Al-Risala · June 1978

تجدید دین

Al-Risala, June 1978, pp. 3–21

By Maulana Wahiduddin Khan

تجدید کے معنی ہیں نیا کرنا۔ تجدید دین کا مطلب یہ ہے کہ دین کے اوپر جب گرد و غبار پڑ جائے تو اس کو صاف کرکے دوبارہ دین کو اس کے اصلی رنگ میں پیش کر دیا جائے۔

دین کے اوپر"گرد و غبار" کی وجہ ہمیشہ ایک ہی رہی ہے اور وہ ہے آسمانی متن میں انسانی اضافہ۔ ابتدا ء وقتی محرکات کے تحت وجود میں آتا ہے۔ اور اس کے بعد رفتہ رفتہ رفتہ مقدس بن کر اصل خدائی مذہب کا جزء بن جاتا اس کو لوگ اسی طرح ماننے لگتے ہیں جس طرح خدائی وحی کو ماننا چاہئے۔ قرآن کے الفاظ میں، وہ اپنے احبار و رہبان کو خدا کے سوا اپنا رب بنا لیتے ہیں (توبہ - ۳۱)

اس اضافے کے محرکات عام طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں :

مذہب کی حقیقت کو خارجی طور پر متعین کرنے کی کوشش (EXTERNALISATION)

مذہب کی تعلیمات کو عقلی اصطلاحوں میں بیان کرنا (RATIONALISATION)

پہلی غلطی کی ایک مثال بائبل (پرانا عہد نامہ) کے ابتدائی ابواب ہیں جو قربانی کی انتہائی جزئی تفصیلات سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ بے شمار آداب اور طریقے یا قرآن کے الفاظ میں اصرا و اغلال (اعراف - ۱۵۷) جو موجودہ بائبل میں درج ہیں، ان کا حقیقی موسوی شریعت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یہ بعد کے یہودی علماء کی پیدا کردہ فقہ تھی جس کو کتاب مقدس میں شامل کر دیا گیا۔ اسی طرح وہ بدعت (حدید - ۲۷) جو مسیحیت میں رہبانیت کے نام سے رائج ہوئی، وہ بھی بعد کو پیدا ہونے والا مسیحی تصرف تھا جس کا حضرت مسیح نے کبھی حکم نہیں دیا تھا۔ یہ چیزیں جو ابتداءََ یہودی عبادت یا مسیحی روحانیت کا خارجی ڈھانچہ بنانے کی کوشش کے سلسلے میں وجود میں آئیں، دھیرے دھیرے خود یہودیت اور مسیحیت کا جزو بن گئیں۔ یہاں تک کہ ان کے ہجوم میں اصل دین خداوندی گم ہو کر رہ گیا۔

دوسرے بگاڑ کی مثال موجودہ مسیحیت کے عقائد " تثلیث، کفاره، ابنیت مسیح وغیرہ ہیں۔ یہ عقائد نہ صرف یہ کہ حضرت مسیح نے کبھی تلقین نہیں کئے بلکہ آج بھی وہ متی، مرقس، لوقا اور یوحنا کی انجیلوں میں نہیں پائے جاتے۔ کا عقیدہ سینٹ پال نے ایجاد کیا، تاہم تثلیث اس کے یہاں بھی نہیں۔ یہ سب مسیحی متکلمین کی باتیں تھیں جو بعد کے دور میں وجود میں آئیں، مسیحیت جب شام سے باہر نکلی تو دوسری قوموں، خاص طور پر مصریوں اور یونانیوں کو، مسیحی بنانے کی خاطر مسیحی علماء نے یہ کیا کہ اپنی تعلیمات کو ان کی مانوس زبان میں بیان کرنا شروع کیا جس کو قرآن میں مضاہاة (توبہ ۳۱) کہا گیا ہے۔ مسیحی بزرگوں کی یہ باتیں دھیرے دھیرے مقدس ہوتی چلی گئیں۔ یہاں تک کہ رومی شہنشاہ قسطنطین اول کے کے زمانہ میں جب ان کو سیاسی حمایت بھی حاصل ہوگئی تو نیقیا کونسل (۳۲۵) کے ذریعے اس خود ساختہ مسیحیت کو انھوں نے حقیقی مسیحیت کی حیثیت سے بزور رائج کر دیا۔ گویا وہ چیز جس کو آج مسیحی عقائد کہا جاتا ہے، وہ در حقیقت کسی زمانہ کا مسیحی کلام تھا جو بالآخر مسیحیت کا جزو بلکہ اصل مسیحیت بن گیا۔

آج اسلام پر یہ سارے گرد و غبار اسی طرح پڑ چکے ہیں جس طرح وہ پچھلی امتوں کے دین پر پڑے تھے ۔ اسلام کی تجدید کا کام سب سے پہلے ان آمیز شوں کو اس سے الگ کرنا ہے ۔ خدا کے دین کو از سر نو زندہ کرنے کی کوئی کوشش اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس کو انسانی گرد و غبار سے پاک نہ کر دیا جائے ۔ پیغمبر اسلام نے مختلف انداز سے اپنی امت کو واضح تنبیہ کر دی تھی کہ وہ اس فتنہ سے بچیں ۔ دنیا سے جاتے ہوئے آپ نے جو آخری نصیحت کی، وہ یہ تھی :

تركت فيكم امرين لن تضلوا ما تمسكتم بهما، کتاب الله وسنة رسوله موطا امام مالک میں تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں۔ ان کو پکڑے رہوگے تم گمراہ نہ ہوگے ، خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ۔

مگر بعد کے دور میں، جیسا کہ خود پیغمبر اسلامﷺ نے پیشین گوئی فرمادی تھی، اس وراثت نبوی پر اضافے شروع ہوگئے، حتیٰ کہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ اسلام کی فہرست میں بھی نہایت معصومانہ طور پر وہ ساری چیزیں شامل کردی گئیں جنہوں نے دوسرے مذاہب کو بگاڑ ڈالا تھا۔ تاہم دونوں مثالوں میں ایک زبردست نوعی فرق ہے۔ دیگر مذاہب میں فقہ و تصوف یا علم کلام کے اضافے ان کے اصل آسمانی متن کا حصہ بن گئے۔ یہاں تک کہ اب یہ معلوم کرنا ہی نا ممکن ہو گیا کہ ان کی "کتاب مقدس" کا کون سا جزو وہ ہے جو خدا نے ان کے رسول پر اتارا تھا اور کون ساوہ ہے جو بعد کے لوگوں نے اضافہ کرکے اس میں شامل کردیا۔ اس کے برعکس اسلام، ہر قسم کے اضافوں کا شکار ہونے کے باوجود، اصل خدائی متن (قرآن) کو آج بھی مکمل طور پر محفوظ کئے ہوئے ہے۔ اور کسی بھی شخص کے لئے ممکن ہے کہ وہ انسانی اضافوں کو الگ کرکے اصل خدائی دین کو دریافت کرسکے۔ اس سلسلے کی پہلی خرابی وہ ہے جو فقہ کے راستے سے آئی۔ شاہ ولی اللہ دہلوی نے لکھا ہے: اعلم ان رسول الله صلى الله تعالى عليه واله وسلم لم يكن الفقه في زمانه الشريف مدونا، ولم يكن البحث في الأحكام يومئذ مثل البحث من هؤلاء الفقهاء حيث يبينون بأقصى جهدهم الأركان والشروط و آداب كل شيئ ممتازا عن الآخر بدليله، ويفرضون الصور ويتكلمون على تلك الصور المفروضة ويعدد ما يقبل الحد ويحصون ما يقبل الحصى الى غير ذلك من صنائعهم، اما رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم فكان يتوضأ فيرى الصحابة وضوءه رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فقہ کی تدوین نہیں ہوئی تھی اور نہ اس وقت مسائل میں ایسی بحثیں ہوتی تھیں جیسی یہ فقہا کرتے ہیں کہ نہایت کوشش سے ارکان و شرط اور درج شے کے آداب ایک دوسرے سے جدا جدا مع دلائل بیان کرتے ہیں۔ اور صورتیں فرض کر کے ان مفروضہ صورتوں میں گفتگو کرتے ہیں اور جو حد کے قابل ہے اس کی حد بیان کرتے ہیں اور جو حصر کے قابل ہے اس کا حصر کرتے ہیں اور اسی قسم کے دوسرے امور کرتے ہیں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں یہ تھا کہ آپ وضو کرتے تھے پس صحابہ آپ کے وضو کو دیکھتے اور خود بھی ویسا ہی کرتے بغیر ہ فقہ سے مراد اس بحث میں صرف عبادتی فقہ ہے۔

فیأخذون به من غیران یبین ان هذارکن ذلک ادب، وکان یصلی فیرون صلاته فیصلون كما رأوه يصلى و حج فرمنق الناس حجه ففعلواكما فعل فهذا كان غالب حاله صلی الله تعالیٰ علیه وسلم ولم يبين ان فروض الوضوء ستة أو اربعة ولم يفرض انه يحتمل ان يتوضأ انسان بغير موالاة حتی يحكم عليه بالصحة او الفساد الا ما شاء الله وقلما كانوا يسألونه عن هذه الاشیاء ۔ عباس رضی الله عنهما قال: مارأيت قوما كانوا خیرا من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ماسألوه الا عن ثلاث عشرة مسألة - حتى قبض حجۃ الله البالغہ، جلد اول باب اسباب اختلاف الصحابة والتابعين في الفروع اس کے کہ آپ یہ کہیں کہ یہ رکن ہے وہ مستحب ہے اور آپ نماز پڑھتے پس صحابہ آپ کی نماز کو دیکھتے اور خود بھی اسی طرح نماز پڑھتے جس طرح آپ کو نماز پڑھتے دیکھا تھا۔ اور آپ نے حج پس لوگوں نے آپ کے حج کو دیکھا اور ویساہی کیا جیسا آپ نے یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غالب حال تھا آپ نے یہ بیان نہیں کیا کہ وضو میں فرائض چھ یا چار ہیں اور نہ آپ نے اس احتمال کو فرض کیا کہ انسان بغیر پے در پے کے وضو کرے تاکہ اس کے صحیح یا فاسد ہونے کا حکم کیا جائے، الا ما شاء اور صحابہ اس قسم کی باتیں آپ سے بہت کم دریافت عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ میں نے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر لوگ نہیں دیکھے۔ نے آپ سے صرف تیرہ مسئلے دریافت کئے، یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی ۔

