Al-Risala · May 1978

OUR GOVERNMENT HAS THE POWER BUT NOT THE RIGHT.

Al-Risala, May 1978, pp. 39–30

By Maulana Wahiduddin Khan

ہماری حکومت کے پاس قانون کے نفاذ کے لئے طاقت ہے مگر اس کا اسے کوئی حق نہیں۔

اشتراکی دنیا میں یہ جبری منطق اس سودیت اصول قانون کے تحت نافذ ہے کہ اشتراکی یا سماجی تعلقات (SOCIAL RELATIONSHIPS) ہی کا دوسرا نام قانون ہے۔ اشتراکی دنیا میں چونکہ علمی تحقیق بھی سیاست ہی کا ایک حصہ ہے، اس لئے باہر کی دنیا کے مفکرین کی اِس تنقید کا اُس پر کوئی اثر نہیں پڑتا کہ قانون کی پرسُکت تفسیر قانون کے معیاری کردار (NORMATIVE CHARACTER) کا انکار کر رہی ہے اور قانون کو گھٹا کر صرف اقتصادی قانون بنا دیتی ہے (IT REDUCES LAW TO ECONOMIC LAW)

اگر چہ عملی طور پر ساری دنیا میں یہی صورت حال ہے کہ سیاسی طاقت کے زور پر قوانین بنتے ہیں اور رائج کئے جاتے ہیں۔ مگر علمائے قانون کا ایک طبقہ اس سے بے نیاز ہو کر اصول قانون کی علمی تلاش میں مصروف ہے۔ تاہم اس کی اب تک کی تلاش نے اُس کو صرف اس نتیجہ تک پہنچایا ہے کہ اصول قانون کے معاملہ میں کسی متفقہ معیار تک پہنچنا ممکن نہیں، کیونکہ اس تلاش کا مقصد قانونی معیارات (LEGAL NORMS) کا تعین ہے، اور قانونی معیارات کا تعین اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ بنیادی انسانی اقدار کا تعین ہو جائے۔ اور تمام علماء کا فیصلہ ہے کہ اقدار (VALUES) کی دریافت خالص عقلی طریقوں سے ممکن نہیں۔

اصول قانون کا مقصد قانون کی فلسفیانہ بنیاد (فلاسیفیکل فاؤنڈیشن ) یا اس کی قانونی قدر (لیگل ٹیلو) تلاش کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اصول قانون کا کام یہ ہے کہ وہ قانون کے لئے وجہ جواز (JUSTIFICATION) جب تک کوئی قانون اپنی پشت پر قابلِ قبول اصولِ قانون نہ رکھتا ہو، عقلاً جائز نہیں کہ وہ ان انسانوں کے اوپر نافذ کیا جائے جن کے لئے کسی چیز کی قدر و قیمت جاننے کا واحد معیار عقل ہے۔ چنانچہ معلوم تاریخ کے مطابق انسان ڈھائی ہزار سال سے اس تلاش و جستجو میں مصروف ہے، مگر بے شمار دماغوں کی جدوجہد کے با وجود اب تک وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔

قانون کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب انسان لکھنا نہیں جانتا تھا، اس وقت بھی قانون کسی نہ کسی شکل میں

تحریر کی وریافت کے بعد اس کو لکھا بھی جانے لگا۔ سب سے قدیم تحریری قانون جو مل سکا ہے، وہ سمیری بادشاہ حمورابی کا قانون ہے جو ۱۹۰۰ ق م میں وضع ہوا تھا۔ سمیری قوم دجلہ و فرات کی وادی میں

اصول قانون پر غور وفکر کا کام، تاریخی ریکارڈ کے مطابق، یونانی فلاسفہ سے شروع ہوا۔ جو قدیم یونان کا مشہور قانون داں تھا، اس کا زمانہ مسیح سے چھ سو سال قبل کا ہے۔ افلاطون (۴۷۳ - ۳۴۷ ق م) کی کتاب قانون پر قدیم زمانہ کی مشہور ترین کتاب ہے۔ قانونی پیشہ بھی سب سے پہلے روم میں مسیح سے تقریباً پانچ سو سال قبل شروع ہوا۔ پندرھویں صدی تک قانون علم الہیات ہی کا ایک جز سمجھا جاتا تھا۔ سولھویں صدی میں وہ نیا ذہن پیدا ہوا جس نے بالآخر قانون کو مذہب سے الگ کر دیا۔ تاہم اب بھی وہ علم سیاست کا ایک جزو بنارہا۔ انیسویں صدی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس نے فلسفہ قانون کو فلسفه سیاست سے الگ کیا اور اصول قانون کو ایک مستقل علم کی حیثیت سے ترقی دے کر اس کو اختصاصی مطالعہ کا موضوع بنا دیا۔ قدیم زمانہ کے فلاسفہ کچھ مسلمات سے اپنا اصول قانون اخذ کرتے تھے جن کو وہ فطری حقوق کہتے تھے۔ محمدی کے بعد یورپ میں جو ذہنی انقلاب آیا، اس نے ثابت کیا کہ مسلماتِ حقیقتہ مفروضات ہیں جن کے لئے کوئی عقلی دلیل موجود نہیں۔ اس کے بعد فرد کی آزادی سب سے بڑا مسئلہ قرار پائی جس کو اصول قانون کی بنیاد بنایا جا سکتا تھا۔ مگر صنعتی انقلاب کے نتائج نے بتایا کہ فرد کی آزادی کو اگر خیر اعلیٰ (SUMMUM BONUM) مان لیا جائے تو وہ انسانیت کو استحصال اور انارکی کے سوا اور کہیں نہیں پہنچاتی۔ اب اجتماعی بھلائی (SOCIAL GOOD) کو سب سے بڑا خیر قرار دیا گیا جو قانون سازی کے لئے رہنما اصول کی حیثیت رکھتی تھی۔ مگر جب اس نظریہ کے پہلے ہی استعمال سے ایک ہولناک سیاسی حیرو وجود میں آیا تو معلوم ہوا کہ فرد کی آزادی اگر سماج کے لئے نقصان دہ تھی تو سماجی بھلائی کا یہ نظریہ فرد کو مجبور و مقہور بنا کر رکھ دیتا ہے۔ بیسویں صدی فرد اور سماج کے درمیان مطابقت تلاش کرنے کی صدی ہے۔ موجودہ صدی کے نصف ثانی میں جن مدارس فکر کو قبولیت حاصل ہوئی، ان کا خلاصہ یہ تھا کہ وہ کسی نہ کسی طور پر قانون کی ایسی بنیاد ڈھونڈ رہے تھے جہاں فردا در سماج کے مختلف تقاضوں کو ہم آہنگ مگر یہ تجربہ بھی ناکامی کے سوا کہیں اور پہنچتا ہوا نظر نہیں آتا۔ آج بھی ایسی کتابیں شائع ہو رہی ہیں جن کا ٹائٹل اس قسم کا ہوتا ہے:

Printed page