Al-Risala · May 1978

THE STUFF OF THE WORLD IS MIND-STUFF

Al-Risala, May 1978, pp. 44–46

By Maulana Wahiduddin Khan

کائنات کا مادہ ایک شے ذہنی ہے۔ ایڈز نار تہ ڈائٹ ہڈ (1941-1834) کے نزدیک جدید سائنسی معلومات یہ ثابت کر رہی ہیں کہ فطرت ایک زندہ حقیقت ہے نہ کہ بے روح مادہ (NATURE IS ALIVE) تاہم جہاں تک الہام کا تعلق ہے، مجھے اعتراف ہے کہ خالص علمی اعتبار سے یہ ایک نہایت پیچیدہ عقیدہ یہ ان چیزوں میں سے نہیں جس کا عمومی مشاہدہ کرایا جا سکتا ہو۔ مگر یہ کہنا مبالغہ آمیز نہیں کہ ہمارے تجربہ میں ایسے بہت سے حقائق آتے ہیں جن سے استنباط کیا جا سکتا ہے کہ یہاں ایسی کوئی حقیقت پائی جاتی ہے جس کو الہام سے تعبیر کیا جاسکے۔ جدید میتھڈ الوجی اس کو تسلیم کرتی ہے کہ مستنبط حقائق (INFERED FACTS) بھی اتنے ہی یقینی ہو سکتے ہیں جتنے کہ مشہور حقائق (OBSERVED FACTS)۔ اس لئے ہمارے استدلال کی اہمیت اس سے کم نہیں ہوتی کہ وہ مشاہداتی نہیں ہیں بلکہ استنباطی نوعیت کے ہیں۔

19 ویں صدی میں قانونِ تعلیل (PRINCIPLE OF CAUATION) کو خالق کا بدل سمجھ لیا گیا تھا۔ صدی میں ایسے بہت سے واقعات سائنس کے علم میں آئے ہیں جن کی توجیہہ اسباب مادی کے عام اصول کے تحت مثال کے طور پر ریڈیم کے الیکٹران کا ٹوٹنا، جن کو معلوم قوانین کے تحت بیان کرنے کی ساری کوشش ناکام ہو چکی ہے۔ حتیٰ کہ ایک سائنس داں کو کہنا پڑا کہ ریڈیم کے کسی ٹکڑے میں کون سا الیکٹران کس وقت ٹوٹے گا، اس کا فیصلہ کرنا خداؤں کے اختیار میں ہے، خواہ وہ جو بھی ہوں:

IT MAY REST ON THE KNEES OF WHATEVER GOODS THERE BE حیوانات کا مطالعہ بھی یہی بتاتا ہے۔ حیوانات کے بارے میں ثابت ہو چکا ہے کہ ان کے اندر جو حیلت (INSTINCT) ہوتی ہے، وہ اکتسابی نہیں۔ مثلاً شہد کی مکھی اپنے چھتہ کو ہشت پہل بناتی ہے۔ کسی تربیت نے اس کو نہیں بتایا کہ ہشت پہل خانہ کے مقصد کے لئے سب سے زیادہ موزوں ہے، حتیٰ کہ وہ اس کی معنویت کا کا بھی کوئی ذاتی شعور نہیں رکھتی۔ اس کے باوجود وہ اس ریاضیاتی طریق تعمیر میں اس طرح مصروف رہتی ہے جیسے اس سے کسی نے کہہ دیا ہو کہ تم ایسا ہی کرو۔ (وَأَوحي رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ، نحل - 68) اس قسم کے بے شمار واقعات ہیں جو ہمیں اس اغلبیت کی طرف لے جاتے ہیں کہ اشیاء سے باہر کوئی شعور ہے جو اشیاء کو ان کے وظیفہ حیات کے بارے میں ہدایات دے رہا ہے۔ حتیٰ کہ سر آرتھر ایڈنگٹن نے جدید کوانٹم نظریہ کو الہام کی سائنسی تصدیق قرار دیا ہے۔ قرآن کا یہ بیان بیسویں صدی کے انسان کے لئے شاید اس سے زیادہ۔