(۵۰ ، ۵۰ اے۔ استعمال ، ہند، عباب ، مرسحہ ، فہ ، ۳۱ راکی) فقہ کا لفظ، اپنے موجودہ اصطلاحی مفہوم میں، قرآن و حدیث میں استعمال نہیں ہوا ہے، حجیت من اس کی تدوین کا آغاز قرن اول کے بعد ہوا جب کہ مسائل نے نئی وسعت اختیار کرلی۔ اسلام پھیلتا جا رہا تھا، یہاں تک کہ وہ چین کی سرحدوں سے لے کر فرانس کی سرحدوں تک جا پہنچا۔ بے شمار نئے لوگ اسلام میں داخل ہو گئے اور ان کی وجہ سے نئے نئے سوالات پیدا ہونے لگے۔ اس وقت ان سوالات کا جواب دینے کا پہلا مرکز عراق بنا۔ عراقی فقہاءءء نے قیاس اور استخراج کے ذریعے نئے سوالات کے جوابات دینے شروع کئے۔ اس وقت حدیثیں مدون نہ ہوئی تھیں، اس لئے کسی فقیہ کے پاس سارا ذخیرہ حدیث اس طرح موجود نہ تھا جیسے وہ آج ہم کو اپنے کتب خانہ میں رکھا ہوا نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی فقہا کے یہاں کثرت سے اپنی سابق رایوں سے رجوع ملتا ہے، فقہ کی کتابیں اس قسم کے اندراجات سے بھری ہوئی ہیں: هذا رأي أبي حنيفة الأول، وانه رجع عنه هذا مذهب الشافعي القديم فهو فى العراق وهذا مذهبه الجديد في مصر هذا احدى الروايات عن مالك (او عن احمد بن حنبل) وان هناك روايات أخرى حدیث کی جمع و ترتیب کا کام جو نمایاں شکل میں دوسری صدی ہجری کے نصف ثانی میں شروع ہوا، اس کی بڑی وجہ وہ رد عمل تھا جو ارباب حدیث کے درمیان عراقی فقہا کے خلاف پیدا ہو گیا تھا۔ گویا حدیث کی تدوین اس تحریک کا ایک جز تھی کہ مسائل کی بنیاد "رائے" کے بجائے احادیث و آثار پر ہونی چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی دور کی حدیث کی کتابوں میں وہی حدیثیں جمع کی گئیں جن سے فقہی احکام معلوم ہوتے تھے۔ اس کی ایک مثال موطا امام مالک ہے۔

کتبِ حدیث، جن میں ہر قسم کی حدیثیں جمع کی گئیں، ان میں بھی ابواب کی ترتیب فقہی طرز پر نظر آتی ہے۔ اسی کا اثر تھا کہ امام بخاری نے اپنی کتاب کی تالیف سے پہلے یہ نقشہ بنایا کہ ایک ضابطہ قانون میں کیا کیا ابواب ہونے چاہئیں اور اس کے مطابق پیشگی ابواب مقررر کئے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں بہت سے عنوانات کے تحت تو کئی کئی روایتیں ملتی ہیں ۔ بعض عنوان کے تحت صرف قرآن کی ایک آیت درج ہے اور بعض عنوانات دونوں سے خالی ہیں۔

تا ہم جہاں تک " فقہ" ، کا سوال ہے، حدیث کی جمع و ترتیب کے بعد بھی اس کی ضرورت باقی تھی۔ طریقے اگر چہ بنیادی طور پر تمام صحابہ کے یہاں ایک ہی تھے۔ مگر حدیث نے بتایا کہ اس کے ضمنی پہلوؤں میں مختلف صحابہ کے عمل میں بعض فرق پایا جاتا ہے۔ اب سوال تھا کہ کیا کیا جائے اور عبادت کا کون سا ڈھانچہ مقر کیا جائے۔ یہاں لوگوں کی دور آئیں ہو گئیں۔ ایک طرف محدثین تھے ، دوسری طرف فقہاءء۔ محدثین - محدثین کی رائے یہ تھی کہ الصحابۃ کلھـــم عدول کے مطابق کسی بھی صحابی کی رائے پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ اسامہ بن زید کہتے ہیں ، میں نے قاسم بن محمد بن ابو بکر سے پوچھا، غیر جہری نماز میں امام کے پیچھے قرات کیسی ہے۔ فرمایا : قرات کرو تب بھی اصحاب رسول اللہ میں تمھارے لئے اسوہ ہے اور نہ کرو تب بھی اصحاب محمد میں اسوہ ہے (۸۰) عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے: ہر صحابی امام ہے اور ہر صحابی کی پیروی درست ہے (۸۰) محمد بن عبدالرحمن صیر فی بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے پوچھا، اگر کسی مسلّمہ میں صحابہ کا اختلاف ہو تو کیا تنقید و تمحیص کرنا چاہئے تاکہ جس کے ساتھ حق نظر آئے اس کی پیروی کی جائے۔ دیا ” نہیں ، انھوں نے کہا پھر کیا کریں، کہا؟ جس صحابی کے قول کو چاہو لے لو (تقلید اليهم احببت (۸۳) اللہ حدیث کے فقہی مسلک کے بارے میں علما ء کے درمیان جو اختلاف ہے ، اس کی وجہ یہی ہے۔ کیونکہ معروف معنوں میں ان کا کوئی ایک فقہی مسلک ہی نہ تھا۔ (جامع بیان العلم، جزء ثانی)

مگر فقہا کی رائے اس سے مختلف تھی۔ ابو عمر کہتے ہیں کہ امام شافعی ، لیث بن سعد، اوزاعی، ابو ثور اور دیگر فقہاء کی رائے یہ ہے کہ جب ایک ہی مسئلہ میں دو متضاد قول ہوں تو دونوں حق نہیں ہو سکتے ۔ لازمی طور پر ایک ہی صحیح ہوگا ، دوسرا غلط (الماحی الاعاد (۸۳)۔ ایسی صورت میں ضروری ہے کہ کتاب و سنت ، اجماع امت اور اصول مسئلہ پر قیاس کر کے ایک کو رائج اور دوسرے کو مرجوح قرار دیا جائے ۔

اس بحث میں حق بلا شبہ محدثین کی طرف تھا۔ بعض امور ایسے ضرور ہیں جن میں فرق کا معاملہ حق اور ناحق کا معاملہ ہوتا ہے۔ مگر ہر فرق کی نوعیت یہی نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر بعض روایات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گمان تھا کہ بعض جانور (مثلاً چوہا، گوہ) یہود کی مسخ شدہ نسلوں کی اولاد ہیں (لعله من القرون التي مسخت، مسلم) مگر دوسری روایات کے مطابق آپ نے فرمایا کہ تمام جانور پہلے سے ہیں۔ کوئی جانور کسی مسخ شدہ قوم کی نسل سے نہیں (ان اللہ لم يلعن قوما قط فيمسخهم فكان لهم نسل، ولكن هذا خلق كان ، ابو داؤد ) ظاہر ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک ہی بات صحیح ہو سکتی ہے۔ اس لئے ہم مجبور ہیں کہ ایک روایت کو ترک کر کے دوسری کو اختیار کریں ۔ اسی طرح بعض روایات کے مطابق اولا د مشرکین کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ وہ اپنے آبار کے ساتھ جہنم میں ہوں گے

(هم مع اباءهم، ابن کثیر) دوسری طرف ایسی بھی روایات ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ "بچہ حالت طفلی میں مر جائے تو وہ جنت میں جائے گا (المولود فی الجنة، احمد) طبرانی کی ایک روایت کے مطابق آپ سے اطفال مشرکین کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا وہ اہل جنت کے خادم ہوں گے (هم خدم اهل الجنة) ظاہر ہے کہ ایک لڑکا بیک وقت جنت اور دوزخ دونوں جگہ نہیں ہوسکتا۔ اس لئے ہمارا فرض ہوگا کہ دونوں قسم کی روایات کی چھان بین کر کے صحیح تر قول کو تلاش کریں۔

مگر جہاں تک عبادت کے طریقوں میں مذکورہ فرق کا تعلق ہے، وہ نہ صرف انتہائی ضمنی اور فرعی ہیں بلکہ ایک ایسے دائرہ سے تعلق رکھتے ہیں جہاں فرق کے معنی لازماً یہ نہیں ہیں کہ ایک صحیح ہے اور دوسرا غلط۔ اس معاملہ میں فرق دراصل تنوع اور توسع کو بتاتا ہے نہ کہ حق اور ناحق کو۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ایک ہی صحابی کو بسا اوقات مختلف عمل کرتے ہوئے پاتے ہیں۔ مثال کے طور پر امام مالک اور امام شافعی نے بروایت عروہ نقل کیا ہے کہ حضرت عمر فاروق نے منبر پر آیت سجدہ تلاوت کی اور اتر کر سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ دوسروں نے بھی کیا۔ اگلے جمعہ کو دوبارہ آپ نے آیت سجدہ تلاوت کی اور سجدہ نہیں کیا۔ لوگوں نے قصد کیا کہ سجدہ کریں تو منع فرمایا اور کہا کہ اپنی جگہ بیٹھے رہو (ازالة الخفاء، مقصد دوم، ۱۷۹) حضرت عمر مسجد میں داخل ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی اور امام شافعی یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ اگلے دن آپ مسجد میں آئے اور ایک رکعت نماز پڑھ کر سلام پھیر دیا۔ کہا گیا، آپ نے ایک ہی رکعت نماز پڑھی۔ جو چاہے زیادہ پڑھے اور جو چاہے کم (۱۷۸) اسی طرح حضرت عمر کے بارے میں روایت کیا گیا ہے کہ نماز میں آپ بسم اللہ الرحمن الرحیم عام طور پر با آواز بلند نہیں پڑھتے تھے۔ مگر کبھی کبھی آپ نے بسم اللہ با آواز بلند بھی پڑھا (۱۶۲) حضرت عبداللہ بن عباس کو معلوم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض اوقات بارش کے موقع پر منادی کے ذریعہ اعلان کرایا تھا کہ الاصلوافی الرحال۔ اس کے باوجود ان کے بارے میں روایات میں آتا ہے:

