وصفی زبان
Al-Risala, June 1978, pp. 22–30
By Maulana Wahiduddin Khan
تصوف کا ابتدائی محرک یہ تھا کہ فقہ ظاہر کی طرح ایک فقہ باطن بنائی جائے اور اس کے قواعد وضع کئے جائیں ۔ مگر یہ کوئی سادہ بات نہ تھی ۔ یہ ایک کیفی حقیقت کو صوفی زبان (DESCRIPTIVE LANGUAGE) میں بیان کرنا تھا۔ فنی اصطلاحات کی زبان کسی شے کے صرف خارجی پہلوؤں کا احاطہ کر سکتی ہے ، اس لئے بندے اور خدا کے درمیان تعلق جیسے معاملہ کو فن کا موضوع بنانا دین میں ایک قسم کے خلل تفریق کو جگہ دینا تھا کہ یہ ایسا ہی تھا جیسے کیفیت محبت کے بیان کے لئے ریاضیاتی زبان کو استعمال کیا جائے۔ اس کوشش نے عبادت الہی کے کیفی پہلو کو اس کے خارجی مظاہر سے الگ کر دیا۔ ذکر نے ورد کی صورت اختیار کرلی اور کثرت ذکر کے معنی یہ ہو گئے کہ کچھ مخصوص الفاظ کو تسبیح کے دانوں پر تکرار دہرایا جاتا ر ہے۔ اسی طرح تدبر قرآن (محمد۔ ۲۴) تلاوت قرآن بن گیا۔ کیونکہ متصوفانہ ذوق کے مطابق مقداری پیمانہ میں ناپنے کی چیز تلاوت ہے نہ کہ تدبر و تفکر، یہی وجہ ہے کہ متصوفانہ اذکار کی طویل فہرست میں ہم اللہ اور لا الہ الا اللہ جیسے الفاظ کا ذکر تو پاتے ہیں مگر دوسری بہت سی چیزیں جن کے
ذکر کو دین میں بے حد اہمیت دی گئی ہے، اس فہرست میں درج نہیں۔ مثلاً آخرت (مدثر۔ ۵۵) نعمت الہی (مائدہ۔ ۶۹) موت (اکثروا ذکر هادم اللذات) وغیرہ کیونکہ اللہ اللہ کا درد تو کیا جا سکتا ہے۔ آخرت آخرت، نعمت نعمت، آلار آلار، موت موت کا درد ایک بے معنی بات ہے۔
جب تعلق مع اللہ ایک خارجی طور پر قابل بیان چیز بن گیا تو اس کے بعد بالکل فطری طور پر یہ ہوا کہ اس کے حصول کے خارجی طریقے وضع ہونے شروع ہو گئے ۔ محض قیاس کی بنیاد پر یہ فرض کر لیا گیا کہ انسان کے بدن میں چھ مقامات ہیں جہاں انوار و برکات بھرے ہوتے ہیں۔ ان کو لطائف ستہ کا نام دیا گیا ۔ اول لطیفہ قلبی جس کی جگہ بائیں پستان کے دوسرا لطیفہ روحی جس کا مقام دائیں پستان کے اوپر ہے۔ تیسرا لطیفہ نفس جس کا مقام ناف کے نیچے ہے ۔ چوتھا لطیفہ سری جس کا مقام سینہ کے درمیان ہے۔ پانچواں لطیفہ اخفی جس کا مقام ابرو کے اوپر ہے، چھٹا لطیفہ خفی جس کا مقام ام الدماغ ہے۔ اس مفروضہ کی بنا پر عجیب عجیب قسم کے اشغال، ضربات اور مراقبے وضع کئے گئے جن کا مقصد یہ تھا کہ ان مقامات انوار پر زور ڈال کر ان کو جاری کیا جائے تاکہ سارا جسم اللہ اللہ پکارنے لگے۔ طور پر ایک طریقہ یہ ہے کہ دونوں آنکھیں اور دونوں لب بند کر کے سانس کو ناف کے نیچے سے نکال کر قلب میں بس کرے اور لاکو (تصور میں) ناف سے اٹھا کر گلے تک پہنچا کر اللہ کو گلے سے لطیفہ روحی کے مقام تک لاکر الا اللہ کی ضرب خوب زور سے اس طرح دل پر لگائے کہ ضرب کا اثر تمام لطیفوں تک پہنچ جائے ۔ اس طرح کی بے شمار چیزیں حیرت انگیز جسارت کے ساتھ وضع کی گئیں اور ان کو دین کے عبادتی نظام میں ”معاون ذریعہ،، کی حیثیت سے داخل کر دیا گیا۔ تاہم معادن فرعیہ کا لفظ بھی محض رعایتی تھا کیونکہ بعض ظاہری کرشموں کی وجہ سے عام طور پر یہ ذہن بن گیا کہ معروف دینی طریقوں کے مقابلہ میں یہ طریقے حصول مقصد کے لئے زیادہ مفید ہیں۔ ایک مشہور بزرگ فرماتے ہیں کہ خدا تک پہنچنے کے تین طریقے ہیں جن میں سے ایک طریقہ صوم وصلوۃ اور تلاوت قرآن وغیرہ کا ہے، مگر:
روندگان ایں راہ در زمان طویل بمقصود رسند اس راہ کے چلنے والے بہت لمبی مدت میں اپنی منزل مقصود کو پہنچتے ہیں۔
تصوف کے طریقے کی حمایت کرتے ہوئے ایک اور بزرگ لکھتے ہیں:
اس راہ کے چلنے والے بہت لمبی مدت میں اپنی منزل مقصود کو پہنچتے ہیں۔
النفس وتربيتها بين التصون (الحياة دمشق ۱۹۶۳ ، ۳۳ لئے یہ زیادہ بہتر اور تیز تر طریقہ ہے۔
ہمارے بزرگوں کو یہ غلط فہمی صرف اس لئے ہوئی کہ انھوں نے کیفیت نفسی اور کیفیت عادی میں فرق نہیں کیا۔ کیماس کو دبانا اور اعوجاج عنق اور پاس انفاس جیسے عملیاتی طریقوں کی مدد سے کچھ مخصوص الفاظ (یا آوازوں) کو خاص طرح سے ادا کرنے کی مشق کرنا، یہ نتیجہ دکھا سکتا ہے کہ وہ الفاظ یا آوازیں انسان کے طبعی وظائف میں غیر شعوری طور پر شامل ہو جائیں۔ مگر اس لفظی ورزش کا اسلام سے کیا تعلق ، اس قسم کی کوئی مشق کسی کے اندر یہ طبیعت پیدا کر دے کہ وہ اپنے دل کی دھڑکنوں یا سانس کے آنے جانے میں اللہ اللہ کی آواز سننے لگے تو کسی بھی درجے میں وہ چیز نہیں ہے
جس کو قرآن میں ذکر کہا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک داحمہ ہے۔ قلب اور نفس تو در کنار کسی مشین کے کھٹ کھٹ کی آواز میں آواز ملا کر اگر آپ ”حق حق“ کہنے لگیں تو کچھ دیر کی مشق کے بعد آپ کو ایسا محسوس ہوگا گویا مشین سے کھٹ کھٹ کی نہیں حق حق کی آواز آ رہی ہے۔ مگر شدید ترین غلط فہمی ہوگی کہ اس قسم کے واہمہ کو ذکر سمجھ لیا جائے۔ ذکر تو ایک اعلیٰ ترین نفسیاتی کیفیت ہے جو آدمی کے شعور کا (نہ کہ عادت کا) حصہ بن کر اس کے پورے وجود میں شامل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جیسے کسی بچھڑے ہوئے محبوب کی یاد کسی کی ہستی میں سما جائے اور اس کو دائمی طور پر بے چین کر دے۔ دین میں اس اضافہ کا لازمی نتیجہ ایک اور شدید تر بدعت کا وجود میں آنا تھا اور وہ ہے ”مرشد کامل کا عقیدہ۔ جب اللہ سے تعلق قائم کرنے کے طریقے صرف وہ نہ رہے جو قرآن وسنت میں درج ہیں، بلکہ ایسے طریقے، نسبت زیادہ زود اثر، دریافت ہوگئے جو کچھ خاص لوگوں ہی کو معلوم تھے (مثلاً کہا جاتا ہے کہ ”شغل بساط“ بلا واسطہ طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خواجہ معین الدین چشتی کو ملا تھا جس کے ذریعہ انھیں معراج باطنی حاصل ہوئی) تو دین نے بالکل فطری طور پر علم سفینہ کی بجائے علم سینہ کی حیثیت اختیار کرلی۔ اب ایسے لوگوں سے نسبت حاصل کرنا ضروری ہوگیا جو پر اسرار طور پر روحانی علوم کے مالک تھے اور اپنے مریدوں کو اس کی نسبت خاص منتقل اسی کے ساتھ خود شیوخ کو بھی یہ ضرورت تھی کہ وہ اپنے اندر ایسی تسخیری قوت پیدا کریں جس کے ذریعہ وہ عالم خیال میں اپنے قلب سے مرید کے قلب پر ضرب لگا سکیں اور اس کے دل کو انوار و برکات سے بھر دیں۔ یہ قوت محض نماز روزہ کے ذریعہ نہیں آسکتی تھی۔ یہ تقاضا انھیں زیادہ سے زیادہ عملیات کی طرف لے گیا۔ ایسے بزرگ پیدا ہونے لگے جو اس قسم کا کرشمہ دکھا سکتے تھے کہ ایک نظر سے آدمی کو تڑ پا دیں اور ایک توجہ سے قلوب کو بدل ڈالیں۔ اس طرح عیسائی رہبانوں اور ہندو جوگیوں کا فن تسخیر اسلامی لباس اختیار کر کے دین محمدی میں داخل ہوگیا۔
یہاں پہنچ کر کہنوت (پروڈم) پوری طرح اسلام میں داخل ہوگیا۔ حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میری امت میں کہنوت کا کوئی وجود نہیں۔ قرآن میں اس کو خدا کے سوا اس کے بندوں کو رب بنانا قرار دیا گیا شیوخ تصوف کے بارے میں نہایت مبالغہ آمیز تصورات پیش کئے جانے لگے۔ مثلاً الشیخ فی قومہ کالنبی فی امتہ (شیخ اپنی قوم میں ایسا ہی ہے جیسے نبی اپنی امت میں) اور من اراد ان یجلس مع اللہ فلیجلس مع اهل التصوف (جو اللہ کے پاس بیٹھنا چاہتا ہے وہ صوفیاء کے پاس بیٹھے) شیوخ کے شعبدوں اور کرامات کی داستانیں اتنی کثرت سے پھیلائی گئیں کہ وہ زبان وادب کا جزو بن گئیں۔ بالکل بے اصل قسم کی موضوع کہانیوں کو لوگ اس طرح دہرانے اور یقین کرنے لگے گویا یہ بالکل واقعہ ہیں۔ بزرگوں کی مجالس و مواعظ کا بڑا حصہ اسی قسم کی محیر العقول داستانوں پر مشتمل رہنے لگا۔ حتی کہ وہ یہ بھی بھول گئے کہ اس قسم کی کہانیاں بیان کر کے، غیر شعوری طور پر، لوگوں کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ہمارے بزرگ صحابہ کرام سے بھی زیادہ بلند مرتبہ لوگ تھے۔ کیونکہ صحابہ میں سے کسی کے بارے میں اس قسم کے چمتکار ثابت نہیں۔ صحابہ کے بعض خارق عادت واقعات جو
صحیح روایات میں آتے ہیں۔ وہ ہرگز کرامت کے واقعات نہیں ہیں۔ ان کی حیثیت اہل ایمان کا اور اللہ تعالیٰ کی نصرت کی ہے۔ کرامت، بطور ایک شخصی صفت کے، قطعا ایک غیر اسلامی تصور ہے۔ اسلام میں جو چیز ثابت ہے وہ صرف دعا اور اس کی مقبولیت کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی نصرت ہے۔ یہ نصرت بلاشبہ صحابہ کرام کو حاصل ہوئی اور آج بھی مسلمانوں کو حاصل ہو سکتی ہے بشرطیکہ وہ صحابہ والے کاموں کو لے کر اٹھیں۔ صحابہ کی کرامتوں اور موجودہ زمانہ کے بزرگوں کی کرامتوں کا فرق اسی سے واضح ہے کہ صحابہ کی کرامتوں نے عرب و عجم سے باطل کا استیصال کر دیا تھا جب کہ ہمارے بزرگوں کا حال یہ ہے کہ کرامات کی مفروضہ دنیا میں تو جن و انس، نباتات و حیوانات سب کو وہ سفر کئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مگر حقیقت کی دنیا میں ان کی بے بسی کا یہ حال ہے کہ ان کے چاروں طرف باطل طاقتیں، اسلام اور ملت اسلام کو روند رہی ہیں اور وہ ان کے دفعیہ کے لئے کچھ نہیں کر سکتے۔ بزرگ پرستی (دوسرے لفظوں میں بزرگی کی گدی وجود میں آنے کا فتنہ نہیں رکا۔ کرامات اور شعبدہ دل کی فرضی داستانیں جو تمام مجالس تصوف کا سب سے نمایاں جزو ہوتی ہیں، انھوں نے لوگوں کے ذہن کو اس قدر توہماتی بنا دیا کہ اب وہ اپنے بزرگوں کو عام انسانوں سے الگ ایک مستقل طبقہ فرض کرنے کے جیسی طرح انبیاء و ملائکہ عام انسانوں سے الگ ایک طبقہ ہوتے ہیں۔ ان کو خدا کا مختار و مصطفی فرض کر لیا گیا اور ان کی طرف ایسے ایسے فضائل منسوب کرنے لگے جو مضحکہ خیز حد تک بے معنی تھے۔ اسی میں سے " اولیاء اللہ" کا مروجہ تصور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اولیاء اللہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک اہل ارشاد، دوسرے اہل تکوین۔ اول الذکر خدا کے وہ چنے ہوئے لوگ ہیں جن کے سپرد مخلوق کی ہدایت، قلوب کی اصلاح و تربیت اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کے طریقوں کی تعلیم ہوتی ہے۔ ان اولیاء میں جو اپنے زمانہ میں سب سے افضل ہو وہ قطب الارشاد کہلاتا ہے۔ ثانی الذکر سے مراد وہ اولیاء اللہ ہیں جن کے سپرد مخلوق کی معاش کی اصلاح، دنیا کا انتظام اور مصائب کا دفع کرنا ہوتا ہے۔ یہ خدا کے اذن کے تحت اپنی باطنی قوت سے ان امور کی درستی کرتے رہتے ہیں۔ ان میں جو سب سے اعلیٰ اور دوسروں کے اوپر حاکم ہوتا ہے، اس کو قطب تکوین گویا اہل ارشاد، انبیار کے مماثل ہیں اور اہل تکوین، فرشتوں کے مماثل جن کو مدبرات الامر کہا گیا ہے۔ حیرت انگیز بات ہے کہ اتنا بڑا عقیدہ بے شمار لوگوں نے نہایت اخلاص کے ساتھ قبول کر لیا، حالانکہ قرآن و حدیث میں اس کے لئے قطعا کوئی سند موجود نہ تھی۔
تصوف کے ابتدائی موحدین خواہ کتنے ہی نیک نیت ہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ تصوف اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ٹھیک وہی چیز تھی جس کو قرآن میں ابتدا رہ اھدین - ۲۷) کہا گیا ہے۔ کچھ بزرگوں نے سادہ طور پر یہ سوچا کہ دین کی اصل حقیقت (تعلق باللہ) کو لوگوں کے اندر پیدا کرنے کے لئے کچھ ایسے اضافی طریقے وضع کو ہی جن کو اسلام کی مخصوص عبادتوں کے ساتھ بطور معاون تدبیر کے استعمال کیا جا سکتا ہو۔ مگر وہ بھول گئے کہ ایسا کرکے وہ خدا پرستی کے بجائے انسان پرستی کو اسلام میں داخل کر رہے ہیں۔ جب اللہ سے تعلق پیدا کرنے اور اس سے قرب ڈھونڈنے کا علم ایک ایسا علم بن جائے جس کو صرف قرآن و سنت سے معلوم نہ کیا جا سکتا ہو تو لازما ایسا ہو گا کہ وہ
