اسلام: دورِ شمشیر کا خاتمہ، دورِ دعوت کا آغاز
Al-Risala, January 1978, pp. 25–36
By Maulana Wahiduddin Khan
بحر مردار (DEAD SEA) اردن اور اسرائیل کے درمیان واقع ہے۔ اس کا دوسرا نام بحر لوط ہے۔ برس پہلے یہ علاقہ نہایت سرسبز و شاداب علاقہ تھا۔ چار بڑے بڑے شان دار شہر اس کے کنارے آباد تھے۔ کے لوگوں میں بگاڑ آگیا تو لوط بن حاران بن آزر کو خدا نے پیغمبر بنا کر ان کے پاس بھیجا۔ مگر ان کی سرکشی بڑھتی رہی۔ جب حجت تمام ہو گئی تو ۲۰۶۱ ق م میں ایک ہولناک زلزلہ آیا۔ ان کی بستیاں الٹ گئیں۔ سمندر کا پانی ان کے اوپر چڑھ پورا علاقہ اس طرح برباد ہو گیا کہ اب وہاں چڑیاں اور مچھلیاں بھی نہیں پائی جاتیں ۔
یہی معاملہ تمام نبیوں کے منکرین و مخالفین کے ساتھ پیش آیا ہے۔ اتمام حجت کے بعد کوئی قوم موجودہ دنیا میں بود و باش کے حق سے محروم ہو جاتی ہے۔ اس لئے فرشتوں یا خود اہل ایمان کے ذریعہ اس دنیا سے اس کا خاتمہ کر دیا جاتا ہے۔ پیغمبر آخر الزماں کے مخالفین بھی ، آپ کا انکار کرنے اور آپ کو آپ کے وطن سے نکال دینے کے بعد ، اسی خدائی سزا کے مستحق ہو گئے تھے (اسرار ۷۔ ۲۷) چنانچہ انہیں بھی یہ سزا دی گئی۔ البتہ اس کی صورت بدلی ہوئی تھی۔ دیگر انبیاء کے ساتھیوں کی تعداد چونکہ بہت کم تھی، اس لئے ان کے مخالفین کو ہلاک کرنے کے لئے زلزلہ اور طوفان آئے (عنکبوت۔ مگر نبی آخرالزماں کے ساتھ حمایت کرنے والوں کی بھی معقول تعداد ہو چکی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے خود آپ کے ساتھیوں کی تلوار کو آپ کے مخالفین کی ہلاکت کے لئے استعمال کیا (قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ) بدر کی قتل گاہ، اپنی نوعیت کے اعتبار سے، ٹھیک ویسی ہی تھی جیسا عاد و ثمود کے برباد شدہ مساکن۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ تلوار ، پیغمبر اسلام کے مشن کا اضافی جز رھتی نہ کہ حقیقی جز ر۔ وہ شکلاً دفاعی جنگ اور حقیقۃً خدائی سزا کے طور پر ظاہر ہوئی ، جیسے پچھلی قوموں پر آنے والا عذاب شکلاً زلزلہ یا طوفان تھا اور حقیقۃً ایک منکر قوم پر خدا کی سزا۔ مگر بعد کے دور میں اسلام کی تاریخ پر جو کتابیں لکھی گئیں ان میں، عام رواج کے اثر سے "تلوار" کے واقعات بہت زیادہ نمایاں ہو گئے۔ لوگوں کو اسلام کی تاریخ تلوار کی تاریخ نظر آنے لگی۔ حتیٰ کہ خود مسلمان بھی شمشیری کارنامے دکھانے کو سب سے بڑا جہاد سمجھنے لگے۔
بعد کے دور میں اسلام کے ساتھ جو المیے پیش آئے، ان میں یہ المیہ سرفہرست ہے کہ دین رحمت دین شمشیر بن گیا۔ اسلام جن مقاصد کے لئے آیا، ان میں سے ایک مقصد یہ بھی تھا کہ انسانوں کے درمیان جنگ و جدل کو ختم کر کے سمجھنے اور سمجھانے کے طریقے کو رائج کرے (ص - ۲۹) طاقت کی منطق کی جگہ عقل و فكر کی منطق کو اونچا مقام دے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام ، دورِ تلوار کا خاتمہ اور دورِ دعوت کا آغاز تھا۔ قرآن میں یہ حکم کہ قرآن کے ذریعہ جہاد کرو (فرقان) گویا اس بات کا اعلان تھا کہ پیغمبر اسلام کی بعثت سے تاریخ انسانی میں ایک نیا دور شروع ہوتا ہے جب کہ نظریہ «شمشیر و سناں‘‘ کا نظریاتی طاقت سے فتوحات حاصل ہوا کریں گی۔
اس اصول کا نہایت کامیاب مظاہرہ خود پیغمبر اسلام نے معاہدہ حدیبیہ کی صورت میں کیا۔ آپ نے جنگ سے بچنے کے لئے بظاہر ایک مقولہانہ صلح کرلی۔ آپ میدان جنگ کو چھوڑ کر میدان دعوت کی طرف واپس چلے گئے۔ یہ صلح جو ظاہر بینوں کے نزدیک ”ذلت آمیز شکست“ کے ہم معنی تھی، خدا نے اس کو فتح مبین (فتح - ۱) قراردیا ان الفاظ کی صداقت صرف دو برس میں ثابت ہو گئی۔ صلح کے وقت مسلمانوں کی تعداد بمشکل ڈیڑھ ہزار تھی ۔ جب کہ اس کے بعد، دعوت و تبلیغ کے نتیجہ میں، ان کی تعداد دس ہزار تک پہنچ گئی۔ اب اسلام اتنا طاقت ور ہو چکا تھا کہ مکہ کسی جنگ کے بغیر فتح ہو گیا۔ مسلمانوں کے اندر بعد کے زمانے میں، یہ جو ذہن پیدا ہوا کہ وہ سیاسی اقتدار سے ٹکرانے اور شمشیری کمال دکھانے کو جہاد سمجھنے لگے ، اس کی ایک وجہ اور تھی۔ اور وہ یہی فتنہ تھا جس میں اکثر پچھلی امتیں مبتلا ہوئی ہیں۔ سلیمان بن داؤد (۹۳۷ - ۹۹۱ ق م) یہودیوں کے ایک جلیل القدر پیغمبر تھے۔ آپ کی حکومت شام و فلسطین کے علاوہ مشرق میں فرات کے ساحل تک اور مغرب میں سرحد مصر تک پھیلی ہوئی تھی۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان کو بعض غیر معمولی معجزے دیے گئے تھے۔ ہوا ان کے لئے مسخر تھی، وہ جانوروں کی بولیاں سمجھ سکتے تھے (نمل) معدنیات پر انہیں خصوصی قدرت حاصل تھی۔ جنات ان کے تابع کر دیے گئے تھے (ص، سبار) اسی قسم کے ایک جن نے ملکہ سبا کا تخت پلک جھپکنے میں یمن سے لا کر فلسطین میں رکھ دیا تھا (نمل)