قالہ موذنه فی یوم مطیر یوم جمعة ، اذ قلت حضرت ابن عباس نے جمعہ کے روز بارش کے دن اپنے اشهد ان محمد ا رسول الله فلا تقل حتى علی موذن سے کہا، جب تم اذان میں اشهدان محمد ارسول الله الصلاۃ ، قل صلوافی بیوتکم۔ فکان الناس استنکروا کہو تو اس کے بعد حی علی الصلاۃ مت کہنا بلکہ یہ فقرہ کہنا: ذلک ، فقال فعله من هو خیر منی (یعنی رسول الله صلوافی بیوتکم (اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو) موذن نے صلى اللہ علیہ وسلم) وانی کرهت ان اخر جکم فی الطین جب اس طرح اذان دی تو لوگوں کو عجیب معلوم ہوا۔ نے فرمایا: یہ اس ہستی نے کیا ہے جو مجھ سے بہت بہتر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ انھوں نے کہا: مجھے پسند نہیں ہوا کہ تم کو کیچڑ اور پھسلن میں گھر سے نکالوں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی زندگی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی عبادت، اپنے بنیادی ڈھانچہ کے اعتبار سے، ایک مقرر عمل ہونے کے باوجود اپنی ساری تفصیلات میں ایک مخصوص عمل کی یکساں تکرار کا

نام نہ تھی ، جیسا کہ آج ایک شخص کو اپنے مسلک کی مدون فقہ میں نظر آتا ہے۔ بلا شبہ اسی کی ایک متعین شکل تھی ۔ وجوہ سے اس میں بار بار فرق بھی پیدا ہو جاتا تھا۔ فرق کی ایک وجہ وہ ہے جو کسی اتفاقی سبب سے پیدا ہوئی۔ مثال کے طور پر طواف کعبہ کے وقت رمل (کندھوں کو ہلاتے ہوئے چلنا) اگرچہ بعد کے فقہاء کے نزدیک سنت ہے مگر عبداللہ بن عباس کا قول ہے کہ آپ نے اس کو وقتی مصلحت کی بنا پر اختیار کیا تھا : انما فعله النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی سبيل الاتفاق لعارض عرض وهو قول المشركين " حطمتهم حتى يثرب ،، وليس بسنة حجة الله البالغہ اسکا ح ا ، فواریه سر جو کف بر بندات... روریات نے جناب نے ہر بار حدب سے پانی میں ملا کر پلاپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو محض اتفاقی طور پر ایک امر عارض کی وجہ سے کیا تھا۔ اور وہ یہ کہ مشرکین مکہ نے کہا تھا کہ مسلمانوں کو مدینہ کے بخار نے کمزور کر دیا ہے ۔ ورنہ طواف میں رمل کرنا مستقل سنت نہیں ہے ۔

کہ فور سے اس بات میں کوئی بڑی اور کوئی فرمائی۔ اسی طرح ایک فرق وہ ہے جو کیفیت عبادت کے وفور سے پیدا ہوتا ہے۔ ترمذی، ابو داؤد، نسائی نے روایت کیا ہے کہ رفاعہ بن رافع نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی۔ درمیان میں انھیں چھینک آگئی تو ان کی زبان سے آواز بلند نکلا: الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى۔ سلام پھیرنے کے بعد پوچھا: نماز میں کون بولا تھا (من المتكلم فى الصلاة) کسی نے جواب نہ دیا۔ آخر تیسری بار پوچھنے پر رفاعہ نے کہا کہ انا یار سول اللہ (میں اے خدا کے رسول) آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اس کلمہ کو لینے کے لئے تیس سے زیادہ فرشتے دوڑ پڑے تھے۔ (مشکوۃ، مالا یجوز فى الصلاۃ و ما یباح، (۹۱) اسی طرح فرق کی ایک وجہ یہ ہوئی کہ اسلام میں اصل اہمیت حقیقت عبادت کی ہے نہ کہ شکل عبادت کی۔ اس لئے عبادت کی ادائیگی کے دوران اگر اس کی شکل میں معمولی فرق ہو گیا تو آپ نے اس کو نظر انداز کیا اور عبادت کی اصل حقیقت پر زور دیا:

عن اسامة بن شريك قال خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حاجاً فكان الناس ياتونه فمن قائل يارسول الله ! سعيت قبل ان اطوف او اخرت شيئاً اوقدمت شيئاً ، فكان يقول لا حرج الاعلى رجل افترض عرض مسلم وهو اسامہ بن شریک کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لئے نکلا ۔ پس لوگ آپ کے پاس آتے کوئی کہتا، یارسول اللہ میں نے طواف سے پہلے سعی کر لیا، کوئی کہتا میں نے فلاں چیز پہلے کر لی، میں نے فلاں چیز بعد میں کی۔ آپ ان کو جواب دیتے، اس میں کوئی حرج نہیں۔

فالمن ذلك الذي حرج وصلك (مشکوٰة کتاب المناسک)

قرآن میں نماز کی ادائیگی سے حد زور دیا گیا۔ کی بات اور ہلاک کرنے والی بات تو یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کی عزت پر حملہ کرے ۔

ہے ، مگر نماز کی متعینہ صورت نہیں بتائی گئی ۔ قرآن میں ہماری ادائگی پر پے در پے حدور دالیا ہے۔ فرمانِ باری تعلّیٰ عورتیں ہیں بتائی گئی ہے۔ سے نماز کی شکل معلوم ہوتی ہے۔ مگر اس کے ساتھ حدیث یہ بھی بتاتی ہے کہ نماز کی ضمنی شکلوں میں تنوع اور توّسع S gred i Ovis حوض کوس، بر سڑک نہر، بارہمولہ، جموں و کشمیر ۸

یہ کوئی ”کمی“ کی بات نہیں ہے جس کی تلافی کے لئے ہمیں ایک نیا فن ایجاد کرنے کی ضرورت ہو۔ یہ دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ نماز ایک زندہ عمل ہے ۔ اور زندہ عمل کبھی بھی مشینی یکسانیت کا پابند نہیں ہوتا۔ فقہ نے بالکل غیر ضروری طور پر یہ کوشش کی کہ اس فطری توسیع اور تنوع کو ختم کرکے عبادت کا یکساں نظام بنائے ۔ اس مصنوعی تدبیر نے نمازیوں کو نماز کے حقیقی فائدہ سے محروم کر دیا۔ وہ نماز کو ایک قسم کا عملیاتی ضمیمہ سمجھنے لگے ۔ نہ کہ ایک ربانی سرچشمہ جوزندگی اور حرارت کی خوراک لینے کے لئے تلقین کیا گیا ہو۔

تاہم اگر فروق عبادت میں ”ترجیح“ ڈھونڈنا اور یکسانیت پیدا کرنا ضروری ہو، جب بھی اس کا وہ طریقہ کسی طرح صحیح نہ تھا جو فقہاء نے اختیار کیا۔ انھوں نے یہ کیا کہ بطور خود اپنے اپنے مدارس فکر قائم کئے اور ہر ایک ذاتی طور پر ترجیح تلاش کرنے میں لگ گیا۔ اب چونکہ بطور واقعہ عبادات میں تنوع پایا جا رہا تھا، کلی یکسانیت کی تلاش مختلف طبائع کو ایک ہی نتیجہ پر نہیں پہنچا سکتی تھی۔ کسی نے ایک طریقہ کو ترجیح دی کسی نے دوسرے طریقہ کو ۔ اس طرح ایک ڈھانچہ بنانے کی کوشش میں کئی ڈھانچے وجود میں آگئے ۔

مسیب بن رافع تابعی کہتے ہیں کہ اگلے زمانہ میں دستور تھا کہ ایسا کوئی معاملہ پیش آتا جس کا حکم کتاب وسنت میں نہ ملتا تو ایسے معاملہ کو صوفی الامار (امرار کا میدان) کہتے تھے۔ حکام کو اطلاع دی جاتی۔ وہ علماء کو جمع کرتے اور ان کے متفقہ فیصلہ پر عمل کیا جاتا (جامع بیان العلم جزء ثانی 144 یہ طریقہ ایسا ہے جس میں اختلاف نہیں ہوتا۔ حکومت کا زور انتشار واختلاف کو ختم کرنے کا ضامن بن جاتا ہے ۔ صدر اول میں قرآن کی تدوین کے سلسلہ میں اسی پر عمل کیا گیا۔ اگر حکومت کی سرپرستی میں انجام نہ پاتا اور لوگ اپنے اپنے طور پر صحیفہ الہی کو مرتب کرتے تو شدید اختلافات کا اندیشہ تھا۔ اسی طرح فقہ میں اگر بالفرض یکساں ڈھانچہ بنانا ضروری ہو تو اس کا طریقہ بھی یہی تھا کہ یہ کام حکومت کی ماتحتی میں واحد ادارہ کے تحت انجام پاتا۔ اس کی بعض مثالیں بھی موجود ہیں۔ مثلاً تکبیرات جنازہ کی تعداد پر صحابہ کے درمیان اختلاف ہوا تو حضرت عمر نے سب کو چار تکبیروں پر جمع کر دیا (۸۵) عبداللہ بن مقفع نے خلیفہ منصور عباسی کو ترغیب دی تھی کہ وہ ایک متفقہ قانون مقرر کرکے ریاست کی طرف سے جاری کر دے (رسالة الصحابہ)