لوگ مرشد اور مرجع قرار پاجائیں جن کے متعلق یہ سمجھ لیا جائے کہ وہ "نفوس مزکاۃ‘‘ ہیں اور سینہ بہ سینہ اس پر اسرار علم کے وارث بنتے چلے آرہے ہیں۔ مزید یہ کہ اس تدبیر کو اختیار کرکے ہمارے یہ بزرگ خدا کی "ممنوعہ چراگاہ" میں داخل ہوگئے کیونکہ عبادتی امور میں کسی بھی قسم کا اجتہادی اضافہ مطلق طور پر ناجائز ہے۔ اسلام کی بعد کی تاریخ میں انحراف کی جو صورتیں پیدا ہوئیں، ان میں دو چیزیں نہایت عجیب تھیں۔ کے باب میں اجتہاد کا دروازہ بند کرنا۔ دوسرے، عبادات کے باب میں اجتہاد کا دروازہ کھولنا۔ حالاں کہ شریعت کے حقیقی منشا کے اعتبار سے معاملہ اس کے برعکس تھا۔ معاملات کے بارے میں صریح طور پر اجازت دی گئی تھی کہ نئے پیش آمدہ امور پر اسلام کی اصولی تعلیمات کی روشنی میں غور کرکے حکم لگایا جائے۔ ابتدائی دور کے فقہا ء نے اسی پر عمل کرتے ہوئے اجتہادات کئے تھے۔ مگر بعد کے لوگوں کے لئے کہہ دیا گیا کہ :
ان الاوائل لم يتركوا الا و آخر شيئا پچھلے لوگوں کے لئے کچھ نہیں چھوڑا حالاں کہ یہ دین میں حیرت انگیز حد تک ایک اندوہ ناک جسارت ہے۔ جب خدا کی کتاب اور رسول کی سنت کے باوجود دوسری صدی، ہجری کے ائمہ فقہ کے لئے یہ گنجائش تھی کہ وہ اجتہاد کریں تو کیا ان ائمہ کے فتاوی خدا کی کتاب اور رسول کی سنت سے بھی زیادہ جامعیت کے حامل ہیں کہ ان کے بعد، خواہ حالات کتنے ہی بدل جائیں ، کسی کو اجتہاد کی ضرورت نہ ہوگی۔
وہ لوگ جنہوں نے براہ راست پیغمبر کی صحبت سے اسلام سیکھا تھا، ان کے لئے یہ بات انتہائی طور پر اجنبی تھی کہ دین میں "بزرگی" کا ایک مستقل ادارہ وجود میں آجائے۔ لوگ دینی پیشوائی کی گدیوں پر اسی طرح بیٹھنا شروع کردیں جس طرح بادشاہی نظام میں ایک کے بعد دوسرا تخت نشین ہوتا ہے۔ صحابہ کرام، رسول اللہ کے بعد، خدا کی کتاب اور رسول کی سنت کے سوا کسی چیز کو نہیں جانتے تھے جس سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ وہ عمر فاروق پر بھی اسی طرح تنقید کرتے تھے جیسے کسی عام انسان کے اوپر۔ ان کی بات کو جب وہ مانتے تھے تو شخصی عقیدت مندی کے تحت نہیں بلکہ اس وقت جب کہ انہوں نے اپنی بات کی صداقت ثابت کردی ہو۔ قاضی شریح کے سامنے جب خلیفہ چہارم حضرت علی بن ابی طالب نے نصرانی کے خلاف زرّہ کا مقدمہ پیش کیا تو حضرت علی کی طرف سے گواہی میں ان کے غلام قنبر اور ان کے لڑکے حسن تھے۔ قاضی شریح نے حضرت حسن کی ساری بزرگی کے باوجود ان کی گواہی نہیں مانی : فقال اترد شهادة الحسن وقال رسول الله صلى الله حضرت علی نے کہا کیا تم حسن کی گواہی کو رد کرتے ہو حالانکہ عليه وسلم الحسن والحسين سيد اشباب اهل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسن اور حسین الجنة، قال لا ولكن حفظت عنك انه لا تجوز جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ قاضی شریح نے کہا کیونکہ میں نے آپ ہی سے سن کر یاد کیا ہے کہ لڑکے کنز العمال ، جلد چہارم ، صفحہ ۷ کی گواہی باپ کی موافقت میں جائز نہیں۔