قابلِ فہم ہے جتنا وہ ساتویں صدی کے انسان کے لئے ہو سکتا تھا:

وَ اَوْحٰى فِی کُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا (خمہ سجدہ ۱۲) اور خدا نے ہر آسمان میں اس کا حکم اتارا اس کے بعد جب ہم انسان کے مسئلہ پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی کے دو حصے ہیں۔ ایک وہ جس کو حیاتیاتی حصہ کہہ سکتے ہیں۔ دوسرا وہ جس کو نفسیاتی حصہ کہا جاتا ہے۔ انسانی زندگی کا حیاتیاتی حصہ ٹھیک اسی طرح مکمل طور پر خارجی قوانین کا پابند ہے جس طرح کائنات کی دوسری چیزیں اس کی پیروی کر رہی ہیں۔ وہ چیز جس کو میڈیکل سائنس کہا جاتا ہے، اس کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ان مخفی قوانین فطرت کا پتہ لگائے جس کے تحت انسانی زندگی کا حیاتیاتی حصہ کام کرتا ہے اور اس کو اس حصہ انسانی پر استعمال کرے ۔ اب اگر یہ مان لیا جائے کہ وہ قانون فطرت جو ستاروں اور سیاروں سے لے کر انسان کے حیاتیاتی حصہ تک کارفرما ہے، اس کا ماخذ وہ الہام ہے جو کائناتی شعور کی طرف سے ہر ایک کو پہنچ رہا ہے تو اس کے بعد، اسی پر قیاس کرتے ہوئے، یہ ماننا خود بخود آسان ہو جاتا ہے کہ انسان کے نفسیاتی حصہ کے لئے قانون کا تعین بھی اسی شعور کی طرف سے ہو سکتا ہے اور اسی کی طرف سے ہونا چاہئے ۔

خالص عقلی نقطہ نظر سے کہا جا سکتا ہے کہ اس استدلال کی بنیاد ایک ”قیاس“ پر قائم ہے۔ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ انسان کی ساخت کچھ اس ڈھنگ پر ہوئی ہے کہ قیاسی استدلال سے مفر اس کے لئے ممکن اگر وہ قیاسی استدلال کو تسلیم کرنے سے انکار کرے تو لازماً اس کو تشکیک کی پناہ گاہ میں جانا پڑیگا۔ جو عملی طور پر ناممکن ہے ۔

قرآن نے بھی اس معاملہ میں جواب کا یہی انداز اختیار کیا ہے:

يَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوحِ، قُلِ الرُّوحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّي تم سے وحی کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ وحی وَّ مَا اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا خدا کے حکم سے ہے اور تم کو صرف تھوڑ اعلم دیا گیا ہے یہاں وحی سے متعلق سوال کے جواب میں دو باتیں کہی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ امر رب ہے۔ دوسرے یہ کہ تم کو علم قلیل دیا گیا ہے۔ پہلے جزو کا مطلب یہ ہے کہ وحی اسی طرح انسان کے لئے امر رب ہے جس طرح سارا نظام عالم امر رب (قانون فطرت) کے ماتحت ہے۔ یہ کوئی منفرد چیز نہیں بلکہ انسانی دائرہ میں وحی چیز ہے جس کا مشاہدہ تم کائنات کے دائرہ میں کر رہے ہو۔ دوسرے جزو کا مطلب یہ ہے کہ وہی کو عقلی طور پر سمجھنے کی پہلی شرط یہ ہے کہ تم اس حقیقت واقعہ کو تسلیم کرو کہ انسان کو علم قلیل دیا گیا ہے۔ اس کو علم کثیر نہیں دیا گیا۔ اس واقعہ کو مان کر چلو گے تو وہی کی حقیقت سمجھ جاؤ گے اور اگر اس واقعہ کا انکار کر کے سمجھنا چاہو تو تم اس کو نہیں سمجھ سکتے۔

حیرت انگیز بات ہے کہ تیرہ سو برس پہلے کا اعلان آج سائنس کے جدید ترین مرحلہ میں اپنی صداقت کو مزید شدت کے ساتھ ثابت کر رہا ہے۔ پہلی جنگ عظیم (۱۸۔ ۱۹۱۳) کے ساتھ جس نئے دور سائنس کا آغاز ہوا ہے،