فقہ اپنے پہلے مرحلہ میں مختلف روایات کے درمیان ترجیح تلاش کرنے کا نام تھی مگر سوالات بڑھ رہے تھے۔ کو محسوس ہوا کہ جمع شدہ آثار واحادیث میں تمام سوالات کا جواب نہیں ہے۔ اب انھوں نے معلوم احکام کی بنیاد پر مزید استخراج کا طریقہ اختیار کیا۔ اس طرح فقہ کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا ۔ اور وہ دور ترجیح سے گزر کر دور تفریح میں داخل ہوگئی۔ شاہ ولی اللہ لکھتے ہیں :

فلما مهدوا الفقه على هذا کا القواعد ظلم شکن جب علماء نے فقہ کو ان قواعد پر مرتب کیا تو ان مسائل مسألة من المسائل التي تكلم فيها من قبلهم والتي میں سے جن میں قدما نے کلام کیا تھا اور وہ جوان کے وقعت في زمانهم الا وجدوا فيهابها حديثا ۔ زمانہ میں واقع ہوئے تھے کوئی مسئلہ ایسا نہ تھا جس کے

ثم انشا الله تعالى قرنا آخر - - - فوقع تدوين الحديث والفقه والمسائل ان حاجتهم بموقع من وجه آخر وذلك انه لم يكن عندهم من الاحاديث والآثار ما يقدرون به على استنباط الفقه على الاصول التى يختارها اهل الحديث - - - تمهيدوا الفقه على قاعدة التخريج حجة الله البالغة، جلد اول، ۵۳ - ۳۴ر متعلق کوئی نہ کوئی حدیث انھوں نے نہ پائی ہو۔ بعد اللہ نے ایک دوسرے زمانہ کی پیدائش کی۔ فقہ اور مسائل کو دوسرے طرز پر مدون کرنے کی ضرورت واقع ہوئی اور یہ اس واسطے کہ ان کے پاس اتنی احادیث اور آثار نہ تھے جن سے ان اصولوں کے موافق جن کو ارباب حدیث نے پسند کیا ہے، استنباط فقہ پر قادر ہوتے۔ انھوں نے تخریج کے قاعدہ پر فقہ کی ترتیب دی۔ تخریج کے قاعدہ پر فقہ کی تدوین، معاملات اور قانونی مسائل کی حد تک صحیح تھی، کیونکہ قانونی اور معاملاتی امور میں ہمیشہ نئے نئے سوالات پیدا ہوتے ہیں اور ان میں قیاس واجتہاد کے بغیر چارہ نہیں۔ مگر عباداتی امور تک اس کی توسیع بلا شبہ ایک اجتہادی غلطی تھی جس نے عبادت کو ایک ”فن“ بنا دیا۔ آپ نے فرمایا تھا کہ میں سیدھے سادے آسان دین کو لے کر بھیجا گیا ہوں (بُعِثْتُ بالحنیفية السمحة) مگر عباداتی امور میں نئے نئے فقہی مسائل ایجاد کرنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ دین ایک ایسا پیچیدہ فن بن گیا جس کو فن فقہ کا متخصص ہی جان سکتا ہو۔ جس طرح فنون میں موشگافیاں کی جاتی ہیں اور نئی نئی باریکیاں پیدا کر کے قانون وضع کئے جاتے ہیں، اسی طرح عبادات میں باریکیوں کی تلاش شروع ہو گئی : اور دین کی باریکیوں یا پیدا کرنے کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ ومنها من اقبل اكثر هم على التعمقّات في كل فن - - - ومنهم من كثر القيل والقال في اصول الفقه - - - فاستقصى واجاب وتقصى وعرّف وقسّم شاه ولی اللہ ، حجة اللہ ، جلد اول ، صفحہ ۳۵۹ ن جاری مباحثات میں بابِ دین میں سُورۃ برات اور توبہ کی آ اس میں سے یہ ہے کہ اکثر لوگ ہر فن کی باریک بینی کی طرف متوجہ ہو گئے ۔ بعض نے اصول فقہ کے متعلق بڑی قیل و قال پس نہایت درجہ چھان بین کی ۔ ہر امر کی تعریف و

اس کا نتیجہ ہوا کہ عبادات میں ایسی بدعتیں ہونے لگیں جن کا صحابہ کے زمانہ میں کوئی وجود نہ تھا۔ (۱۵۰ - ۲۰۴ھ) پہلی بار کوفہ پہنچے تو مسجد میں ایک نوجوان کی نماز انھیں ٹھیک دکھائی نہ دی۔ انھوں نے کہا : " نماز ٹھیک طرح پڑھا کرو تا کہ خدا تمھارے حسین چہرے کو عذاب دوزخ میں مبتلا نہ کرے " نوجوان نے کہا میں پندرہ برس سے اسی مسجد میں محمد بن حسن (۱۸۹ھ) اور ابو یوسف (۱۸۲ھ) کے سامنے نماز پڑھ رہا ہوں۔ ان اماموں نے کبھی کچھ نہیں کہا۔ اور تم میری نماز پر اعتراض کرتے ہو۔ دونوں امام اتفاق سے اس وقت مسجد کے باہر موجود تھے۔ نوجوان نے جاکر ان سے کہا " آپ لوگوں نے میری نماز میں کبھی کوئی خرابی دیکھی ہے " انھوں نے جواب دیا " خدا یا کبھی نہیں " نوجوان نے کہا ، مگر مسجد میں ایک شخص بیٹھا ہے جس نے میری نماز پر اعتراض کیا ہے۔ اماموں نے کہا ، تم اس شخص کے پاس جاؤ اور سوال کرو کہ نماز میں تم کس طرح داخل ہوتے ہو " نوجوان مسجد میں واپس آیا اور امام شافعی سے کہا " اے وہ شخص جس نے میری نماز پر اعتراض کیا ہے ، بتاؤ کہ تم نماز میں کس طرح داخل ہوتے ہو " (یا من عاب صلاتی بم تدخل فی الصلاة) امام شافعی نے جواب دیا : (یہ مناقب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم) ۴۱ چہرے کے رنگ روپ سے

بفرضین وسنتہ دو فرض اور ایک سنت کے ساتھ میں نماز میں داخل ہوتا ہوں۔

نوجوان نے یہ جواب امام محمد بن حسن اور امام ابو یوسف کو پہنچایا تو انھوں نے کہا " جواب ایسے آدمی کا جس کی علم پر نظر ہے، ، اب انھوں نے لڑکے کو دوبارہ بھیجا کہ جاؤ پوچھو وہ دونوں فرض اور سنت کیا ہیں۔ اس نے آ کر پوچھا تو امام شافعی نے کہا: پہلا فرض نیت ہے، دوسرا فرض تکبیر تحریمہ ہے۔ اور سنت دونوں ہاتھوں کا اٹھانا ہے (رحلة الامام الشافعی، المطبعة السلفیہ قاہرہ، ۱۳۵۰ ھ، صفحات ۱۳-۱۴)

یہی واقعہ اگر دو صحابی کے درمیان ہوتا تو کیا ان کا سوال وجواب بھی اسی قسم کا ہوتا۔ فضل بن موسیٰ کا بیان ہے کہ مشہور محدث اعمش (۱۳۷ھ) بیمار پڑے اور امام ابوحنیفہ (۱۵۰ ھ-۸۰ھ) ان کی عیادت کے لئے گئے۔ میں بھی ساتھ تھا۔ امام ابوحنیفہ نے اعمش سے کہا " ابو محمد! یہ خیال نہ ہوتا کہ بار بار آنے سے آپ کو تکلیف ہوگی تو میں جلد جلد عیادت کو آتا"، اعمش نے جواب دیا : "جب آپ اپنے گھر میں ہوتے ہیں، اس وقت بھی میرے اوپر بوجھ ہوتے ہیں، عیادت کا کیا ذکر ہے فضل کا بیان ہے کہ واپسی پر امام ابوحنیفہ نے مجھ سے کہا " اعمش کا کبھی نہ کوئی روزہ صحیح ہوا ہے نہ غسل جنابت ﷺ فضل کہتے ہیں کہ سحری اور غسل کے بارے میں امام اعمش کا مسلک امام ابو حنیفہ سے مختلف تھا ۔ ( ابن عبد البر، جامع بیان العلم وفضلہ، جزء ثانی، صفحہ ۱۵) کیا کسی صحابی سے توقع کی جاسکتی ہے کہ محض فروعی مسائل میں فرق کی وجہ سے وہ کسی کے روزہ اور غسل کی صحت اور عدم صحت کے بارے میں اس قسم کا حکم لگاتا۔

اس قسم کے مباحث و مسائل کا نتیجہ یہ ہوا کہ فقہ اسلامی کے نام سے ایک ایسا فن وجود میں آگیا جس سے اصحاب رسول بھی نا واقف تھے۔ کس صحابی کو خبر تھی کہ وضو میں مثلاً " چار فرض ہیں، ۱۳ سنتیں ہیں اور8 مستحبات "- علم دین کے بارے میں فقہ کے ایجاد کردہ اس فنی معیار نے بعض اوقات بڑی نا پسندیدہ چیزیں پیدا کر دیں۔ کہا جاتا ہے کہ امام ابوحنیفہ نے امام اوزاعی (۱۵۷ھ) سے کہا تھا :

لولا فضل الصحبة لقلت ان علقمة افقه من اگر صحابی ہونے کی فضیلت عبد اللہ بن عمر میں نہ ہوتی تو عبد الله بن "

