Al-Risala · May 1978

LAW IN QUEST OF ITSELF

Al-Risala, May 1978, pp. 30–44

By Maulana Wahiduddin Khan

قانون خود اپنی تلاش میں، حتیٰ کہ علمائے قانون کے ایک طبقہ نے اپنا یہ آخری فیصلہ دے دیا ہے کہ ایسی کسی کوشش کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں:

A PURELY LOGICAL INTERPRETATION OF LEGAL RULES IS IMPOSSIBLE قانونی احکام کی خالص منطقی تعبیر نا ممکن ہے۔ گشا اور ٹیڈبرش (۱۹۴۹ - کا کہنا ہے کہ مطلوبہ قانون

صرف بذریعہ اقرار (CONFESSION) اپنایا جا سکتا ہے نہ اس لئے کہ وہ علمی طور پر معلوم ریڈ برش (GUSTAV RADBRUCH) کی مثال کوئی انفرادی مثال نہیں، بلکہ اسی بنیاد پر ایک مستقل مدرسہ فکر وجود میں آیا ہے جس کو اضافی مدرسہ فکر کہتے ہیں ۔ اس فکر کے حامین (RELATIVISTS) کا کہنا ہے : ABSOLUTE JUDGMENTS ABOUT LAW ARE NOT DISCOVERABLE مطلق قانون قابلِ دریافت نہیں ۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، اصولِ قانون کی اصل مشکل یہ ہے کہ وہ جس چیز کی تلاش میں ہے، اس کا براہِ راست تعلق مسئلہ اقدار سے ہے اور یہ مسئلہ وہ ہے جہاں انسانی عقل اپنی ساری کوشش کے باوجود کسی متفقہ جواب تک پہنچنے میں قطعا نا کام رہی ہے۔ ایک طرف یہ صورت ہے کہ انسان،وجدانی طور پر، خیر و شر کا اتنا شدید احساس رکھتا ہے کہ اس کو نہ تو اٹھارویں صدی کے میکانکی فلسفے ختم کر سکے اور نہ سوویت روس کا کلیت پسندانہ نظام، جس کو نصف صدی سے بھی زیاوہ طویل عرصہ تک یہ موقع ملا کہ وہ نسلِ انسانی کو اپنے نظریاتی کارخانہ میں دوسری طرف یہ مشکل کہ بہترین دماغوں کی ساری کوشش بھی اقدار کا کوئی متفقہ معیار تلاش کرنے میں مکمل طور پر نا کام رہا ہے۔ سائنس کی ترقی اس کو زیادہ سے زیادہ واضح کرتی جا رہی ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں اقدار اپنا کوئی معروضی مقام (OBJECTIVE STATUS) نہیں رکھتیں۔

جوزف وڈ کرچ (۱۸۹۳-۱۹۷۰) نے اپنی کثیرالاشاعت کتاب (THE MODERN TEMPER) میں اس کا مطالعہ کیا ہے ۔ ” خواہ انسان کتنی ہی کوشش کرے پروفیسر کرچ (JOSEPH WOODKRUTCH) لکھتے ہیں “ ابی کی روح کے دو نصف مشکل ہی سے باہم متحد ہو سکتے ہیں ۔ اور وہ نہیں جانتا کہ وہ اس طرح خیال کرے جیسے کہ اس کی عقل بتاتی ہے کہ اسے خیال کرنا چاہئے، یا وہ اس طرح محسوس کرے جیسے اس کے جذبات اس کو محسوس کراتے ہیں ۔ اور اس طرح دہ اپنی برباد اور تقسیم شدہ روح کے اندر ایک مضحکہ بن کر رہ گیا ہے“ کرچ کا یہ جملہ اکثر نقل کیا گیا ہے:

MAN IS AN ETHICAL ANIMAL IN AN UNIVERSE WHICH CONTAINS NO ETHICAL ELEMENT. (16)

انسان ایک اخلاقی جانور ہے ایک کائنات میں جو اپنے اندر کوئی اخلاقی عنصر نہیں رکھتی ۔ کرچ کی غلطی یہ ہے کہ اس نے اپنے دائرہ سے باہر قدم رکھ دیا ہے۔ میں جس بنیادی نکتہ پر زور دینا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ جو چیز ثابت ہوئی ہے، وہ یہ نہیں کہ اقدار کا کوئی وجود نہیں ہے۔ بلکہ یہ کہ انسان ان کو دریافت نہیں کر سکتا ۔ یہاں میں ڈاکٹر الکسس کیرل (۱۹۷۳ - ۱۸۷۳) کا حوالہ دوں گا ۔ (ALEXIS CARREL) نے اپنی کتاب انسان نامعلوم (MAN THE UNKNOWN) میں دکھایا ہے کہ اقدار کا مسئلہ اتنے مختلف النوع علوم کی کامل واقفیت سے تعلق رکھتا ہے جن کو انسان اپنی محدود عمر میں کسی طرح حاصل

