PROBLEMS AND PROMISES
Al-Risala, January 1978, pp. 23–44
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ لکھتے ہیں کہ زیر ترقی ممالک کی سب سے بڑی دولت ان کی انسانی طاقت ہے۔ مگر کسی ملک میں بھی اس کو بخوبی طور پر استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔ جنگل اور زراعت کی ردی چیزیں اور حیوانات کے فضلے بڑی تعداد میں روزانہ ضائع ہو رہے ہیں مگر ان کو اب تک کام میں نہیں لایا گیا۔ اور غیر زرا عتی شعبوں میں بے شمار امکانات غیر استعمال شدہ پڑے ہوئے ہیں۔ مگر ابھی تک ان کی طرف حقیقی توجہ نہیں دی گئی ہے۔
کھانا تیار کرنے کے لئے آجکل ہندوستان میں جو گیس استعمال ہوتی ہے وہ حقیقتاً پٹرولیم کی ضمنی پیداوار پہلے یہ گیس یوں ہی ضائع ہو جاتی تھی۔ اب اس کو خاص اہتمام سے سلنڈروں میں بھر لیا جاتا ہے۔ باورچی خانہ کے ایندھن کی حیثیت سے وہ آج ہمارے لئے ایک عظیم نعمت ہے۔ اسی طرح وہ تمام چیزیں جن کو فضلات (WASTES) کہا جاتا ہے، وہ حقیقتاً کسی چیز کی ضمنی پیداوار ہی ہیں۔ ان کو خاطر خواہ استعمال کیا جائے تو وہ انسان کے لئے بے شمار پہلوؤں سے مفید بن سکتی ہیں۔ مثلاً دھان کی بھوسی کو لیجئے ۔ اور ریجنل ریسرچ لیبوریٹری جور ہاٹ میں جو تجربے کئے گئے ہیں، ان سے معلوم ہوا ہے کہ دھان کی بھوسی سلیکا، سیلیلوز، فیٹوز ، لنگن جیسے قیمتی اجزاء سے مرکب ہوتی ہے اور اس کو نہایت کامیابی کے ساتھ سیمنٹ ، فائر پروف بورڈ وغیرہ کے بنانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کی راکھ میں چونا ملا کر باریک ہیں دیا جائے تو نہایت عمدہ سیمنٹ تیار ہو جاتی ہے۔
ہندوستان میں ہر سال ۶۰ ملین ٹن دھان پیدا ہوتا دھان کی بھوسی دھان کا تقریباً ۲۰ فی صد حصہ ہوتی ہے اور بھوسی کی راکھ بھوسی کا تقریباً ۳۰ فی صد حصہ اس طرح ہندوستان میں محض بھوسی کے ذریعہ ہر سال دو ملین ٹن سے زیادہ سیمنٹ تیار کی جاسکتی ہے۔ اور اگر پیال کو اس میں شامل کر لیا جائے جو انہیں اجزاء سے مرکب ہوتا ہے جس سے بھوسی بنتی ہے تو اس کی مقدار پندرہ گنا تک بڑھ
یہ ایک ایسا کام ہے جس کی درجنوں شاخیں ہیں۔ مثلاً بلڈنگ کے سامان اور مختلف قسم کے صنعتی کیمیکل ایسے چھوٹے چھوٹے پلانٹ تیار کرنا جو ملک کی ۲۵ ہزار رائس ملوں میں لگ سکیں اور ہر رائس مل مقررہ کام کے ساتھ ایک "منی سیمنٹ پلانٹ" بن جائے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ایک سوٹن سالانہ "بھوسی سیمنٹ"،
تیار کرنے کا کارخانہ بنایا جائے تو اس کی لاگت تقریباً ۱۵ ہزار آئے گی۔ اور اس کے ذریعہ جو سیمنٹ تیار ہوگی وہ عام سممنٹ سے بہت زیادہ سستی ہوگی۔