(حجتہ اللہ ۳۷۱) میں کہتا کہ علقمہ عبداللہ بن عمر سے زیادہ فقیہ ہیں ۔

امام ابوحنیفہ کے ذہن میں یہ بات اسی لئے آئی کہ " فقہ " ان کے زمانے میں جس فن کا نام بن گیا تھا اس فن میں انھیں عبد اللہ بن عمر صحابی علقمہ تابعی سے پیچھے نظر آتے تھے۔ بعض اوقات یہ ذہن اور بھی زیادہ نا پسندیدہ شکل میں ظاہر ہوا ۔ مشک کو مکروہ سمجھتے تھے۔ لوگوں نے کہا " مگر اصحاب محمد تو مشک کا استعمال کرتے تھے "، ضحاک نے جواب دیا " ہم اصحاب محمد سے زیادہ جانتے ہیں"، (نحن اعلم منهم، جز وثانی ۱۵۵) صحابہ سوالات کا جواب دینے سے بچنے کی کوشش کرتے اور نئے نئے سوالات کی حوصلہ شکنی کرتے تھے۔ اب ایسے لوگ پیدا ہو گئے جو بیباکی کے ساتھ نئے نئے سوالات کرتے اور ان کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ مثال کے طور پر:

سئل الامام خجندى رحمہ اللہ عن رجل شافعی المذہب امام تجندی سے کسی نے پوچھا کہ ایک شخص شافعی المذہب

ترک صلاة سنة او سنتين ثم انتقل الى مذهب ابی حنیفة کیف يجب علیہ القضاء ، اليقضيہ علی مذہب الشافعی او علی مذہب ابی حنیفة حجة اللہ البالغہ ، جلد اول ، ۳۷۸ نے ایک سال یا دو سال کی نماز ترک کردی۔ اس کے بعد اس نے ابو حنیفہ کا مذہب اختیار کر لیا تو اس پر کس طرح سے قضا واجب ہے ، آیا امام شافعی کے مذہب کے موافق قضا نماز ادا کرے یا امام ابو حنیفہ کے مذہب کے موافق ۔ اس قسم کی باتیں صحابہ کے زمانہ میں معدوم تھیں۔ حتیٰ کہ کوئی شخص اگر کسی صحابی سے ایسا سوال کرتا تو وہ اس کا جواب دینے کے بجائے اس پر لعنت بھیجتا کہ کیا تم دین محمدی کو دین یہودیت بنانا چاہتے ہو۔ مگربعد کو یہ حال ہوا کہ لوگ نہایت دلیری کے ساتھ اس قسم کے سوالات کرتے اور جواب دینے والے فخر کے ساتھ ان کا جواب دیتے کیونکہ ”فقه“ ان کے نزدیک سب سے بڑا علم تھا :

وکان بعد هم قوم لا یکرهون المسائل ولا يهابون الفتيا ويقولون على الفقه بناء الدين فلا بد من اشاعته حجة اللہ البالغہ ، ۳۵۲ ان کے بعد ایسے لوگ ہوئے جو مسائل کو بیان کرنے میں کوئی برائی محسوس نہیں کرتے تھے اور فتویٰ دینے سے خوف نہیں کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ دین کی بنیاد ہی فقہ پر ہے ، اس لئے اس کی اشاعت ضرور ہونی چاہئے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ اصحاب حدیث اور ارباب رائے (فقہاء) کے درمیان زبردست اختلاف پیدا ہوا۔ حضرت ابو ہریرہ کی یہ روایت محدثین کے درمیان خوب پھیلی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ امت کچھ زمانہ تک کتاب اللہ اور کچھ زمانہ سنت رسول اللہ پر چلے گی۔ پھر رائے پر عمل شروع ہوگا اور اسی وقت سے گمراہی میں پڑ جائے گی۔ (جامع بیان العلم ، جزو ثانی ، ۱۳۳) قاسم بن محمد بن ابو بکر نے فقہی خوض کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا: قال القاسم انكم تسئلون عن اشياء ما كنا نسأل عنها و تنقرون عن اشياء ما كنا ننقر عنها (حجة اللہ البالغہ ، ۳۱۷)

تم ایسی باتیں دریافت کرتے ہو جن کو ہم (صحابہ سے) دریافت نہیں کرتے تھے اور ایسی باتوں کی تفتیش کرتے ہو جن کی ہم تفتیش نہیں کرتے تھے۔

فقہی خوض کے نتیجہ میں جب عبادت الہی کے ایسے ایسے احکام و مسائل وجود میں آئے جن سے اصحاب رسول اللہ بھی ناواقف تھے تو اہل نظر چیخ اٹھے۔ بقیہ بن الولید کا بیان ہے کہ امام اوزاعی (۱۵۷ھ) نے مجھ سے کہا ”اے علم وہی ہے جو اصحاب محمد سے پہنچا ہے۔ اور جو کچھ اصحاب محمد سے نہیں پہنچا ، وہ علم ہی نہیں“۔ سعید بن جبیر تابعی (۹۵ھ) نے کہا ” جو بات اصحاب بدر کو نہیں معلوم وہ دین بھی نہیں“۔ ـــــ (مالک عبرفه البِد دیوان فليس من الدين ، ۹۷)۔ شعراء نے اس پر نظمیں لکھیں۔ ایک شاعر اپنی طویل نظم میں کہتا ہے : قد نقض الناس حتى احد ثوا بدعا في الدين بالى اى لم تبعث به الرسل (۹۸)

لوگوں نے کھود کرید کی، ، یہاں تک کہ دین میں ایسی نئی چیزیں نکالیں جنھیں پیغمبر نہیں لائے تھے۔ عبداللہ بن مسلمه قعنبی کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں امام مالک کے پاس گیا تو دیکھا کہ رو رہے ہیں۔ میں نے سلام کیا،

انھوں نے جواب تو دیا مگر روتے رہے۔ میں نے کہا ابو عبداللہ ! کیوں آپ اس قدر رو رہے ہیں، فرمایا: ’’میرا معاملہ اب خدا کے ہاتھ میں ہے۔ مجھ سے بہت زیادتی ہوئی ،کاش اس معاملہ میں میرے لفظ لفظ پر ایک کوڑا مجھے مارا جاتا اور میں نے اپنی رائے سے کچھ نہ کہا ہوتا، اتنے زیادہ فتوے نہ دیئے ہوتے‘‘ (جزء ثانی ، صفحہ ۱۳۵) امام مالک کہتے ہیں، اگلے لوگ جن کو میں نے دیکھا، ان کا یہ دستور نہ تھا کہ بے دھڑک کہہ دیں، یہ حلال ہے، وہ حرام ہے۔ عبداللہ بن مسلمہ قرشی سے روایت ہے کہ امام مالک نے کہا ” یہ معاملہ برابر استوار رہا۔ تک کہ ابو حنیفہ ظاہر ہوئے اور مسلمانوں میں رائے کو رواج دے گئے۔ ‘‘ خالد بن نزار نے امام مالک کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’ ابو حنیفہ تلوار لے کر اس امت پر ٹوٹ پڑتے تو اتنا نقصان نہ پہنچا سکتے جتنا اپنی رائے وقیاس سے پہنچا گئے ہیں‘‘، ابن عیینہ نے کہا ’’کوفہ کا معاملہ درست رہا، یہاں تک کہ ابو حنیفہ کا ظہور ہوا۔ جزء ثانی، صفحہ ۱۴۷ امام ابویوسف (۱۸۲ھ) نے جب عباسی سلطنت میں قانون کا عہدہ سنبھالا تو فقہ کے پھیلاؤ کے لئے ایک مادی محرک بھی پیدا ہو گیا :

وکان اشهر اصحابه ذكر ابو يوسف رحمه الله امام ابو حنیفہ کے شاگردوں میں سب سے مشہور امام فولى قضاء القضاة ايام هارون الرشيد فكان ابو یوسف ہیں۔ وہ ہارون رشید کے عہد میں قاضی القضاة سببا لظهور مذهبه والقضاء به في اقطار مقرر کئے گئے۔ پس وہ امام ابو حنیفہ کے مذہب کی العراق ودخراسان وما وراء النهر شہرت کا اور اطراف عراق ،خراسان اور ماور اء النہر (حجة الله، ۳۳۳۰) میں معمول بہ ہونے کا سبب بن گئے ۔

امام ابو یوسف کو اسلام میں سب سے پہلے ’’قاضی القضاة ‘‘ کہا گیا ۔ وہ تین عباسی خلفاء ــ مہدی، ہادی اور ہارون الرشید کے زمانہ میں قاضی کے منصب پر فائز رہے۔ اس زمانہ کے لحاظ سے ان کا عہدہ بیک وقت چیف جسٹس اور وزیر قانون دونوں کا تھا۔ چنانچہ پوری حکومت اسلامی میں فقہ، خاص طور پر فقہ حنفی کو خوب ترقی ہوئی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ حکومت کے عہدوں کے لئے فقہ میں مہارت حاصل کرنے لگے۔ محمود دراق (ص ۶۸) کی ایک طویل نظم کے چند شعر یہ ہیں (جامع بیان العلم وفضله، جزء اول، صفحه 166) ركبوا المواكب واغتدوا زمرا الى باب الخليفه صبح ہوئی اور سوار ہو کر خلیفہ کی ڈیوٹیھی کی طرف دوڑے وصلوا البكور الى الرواح ليبلغوا الرتب الشريفه اونچے عہدوں کی طلب میں رات دن ایک کر دیتے ہیں ضاقت قبور القوم واتسعت قصورهم المنيفه ان کی قبریں تو تنگ ہو چکی ہیں مگر اونچے محل خوب وسیع ہیں

