھڑائی جاری رکھی جائے۔ سیاست یہ ہے کہ اپنے آپ کو اتنا طاقت ور اور مستحکم بنایا جائے کہ جب ضرورت پڑے تو صرف ایک "تحریر" بھیج دینا معاملہ کو ختم کرنے کے لئے کافی ہو۔

Printed page