Al-Risala · May 1978

ھل غادر الشعراء من متردم

Al-Risala, May 1978, pp. 34–35

By Maulana Wahiduddin Khan

کیا پچھلے شعرا نے کوئی پیوند لگانے کی جگہ باقی چھوڑی ہے جس کو ہم پورا کریں۔

دینی اور اخلاقی لحاظ سے یہ بات اور زیادہ صحیح ہے حقیقت یہ ہے کہ کہنے والے ساری بات کہہ چکے ہیں۔ پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ سننے والوں کا قافلہ سننے سے پہلے جس راستہ پر چل رہا تھا، اسی راہ پر سننے کے بعد بھی چلا جا رہا ہے۔ تو یا اصل مسئلہ کہنے کا نہیں ہے۔ اصل مسئلہ کہنے کو پکڑنے کا ہے، اور یہی وہ چیز ہے جس کے لئے کوئی تیار نہیں۔

میوات میں تین سو سال پہلے ایک صوفی شاعر ان کے اشعار اکثر میواتیوں کو یاد ہیں۔ ان کا ایک شعر ہے :

پے پیارے گے دیس کی بڑی کٹھن ہے بیل کوئی کوئی جائیگو بھیک بی سلجھا سلجھا بیل میں سمجھتا ہوں کہ آدمی اگر پھسلے تو یہی ایک شعر اس کی اصلاح کے لئے کافی ہے۔ بھیک بی کہہ رہے ہیں کہ آخرت کا راستہ بڑا کٹھن ہے۔ یہ جھاڑیوں سے بھرا وہی شخص منزل پر پہنچے گا جو جھاڑیوں سے بچ بچ کر چلے جو اس قسم کا اہتمام نہیں کرے گا وہ راستے میں الجھ کر رہ جائے گا۔

یہ لوگ کس حد تک اس پر عمل کر رہے ہیں، اس کے لئے میں میں کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ مارچ ۱۹۷۷) صبح دس بجے ہم گاؤں کے باہر تھے۔ وہاں سرکار کی طرف سے بند بنایا جا رہا ہے۔ مرد، عورتیں مٹی ڈھونے میں لگے ہوئے ہیں۔ جومٹی کا ٹوکرا اٹھائے ہوئے تھی، ایک مرد نے اس سے کہا کہ " یہاں مٹی ڈال "۔ اس پر عورت بگڑ گئی۔ کون ہوتا ہے بتانے والا" اس نے کہا۔ پہلے لفظی تکرار اس کے بعد دونوں طرف سے لاتیاں آئیں۔ کچھ لوگ مرد کی طرف سے اور کچھ عورت کی طرف سے جمع ہوگئے اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن کر ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے ۔

یہ سارے کے سارے مسلمان تھے، وہ خوب جانتے تھے کہ ایک مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان کی جان ، مال ، آبرو حرام ہے۔ مگر جب ایک "جھاڑی" آگئی تو اس سے بچ کر نکلنے کے لئے وہ تیار نہ ہوئے ۔ وہ جھاڑی سے الجھ گئے ۔ وہ بھول گئے کہ اس طرح وہ اپنی آخرت کی منزل کو کھونا کر رہے ہیں ۔

آپ لوگ داڑھی بھی رکھتے ہیں۔ نماز اور تسبیح بھی پڑھتے ہیں۔ مگر جہاں کوئی جھاڑی آئی، اس میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ اس کی وجہ دراصل یہ ہے خدا کا فکر دلوں میں پیدا نہیں ہوا۔ ہم نے آخرت کو اپنی منزل نہیں بنایا۔ ہاتھ میں تسبیح کیوں نہ ہو۔ سارے لوگ دنیا کی منزل کی طرف چلے جا رہے ہیں۔ صرف یہ ہے کہ کوئی "بے داڑھی" ہو کر اس طرف بھاگ رہا ہے، کوئی داڑھی اور تسبیح لئے ہوئے اس مقدس سفر میں مشغول ہے۔

مومن کا ہر مسئلہ آخرت کا مسئلہ ہے۔ ہماری زندگی میں جب کوئی صورت پیش آتی ہے تو ہم فوراً اس کو دنیا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ کی شادی کو لیجئے ۔ ایک میوز کے گھر میں شادی کا معاملہ ہو تو خواہ کتنا ہی قرآن و حدیث سنایا جائے، وہ اسی طرح شادی کرے گا جس طرح عام دنیا پرست کو مٹا ڈالیں، اس کی معاشیات کو تباہ کر دیں، اس کی عزت کو خاک میں ملا دیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ آدمی بھول جاتا ہے کہ اس کے اور اس کے فرق کے درمیان خدا کھڑا ہوا ہے جو سارے طاقت وروں سے زیادہ طاقت ور ہے۔ اگر معاملہ کا یہ پہلو ذہن میں ہو تو اپنے کسی بھائی کو ذلیل کرنے کا خیال مضحکہ خیز حد تک بے معنی معلوم ہو۔ کیوں کہ عزت اس کے لیے ہے جس کو خدا عزت دے اور ذلیل وہ ہے جو خدا کی نظر میں ذلیل قرار پائے۔

ہر کسان جانتا ہے کہ ٹوٹنے ٹوٹنے سے کوئی کھیت اپنی فصل نہیں اگاتا۔ مگر خدا کی جنت، جو تمام قیمتی چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے، اس کے متعلق فرض کر لیا گیا ہے کہ وہ کچھ الفاظ زبان سے دہرا کر یا کچھ رسمی اعمال ادا کر کے مل جائے گی۔ یہ عظیم الشان بھول ہے کہ خدا کی پوری کتاب نظر انداز کر دی جائے اور کر تا ہے۔ خواہ اس کی قیمت سودی قرض اور کھیت کا رہن ہی کیوں نہ ہو۔

کوئی شخص آپ کو سخت بات کہہ دے۔ سے آپ کو تکلیف پہنچ جائے تو آپ چاہتے ہیں کہ اس خدا کی ساری کائنات خاموشی کی زبان میں اس کا انکار کررہی ہے۔

مومن وہ ہے جو ہر مسئلہ کو آخرت کا مسئلہ سمجھے، جو آخرت کی عزت و ذلت کو اہمیت دے نہ کہ دنیا کی عزت و ذلت کو۔

Printed page