متفقہ جمع الحديث الى قیاس ابی حنیفہ متفقہ ہیں انھوں نے احادیث کو قیاس ابو حنیفہ کے مطابق کر لیا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ مذاہب فقہ کے ابتدائی بانیوں کے ذہن میں ہرگز وہ تفریقی شدت نہ تھی جو بعد کو وقوع میں آئی۔ مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ عباداتی فقہ کو مختلف مذاہب میں تقسیم کرنے کا کوئی دوسرا نتیجہ بھی نکل نہ سکتا تھا۔ ساری تاریخ بتاتی ہے کہ مابعد الطبیعیاتی امور میں، دوسرے لفظوں میں وہ امور جن کی صداقت کو عقلی طور پر جانچا نہ جا سکتا ہو، انسان بے حد حساس واقع ہوا ہے۔ اس قسم کے امور میں معمولی اختلاف بھی دو انسانی گروہوں کے درمیان ناقابل عبور دیوار کھڑی کر دینے کے لئے کافی ہے۔ مثال کے طور پر قصاص کے بارے میں امام شافعی نے سورہ حج کی آیت ۶۰ سے استدلال کیا ہے کہ کسی شخص سے قصاص اسی خاص ڈھنگ پر لیا جائے گا جس ڈھنگ پر اس نے ظلم کیا ہو۔ مثلاً کسی نے ایک آدمی کو پانی میں ڈبا کر مارا ہے تو اس کو بھی ڈبا کر ہی مارا جائے گا، کسی نے آگ میں جلا کر مارا ہے تو اس کو بھی جلا کر مارا جائے گا۔ مگر حنفیہ اس کے قائل نہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ قتل خواہ کسی طریقہ سے کیا گیا ہو، قاتل سے قصاص ایک ہی معروف طریقہ پر لیا جائے گا۔ قانون کے ماہرین اور علماء کے درمیان قانون کی تعبیر میں اس قسم کے اختلافات ہمیشہ ہوتے ہیں۔ مگر یہ اختلاف فرقہ بندی اور باہمی تعصب پیدا نہیں کرتا۔ اس کے برعکس عبادتی امور میں اتنا سا اختلاف بھی ایک ہی جگہ دو عبادت گاہیں بنوا دیتا ہے کہ نماز با جماعت کے لئے تکبیر کہی جائے تو مقتدیوں کو شروع ہی میں صف بنا کر کھڑا ہو جانا چاہئے یا اس وقت جب مکبر قد قامت الصلوٰۃ کہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے: الخلاف فی الدین ينتج من الخصومة اكثر مما ينتج الخلاف فی السياسة ۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ مسلمانوں میں باہمی اختلاف کی واحد سب سے بڑی وجہ وہ عبادتی اختلاف ہے جس کو الگ الگ فقہ کی شکل میں مرتب کیا گیا۔ حالانکہ یہ اختلاف جو حقیقۃً انتہائی ضمنی تھا، باعتبارِ حقیقۃً کوئی اہمیت نہ رکھتا تھا۔ وہ چیز جس کو فقہاء ”متعارض روایتوں‘‘ میں ترجیح یا افضلیت تلاش کرتا کہتے ہیں، عبادتی امور میں اکثراوقات غیرضروری ہوتا ہے کیونکہ یہ تعارض حقیقت عبادت کی ضمنی شکلوں میں تنوع کی تصدیق کرتا ہے نہ کہ اختلاف کو بتاتا ہے جس کو ختم کرنے کے لئے کسی علمی مشقت کی ضرورت ہو۔ اسی کے ساتھ ایک نقصان اور بھی ہوا۔ ان جزئیات یا دوسرے لفظوں میں ”تکمیلی احکام‘‘ کی اہمیت ابتدائی فقہاء کے نزدیک اگرچہ اس سے زیادہ نہ تھی کہ عوام کو ایک بنا بنایا مکمل ڈھانچہ دے دیا جائے تاکہ وہ بآسانی ان عبادات کو ادا کر سکیں۔ مگر یہاں بھی انسان کی تاریخی کمزوری ان کے معصوم ارادوں پر غالب آگئی۔ لوگوں نے یہ سمجھا کہ عبادت ایک انتہائی مقررہ عمل کو یکسانیت کے ساتھ دہرانے کا نام ہے۔ اس طرح، اگرچہ اعتقادی طور پر نہیں مگر عملی طور پر حقیقت عبادت کے بجائے شکل عبادت لوگوں کا مقصود بن گیا۔

موجودہ عبادتی فقہ نے، اس طرح، بیک وقت مسلمانوں کو دو تحفے دیئے ہیں۔ ایک اختلاف دوسرے مذہبی اہلِ حدیث کا گروہ اسی فقہی خرابی کو ختم کرنے کے لئے وجود میں آیا تھا۔ مگر وہ خود ایک شدید تر قسم کا فقہی گروہ

پیدا کرنے کا سبب بن گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے بھی غلطی کی جوان کے پیش روؤں نے کی تھی۔ آہستہ کہی جائے یا بلند آواز سے، امام کے پیچھے فاتحہ پڑھی جائے یا نہ پڑھی جائے، اس قسم کے ضمنی فروق جو عبادتی افعال کے بارے میں روایات میں ملتے ہیں، ان میں سے ہر ایک کو تسلیم کرنے کے بجائے وہ دوبارہ اس کوشش میں لگ گئے کہ ایک کو راجح قرار دے کر بقیہ کو مرجوح ثابت کریں۔ اور اس طرح دوسروں کے بالمقابل خود اپنا ایک "صحیح تر" نظام عبادت مقرر کریں۔ اس قسم کی کوشش صرف ایک نیا فقہی فرقہ وجود میں لاسکتی تھی اور اس نے وہی انجام دیا۔

اس صورت حال کی اصلاح کی صورت یہ ہے کہ عبادتی فقہ کو معاملاتی فقہ سے الگ کر دیا جائے جیسا کہ وہ دوسری صدی ہجری سے پہلے تک الگ تھی۔ معاملاتی فقہ میں اجتہادی تفصیلات یا مزید تعینات نہ صرف جائز بلکہ مگر عبادتی فقہ کو صرف انھیں طریقوں کی جمع و ترتیب تک محدود رہنا چاہئے جو صحیح روایات میں موجود ہیں۔ یہاں نہ ترجیح پسندیدہ ہے نہ تخریج۔ جہاں ایک سے زیادہ طریقے ملیں، وہاں ضروری حوالوں کے ساتھ تمام طریقوں کو درج کر دینا چاہئے، بجائے اس کے کہ ایک کو رایج اور دوسرے کو مرجوح ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔ ہارون رشید نے ایک بار ارادہ کیا کہ تمام لوگوں کو حکم دے دیا جائے کہ وہ مسائل میں صرف امام مالک کی فقہی رایوں پر عمل کریں۔ امام موصوف نے خلیفہ کو روک دیا اور فرمایا کہ ایسا نہ کرو۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب فروعات میں مختلف ہوئے ہیں (لا تفعفل فان اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اختلفوا في الفروع (حجة الله) فروعی اختلاف اگر صحابہ کے لئے اجتماعی عبادت گزاری میں مانع نہ تھا تو ہمارے لئے وہ کیوں مانع ہو جائے گا کہ "عوامی ضرورت" کے نام پر دین میں ایسے اضافے کریں جو خدا اور رسول کے دیئے ہوئے توسعات کا دروازہ بند کر دے۔ غیر مطلوب ہونا اس تاریخی واقعہ سے ثابت ہے کہ ان " اختلافات " کے باوجود صحابہ کا یہ حال تھا کہ وہ بنیان مرصوص (صف) بنے ہوئے تھے۔ اور جب اختلافات کو ختم کر کے یکساں عبادی نظام بنایا گیا تو امت میں ایسا اختلاف پڑا کہ آج تک ختم نہ ہوا۔

دوسری انتہائی ضروری چیز مدارس دینیہ میں تعلیم کے موجودہ منہج کی تبدیلی ہے۔ اس برائی کو امت کے اندر مسلسل باقی رکھنے کا واحد مؤثر عامل یہی ادارہ ہے۔ ہمارے دارالعلوم موجودہ حالات میں، صرف اس بات کا ذریعہ بن گئے ہیں کہ اپنے مخصوص فقہی مسلک کو قرآن وسنت کے مطابق ثابت کر دکھائیں۔ ۱۳۳۰ھ میں رشید رضا مصری ہندوستان آئے تھے۔ اس سلسلہ میں وہ دارالعلوم دیوبند بھی گئے۔ وہاں ان کے خیر مقدم کے لئے ایک اس موقع پر موصوف نے دارالعلوم کے ایک استاد سے پوچھا کہ یہاں حدیث کے درس کا طریقہ کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جب حدیث پڑھی جاتی ہے تو محدث پہلے اس کے علمی نکات کو بیان کرتا ہے۔ اگر بادی الر ائے میں حدیث امام ابوحنیفہ کے مسلک کے خلاف ہوتی ہے تو محدث حنفی مسلک سے اس کی مطابقت ثابت کرتا ہے۔ رشید رضا نے یہ سن کر کہا، کیا یہی تمام احادیث میں ہوتا ہے۔ کہا گیا ہاں۔ انھیں یہ بات بہت عجیب معلوم ہوئی۔

مولانا محمد یوسف بنوری کی روایت کے مطابق (تحفۃ العبر صفحہ اے) انھوں نے کہا:

کیا حدیث بھی حنفی ہے۔ ایسا کس طرح ہوسکتا ہے۔

ہل الحدیث حنفی، وکیف یمکن ذلک وہل یہ تو محض عصبیت ہے جس کے لئے کوئی دلیل نہیں۔

مولانا انور شاہ کشمیری اس زمانہ میں دارالعلوم میں حدیث کے استاد تھے۔ انھیں یہ خبر پہنچی تو انھوں نے اپنی خیر مقدمی تقریر میں اسی کو اپنا موضوع بنایا اور "ثابت" کر دیا کہ تمام حدیثیں فقہ حنفی کے مطابق ہیں۔ تاہم مولانا انور شاہ کشمیری (م ۱۹۳۳ء - ۱۸۷۵ء) کو آخر عمر میں اس طریق تعلیم کی خامی کا احساس ہو گیا تھا۔ موصوف کے شاگرد مولانا مفتی محمد شفیع (۱۹۷۶ - ناقل ہیں کہ مولانا کشمیری نے ان سے کہا: "ہماری تمام کد و کاوش کا خلاصہ یہ رہا ہے کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کریں۔ مگر کیا حاصل ہے اس کا اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم زیادہ سے زیادہ اپنے مسلک کو صواب محتمل الخطاءءثابت کریں اور دوسرے مسلک کو خطا محتمل الصواب کہیں ۔ ہم تمام تر تحقیق و کاوش کے بعد یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ صحیح ہے لیکن احتمال موجود ہے کہ یہ اور وہ خطا ہے اس احتمال کے ساتھ کہ وہ صواب ہو۔ قبر میں منکر نکیر یہ نہیں پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترک رفع یدین حق تھا۔ آمین بالجہر حق تھی یا بالسرحق تھی۔ جس چیز کو نہ دنیا میں نکھر نا ہے نہ محشر میں۔ اس کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کر دی۔ اور جو صحیح اسلام کی دعوت تھی جس کی دعوت انبیاء کرام لے کر آئے تھے۔ آج وہ دعوت تو نہیں دی جا رہی۔ ہم لگے ہوئے ہیں ان فردی بحثوں میں۔ " (جمعیتہ دہلی)

