Al-Risala · May 1978

MODERNISERS IN RETREAT

Al-Risala, May 1978, pp. 36–37

By Maulana Wahiduddin Khan

Orthodoxy Sweeping Muslim World موقع پرستی اور سطحیّت کی زمین پر دینِ حق کا محل کھڑا نں ہو سکتا پیرس سے فرانسیسی زبان کا ایک میگزین شائع ہوتا ہے جس کا نام ہے LE NOUVEL OBSERVATEUR ستمبر ۷۷ء کے پہلے ہفتہ کی اشاعت میں اس میں مصر کے کچھ ادیبوں کا ایک مشترکہ مضمون چھپا ہے جس میں اس بات پر اظہار خیال کیا گیا ہے کہ حال ہی میں کس طرح اکثر مسلم ملکوں میں "روایت پرست مذہبی طبقہ" اچانک ابھر آیا ہے۔ قریب میں جن لوگوں نے مسلم ملکوں کے سفر کئے ہیں یا جو مختلف مسلم ملکوں میں چھپنے والی تازہ کتابوں اور اخبارات و رسائل سے باخبر ہیں، وہ آج کل کثرت سے اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ٹائمْس آف انڈیا کے شرقِ اوسط کے نمائندہ دلیپ پیڈ گاؤنکر نے اس سلسلہ میں ایک مفصل جائزہ شائع کیا ہے۔ (ٹائمْس آف انڈیا، ۱۰ستمبر، ۷۷) دو سو برس پہلے جب مغربی طاقتیں مسلم دنیا پر چھا گئیں تو تمام مسلم ملکوں میں اسلام کے احیاء کی تحریکیں اٹھ کھڑی ہوئیں جو موجودہ صدی کے وسط تک اب دوبارہ، اگر چہ نسبتاً کم تر شدت کے ساتھ، تمام مسلم ملکوں میں اسلام کے نام پر سرگرمیاں ابھر آئی ہیں۔ پچھلی تحریکیں باہر کی نو آبادیاتی طاقتوں کے جواب میں اٹھی تھیں، موجودہ تحریکوں کا نشانہ خود اپنے ملکوں کا سیکولر اور جدت پسند طبقہ ہے۔ لحاظ سے موجودہ تحریکوں کا حریف ان کے پیش روڈل کے مقابلہ میں بہت کمزور ہے۔ تاہم تقریباً یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح نو آبادیاتی تسلط کے خلاف اٹھنے والی تحریکیں اپنے اصل مقصد (غلبہ اسلام) میں مکمل طور پر ناکام رہیں، موجودہ تحریکیں بھی اپنے اصل مقصد (احیائے اسلام) میں قطعاً ناکام ثابت ہونگی۔ وقتی ہنگاموں اور نمائشی فتوحات کے سوا خدا کے دین کو ان سے کچھ ملنے والا نہیں ہے۔

وجہ بالکل سادہ ہے۔ یہ تحریکیں حقیقۃً کسی الہیاتی جذبہ کے تحت نہیں اٹھی ہیں۔ یہ محض پٹرول کی دولت ہے جس نے اچانک انھیں زندگی دے دی ہے۔ روایتی ذہن اور روایتی علم رکھنے والے لوگ پچھلے سو سال سے اپنے ملکوں میں دبے ہوئے تھے۔ کے تمام اہم شعبوں پر مغربی تعلیم یافتہ اور جدت پسند لوگ قابض تھے۔ روایتی طبقہ نہ تو ان لوگوں کے زیر اثر قائم شدہ حکومتی شعبوں کو سنبھالنے کی اہلیت رکھتا تھا نہ ان کے انتظام کے تحت ہونے والے اجتماعات اور کانفرنسوں میں خطابت کا کمال دکھانے کی قوت اپنے اندر پاتا تھا۔

روایت پرست طبقہ مسلسل اس کوشش میں لگا ہوا تھا کہ ان کو زیر کر سکے اور تمام شعبوں کو ایسی سطح پر لائے جہاں اس کے لئے اپنی صلاحیتوں کے مطابق غالب کردار ادا کرنا ممکن ہو سکے۔ یہاں پٹرول کی دولت