حضرت سلیمان کی وفات کے بعد، آپ کی یہ خصوصیات، یہود کے لئے فتنہ بن گئیں۔ اپنے ”قومی بزرگ “ کی تقلید میں انہوں نے کوشش شروع کردی کہ وہ بھی اس قسم کے کمالات اپنے اندر پیدا کریں۔ انہوں نے بطور خود کچھ گھڑا ماتی فنون ایجاد کئے اور ان کو حضرت سلیمان کی طرف منسوب کر دیا (بقره - ۱۰۲) سحر و کہانت اور مختلف قسم کے سفلی عملیات، سب مفروضہ ”سلیمانی انگشتری“ کے بدل کے طور پر بنے۔ طلسماتی اعمال میں انھوں نے اتنی شہرت حاصل کی کہ ۳۰ قام میں جب ایرانی بادشاہ بخت نصر نے ان کو اپنے وطن سے منتشر کیا تو فلسطین کے باہر بھی توہم پرست لوگوں میں وہ اپنے معتقدین بابل (قدیم عراق) میں وہ محنت مزدوری کرانے کے لئے لے جائے گئے تھے۔ مگر جوش انسائیکلوپیڈیا کے مطابق ” بابل کا مذہبی احترام ہر خطہ کے یہود میں قائم رہا“ (جلده، صفحہ ۱۳ام) ۔ اس نفک تعلیم کے اثر سے، موجودہ زمانہ میں، یہودیوں میں اس قسم کے عملیات کا رواج ختم ہو گیا ۔ تاہم یہ فن اب بھی اپنے سرپرستوں سے محروم نہیں۔ آخرالزمان کی امت نے اس کو ”اسلامی“ بنا کر زیادہ بہتر طور پر اپنی مقدس سر پرستی میں لے لیا ہے ۔ یہی قصہ مختلف شکلوں میں، دوسرے انبیاء کی امتوں کے ساتھ بھی پیش آیا ہے۔ ہر نبی کو، اس کے حالات اور زمانہ کے اعتبار سے، کوئی خصوصی چیز دی جاتی ہے۔ اس کی امت کی بعد کی نسلوں میں جب دینی شعور کمزور پڑتا ہے تو یہ چیز فتنہ بن جاتی ہے۔ یہ فتنہ ہمیشہ اس خصوصیت کی مناسبت سے ہوتا ہے جو کسی نبی کو دیا گیا تھا۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کو خارق عادت معجزے نہیں دیئے گئے۔ اس کے بجائے آپ کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک خصوصی فیصلہ کیا جو، معلوم تاریخ کے مطابق، کسی اور نبی کے ساتھ نہیں کیا گیا تھا۔ دوسرے انبیاء کے مخالفین کو
زیر کرنے یا ان کو ہلاک کرنے کے لیے خدائی آفتیں نازل ہوئیں۔ جیسا کہ نوح، لوط ور ہود علیہم السلام کے مخالفین کے مگر پیغمبر اسلام کے لیے اللہ کا یہ فیصلہ ہوا کہ آپ کے پیروؤں کو تلوار اٹھانے کی اجازت دی جائے اور ان کی تلواروں سے ان کے مخالفین کو زیر کیا جائے (توبہ - ۱۱۳) اور اس طرح ان کو غالب کر کے ایک طاقت اور اسلامی سلطنت قائم کی جائے۔ ایسا کرنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ نبی آخر الزماں کے ذریعہ دین خدا وندی کو تاریخ کی حیثیت دینی تھی جو ہزاروں نبیوں کی آمد کے باوجود ابھی تک صرف ایک مذہبی افسانہ بنا ہوا تھا۔ نبیوں کی آمد کا سلسلہ بند کرنے کا لازمی تقاضا تھا کہ کتاب الہی کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا جائے، پیغمبر آخرالزمان کو اگر اظہار دین کی) یہ خصوصیت نہ دی جاتی تو ان فائدوں کا حصول
پیروان اسلام کے پاس فتنہ میں پڑنے کے لئے حضرت سلیمان جیسے معجزات و کرامات نہ تھے۔ آپ کی امتیازی خصوصیت، ظاہری طور پر دیکھنے والوں کے لئے، فتوحات اور سیاسی انقلابات تھے۔ بعد کے زمانہ میں اسلام کے پیروؤں کے لئے یہی چیز فتنہ بن گئی۔ وہ آپ کی زندگی کے سیاسی پہلو کو آپ کے مشن سے الگ کر کے دیکھ نہ سکے۔ یہ ہوا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ پیغمبر عربی اقتدار وقت سے ٹکرانے اور سیاسی معجزات دکھانے کے لئے آئے تھے۔ انھیں بھی تلوار زنی اور سیاست رانی کے جوہر دکھانے چاہئیں ، ٹھیک ویسے ہی جیسے یہود نے سمجھ لیا کہ حضرت سلیمان کراماتی شعبدوں کا مظاہرہ کرنے کے لئے آئے تھے، اس لئے انھیں بھی اسی قسم کی چیزوں میں مشغول ہونا چاہئے، حالانکہ پیغمبر اسلام کا مشن بھی، قرآن کی تصریحات کے مطابق، وہی تھا جو دوسرے تمام انبیاء کا مشن تھا۔ آپ دعوت الی اللہ اور انذار آخرت کے لئے تشریف لائے تھے۔ نہ کہ تلوار چلانے اور سیاسی کارنامے دکھانے کے لئے۔ جس طرح پچھلے انبیاء زلزلوں اور طوفانوں کے ذریعہ شہروں کو زیر زمین دفن کرنے یا زرخیز زمینوں کو بے آب و گیاہ بتانے نہیں آئے تھے، حالانکہ یہ سب واقعات ان کے ذریعہ سے وجود میں آئے۔ اسی طرح نبی آخر الزماں تلوار چلانے اور قوموں کو زیر کرنے کے لئے مبعوث نہیں کئے گئے، اگر چہ مصلحت خداوندی کے تحت یہ واقعات بھی آپ کی زندگی میں پیش آئے۔ اس ذہن کے اثرات بہت عرصہ سے سیرت اور تاریخ کی ترتیب میں ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے۔ قرآن اور حدیث میں پیغمبر اسلام کی جو تصویر ہے، وہ سیرت میں آکر بدل جاتی ہے۔ سیرت کی کتابیں، دوسرے پیغمبروں کے حالات زندگی کے برعکس، فتوحات اور مغازی کی داستانیں نظر آتی ہیں۔ اسلامی تاریخ تک پہنچ کر یہ ذہن اور ترقی کرتا ہے۔ اسلامی تاریخ، عملاً، اسلام کی تاریخ سے زیادہ سلاطین اور جنرلوں کے کارناموں کی فہرست بن گئی ہے۔ ایسا ہونا فطری تھا۔ اسلام کی تاریخ، بعد کے زمانہ میں اس وقت مرتب کی گئی جب کہ مسلم تلواروں کی جھنکار سے تمام ممالک گونج رہے تھے ۔ فتوحات اور جنگوں کی خبریں سارے مسلم معاشرہ میں سب سے بڑا موضوع گفتگو بنی ہوئیں ۔ اس ماحول میں لکھی جانے والی سیرت کی کتابیں اگر "مغازی" کی داستان بن جائیں اور اسلامی تاریخ " فتوح البلدان" کے روپ میں ڈھل جائے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے۔ سیرت یا اسلام کی تاریخ اگر کی دور میں لکھی ہوئی تو اس کا اندازہ اس سے بالکل مختلف ہوتا جو آج ہمیں اس موضوع کی کتابوں میں نظر آتا ہے۔