ہمارے عربی مدارس ، خواہ وہ کسی بھی مسلک کے تحت قائم ہوئے ہوں، ان میں شیخ الحدیث کا منصب اسی قسم کی فقہی پہلوانی کے لئے خاص ہو گیا ہے۔ یہاں ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں جو بظاہر عالم دین کی سند لے کر نکلتے ہیں مگر حقیقتاً وہ عالم اختلاف ہوتے ہیں۔ وہ علم دین کا کمال یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے فقہی مذاہب کے مقابلہ میں اپنی فقہ کو صحیح ثابت کر دکھائیں۔ وہ چھوٹے چھوٹے دینی فروق کو لے کر ان کی بنیاد پر اکھاڑے قائم کرتے ہیں اور ساری امت کو ایسے جدال و نزاع میں الجھا دیتے ہیں جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ۔ مزید یہ کہ غیر اہم فقہی فروغ کو اہم ترین دینی مسئلہ بنا کر وہ عوام کے اندر یہ ذہن پیدا کرتے ہیں کہ عبادت اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ فلاں مخصوص اشکال کے بجائے فلاں مخصوص اشکال کے ساتھ اس کو دہرایا جائے۔ مدارس دینیہ میں جب تک اس قسم کی نسل پیدا کرنے کا سلسلہ بند نہ کیا جائے عوام کی اصلاح نہیں ہوسکتی۔ ان مدارس کے سلسلے میں کم سے کم جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ کہ امت واحدہ کو انھوں نے امت متفرقہ میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے:

الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا، كُلُّ حِزْبٍ جنہوں نے ٹکڑےٹکڑےکرلیا اپنے دین کو اور ہو گئے فرقے بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ روم - ۳۲ فرقے، ہر گروہ اسی میں خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔

۲- اس سلسلے کی دوسری چیز وہ ہے جس کو تصوف کہتے ہیں۔ پہلا شخص جس کو اسلام کی تاریخ میں "صوفی" کے لفظ سے پکارا گیا، غالباً ابو ہاشم الصوفی (۱۵۰ ھ) تھے۔ تا ہم اس وقت تک صوفی کے معنی صرف یہ تھے کہ وہ شخص جو زہد

اور عبادت میں غلو کرے چونکہ یہ لوگ اچھے لباس کو چھوڑ کر صوف (اون) کے معمولی کپڑے اپنے جسم پر لپیٹ لیتے تھے، اس لئے انھیں صوفی کہا جانے لگا۔ اس کے بعد اس کے قواعد اور اصطلاحات بننے لگے۔ یہاں تک کہ تیسری صدی ہجری میں سچ مچ تصوف نے اسلامی روحانیت کے ایک باقاعوہ فن کی شکل اختیار کر لی۔ اشراقی فلسفہ، رہبانیت اور ویدانت میں اس کے لئے کافی مواد تھا۔ اس طرح مختلف بیرونی عناصر کی مدد سے ایک ایسی چیز وجود میں آئی، جس پر اگرچہ اسلام کا لیبل لگا ہوا تھا، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک متوازی مذہب تھا جو اسلام کے اسلام کے بالمقابل بنایا گیا ۔

تصوف کی ایک قسم وہ ہے جس کو " باطنیت‘‘ " کہا جاتا ہے ۔ تیسری صدی ہجری میں، خاص طور پر ایران میں، کچھ لوگ ایسے پیدا ہوئے جن کا کہنا تھا:

ان للقرآن ظاهراً وباطنا، والمراد باطنه قرآن کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ہے، اور مقصود باطن ہی ہے ۔

اسی لئے وہ باطنیہ کے نام سے مشہور ہوئے۔ علماء کے متفقہ فیصلہ کے مطابق یہ زنادقہ کا گروہ تھا جس نے اپنی اباحیت اور بے عملی کو چھپانے کے لئے یہ نظریہ گھڑ لیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ الصوفی لا مذہب لہ (صوفی کا کوئی مذہب نہیں) اس فرقہ کے ایک شخص سے کہا گیا، تم نماز نہیں پڑھتے (الا تصلی اس نے جواب دیا:

انتم مع ادراكم ونحن مع دار داتنا تم اپنے اور ما میں ہو اور ہم اپنی وار دات میں ان کا عقیدہ تھا کہ شریعت کے مکلف عوام ہیں نہ کہ خواص (ان التکلیف خاص بالعوام ، ساقط بالخواص)۔ طرح دہ لوگ ہیں جو حلول اور اتحاد کے قائل تھے اور کہتے تھے کہ سالک جب اپنے سلوک کی آخری منزل پر پہنچتا ہے تو خدا اس کے اندر اتر آتا ہے۔ اس وقت بندے اور خدا میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ حتیٰ کہ اس کے لئے یہ کہنا صحیح ہو جاتا ہے کہ ھو انا وانا ھو وہ میں ہے ، ا میں وہ ہوں) اسی طرح وحدت الوجو د کا نظریہ جس کے تحت ابو حسین الحلاج نے کہا تھا ما فی الجبّة الا اللہ چنانچہ علماء نے ان کے ارتداد کا فتویٰ دیا اور وہ مقتدر کی خلافت میں ۳۰۹ ھ میں قتل کر دیئے گئے۔ اسی طرح تصوف کے وہ طریقے جو سماع و رقص کو خدا تک پہنچنے کا ذریعہ بتاتے ہیں حتیٰ کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو امر پرستی کو قرب الہی کا سبب سمجھتے ہیں ۔ اس کے جواز کے لئے انھوں نے ایک حدیث بھی گھڑ رکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ میں نے اپنے رب کو جوان مرد کی صورت میں دیکھا ( رأیت ربی فی صورة شاب امرد)

تا ہم تصوف کی ان شکلوں پر یہاں ہم کوئی گفتگو نہیں کریں گے۔ کیونکہ علماء متفقہ طور پر ان کی ضلالت کا فتویٰ دے چکے ہیں ۔ ہماری گفتگو تمام تر تصوف کے ان طریقوں تک محدود ہو گی جن کو امت کے اندر قبول عام حاصل ہوا، اور جن کو اب تک بے شمار لوگ نجات کا سب سے قریبی ذریعہ سمجھے ہوئے ہیں ۔

اس تصوف کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک مسنون تعبدی طریقوں میں مقداری اضافہ۔ دوسرے مسنون تعبدی طریقوں پر نوعی اضافہ۔ پہلے طریقہ کے بارے میں ابو القاسم جنید بغدادی (297ھ) نے کہا ہے:

مذہبنا هذا مقيد بالكتاب والسنة ہمارا یہ طریقہ کتاب وسنت کے ساتھ مقید ہے۔ ابتدائی دور کے صوفیاء (اگر انہیں یہ لقب دیا جاسکے) میں یہی پہلی قسم کا تصوف رائج تھا، ان لوگوں نے نماز، روزہ، تلاوت قرآن وغیرہ جو بندات خود مسنون طریق عبادت ہیں، ان کی مقدار میں وہ حد بندی باقی نہ رکھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت تھی۔ مثلاً پانچ وقتہ نمازوں کے علاوہ آپ رات کے پچھلے پہر کچھ رکعتیں (اکثر گیارہ رکعتیں) ادا فرماتے تھے۔ ان بزرگوں نے ساری رات نماز پڑھنی شروع کر دی۔ آپ فرض روزوں کے علاوہ مہینہ میں چند دن مزید روزے رکھ لیتے تھے۔ ان حضرات نے مسلسل روزے رکھنے شروع کر دیئے جس کو صوم وصال کہا جاتا ہے۔ آپ مخصوص اوقات میں قرآن کا کوئی حصہ پڑھ لیا کرتے تھے۔ انھوں نے ہر وقت بس قرآن ہی پڑھنا شروع کر دیا ۔ حتی کہ اگر امام نووی کا بیان صحیح ہو تو ان میں ایسے لوگ بھی ہوئے جو ہر روز آٹھ بار پورا قرآن ختم کر لیتے تھے۔ عبادت کے مسنون طریقوں میں اس قسم کا اضافہ صراحتاً ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ بخاری و مسلم نے حضرت انس سے عبادت کے ستون طریقوں میں اس عمل ہم کا اضافہ صراحتہ روایت کیا ہے :

جاء ثلاثة رهط الی بیوت ازواج النبی صلی الله علیہ وسلم یسئلون عن عبادة النبی صلی الله علیه فلما أخبروا كانهم تقالوها ۔ واين نحن من رسول الله وقد غفر له ما تقدم سودا قرار دیا گیا تھا۔ بخاری و مسلم نے حضرت انس سے تین مسلمان ازواج رسول ﷺ کے گھروں پر آئے اور آپ کی عبادت کے بارے میں دریافت کیا۔ جب انھیں بتایا گیا تو انھیں آپ کی عبادت بہت کم معلوم ہوئی۔ انھوں نے کہا، رسول اللہ سے ہمارا کیا مقابلہ۔ آپ کے تو تمام اگلے پچھلے من ذنبه وما تاخر - فقال احدهم : اما انا فاصلی اللیل ابدا - وقال آخر : انا اصوم الدهر ولا افطر - وقال آخر : انا اعتزل النساء فلا اتزوج ابدا - فجاء رسول الله صلى الله علیه وسلم فقال : انتم الذین قلتم كذا وكذا - اما والله لا نی لا خشاکم لله و اتّقاکم له ، بكنی اصوم واصلی و ارقد واتزوج النساء ، فمن رغب عن سنّتی ایک اور روایت اس طرح سے ہے :

