Al-Risala · May 1978

چند نئی کتابیں

Al-Risala, May 1978, pp. 47–48

By Maulana Wahiduddin Khan

تجدید دین تجدید کا مطلب ہے خدا کے دین کو انسانی گرد و غبار سے پاک کرنا۔ آج اسلام پر وہ سارے گرد و غبار غبار‘‘پڑ چکے ہیں جو پچھلی امتوں کے دین پر پڑے تھے۔ یہ گرد و غبار کیا ہے اور خدا کے دین کو کس طرح اس سے پاک صاف کیا جا سکتا ہے، «تجدید دین» میں اس کا مطالعہ کیجئے۔ - صفحات ۴۸ مذہب اور "علم جدید کا چیلنج" مولانا وحید الدین خاں کی مشہور کتاب ہے۔ جدید چیلنج" اسی کا نظرثانی کیا ہوا ایڈیشن ہے۔ یہ کتاب پہلی بار ۷۲ میں اردو میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے بعد عربی اور ترکی زبانوں میں اس کے درجن سے اوپر ایڈیشن شائع ہوئے، تمام عالم اسلام میں اس کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ ہر فروری ۱۹۷۶ کو مولانا وحید الدین خاں طرابلس میں صدر قذافی سے ملے تو لیبی لیڈر نے فوراً کہا: لقد قرآت كتابك الاسلام يتحدی (میں نے آپ کی کتاب الاسلام یتحدیٰ پڑھ لی ہے)۔ الامام الاکبر ڈاکٹر عبد الحلیم محمود (جامعہ ازہر قاہرہ) ۱۹ نومبر ۱۹۷۹ میں ہندوستان آۓ انھوں نے جامعہ ڈا بھیل سورت میں تقریر کرتے ہوئے علما سے کہا کہ آپ لوگ الاسلام یتحدیٰ کا مطالعہ کیجئے، جس میں اسلام کے خلاف جدید شبہات کا کافی و شافی رد موجود ہے ۔ ان کے علاوہ متعدد دوسری کتابیں تکمیل کے مرحلہ میں ہیں جو انشاء اللہ جلد شائع ہوں گی مثلاً "صفحات" "تاریخ کا سبق" "ملت کی تعمیر" "اسلام دورِ جدید میں" سائنسی مضامین" "مستقبل کی طرف" وغیرہ۔ مکتبہ الرسالہ ۔ جمعیۃ بلڈنگ ۔ قاسم جان اسٹریٹ ۔

"الاسلام" کے بعد ادارہ الرسالہ کی دوسری کتابی پیش کش از مولانا وحید الدین خاں صفحات ۲۰۰ - قیمت دس روپے۔

آفسیٹ کی اعلمی طباعت کے ساتھ جدید اسلامی لٹریچر میں اپنی نوعیت کی پہلی کتاب روانگی کا خرچ بذمہ ادارہ قرآن پہلی کتاب ہے جس نے انسانی تاریخ میں دورِ نثر کا آغاز کیا۔ علمی طرز فکر کی بنیاد رکھی اور سائنٹفک استدلال کو رائج کیا۔ موجودہ دور کا علمی انقلاب، قرآن ہی کے پیدا کردہ انقلاب کا نتیجہ ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ قرآن کے حاملین اس انقلاب کو سمجھنے میں سب سے پیچھے ہیں ـــــ وہ ابھی تک شعورِ شاعری کی فضا سے نکل نہ سکے۔ حتی کہ ان کی نشر بھی خطابت اور شاعری کی ایک صورت ہوتی ہے۔ میں ان کے پیچھے ہونے کا حال یہ ہے کہ ان کے علماء اب بھی سائنٹفک استدلال اور مغرب زدگی کو ہم معنی سمجھتے ہیں۔

مسلمانوں کی اس علمی پسماندگی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ دورِ جدید کے معیارِ فکر پر ابھی تک اسلام کا علمی اظہار نہ ہو سکا۔ ہر دور کا ایک اسلوب اور ہر ذ ایک علی معیار ہوتا ہے اور ہر دور کے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے دور کے فکری معیار پر خدا کے دین کا اعلان کریں۔ جدید اسلامی تاریخ کی پہلی کتاب ہے جس میں اسلام کو وقت کے معیارِ فکر پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

Printed page