موجودہ زمانہ میں پنجہ کر یہ ذہن ایک نئی شدید تر صورت اختیار کر گیا ہے۔ موجودہ زمانہ اسلامی تحریکوں کا زمانہ ہے۔ مگر ہم حیرت ساتھ دیکھتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں جو اسلامی تحریکیں اٹھیں، ان میں سے اکثر اقتدار وقت کے خلاف لڑائی بھڑائی کے راستہ پر پڑ گئیں۔ اس کی وجہ، جزوی طور پر وقت کے سیاسی ماحول کے خلاف رد عمل اور جزوی طور پر مندرجہ بالا تاریخی نفسیات رہی ہے۔ موجودہ زمانہ میں، مغربی تہذیب کے تصادم کی وجہ سے، اسلام اور مسلمانوں کے کے لئے جو مسائل پیدا ہوئے، وہ ایک دعوتی اور تعمیری جدوجہد کا تقاضا کر رہے تھے۔ مگر مسلمان، ساری دنیا میں، شمشیری مقابلہ یا سیاسی ٹکراؤ کے طریقہ کی طرف چلے گئے اور نتیجہ بربادی کے سوا کچھ بھی ان کے حصہ میں نہ آیا۔ اسلام ساری دنیا کے لئے خدا کی رحمت (انبیاء - ۷، ۱۰) تھا۔ وہ اس لئے آیا تھا کہ خدا کے بندوں کو خدا کے • سایہ کے نیچے جمع کر دے۔ مگر خدا کی یہ رحمت ابھی تک اس کے تمام بندوں تک وسیع نہ کی جاسکی۔ اس کی ذمہ داری دوسروں سے زیادہ خود حاملین اسلام پر عائد ہوتی ہے۔
حاملین اسلام ، خدا کی رحمت کو تمام انسانوں تک پہنچانے میں ناکام رہے۔ اس کی واحد وجہ یہی ہے جس کو قرآن میں تفرق في الدین (شوری - ۱۳) کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دین کے آفاقی اور دائمی حصہ کو قرآن میں محفوظ کر دیا تھا اور کہا تھا کہ بس یہی دین کی شاہراہ (صراط مستقیم) ہے، اس پر چلتے رہو۔ اس کے سوا اپنی طرف سے اس میں نئے نئے راستے مت نکالو (انعام - ۱۵۳)۔ مگر مسلمانوں نے خدا کے بتائے ہوئے دین کے سوا بہت سی اور چیزیں نکالیں اور ان کو "دین" قرار دینے پر اصرار کیا۔ ان غیر قرآنی امور پر ساری امت مجتمع نہیں ہو سکتی تھی۔ کچھ لوگوں نے ایک چیز پر اصرار کیا، کچھ لوگوں نے دوسری چیز پر۔ اس طرح دین میں نئے نئے فرقے بنتے چلے گئے۔ ان اختلافات نے لوگوں کو آپس کی لڑائیوں میں مصروف کر دیا، پھر وہ دوسروں تک خدا کا پیغام پہنچانے کا وقت کہاں پا سکتے تھے۔ اسلام ایک سادہ دین ہے (بعثت بالحنيفية السمحة) مگر کچھ لوگوں نے چاہا کہ اسلام کی سادہ تعلیمات میں فنی تفصیلات اور خارجی تعینات کا اضافہ کرکے بزعم خود اس کو مکمل کریں۔ یہی کوشش تھی جس نے ان تمام فنون کو پیدا کیا جن کو فقہ اور تصوف اور علم کلام کہا جاتا ہے۔ احکام اسلامی کی فنی تفصیلات متعین کرنے کا نام فقہ ہے۔ معرفت الہی کے خارجی ذرائع مقرر کرنے کا نام تصوف ہے۔ اعتقادیات اسلامی کو عقلی پیمانوں میں ڈھالنے کا نام علم بظاہر یہ کوششیں مفید اور بے ضرر معلوم ہوتی ہیں۔ مگر دین خداوندی کا معاملہ عام انسانی معاملات سے مختلف ہے۔ دین میں کوئی اضافہ، خواہ وہ بظاہر کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، بالآخر مقدس بن جاتا ہے۔ جو لوگ ایک بار اس سے وابستہ ہو جائیں، وہ نہ صرف خود بلکہ ان کی نسلیں بھی اس کو چھوڑنے یا اس کو غیر اہم سمجھنے کے لئے تیار نہیں ایسی ہر کوشش دین میں صرف ایک نیا فرقہ وجود میں لانے کا باعث بنتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دین میں کسی طریقہ کا اضافہ کرنا مطلق ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ آپ نے فرمایا: جو ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز نکالے جو اس میں نہ ہو من احد ث فی امرنا هذا اما ليس منه فهورد
تودہ قابل رد ہے۔
اس قسم کی کھلی ہوئی ممانعتوں کے باوجود لوگ انتہائی معصومانہ طور پر دین میں اضافے کرتے رہے اور بالآخر ایک دین کو کو’’72‘‘ دینوں میں تقسیم کر ڈالا۔
تاہم یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ اسلام میں اگر اگر’’72‘‘ فرقے پیدا ہوئے تو عیسائیت میں ۲۷۳ فرقے ہند و ازم اس سے بھی زیادہ فرقوں میں بٹا ہوا ہے۔ اس کے باوجود یہ قومیں باہمی جنگ سے بچ کر تعمیر و استحکام کے کاموں میں لگی ہوئی ہیں۔ عیسائیت کا یہ حال ہے کہ آج ساری دنیا میں بہت سے زیادہ منظم تبلیغی کام اسی مذہب کے لوگ کر رہے ہیں، حتی کہ اس نے مذہبی تبلیغ کو نئی وسعت اور بلندی عطا کی ہے۔ ہند و ازم جدید مغربی دنیا میں زبردست تبلیغی مذہب کی حیثیت سے اپنی جڑیں پھیلا رہا ہے، سوامی ووی کانند (۱۹۰۲ - ۱۸۶۳) سے لے کر سوامی پر بھو پادا (۱۹۹۶ - ۱۸۹۶) تک ہند و مبلغین کا ایک سلسلہ ہے جس نے پوری پوری عمر اسی کام میں صرف کر ڈالی اور وقت کی زندہ زبانوں اور آج کی ترقی یافتہ قوموں میں اپنے دھرم کو بڑے پیمانے پر پھیلانے میں کامیابی حاصل کی۔ مگر اسلام، عملی طور پر، صدیوں سے ایک جامد مذہب بنا ہوا ہے۔ اس دوران میں اسلام کے پھیلنے کے اگر کچھ واقعات ہیں تو وہ اسلام کی اپنی قوت کی بدولت ظہور میں آئے ہیں۔ اسلام کے نام لیواؤں کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ الا ماشاء اللہ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے مذاہب صرف مذہبی فرقہ بندی کی بدعت تک محدود رہے ۔ جب کہ اسلام کے نام لیوا اس سے آگے بڑھ کر سیاسی فرقہ بندی کی شدید ترین برائی میں گرفتار ہو گئے۔ عام طرز کی فرقہ بندی کی زیادہ سے زیادہ مذہبی اختلافات پیدا کرتی ہے۔ مگر سیاسی فرقہ بندی وہ بری بلا ہے جو دو فریقوں کو ایک دوسرے کے خون کا پیاسا وہ مناظرانہ بحثوں کو تلوار اور بندوق کی لڑائی بنا دیتی ہے۔ سیاسی فرقہ بندی میں صرف دو ہفتے فرق ایک دوسرے سے نہیں الجھتے بلکہ یہ ایک نہتے گروہ کے ساتھ وقت کے اقتدار کا ٹکراؤ ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بہترین طاقتیں اور صلاحیتیں سیاست کے مقتل میں ذبح کر دی جاتی ہیں۔ دعوت و تبلیغ کا عمل مسلمانوں کی طاقت کو غیر اقوام کی طرف لگاتا ہے۔ جب کہ "اسلامی سیاست کا افسرہ مسلمانوں کو خود مسلمانوں کے خلاف دست و گریبان کر دیتا ہے ۔ مسلمان دو طبقوں کے اقتدار اور با اقتدار) میں بٹ کر ایک دوسرے کو فنا کر دینے پر تل جاتے ہیں۔ اس کی نوبت ہی نہیں آتی کہ وہ متحد ہو کر خدا کے دین کی توسیع و اشاعت کا کوئی مؤثر کام کر سکیں۔ سیاسی فرقہ بندی کا پہلا واقعہ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد شیعیت کا ظہور ہے۔ اسلام سے پہلے تمام معلوم زمانوں سے یہ سیاسی رواج چلا آ رہا تھا کہ بادشاہ کا بیٹا بادشاہ ہوتا تھا۔ حکومت ساری دنیا میں ایک وراثتی حق سمجھا اسلام نے معلوم تاریخ میں پہلی بار اس طریقہ کو ختم کر کے شورائی حکمرانی (شوری - ۳۸) کے طریقہ کا اعلان کیا۔ مگر سب سے لوگ جو اسلام میں داخل ہونے کے باوجود، زمانی افکار سے آزاد نہ ہو سکے تھے، اس تبدیلی کو قبول نہ کر سکے اور پیغمبر اسلام کے بعد آپ کے خاندان میں خلافت کو جاری رکھنے پر اصرار کیا۔ چونکہ پیغمبر کا کوئی بیٹا نہ تھا، اس لئے
"اہل بیت رسول" کی اصطلاح وضع ہوئی۔ تا کہ بیٹے کے علاوہ دوسرے رشتہ داروں کے لئے اس کا استحقاق ثابت کیا جا سکے۔
اس تحریک کو جب کامیابی نہیں ہوئی تو انھوں نے دوسری شدید غلطی کی۔ جو چیز ابتداءً محض ایک سیاسی نظریہ کی حیثیت رکھتی تھی، اس کو انھوں نے ایک باقاعدہ مذہبی عقیدہ بنا ڈالا۔ حتیٰ کہ اس کو نجات کا دار و مدار قرار تاریخ کا تجربہ ہے کہ جس چیز کو مذہبی عقیدہ کی حیثیت دے دی جائے، چاہے وہ بذات خود کتنی ہی اصل کیوں نہ ہو، بالآخر وہ مقدس بن جاتی ہے اور پھر اس کو ختم کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہی شیعہ عقیدہ کے ساتھ ہوا۔ یہ عقیدہ مقدس بن کر ہزاروں لوگوں کے ذہنوں پر چھا گیا اور اس کے لئے سب کچھ کرنا عین جائز قرار پایا۔ اسلام کی اب تک کی تاریخ میں جتنے بڑے بڑے حادثات گزرے ہیں، ان میں کسی نہ کسی طور پر اس عقیدہ کا ہاتھ کام کرتا ہوا نظر آئے گا۔ اس عقیدہ نے مسلمانوں کو ایک دائمی قسم کی خانہ جنگی میں مبتلا کر دیا۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ شیعہ گروہ تاریخ کے ہر دور میں مسلم معاشرہ کے اندر منفی کردار ادا کرتا رہا ہے؛ آغازِ اسلام میں خلافت کے جھگڑوں سے لے کر اب تک مشکل کوئی ایسا مسلم المیہ ملے گا جس میں بالواسطہ یا براہِ راست طور پر اس کی کار فرمائی شامل نہ ہو۔
ان باہمی اختلافات کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ مسلمانوں کی وہ طاقت جو اسلام کی اشاعت و توسیع میں لگتی، وہ آپس کی لڑائیوں میں برباد ہو گئی۔ مثال کے طور پر صفین و جمل کی لڑائیوں (۳۷- ۳۶ھ) اور حسین و یزید کی جنگ (۶۱ھ) میں جو تقریباً ایک لاکھ مسلمان کٹ گئے، وہ اتنے طاقت ور تھے کہ یورپ کی آخری سرحدوں تک اسلام کو پہنچانے کے لئے کافی تھے۔ مگر یہ انتہائی قیمتی گروہ خود اپنے بھائیوں کی تلواروں سے ذبح ہو گیا۔ ایک "تاریخ بنتے بنتے
قدیم زمانہ میں سیاست کو عقیدہ بنانے کا رواج غیر اہل بیت کے اقتدار کے مقابلہ میں اہل بیت کے اقتدار کو ثابت کرنے کے لئے ہوا تھا۔ موجودہ زمانہ میں یہی بدعت نئی شکل میں دہرائی گئی ہے۔ یہ واقعہ ہمارے قائدین کے باسی جوش میں کوئی کمی نہ کر سکا کہ سیاست نے موجودہ زمانہ میں وہ معنویت کھو دی ہے جو قدیم زمانہ میں اسے حاصل تھی۔ پچھلی صدیوں میں اجتماعی معاملات کی نوعیت بے حد بدل گئی ہے۔ قدیم زمانے میں سیاسی انقلاب بجائے خود "انقلاب" کے ہم معنی ہوتا تھا۔ آج سیاسی انقلاب صرف ایک ٹبرونگ ہے، اگر اس کے ساتھ دوسری غیر سیاسی قوتیں اس کی مدد کے لئے جمع نہ کی گئی ہوں۔
اولاً انیسویں صدی کے آغاز میں اس فکر کا ظہور ہوا جب کہ ایشیا اور افریقہ کے ملکوں سے مغربی استعمار کو ختم کرنے اور مسلم اقتدار کو دوبارہ قائم کرنے کے لئے اس کو بطور شرعی دلیل کے پیش کیا گیا ۔ یہ استعمار مسلمانوں کو تعلیم و ترقی اور تبلیغ و دعوت کے میدان میں ہر قسم کے مواقع دے رہا تھا۔ ایک انگریز پروفیسر ٹامسن آرنلڈ (۱۹۳۱ء) نے پریچنگ آف اسلام کے نام سے اس زمانہ میں ایک انتہائی قیمتی کتاب لکھی۔ اس کتاب میں یہ عظیم تاریخی رہنمائی تھی کہ مبادا،