کے مالکوں نے ان کی مدد کی کیونکہ دونوں کا مفاد کم از کم جزوی طور پر ایک ہو گیا تھا۔

پٹرول کی دولت جن ملکوں میں ظاہر ہوئی ہے، ان میں سے اکثر ملکوں میں شیوخ اور ملوک حکمران ہیں۔ جدت پسند مسلمان، جن کا ذہن جمہوریت اور سوشلزم کے تصورات سے بنا ہے، وہ ان کو قبول نہیں کر رہے تھے۔ ان حکمرانوں کو مسلسل ان کی طرف سے جوابی انقلاب کا خطرہ لگا رہتا تھا، مصر، عراق، شام، لیبیا میں یہ گروہ ملوکیت کے ادارہ کو ختم کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ دوسرے ملکوں میں ان کی سرگرمیاں جاری ہیں، ایران کے بادشاہ کو مصدق نے معزول کرنے کی ناکام کوشش جہاں عبد الناصر نے سعودی عرب میں ملوکیت کے خلاف جنگ چھیڑ دی، کویت کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ شیخ کویت کے اختیارات کو کم کر کے جمہوریت لانا چاہتا ہے۔ یہی صورتِ حال کم و بیش اکثر ممالک میں پائی جاتی ہے، ان حالات میں شیوخ و ملوک نے، دوسری حفاظتی کوششوں کے ساتھ، ایک تدبیر یہ اختیار کی ہے کہ نہ صرف اپنے ملکوں میں بلکہ ساری مسلم دنیا میں روایت پرست طبقہ کو ابھارا جائے۔ جدت پسند طبقہ کے زور کو گھٹایا جائے، اس طرح انھیں امید ہے کہ وہ اپنی پوزیشن کو مضبوط کر سکیں گے۔

ان حالات میں جو لوگ سیاسی اچھل کود کر رہے ہیں یا تقریر و تحریر کے کمالات دکھا رہے ہیں، وہ صرف موقع پرستی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ اور عوام میں سے جو ان فنانشن پر خوش ہو رہے ہیں، وہ سطحیت کا مظاہر کر رہے ہیں، اور یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ موقع پرستی اور سطحیت کی زمین پر دین حق کا محل کھڑا ہو جائے۔ کم از کم موجودہ دنیا میں اس قسم کا واقعہ ظہور میں نہیں ایسے معجزات دکھانے کے لئے ہمیں دوسرے زمین و آسمان بنانے پڑیں گے۔

خارجی ختم ہو گئے خارجیت زندہ ہے ایک بار خارجی فرقہ کے چالیس آدمیوں نے ابن زیاد کے دو ہزار سپاہیوں کو مار بھگایا تھا۔ پر ایک خارجی شاعر نے فاتحانہ نظم لکھی۔ چند اشعار یہ ہیں: أنا مؤمن فيما زعمتم ويقتلكم بأساك ارجعونا كذبتم ليس ذالك كما زعمتم ولكن الخوارج مومنونا هى الفئة القليلة قد غلبتم على الفئة الكثيرة ينص دنا کیا تم اپنے گمان کے مطابق دو ہزار مومن تھے اور تم کو مقام آسک پر صرف چالیس نے مار بھگایا، تم جھوٹے ہو اور تمارا خیال غلط ہے، در حقیقت خوارج مومن ہیں، تم نے جان لیا کہ یہی وہ تھوڑی جماعت ہے جو بڑی جماعت پر غالب آتی ہے۔

خارجی شاعر کی اس دلیل کو آج کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ آج بھی ہمارے درمیان بے شمار لوگ ہیں جو اس قسم کی وقتی اور ظاہری کامیابیوں کو اپنی صداقت کا لازمی ثبوت سمجھتے ہیں ۔ خارجی فرقہ دنیا سے ختم ہو گیا، مگر خارجیت آج بھی دنیا میں زندہ ہے۔

Printed page