اس نے قطعیت کے ساتھ تسلیم کر لیا ہے کہ انسان بعض حیاتیاتی اور نفسیاتی محدودیتوں کا شکار ہے، اس لئے وہ سارے حقائق کو اپنے محسوسات کی گرفت میں نہیں لاسکتا۔ ضروری ہے کہ اپنے قلت علم کی اس کمی کو پورا کرنے کے لئے وہ مروجہ سائنسی طریقوں پر بعض ایسے طریقوں کا اضافہ کرے جو انیسویں صدی تک غیر سائنسی سمجھے جاتے تھے۔ آئن سٹائن نے کائنات کے بارے میں جو انقلاب انگیز سائنسی نظریات وضع کئے، اس کے سلسلے میں اس نے اعتراف کیا کہ یہ کام اس طریقہ کی پابندی کر کے نہیں ہوسکتا۔ مثال کے طور پر، حرکیات گیس کا نظریہ (SYNTHETIC METHOD) میں کار آمد ہے۔ یہاں اس نے ترکیبی طریقہ (KINETIC THEORY OF GASES) کے بجائے تحلیلی طریقہ (ANALYTICAL METHOD) سے کام لیا۔ اس نے سائنسی نظریات کی دو تقسمیں کیں۔ عمارتی نظریات (CONSTRUCTIVE THEORIES) دوسرے اصولی نظریات (PRINCIFLE-THEORIES) اس نے کہا کہ نظریہ اضافیت (RELATIVITY) کو سمجھنے کے لئے صرف دوسرے قسم کا نظریہ ہی کام دے سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس نے کائنات کے گہرے حقائق کو سمجھنے کے لئے سائنسی مشاہدہ کے بجائے ایک قسم کے سائنسی تصور (SCIENTIFIC CONTEMPLATION) کی وکالت کی۔ چنانچہ ایک پروفیسر نے آئن سٹائن کے نظریہ کا خلاصہ ان لفظوں میں بیان کیا ہے:

IN DEALING WITH THE ETERNAL VERITIES, THE AREA OF EX- PERIMENT IS REDUCED AND THAT OF CONTEMPLATION ENHANCED. ابدی حقیقتوں کی بحث میں تجربہ کا دائرہ گھٹ جاتا ہے اور تصور کا دائرہ بڑھ جاتا ہے۔ قرآن کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک الہامی قانون ہے جو انسان کی رہنمائی کے لئے اتارا گیا ہے۔ یہ بات کہ وہ فی الواقع ایک الہامی قانون ہے، اس کے لئے خود قرآن نے بڑی عجیب دلیل دی ہے۔ اس نے اعلان کیا ہے کہ انسان کبھی بھی اس کے جیسی کتاب نہ بنا سکے گا، خواہ وہ اس کے لئے کتنی ہی کوشش کر ڈالے: وَإِنْ كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ اور اگر تم اس کتاب کے بارے میں شک میں ہو جو مِّنْ مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ ہم نے اپنے بندہ پر اتاری ہے تو اس جیسی ایک كُنْتُمْ صَادِقِينَ بقرہ - ۲۳ صورت بنا کر لے آؤ قُلْ لَّيْنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا کہہ دو اگر آدمی اور جن اس لئے جمع ہوں کہ ایسا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ قرآن بنا لائیں تو وہ ہرگز نہ لاسکیں گے خواہ وہ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا بنی اسرائیل - ۸۸ سب ایک دوسرے کے مددگار ہوں انسائیکلوپیڈیا آف فلاسفی کے مقالہ نگار کے الفاظ میں، فلسفیانہ اعتبار سے جو بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ وہ کیا معیار ہے جس پر الہام کے دعوے کو جانچا جاسکے:

THE MAIN PHILOSOPHICAL QUESTION THAT ARISES CONCERNS THE CRITERIA BY WHICH REVELATION CLAIMS MAY BE JUDGED.

Printed page