اقتدار کے بغیر اسلام اپنی دعوتی قوت سے ملکوں اور قوموں کو فتح کر سکتا ہے۔ مگر اس قسم کے باتوں سے مسلمانوں کو کوئی دل چسپی نہ ہو سکتی۔ کیوں کہ جس سیاسی نظام کا وجود ہی سرے سے حرام ہو اس کے تحت "آدمی پوری مذہبی زندگی" کا سودا کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ حتی کہ یہ بھی ضروری نہ رہا کہ ہمارا سیاسی پروگرام دنیوی اعتبار سے نتیجہ خیز ہو۔ اب وہ مقدس جہاد تھا جو افضل العبادات ہے اور جس کی راہ پیس اپنے کو مٹادینا بجائے خود کاموںیابی ہے۔ کیوں کہ وہ سیدھے جنت تک تقریباً ڈیڑھ سو سال تک بے شمار لوگ "استعمار" سے لڑ لڑ کر انتہائی بے فائدہ طور پر اپنی جان و مال کو برباد کرتے رہے۔
یہ سیاسی جہاد صرف اجنبی حکمرانوں تک محدود نہ تھا۔ سلطان عبد الحمید ثانی اور شاہ فاروق (۱۹۶۵-۱۹۲۰) جیسے مسلم حکمران بھی اسی سیاہ فہرست میں داخل تھے۔ کیوں کہ وہ مغربی مستعمرین کے ایجنٹ" بنے ہوئے تھے۔ سید جمال الدین افغانی (۱۸۹۷- کو ایران، مصر اور ترکی کے حکمران زبردست مواقع دے رہے تھے کہ وہ دعوتی اور تعلیمی میدان میں اسلام کی تعمیر کا کام کریں۔ مگر ان کی مجاہدانہ سیاست کو اس قسم کے کام حقیر معلوم ہوئے۔ وہ ان مواقع کو چھوڑ کر خود ان حکمرانوں کو تخت سے ہٹانے کے منصوبے بنانے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر جگہ حکمران طبقہ سے ان کا ٹکراؤ ہوا۔ وہ ہر ملک سے نکالے جاتے رہے۔ یہاں تک کہ ترکی کے قید خانہ میں مر گئے ۔ یہی المناک کہانی موجودہ زمانہ میں مسلم ملکوں کے بادشاہوں اور مصلحین کے درمیان مسلسل دہرائی جاتی رہی ہے۔ بیسویں صدی میں مسلم ممالک ، کم از کم سیاسی معنوں میں ، اجنبی اقتدار سے آزاد ہو چکے ہیں۔ مگر مسلمانوں کی باہمی سیاسی لڑائیاں اب بھی ختم نہیں ہوئیں۔ بلکہ اس نے نظریاتی صورت اختیار کر کے مزید شدت پکڑ لی ہے اب اس کا عنوان ہے : اسلامی قانون کا نفاذ یا حکومت الہیہ کا قیام ۔ جس ملک میں بھی چیخ پکار کرنے یا احتجاجی سیاست چلانے کے مواقع ہیں، وہاں ہمارے مصلحین اور قائدین اسلامی قانون کا جھنڈ ا لیے ہوئے اپنی قومی حکومتوں سے ٹکرا رہے ہیں اور پوری قوم کو ایک لامتناہی جنگ میں الجھائے ہوئے ہیں۔ انڈونیشیا کے عبد القہار مذکر (۱۹۶۲- ۱۹۰۳) کو سابق صدر سوہیکار نو ہر قسم کے اصلاحی کام کے مواقع دے رہے تھے۔ مگر وہ دستور اسلامی کے نفاذ کے نام پر لڑ لڑ کر ختم ہو گئے ۔ مصر کے سید قطب (۱۹۶۶- کو سابق صدر جمال عبدالناصر نے اسلامی تعلیم و ترقی کے کام کے لئے حکومتی تعاون کی پیش کش کی۔ مگر وہ اور ان کی پوری جماعت صدر ناصر کی معزولی سے کم کسی چیز پر راضی نہ تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت نے ان کو میں ڈالا۔ پاکستان کے سید ابوالاعلیٰ مودودی - ۱۹۰۳) کو پاکستان کے حکمرانوں نے دعوتی اور تعمیری کاموں کے لئے ہر قسم کا تعاون دینا چاہا۔ مگر ان کے نزدیک سب سے بڑا کام " بے دین حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنا تھا تاکہ پاکستان میں اسلام کی دیوانی اور فوجداری قانون کو نافذ کیا جاسکے اس مقصد کے لئے وہ اور ان کی پوری جماعت اپنے ملک کے مسلم حکمرانوں سے ٹکراتے رہے۔ ان بے فائدہ قسم کی لڑائیوں کا یہ فائدہ تو نہیں ہوا کہ پاکستان میں اسلامی نظام قائم ہو جاتا۔ البتہ اس اکیٹھ پھاڑ میں پاکستان کے بہترین امکانات برباد ہو گئے، حتی کہ خود اسلامی تحریک کے سیاسی امکانات بھی۔ کیوں کہ اسلامی حکومت محض مطالبات اور ایجی ٹیشن
سے قائم نہیں ہوتی۔ اس کے لئے بے حد دور رس منصوبہ بندی درکار ہے اور محاذ آرائی کی فضا میں خاموش منصوبہ بندی کی سیاست سوچی بھی نہیں جاسکتی، اس کو چلانا تو درکنار۔
ہمارے مصلحین کے اس سیاسی ذوق کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ اسلام، ہر مسلم ملک میں، بر سر اقتدار طبقہ کا سیاسی حریف بن کر رہ گیا ہے۔ وہ اسلام کو ٹھیک اسی نظر سے دیکھنے لگے ہیں جیسے امریکہ میں کمیونسٹ پارٹی کو دیکھا جاتا ہے۔ اسلام کے نام پر جب بھی کوئی دعوت اٹھتی ہے، وہ فوراً متوحش ہو جاتے ہیں۔ اسلام کا لفظ، موجودہ حالات میں، ان کے لئے حکمرانوں کو بے اقتدار (UNSEAT) کرنے کی تحریک کے ہم معنی بن گیا ہے۔ غیر اسلامی لوگوں کے ساتھ کام کرنے والوں کو وہ آزادی دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ مگر اسلام کے علم برداروں کو کام کے مواقع دینے پر راضی نہیں ہوتے کیونکہ موجودہ فضا میں اس کا مطلب، ان کے نزدیک یہ ہے کہ اپنے قتل کے کاغذات پر خود ہی دستخط ثبت کر دیئے جائیں۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کو دوبارہ سربلند کرنے کے سلسلے میں پہلا کام یہ ہے کہ اس فضا کو ختم کیا جائے، اسلام کو حکمرانوں کا سیاسی حریف بننے سے بچایا جائے تاکہ مسلم ملکوں کے وسائل اسلامی منصوبوں کے لئے حاصل ہوسکیں ۔ سطح پر اسلام کی دعوت واشاعت کی مہم چلائی جاسکے جس کا زمین و آسمان کو سیکڑوں برس سے انتظار ہے۔ انسانی اندازے کتنے غلط ہوتے ہیں ام عبداللہ نیت ابی حثمہ بیان کرتی ہیں کہ ہجرت حبشہ کے وقت وہ سفر کی تیاری کر رہی تھیں۔ عمر بن خطاب (جو اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے) ادھر سے گزرے۔ اس وقت تک وہ مسلمانوں کے اوپر ظلم کرنے میں انتہائی سخت تھے۔ نے کہا: انہ للانبطلاق یا ام عبداللہ ! (اے ام عبداللہ کیا روانگی ہورہی ہے)۔ ام عبداللہ نے کہا: خدا کی قسم، ہاں، تم لوگ ہمارے اوپر مصیبت ڈال رہے ہو۔ ہم خدا کی زمین میں نکل جائیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ ہمارے لئے کوئی گنجائش پیدا عمر نے یہ سن کر کہا: خدا تمہارا ساتھ دے صحبکم اللہ) یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں رقت طاری ہو گئی۔ یہ کہہ کر وہ چلے گئے۔ اس کے بعد ام عبداللہ کے شوہر آئے جو کسی ضرورت سے باہر چلے گئے تھے۔ ام عبداللہ نے ان سے عمر کا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہو جائیں گے۔ ان کے شوہر نے کہا: لا يسلم هذا حتى يسلم حمار الخطاب یہ شخص اسلام قبول کرنے والا نہیں۔ یہاں تک کہ خطاب کا گدھا بھی مسلمان ہو جائے۔
مگر یہی عمر بن الخطاب اس کے تھوڑے دنوں بعد مسلمان ہو گئے اور انھوں نے اسلام کی نئی تاریخ بنائی۔ انسان اکثر اندازہ کرنے میں غلطی کرتا ہے۔ اگر چہ ہر آدمی یہی سمجھتا ہے کہ اس کا اندازہ بالکل درست ہے۔
پچھلی شریعتوں میں دین کی حقیقت گم ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ ان کے یہاں مقصد پر واقعات کا غلبہ ہو گیا۔ وہ دین کی مقصدی حیثیت کو اس کے واقعاتی پہلوؤں سے الگ کرکے نہ دیکھ سکے۔ وہ بھول گئے کہ واقعات کی حیثیت نظریات کے مقابلہ میں، ہمیشہ اضافی ہوتی ہے۔ واقعات سے بظاہر دین کی جو تصویر بن رہی تھی اسی کو انھوں نے اصل دین اور پھر دین کی ایسی تشریح کر ڈالی جس کا اصل آسمانی دین سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس بگاڑ کی ایک جزوی مثال وہ ہے جو قرآن میں سورہ آل عمران (۹۳) اور سورہ انعام (146) میں بیان کی گئی ہے۔ یعقوب بن اسحٰق بن ابراہیم (۱۸۵۳ - ۲۰۰۰ ق م) جن کا دوسرا معروف نام اسرائیل ہے، یہود کے آپ نے طبی ضرورت کے تحت بعض جائز غذائیں چھوڑ دی تھیں۔ اسرائیلی روایات کے مطابق آپ کو عرق النشار کی شکایت تھی ۔ اس لیے بطور علاج آپ نے بعض چیزوں مثلاً اونٹ کا دودھ اور گوشت سے پر ہیز شروع کر دیا تھا۔ آپ کے بعد آپ کی اولاد نے بھی اپنے بزرگ کی تقلید میں ان کو چھوڑے رکھا۔ حتیٰ کہ آخر میں یہ ذہن بن گیا کہ یہ چیزیں بجائے خود حرام ہیں اور بالآخر یہودی فقیہوں نے اپنی مقدس کتاب (تورات) میں ان کی حرمت درج کر دی: "چوپایوں میں سے جو جگالی کرتے ہیں یا ان کے پاؤں چہرے ہوئے ہیں، تم ان کو یعنی اونٹ اور خرگوش اور سافان کو نہ کھانا، کیونکہ یہ جگالی کرتے ہیں لیکن ان کے پاؤں چہرے ہوئے نہیں ہیں۔ سو یہ تمھارے لئے ناپاک ہیں"
استثنا ۱۳: ۷ (احبار ۱۱: ۳-۶)
یہود کے ایک بزرگ پیغمبر کا بعض غذاؤں کو نہ کھانا، آپ کی زندگی کا محض ایک اتفاقی جزو تھا، اس کا آپ کے پیغمبرانہ مشن سے کوئی تعلق نہ تھا۔ مگر یہود اس فرق کو ملحوظ نہ رکھ سکے۔ جو چیز محض اتفاقی واقعہ کی حیثیت رکھتی تھی، اس سے وہ حرام وحلال کے قوانین اخذ کرنے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انھوں نے دین خداوندی کی ایسی تصویر بنا ڈالی جو بظاہر درست ہونے کے باوجود سراسر غلط تھی۔
بگاڑ کی اس قسم کی کلی مثال بھی یہودی کے یہاں ملتی ہے اور وہ ان کی آخرت فراموشی اور دنیا پرستی ہے۔ یہود، پیغمبر آخر الزماں کی بعثت سے قبل، دین خداوندی کے نمائندے تھے۔ اپنی اس تاریخ کے تقریباً دو ہزار سال کے دوران انھوں نے عروج وزوال کے زبر دست واقعات دیکھے۔ ایک طرف داؤد (۵۵۰ - ۱۰۲۳ قام) اور سلیمان (۹۳۲ - ۹۹۰ قام) جیسے بڑے بڑے بادشاہ ان کی قوم میں اٹھے۔ اور یوسف (۱۸۱۶ - ۱۹۰۴ قام) جیسی عظیم شخصیت ان میں پیدا ہوئی جس کو اس وقت کے شاہ مصر نے ملک کا پورا انتظام سونپ دیا اور اس کے بعد یہود کو موقع ملاکہ مصر کے انتہائی زرخیز علاقہ میں اپنی آبادیاں قائم کرسکیں ۔ فرعون کی غرقابی کے بعد وہ شام وفلسطین کے سر سبز اور زرخیز علاقہ کے وارث بنا دیئے گئے (اعراف - ۱۳۷)
دوسری طرف یہود کی تاریخ میں بار بار وہ ہولناک لمحے بھی آئے ہیں جب کہ انھوں نے اپنی بدی سے "خداوند کو اور خدا وند کا قہر اسرائیل پر بھڑ کا اور اس نے ان کو غارت گروں کے ہاتھ میں کر دیا جوان کو لوٹنے لگے، اور اس نے ان کو ان کے دشمنوں کے ہاتھ جو اس پاس تھے بیچا۔ سو وہ پھر اپنے دشمنوں کے سامنے کھڑے نہ ہو سکے۔