نہیں کر سکتا۔ ان کو حاصل کر کے ان کا تجزیہ کرنا اور نتیجہ نکالنا تو درکنار۔ انھوں نے مزید اس بات کو رد کر دیا ہے کہ ماہرین کی ایک کمیٹی اس مسئلہ کی تحقیق کر کے کسی آخری نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کرے، کیونکہ ایک اعلیٰ آرٹ کی تخلیق ایک ذہن کرتا ہے، اعلیٰ آرٹ کسی اکیڈمی کے ذریعہ کبھی وجود میں نہیں آتا۔ سگمنڈ فرائڈ (1939- 1856) کے وقت سے اب تک نفسیات کے جو مختلف اسکول وجود میں آئے ہیں، وہ باہمی اختلافات کے باوجود اس مشترکہ کوشش میں مصروف رہے ہیں کہ نفسیات کا کوئی اقدار سے آزاد علم (VALUE FREE SCIENCE) وجود میں لائیں۔ مگر یہ ایک واقعہ ہے کہ ایک صدی کی مسلسل کوششوں کے باوجود وہ اس منزل تک پہنچنے میں بالکل ناکام رہے ہیں۔ حتیٰ کہ اب ان کے درمیان اس کے خلاف ردِ العمل شروع ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کا ممتاز ماہرِ نفسیات ابرہام میسلو (۱۹۰۸ - ۱۹۷۰) جو خود ثبوتی کردارِیت (POSITIVISTIC-BEHAVIOURISTIC TRADITION) کے زیرِ سایہ تیار ہوا تھا، اپنی عمر کے آخری حصہ میں وہ انسانی فطرت کے دور تر گوشے (FARTHER REACHES OF HUMAN NATURE) کی تلاش میں مصروف ہو گیا۔ میسلو (ABRAHAM MASLOW) کا کہنا ہے :

PSYCHOLOGY HAD VOLUNTARILY RESTRICTED ITSELF TO ONLY HALF OF ITS RIGHTFUL JURISDICTION. نفسیات نے اپنے جائز حدودِ کار کے نصف حصہ سے بطور خود اپنے آپ کو روک لیا۔ وضعی قانون کی ناکامی کے بارے میں اوپر میں نے جو اشارات کئے، وہ ہر وہ شخص جانتا ہے جس نے اصولِ قانون کا مطالعہ کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قانون کا یہ مفروضہ قطعی طور پر بے بنیاد ثابت ہو چکا ہے کہ انسان خود اپنے لئے قانونی معیار دریافت کر سکتا ہے۔

اس کے بعد ہمارے سامنے دوسرا مفروضہ آتا ہے اور وہ الہی قانون کا مفروضہ ہے۔ جس کا محفوظ اور مستند متن قرآن کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے، اس کا دعویٰ ہے کہ قانون کا ماخذ خدا کا الہام ہے یعنی یہ کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے۔ خدا نے الہام کے ذریعہ اپنا قانون اپنے رسول پر اتارا ہے یہی قانون انسان کے لئے صحیح ترین دستورِ عمل ہے۔ اس قانون کی بنیاد پر قیاس اور اجتہاد کر کے مزید قانون سازی ہو سکتی ہے۔ مگر اصولی طور پر اس سے انحراف جائز نہیں ۔

میں پیشگی طور پر اعتراف کرتا ہوں کہ خالص علمی اعتبار سے یہ ایک پیچیدہ دعویٰ ہے۔ مگر جو نکتہ خصوصی طور پر قابلِ لحاظ ہے، وہ یہ کہ اس کی پیچیدگی کے اسباب خود قانون میں ہونا ضروری نہیں۔ وہ اس واقعہ میں بھی ہو سکتے ہیں کہ ہماری عقل کچھ محدودرتوں (LIMITATIONS) کا شکار ہے اور اس بنا پر وہ سارے حقائق کا براہِ راست

احاطہ نہیں کر سکتی۔ خوش قسمتی سے جدید سائنس کا موقف اس معاملہ میں ہماری تائید کرتا ہے۔ نے یہ اعتراف کیا ہے کہ حقائق کی مقدار صرف اتنی ہی نہیں جو براہ راست ہمارے حسیاتی تجربہ میں آتی ہیں ۔ بلکہ اس سے آگے اور بھی حقائق ہیں۔ مزید یہ کہ نامعلوم حقائق نہ صرف معلوم حقائق سے مقدار میں زیادہ ہیں بلکہ وہ معلوم حقائق کے مقابلہ میں زیادہ اہم اور معنی خیز ہیں۔ امریکی پروفیسر فرڈ برتھولڈ(FRED (FRED BERTHOLD) نے منطقی ثبوتیت (LOGICAL POSITIVISM) کے فلسفہ کو چند لفظوں میں اس طرح سمیٹا ہے:

