Al-Risala · June 1978

یا ایہا الناس انہ قد سنت لكم السنن و فرضت

Al-Risala, June 1978, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

تمھارے لئے فرائض مقرر کر دیئے گئے۔ اور تم ایک واضح لكم الفیءائض و تركتم علی الواضحة، الا ان تضلوا امر پر چھوڑ دیئے گئے۔ خبردار لوگوں کے ساتھ دائیں بالناس يمينا وشمالا (جزر ثانی، صفحه ، ۱۸) بائیں نہ بھٹک جانا۔

نبوت کے بعد امت مسلمہ کے اندر جو فتنے پیدا ہوئے، ان کو شاہ ولی اللہ نے تیس تک شمار کیا ہے۔ فتنہ ان کے الفاظ میں یہ ہے۔ " سنت مأثورہ میں جو اورادو وظائف آگئے ہیں، ان کے علاوہ اپنی طرف سے مزید اورادو وظائف کا بہ نیت تقرب الی اللہ عزوجل یعنی ثواب پانے کی غرض سے اختراع کرنا اور امور مستحبہ کومثل واجبات کے اپنے ذمہ لازم کر لینا اور لوگوں میں ان وظائف کے پھیلانے کی رغبت کا دلوں میں پیدا ہونا (ازالة الخفا) شاہ صاحب نے اس سلسلہ میں جو روایتیں نقل کی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے:

دارمی نے حکم بن مبارک سے روایت کی ہے، وہ کہتے تھے ہمیں عمروبن یحییٰ نے خبردی، وہ کہتے تھے میں نے اپنے والد سے سنا، وہ اپنے والد سے نقل کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ ہم نماز فجر سے پہلے عبداللہ بن مسعود کے دروازہ پر جاکر بیٹھ جب وہ اپنے گھر سے نکلتے تو ہم ان کے ساتھ مسجد میں جاتے تھے۔ ایک روز ابن مسعود کے مکان پر وقت معهود ابوموسیٰ اشعری آئے اور ہم سے پوچھا کیا ابو عبدالرحمن (عبداللہ بن مسعود) گھر سے نکلے۔ ہم نے جواب دیا کہ ابھی نہیں یہ سن کر وہ ہمارے پاس بیٹھ گئے۔ یہاں تک کہ عبداللہ بن مسعود گھر سے برآمد ہوئے ۔ اور ہم لوگ ان کے ساتھ اٹھ کر چلے۔ پھر ان سے ابوموسیٰ نے کہا، اے ابوعبدالرحمن، میں نے ابھی مسجد میں ایک ہی بات دیکھی۔ مگر الحمد للہ میں نے اچھی بات دیکھی۔ عبداللہ بن مسعود نے پوچھا ، تم نے کیا دیکھا۔ ابوموسیٰ نے کہا کہ اگر مسجد پہنچے تک آپ زندہ رہے تو آپ بھی دیکھ لیں گے۔ پھر کہا، میں نے مسجد میں لوگوں کو دیکھا کہ وہ جدا جدا حلقے کر کے بیٹھے ہیں اور نماز کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہر حلقہ میں ایک ایک شخص ہے جس کے ہاتھ میں سنگریزے ہیں، وہ کہتا ہے: سو مرتبہ اللہ اکبر کہو، سب لوگ سو بار اللہ اکبر کہتے ہیں اور ان سنگریزوں پر گنتے جاتے ہیں۔ پھر وہ کہتا ہے سو بار لا الہ الا اللہ کہو، سب لوگ سو بار لا الہ الا اللہ کہتے ہیں۔ پھر وہ کہتا ہے سو بار سبحان اللہ کہو، سب لوگ سو بار سبحان اللہ کہتے ہیں۔ یہ سن کر عبداللہ بن مسعود نے پوچھا کہ پھر تم نے ان سے کیا کہا۔ ابوموسیٰ نے جواب دیا، آپ کی رائے اور آپ کے حکم کے انتظار میں میں نے ان سے کچھ نہیں کہا۔ انھوں نے کہا، تم نے کیوں نہ ان کو حکم دیا کہ ان سنگریزوں پر تکبیر و تہلیل و تسبیح کے بجائے وہ لوگ اپنے اپنے گناہوں کو شمار کریں۔ اور تم نے ان سے اس بات کی ذمہ داری کیوں نہ لی کہ ان کی نیکیوں میں سے کچھ ضائع نہ ہوگا۔

شمار کرنا ہے کار ہے۔ یہ ہ کر ابن مسعود چلے اور ہم سب ان کے ساتھ چلے۔ یہاں تک کہ وہ ان حلقوں میں سے ایک حلقہ کے پاس پہنچ کر ٹھہر گئے۔ اور ان لوگوں سے پوچھا کہ تم کیا کر رہے ہو۔ انھوں نے جواب دیا، اے ابو عبدالرحعن ہم ان سنگریزوں سے تکبیر اور تہلیل اور تسبیح کے کلمات شمار کرتے ہیں۔ ابن مسعود نے کہا، اس کے بجائے تم لوگ اپنے اپنے گناہوں کو شمار کرو اور میں ضامن ہوتا ہوں کہ تمھاری نیکیوں میں سے کوئی نیکی ضائع نہ ہوگی۔ اے امت محمد! تمھارا برا ہو۔ تمھاری ہلاکت کتنی جلد آ گئی۔ ابھی تمھارے نبی کے اصحاب کثرت سے موجود ہیں۔ تمھارے نبی کے کپڑے ابھی بوسیدہ نہیں ہوئے اور آپ کے برتن ابھی نہیں ٹوٹے۔ مگر تم ابھی سے بدعتیں ایجاد کرنے لگے۔ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یا تو تم ایک ایسے دین پر ہو جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے زیادہ راہ راست پر ہے یا تم گمراہی کے دروازہ پر پہنچ گئے ہو اور وہ دروازہ کھولنے والا ہے۔ ان لوگوں نے جواب دیا، اے ابو عبدالرحمن خدا کی قسم، ہم اس فعل سے نیکی ہی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ابن مسعود نے کہا، بہت سے نیکی کا ارادہ کرنے والے ایسے ہیں کہ انھیں نیکی نہیں ملتی۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ہے کہ بہت سے لوگ قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے گلے سے تجاوز نہ کرے گا۔ خدا کی قسم میں نہیں جانتا شاید تم میں اکثر ایسے لوگ ہوں۔ (ازالۃ الخفاء من خلافۃ الخلفاء،

یہ روایت جس کو دارمی کے علاوہ طبرانی نے اور ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے، یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ عبادتی امور میں صحابہ کس قدر حساس تھے اور معمولی جدت کو بھی انتہائی طور پر ناپسند کرتے تھے ۔ کجا کہ یہ اضافے اتنے زیادہ ہو جائیں کہ وہ متوازی مذہب بن جائے اور باقاعدہ اس کے ماہرین اور معلمین پیدا ہونے لگیں۔

Printed page