وہ جہاں کہیں جاتے، خداوند کا ہاتھ ان کی افززت ہی پر لغار رہتا تھا۔ وہ نہ ہایت تنگ آگئے۔ (قضاة ۳: ۱۱ - ۱۶) مصر سے نکلنے کے بعد ۱۴۴۰ ق م کے درمیان تقریباً چالیس سال تک ان کا یہ حال رہا کہ اپنے "گناہ اور ہٹ دھرمی" کے جرم میں وہ صحرائے سینا (دشت فاران سے شرق اردن تک بھٹکتے رہے۔ کیوں کہ ان کے بارے میں خداوند نے کہہ دیا تھا کہ "میں اس سارے خبیث گروہ سے جو میری مخالفت پر جت ہے، ایسا ہی کروں گا۔ اس دشت میں وہ برباد ہو جائیں گے اور یہیں ہلاک ہوں گے۔ (گنتی ۱۳: ۳۳ - ۳۵)۔ ۲۱۷۰ ق م میں اشور کے سخت گیر فرماں روا سارگون نے سامریہ کو فتح کر کے مملکت اسرائیل کا خاتمہ کیا اور ہزاروں یہودی مار ڈالے۔ ۲۷ ہزار سے زیادہ یہودیوں کو ان کے ملک سے نکال کر تتر بتر کر دیا۔ وہ دوبارہ آباد ہوئے تو ۵۸۹ ق م میں بائبل کے بادشاہ بخت نصر نے یروشلم پر ترحملہ کر کے یہودی کے بادشاہ کو اپنا قیدی بنالیا۔ دوسری بار، ۵۸۰ ق م میں بخت نصر نے شدید حملہ کیا اور یہودیہ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کو ویران کر ڈالا۔ یروشلم اور ہیکل سلیمانی کو ڈھا کر زمین کے برابر کر دیا، بعد کو ان کے حالات بدلے اور انھوں نے دوبارہ اپنے ہیکل کی اور اپنے شہروں کی تعمیر کی۔ مگر ۷۰ ق م میں پھیر ٹیس رومی نے تلوار کے زور پر یروشلم کو فتح کر لیا اور بابل کے بیان کے مطابق ان کے ایک لاکھ ۳۳ ہزار آدمی مار ڈالے۔ ۲۰ ہزار آدمی کو پکڑ کر لے گیا تا کہ ان کو جنگلی جانوروں سے پھڑوائے اور شمشیر زنوں کے کھیل کا تخته مشق بننے کے لئے استعمال کرے۔ یروشلم اور مقدس ہیکل کو بھی اس نے دوبارہ ڈھا کر زمین کے برابر کر دیا۔
یہود کی دو ہزار سالہ قدیم تاریخ میں اس قسم کے اتارچڑھاؤ کے واقعات بار بار پیش آئے۔ کبھی انھوں نے دنیوی عیش و اقتدار کا لطف اٹھایا، کبھی دنیوی ذلت اور بربادی کا دکھ جھیلا۔ ان کے انبیاء بار بار ان واقعات کو یاد دلا کر انھیں نصیحت کرتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دھیرے دھیرے ان کا ذہن یہ بن گیا کہ خدا کا انعام اور سزا دونوں اسی دنیا میں ملتے ہیں۔ انھوں نے جنت اور جہنم کی دنیوی تعبیر کر ڈالی۔ اس کے بعد اگلا مرحلہ شروع ہوا۔ مقدس کی ترتیب میں ان کے یہ خیالات جگہ پانے لگے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ اب آسمانی کتاب کے نام سے جو کتاب (تورات) ان کے یہاں پائی جاتی ہے۔ اس میں دنیوی جنت اور دنیوی جہنم کی تفصیلات سے تو باب کے باب بھرے ہوئے ہیں مگر آخرت کی جنت اور جہنم کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ اگر ملتا ہے تو محض اشاراتی شکل میں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہود کا ذہن انتہائی دنیا پرستانہ ہو گیا۔ جب انھوں نے دنیا ہی کو انعامات خداوندی کا مقام سمجھ لیا تو بالکل فطری تھا کہ وہ دنیا کی زندگی کے انتہائی حد تک عاشق ہو جائیں۔ قرآن کے الفاظ میں ان کا یہ حال ہوا: "تم ان یہودیوں کو سب سے زیادہ حیات دنیا کا حریص پاؤ گے ۔ یہاں تک کہ مشرکوں سے بھی بڑھ کر۔ میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ ہزار ہزار برس تک جیتا رہے (بقره - ۹۶) مال کی محبت میں ان کی اکثریت کا یہ ہوا: ”اگر تم ایک دینار بھی ان کے پاس امانت رکھ دو تو وہ اس کو واپس نہ کریں گے۔ الا یہ کہ تم ان کے سر پر سوار ہو جاؤ (آل عمران - ۷۵) ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی دنیا پرستی خالص ’’نظریاتی‘‘ نوعیت کی حامل تھی۔ دنیا کی تمام برائیاں دراصل نفس پرستی کی برائیاں ہیں نہ کہ حقیقتہ نظریاتی برائیاں۔ مگر نفس پرستی کی ہر قسم ابتداً وساؤ
اور معصوم نظریات کی زمین پر اگتی ہے۔ نظریاتی بنیاد کا سہارا لئے بغیر کوئی برائی اس زمین پر بڑھ نہیں سکتی۔ قرآن نے پہلی بار انسانیت کو اس گمراہی سے نکالا۔ اس نے نظریہ اور تاریخ کو ایک دوسرے سے الگ کیا۔ اصل دین کو اس طرح کھول کھول کر بیان کیا کہ کسی بندہ خدا کو حقیقت کے سمجھنے میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔ قرآن میں حکم دیا گیا ہے:
شرعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصَّى بِهٖ نُوْحًا وَّالَّذِيْ راہ ڈال دی تم کو دین میں وہی جو کہہ دی تھی نوح کو اور اَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهٖ إِبْرَاهِيْمَ وَمُوْسَى جو حکم بھیجا ہم نے تیری طرف اور وہ جو کہہ دیا ہم نے ابراہیم وَعِيسَى أَنْ أَقِيْمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ کو اور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو، یہ کہ قائم رکھو دین اور پھوٹ نہ ڈالواس میں۔ (ترجمہ شاہ عبدالقادر)
(شوریٰ - ۱۳)