THE IMPORTANT IS UNKNOWABLE, AND THE KNOWABLE IS UNIMPORTANT جو چیز اہم ہے وہ نا قابل دریافت ہے اور جو چیز قابل دریافت ہے ، وہ اہم نہیں۔

۱۹ ویں صدی میں یہ فرض کر لیا گیا تھا کہ انسان کل حقیقت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر چہ اس وقت بھی کل حقیقت عملاً انسان کی دسترس سے اتنی ہی دور تھی جتنی اس سے پہلے یا اس کے بعد رہی ہے۔ تاہم یہ یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن انسان ضرور اسے دریافت کرلے گا۔ مگر بیسویں صدی کے سائنسداں خود ثبوتیت (POSITIVISM) یا فعلیت (OPERATIONALISM) کے جھنڈے کے نیچے ہم کو بتا رہے ہیں کہ یہ فرض کر لینا بالکل غلط تھا کہ سائنس ہم کو آخری حقیقت (ULTIMATE REALITY) یا خیر (GOOD) کے بارے میں کوئی بات بتا سکتی ہے۔ دوسرا فلسفہ جس کو وجودیت (EXISTENTIALISM) کہا جاتا ہے، وہ بھی ہم کو یقین دلا رہا ہے کہ اس کی کوئی صورت نہیں کہ محدود انسان خیر کا ایسا معیار (NORM) دریافت کرسکے جو اس سے ماورا ہو۔ ان دریافتوں کے بعد انسانی علم اب جس مسئلہ پر پہنچا ہے ، وہ یہ کہ قطعی دلائل صرف اس میدان تحقیق میں قائم کئے جا سکتے ہیں جن کو برٹرینڈ رسل (۱۹۷۰ء - ۱۸۷۲ء) نے چیزوں کا علم (KNOWLEDGE OF THINGS) THINGS)کہا ہے۔ دوسرا میدان تحقیق جو اس کے الفاظ میں صداقتوں کا علم (KNOWLEDGE OF TRUTHS) سے تعلق رکھتا ہے ، ان میں براہ راست دلیل قائم کرنا ممکن نہیں۔ چنانچہ مان لیا گیا ہے کہ ہم کسی معاملہ میں قطعیت (CERTAINTY) تک نہیں پہنچ سکتے۔ ہم صرف یہ کر سکتے ہیں کہ اغلب رائے (PROBABLE JUDGMENT) تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ یہ بات صرف غیر مادی حقائق تک محدود نہیں ہے بلکہ بہت سی وہ چیزیں جن کو مادی حقائق میں شمار کیا جاتا ہے، ان کا معاملہ بھی تقریباً ایسا ہی ہے، جیسے روشنی، یا مقناطیسی قوت کی تشریح۔

میں یہ کہنے کی جرات کروں گا کہ فیصلہ کی یہ بنیاد جو جدید علم نے فراہم کی ہے ، وہ عین الہی قانون کے حق

الہی قانون کا یہ مفروضہ کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے، غالباً جدید انسان کے لئے اتنا زیادہ ناقابل فہم نہیں جتنا اس کا یہ جزو کہ خدا بذریعہ الہام اپنی مرضی انسان کے پاس بھیجتا ہے۔ اکثر بڑے بڑے سائنس داں کسی نہ کسی شکل میں خدا کو مانتے تھے نیوٹن (۱۷۲۷ء - ۱۶۴۲ء) کے نزدیک نظام شمسی کو متحرک کرنے کے لئے ایک خدائی ہاتھ (DIVINE ARM) کی ضرورت تھی۔ ڈارون (۱۸۸۲ء - ۱۸۰۹ء) آغاز حیات کے لئے ایک خالق (CREATOR )

کو ضروری سمجھتا تھا۔ آئن سٹائن (1955-1879) کو ایک بر تر ذہن (SUPERIOR MIND) کی جھلک دکھائی دی جو کائنات کے مظاہر میں اپنے کو ظاہر کر رہا تھا۔ سر جیمس جینس کے مطالعے نے اس نتیجہ تک پہنچایا ہے کہ کائنات "گریٹ مشین" سے زیادہ "گریٹ تھاٹ" معلوم ہوتی ہے، سر آرتھر ایڈنگٹن کے نزدیک جدید سائنس میں اس حقیقت تک پہنچاری ہے کہ:

Printed page