اخر ج ابن جریر و عبد الر زاق وابن المنذر گناہ معاف کردیئے گئے ہیں۔ پھر ان میں سے ایک نے کہا: میں تو رات بھر نمازیں پڑھوں گا۔ دوسرے نے کہا، میں مسلسل روزے رکھوں گا۔ تیسرے نے کہا، میں تجرد کی زندگی اختیار کروں گا اور عورتوں سے کوئی تعلق نہ رکھوں گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ فرمایا: کیا تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسا اور ایسا کہا سنو، خدا کی قسم میں تم سب میں زیادہ خدا سے ڈرنے والا اور متقی ہوں۔ مگر میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ اور عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ یہ میری سنت ہے اور جو میری سنت کو چھوڑے وہ مجھ سے نہیں ۔

آپؐ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے ارادہ کیا کہ دنیا

عن ابی قلابة قال: اسرا دناس من اصحاب النبی کو ترک کر دیں اور عورتوں سے قطع تعلق کر لیں اور راہب بن جائیں۔ رسول اللہ کو معلوم ہوا تو آپ وعظ کے لئے کھڑے ہوئے اور ان کے متعلق سخت گفتگو فرمائی۔

آپ نے کہا تم سے پہلے جو لوگ ہلاک ہوئے وہ اسی قسم کی شدت کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ انھوں نے اپنے اوپر فاوُلئک بقایابھم فی الدیار والصوامع ۔ شدت کی تو اللہ نے بھی ان پر شدت کی۔ انھیں کی بقایا یہ اعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا و حجّوا و اعتمرداً جو صوامع میں ہے۔ تم لوگ اللہ کی عبادات کرو، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ حج کرو، عمرہ کرو اور سیدھے رہو، تمھارے ساتھ سیدھا معاملہ کیا جائے گا۔

ان "عباد و زہاد" کی مدافعت میں جو لٹریچر تیار ہوا، اس کا خلاصہ مولانا عبد الحي لکھنوی (۱۳۰۳ - ۱۴۷۴ھ) کی کتاب اقامۃ الحجۃ علی ان الاكثار فی التعبد ليس ببدعة (حلب - ۱۹۶۶ء) میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان تمام دلائل کی قدر و قیمت صرف اس وقت تک ہے جب کہ متعلقہ" اکابر" کے عمل کا لازماً صحیح ہونا بطور پیشگی مفروضہ کے مان لیا جائے ۔ اگر اس مفروضہ کو ذہن سے نکال دیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان توجیہات کی علمی اعتبار سے کوئی حقیقت نہیں۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ پیغمبر اسلام نے اپنی امت پر شفقت کی وجہ سے کم عبادتیں کیں، کیونکہ آپ اگر زیادہ عبادت کرتے تو ساری امت پر ویسا ہی کرنا فرض ہو جاتا (کان يترك كثرة العبادات شفقة على امته درحمة علی اتباعه لئلا يتحرجوا باتباعھم فی ذلک)

اس استدلال کی کمزوری اس واقعہ سے ثابت ہے کہ عبادت میں تشدد کے بجائے آپ کا اعتدال اگراست پرشفقت کی وجہ سے تھا تو آپ نے دوسرے معاملہ میں لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَن لَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (شعراء - ۳) کا اسوہ اپنی امت کے لئے کیوں چھوڑا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی اپنے مومن بندوں سے یہ مطلوب ہی نہیں کہ وہ اس قسم کے کرشمے دکھائیں کہ مغرب کے وضو سے فجر کی نماز پچاس سال تک پڑھتے رہیں اور روزانہ آٹھ آٹھ بار قرآن "ختم" کر ڈالیں۔ اپنے جسم کو غیر ضروری مشقت میں ڈالنا یا رات دن کچھ اشکال عبادت کو دہراتے رہنا وہ چیز نہیں جو اللہ تعالی کو مطلوب ہو۔ اس کو جو چیز مطلوب ہے وہ اندرونی طور پر قوی ہے کہ اس کے بندے اس کی محبت اور خوف سے سرشار ہوں۔ اور خارجی طور پر یہ کہ ایک طرف اپنے عمل کو زندگی کی تمام سرگرمیوں میں خدائی تعلیم کے مطابق بنائیں ، اور دوسری طرف دوسرے بندگان خدا کو اللہ کے دائرہ میں لانے کی کوشش کریں۔ بعد کے بزرگوں کے بارے میں کثرت عبادت" کے افسانے ، اگر بالفرض صحیح ہوں تب بھی یہ وہ دین نہیں جو پیغمبر عربی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے لائے اور جو قرآن و سنت کی شکل میں اب بھی ہمارے پاس پوری طرح محفوظ ہے۔ اس قسم کے کمالات جو بعد کے لوگوں سے منقول ہیں، بلاشبہ ان کا ہدی محمدی سے کوئی تعلق نہیں۔

مگر در دزوال کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ اپنے رجال پر تنقید کی جرات ختم ہو جاتی ہے۔ قسم کے اعمال پر نکیر کے بجائے ان کی توجیہہ بلکہ تحسین شروع ہو گئی۔ حتی کہ رفتہ رفتہ وہ اس قدر مقدس ہو گئے کہ اب کسی کے لئے یہ سوچنا بھی محال ہو گیا کہ ان میں کوئی نقص ہے۔ حافظ ذہبی (748ھ) اور ابن تیمیه (۷۲۸ھ) کا تشد د صوفیاء کے بارے میں مشہور ہے۔ مگر ان کا بھی یہ حال ہے کہ کسی کی مدح و ثنا کے ذیل میں کثرت عبادت کے قصے نقد و جرح کے بغیر نقل کر دیتے ہیں۔ حالاں کہ یہ قصے باعتبار واقعہ بھی اکثر نا قابل اعتبار ہوتے ہیں اور دین کی حقیقت سے تو ان کا کوئی تعلق ہی نہیں ۔ یہی حال ہماری اکثر کتابوں کا ہے ۔

تصوف کی دوسری شکل ، تعبدی امور میں نوعی اضافہ کا معاملہ، پہلی سے بھی زیادہ شدید ہے۔ پہلا اگر قرآن کے الفاظ میں اعتدار (اعراف - ۵۵) ہے تو دوسرا ابتداع (حدید - ۲۷) اور معلوم ہے کہ دین میں احداث اور ابتداع، خواہ وہ اچھی نیت ہی سے کیوں نہ ہو، قطعاً مردود ہے۔ بخاری و مسلم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے : من احدث فی امرنا هذا ما ليس منه فهو رد جو ہمارے دین میں کوئی نئی چیز لائے وہ رد ہے امام نزادہ جو فی سمرقندی (۳۷۱ھ) نے اپنی کتاب شریعۃ الاسلام میں صحابہ کے بارے میں لکھا ہے : وقد كانت الصحابة ينكرون اشد الانكار صحابہ اس شخص کے خلاف شدید ترین انکار کرتے تھے علی من احدث او ابتداع رسالم متیھد ولا جو کوئی ایسا طریقہ نکالے جس کو انھوں نے نبوت کے فى عهد النبوة قل ذلك او اكثر صغير ذلك اد زمانہ میں نہ دیکھا ہو خواہ وہ کم ہو یا زیادہ ، چھوٹا ہو کبیر (صفحه (۹) یا بڑا۔

صحابہ کا یہ شدید رویہ عبادات کے بارے میں تھا، معاملات کے بارے میں نہ تھا۔ معاملات انسانی کا بہت گہرا تعلق دنیا کے عملی حالات سے ہے جو ہمیشہ یکساں نہیں رہتے۔ اس لئے اس میں صراحتاً نئے فیصلوں کی اجازت دی گئی ہے جس کو قرآن میں استنباط (نساء - ۸۳) اور حدیث میں اجتہاد (معاذ بن جبل ) کہا گیا ہے۔ مگر عبادت کا تعلق ازلی و ابدی ہستی کے ساتھ انسان کے رویہ سے ہے اس لئے اس میں کسی تبدیلی اور اضافے کا سوال نہیں۔ یا معذوری کی بنا پر کسی کے ساتھ رعایت تو کی جاسکتی ہے مگر اپنی طرف سے قیاسی اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ معاملہ میں صرف اتباع ہے۔ عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا اتبعوا ولا تبتدعوا (اتباع کرو، نئی چیز نہ نکالو) معاملات کے باب میں مسلسل اجتہاد کیا گیا۔ مگر کسی صحابی نے تکیر نہ کی۔ مگر عبادات میں ذرا سا نیا پن بھی ان کے لئے ناقابل برداشت ہوتا تھا ۔ عبد اللہ بن مغفل کے صاحبزادہ کہتے ہیں :

سمعنی ابی دانا فی الصلاة اقول : بسم الله الرحمن میرے باپ نے مجھ کو نماز میں کہتے ہوئے سنا "بسم الله الرحيم فقال لى : أي بني مُحَدث، اياك والمحدث، الرحمن الرحيم" تو مجھ سے کہا، میرے بیٹے یہ نئی چیز ہے اور تم کو چاہئے کہ نئی چیز سے بچو۔ (ترمذی ، نسائی، ابن ماجہ، بیہقی )

یہ دفتنی کیفیت کے تحت حمد یا دعا کا کلمہ زبان سے نکل پڑے تو جائز ہے مگر اس کو مسئلہ بنانا جائز نہیں ۔

معاملاتِ انسانی کی نوعیت چونکہ دنیوی حالات کی تبدیلی سے بدلتی رہتی ہے، اس لئے اس میں اجتہاد کی اجازت دی گئی تھی۔ مگر عبادات و روحانیات کے پہلو سے جو کچھ مطلوب ہے، اس میں کمی بیشی کا سوال ننئیں۔ صرف اتباع ہے۔ ابن عبدالبر نے جامع بیان العلم وفضلہ میں سعید بن مسیب سے نقل کیا ہے کہ حضرت عمر نے خطبہ دیا اور اس میں فرمایا:

Printed page