اس آیت کے سلسلے میں تمام مفسرین متفق ہیں کہ اس میں الدین سے مراد دین کی اصولی اور اساسی تعلیمات ہیں۔ تفصیل شریعت یہاں مراد نہیں ہے۔ اس تفسیر کی وجہ یہ ہے کہ آیت میں یہ حکم ہے کہ اس متفق علیہ دین پر قائم ہو جاؤ جو تمام انبیاء کو دیا گیا تھا۔ اب چونکہ، قرآن کی تصریح کے مطابق، مختلف انبیاء کی شریعت اور منہاج میں اختلاف تھا ۴۸) اس لئے شریعتوں پر اتفاق کے ساتھ عمل نہیں ہو سکتا۔ صرف اساسات دین کے سلسلے میں یہ ممکن ہے کہ متفقہ طور پر ان کے اوپر عمل کیا جاسکے کیونکہ یہ اساسات دین کی تعلیمات سب کے یہاں ایک تھیں۔ اس حکم کے ذریعہ انبیاء کی دعوت اور انبیاء کی تاریخ کے درمیان نوعی فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ ایک ہو، مگر تاریخیں ہمیشہ جدا جدا بنتی ہیں۔ مختلف انبیاء کے گرد جو الگ الگ تاریخی نظائر نے یا وقتی حالات کے اثر سے ان کی زندگی میں جو اتفاقی اجزاء شامل ہوئے، ان کو قرآن نے ان کے اصل مشن سے الگ کر دیا اور غیر متبدل اور ابدی تعلیمات کو "الدین" قرار دے کر حکم دیا کہ اصل اور مستقل اہمیت اس کو دو اور اس کی تفصیل میں پوری لگ جاؤ۔ ہر نبی اپنے حالات کی رعایت سے کوئی مخصوص طرز عمل اختیار کرتا ہے۔ اس کا یہ عمل ایک وقتی نظیر تو ضرور ہوتا ہے۔ مگر وہ دائمی حجت نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر حضرت سلیمان نے یمن کی مشرک ملکہ کو جنگ کی دھمکی دی۔ حضرت یوسف نے مصر کے مشرک بادشاہ کے ساتھ تعاون کا طریقہ اختیار کیا۔ حضرت مسیح نے فلسطین کے مشرک حکمرانوں سے کوئی تعرض نہیں یہی عملی فرق انفرادی امور میں بھی ہے۔ مثلاً حضرت موسیٰ نے مدین کے ایک صالح خاندان میں شادی کی تو آپ کا مہر آٹھ سالہ خدمت قرار پائی۔ حضرت علی کا نکاح پیغمبر کی لڑکی سے مدینہ میں ہوا تو آپ نے مہر میں ایک زرہ ادا کی۔ اصولی تعلیمات اور عملی تفصیلات میں اس قسم کا فرق لازمی ہے۔ اور اکثر نگاڑا اسی لئے پیدا ہوتے ہیں کہ اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔ کسی عملی نظیر کو وہی اہمیت دے دی جاتی ہے جو کہ ایک اصولی حکم کو دینا چاہئے۔ اساسات دین اور متعلقات دین کا یہ فرق ذہن میں ہو تو یکسی خدا پرستی پیدا ہوتی ہے۔ فرقہ بندی کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔ دینی کوششیں اپنے صحیح مقام پر لگنے لگتی ہیں۔ آدمی اس فتنہ سے بچ جاتا ہے کہ دین کے نام پر ایک ایسی چیز کے لئے موکہ آرائی شروع کر دے جو حقیقتہ اُس کے لئے دینی فریضہ کی حیثیت نہ رکھتی ہو۔
اس فرق کی ایک حکمت یہ ہے اصل دین اور بقیہ تفصیلات کی حیثیت کسی مجموعی فہرست کی نہیں ہے۔ بلکہ کل تفصیلات، اصل دین کے لئے لوازم و نتائج کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اصل دین اگر بیج ہے تو کلی تفصیلات اس کی شاخیں ہیں۔ اصل دین جب قائم ہو جاتا ہے تو بقیہ تفصیلات بھی، حسب حالات، وجود میں آتی چلی جاتی ہیں۔ اصل دین مطلق طور پر ہمیشہ مطلوب ہوتا ہے۔ جب کہ عملی تفصیلات ان واقعی حالات کی نسبت مطلوب ہوتی ہیں جن میں کوئی شخص اپنے آپ کو پا رہا ہو۔ یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اصل دین کے علاوہ دین کے جو اور تقاضے ہیں، ان پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، یہ حکم صرف مسئلہ کی نوعیت کو بتا رہا ہے کہ نہ یہ کہ ایک ضروری ہے اور دوسرا غیر ضروری ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصولاً اور اولاً جو چیز بندوں سے مطلوب ہے، وہ صرف وہی "الدین" ہے جو تمام انبیاء کے یہاں مشترک ہے، خواہ وہ جس حال میں اور جس مقام پر بھی پائے گئے ہوں ۔ اس کے بعد جو دوسرے متعلقات اور تقاضے ہیں، وہ حالات کی نسبت سے پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں لازماً فرق بھی ہوگا، اور کمی بیشی بھی۔ اس لئے اس قسم کے فروق پر مت لڑو۔ اپنے حالات کے مطابق اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے اپنی تمام توجہ اصل دین پر مرکوز رکھو۔
"اے نابینا صاحب، سنبھل کر قدم بڑھائیے ۔ آپ جس راستہ پر چل رہے ہیں ، اس میں آپ کے آگے ایک کنواں ہے " یہ فقرہ گرامر کے اعتبار سے بالکل صحیح ہے۔ تہذیب کے معیار پر بھی پورا اترتا ہے۔ مگر یہ بظاہر صحیح فقرہ اس وقت بالکل بے معنی ہو گا جب کہ نابینا شخص کنویں کے عین کنارے سے پہنچ گیا ہو اور اندیشہ ہو کہ اس نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو یہ کنویں کے اندر جا گرے گا۔ ایسے نازک موقع پر دوسری تمام باتیں حذف ہو جاتی ہیں اور کہنے والا چلاّ اٹھتا ہے : " کنواں ، کنواں "
ایسا ہی کچھ معاملہ خدائی پیغام رسانی کا ہے۔ بظاہر زندگی کے بے شمار مسائل ہیں۔ ہر آدمی سب سے پہلے جس مسئلے سے دو چار ہے، وہ موت ہے۔ موت کسی شخص کی زندگی کا وہ فیصلہ کن لمحہ ہے جب کہ اس سے عمل کی مہلت چھین لی جاتی ہے اور وہ اچانک ایک ایسی دنیا میں پہنچ جاتا ہے جہاں دو ہی چیزیں ہیں۔ یا جنت یا جہنم۔
موت کے معاملہ کی نزاکت اس وقت بے حد بڑھ جاتی ہے جب یہ دیکھا جائے کہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ وہ کسی بھی وقت کسی بھی شخص کے لئے آسکتی ہے۔ ایسی حالت میں ایک بتانے والے کے پاس سب سے پہلی اور سب سے بڑی بات جو لوگوں کو بتانے کے لئے ہونی چاہئے، وہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو موت کے خطرہ سے آگاہ کرے ۔