یہ معاملہ صرف بھوسی اور گٹھلی جیسی چیزوں تک محدود نہیں ہے۔ جانوروں کا گوبر اور انسان کا فضلہ بھی بے شمار فوائد اپنے اندر لئے ہوئے ہیں۔ گو بر فضلہ کو، بغیر کسی خرچ کے، اتنی گیس پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے گھر کا پورا کھانا پک جائے اور رات کے وقت گھر کی روشنی بھی حاصل ہو سکے۔ خرچ اور دھوئیں کی کثافت سے بچنے کا یہ نہایت کامیاب اس طریقہ میں مزید فائدہ یہ ہے کہ گوبر یا فضلہ کی اصل کھاد ضائع نہیں ہوتی، بلکہ پوری کی پوری محفوظ رہتی ہے۔ فضلہ کا گیسی حصہ، جو نباتات کے لئے مضر ہے، گھر کے ایندھن اور روشنی میں کام آجاتا ہے اور اس کے بعد عمدہ کھاد خود بخود الگ ہو جاتی ہے۔ زیادہ فائدہ کا اس سے بہتر کوئی نسخہ نہیں ہو سکتا۔ حال میں ایک انجینئرنگ کمپنی نے ایک انجن تیار کیا ہے جو KIRLOSKAR OIL ENGINES LIMITED 13, LAXMANRAO KIRLOSKAR ROAD KHADKI, PUNE 411 003 گوبر گیس سے چلتا ہے۔ اگر آپ کے پاس ۲۰ مویشیوں کا گلہ ہے تو آپ ایک گوبر گیس پلانٹ تیار کر سکتے ہیں اس کی تیاری میں تقریباً چھ ہزار روپے کا خرچ آتا ہے جس کا ایک حصہ سرکار بطور سب سڈی دیتی ہے۔ اپنے گوبر گیس پلانٹ کے ساتھ پانچ ہارس پاور کا انجن لگا کر آپ اپنے کھیتوں اور باغوں کی آب پاشی کر سکتے ہیں جو بجلی یا تیل کے انجن کے مقابلہ میں ۸۰ فی صد تک اخراجات کو کم کر دیتا ہے۔
اس طرح کے بے شمار امکانات ہیں جو اس وسیع ملک میں ہمارا انتظار کر رہے ہیں، پچھلے ۳۰ برسوں میں جتنا سرمایہ فیملی پلاننگ اور اس سے متعلق پروگراموں میں خرچ کیا گیا ہے، اگر وہ اس طرح کی اسکیموں میں لگایا گیا ہوتا تو ملک کی حالت آج کہیں زیادہ بہتر ہوتی۔ مولانا عبدالماجد دریا آبادی (۷۷-۱۹۵۲ء) مولانا محمد علی (۱۹۳۱-۱۸۷۸ء) کے بارہ میں فرماتے ہیں: "میرے دوست مولانا محمد علی جوہر کی شخصیت بھی میرے لئے مشعل راہ ثابت ہوئی ۔ بیتاب ہو کر تڑپ کر جوش وخروش سے للکارتے تھے "عبد الماجد اٹھو، چل کر ملحد یورپ میں تبلیغ اسلام کریں" صدق جدید (لکھنو) ۲ جون ۱۹۷۷ء ڈاکٹر محمد اقبال (۱۹۳۸-۱۸۷۷ء) نے آخر عمر میں ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کیا تھا۔ جس کا نام انھوں نے تجویز کیا تھا: AN INTRODUCTION TO THE STUDY OF QURAN (مطالعہ قرآن کا ایک تعارف) ۔ فرماتے تھے " ایک بار کتاب شروع کی تو ان شاء اللہ اسلام کے بارے میں یورپ کے تمام نظریات توڑ پھوڑ کر رکھ دوں گا ۔ شیرازہ دوسری نمبر اقبال نمبر، صفحہ 66 اس طرح کے پرجوش ارادہ کی مثالیں ہمارے یہاں بہت سی ملیں گی۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس پوری مدت میں کوئی ایک بھی قابل ذکر شخص نہیں ملتا جس نے مغرب کے انسانوں کے سامنے ان کی زبان میں اسلام کا پیغام پہنچانے کی کوشش کی ہو۔ اگر کی ہے تو صرف بدنام قادیانیوں نے ۔