رجال کے سلسلہ میں ان کا تصور یہ تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کی اقتدا کرنا چاہتا ہے تو اس کو مردوں کی اقتدا کرنا چاہئے۔
نہ یہ کہ کسی زندہ شخص کو اپنا ”شیخ“ بنا لیا جائے۔ کیونکہ کوئی بھی شخص اس دنیا میں معصوم نہیں۔ نبی کے سوا ہر زند ہ شخص کے لئے یہ امکان ہے کہ وہ کسی بھی وقت فتنے میں پڑ جائے (من کان مستنا فلیستن بمن قدمات فان الحی لا تو من علیہ الفتنة ، ابن مسعود) حضرت علی نے فرمایا :
ایاکم والاستنان بالرجال ، فان الرجل یعیل بعمل رجال کی سنت پکڑنے سے بچو ۔ اس لئے کہ آدمی جنت اهل الجنة ثم ينقلب لعلہ اللہ فیعمل بعمل والوں کا عمل کرتا ہے ، پھر اللہ کے علم کے مطابق پلٹ اهل النار فيموت وهو من اهل النار، وان الرجل جاتا ہے اور آگ والوں کا عمل کرنے لگتا ہے۔ ليعمل بعمل اهل النار فينقلب لعلہ اللہ فیعمل حال میں مرجاتا ہے اور وہ آگ والا ہوتا ہے ۔ بعمل اهل الجنة فيموت وهو من اهل الجنة ، بے شک آدمی آگ والوں کا عمل کرتا ہے ، پھر اللہ کے فان كنتم لا بد فاعلين قبلا اموات لا يلاحياء علم کے مطابق پلٹ جاتا ہے اور جنت والوں کا عمل ابن عبد البر ، جامع بیان العلم ، جلد ۲، صفحہ ۱۱۳ کرنے لگتا ہے ، پھر اسی حال میں مرجاتا ہے اور وہ جنت والوں میں سے ہوتا ہے۔ پس اگر تمہیں لوگوں کی اقتوہی کرنی ہے تو مرے ہوئے لوگوں کی اقتدا کرو نہ کہ زندہ
” بزرگی “ کا ادارہ جو بعد کے دور میں ملت اسلامیہ کے اندر قائم ہوا ، اس کی کوئی اصل کتاب وسنت میں موجود نہ تھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی کوئی چیز اسلام کے ڈھانچے میں بالکل اجنبی ہے۔ یہ تمام تر دوسری قوموں کے طریقے (پرینیسٹ ہڈ اور گرو ڈم ) کی نقل تھی جس کو اسلامی اصطلاحوں کا لباس اڑھا کر اسلام میں داخل کر لیا گیا۔ اس قسم کی کوئی چیز اسی وقت تک اسلام میں چل سکتی ہے جب تک کتاب وسنت کے بجائے بزرگوں کے ملفوظات دا مکتوبات اور ان کی شخصیت کے بارے میں افسانوی داستانیں دین کا ماخذ بنی ہوئی ہوں۔ جس لمحہ کتاب وسنت دین کا ماخذ بنیں گے ، یہ سارے معتقدات اس طرح ختم ہو جائیں گے جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا ۔ ۳- اس سلسلے کی تیسری خرابی وہ ہے جو علم کلام کے ذریعہ وجود میں آئی ۔ علم کلام اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے اسلامی دعوت و تعلیم کی ایک معاون شاخ ہے ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مخاطب جس زبان سے مانوس ہے اور جن اصطلاحوں میں بات کو سمجھنا چاہتا ہے ، اسی زبان اور اسی اصطلاح میں اس کے سامنے دینی پیغام کو پہنچایا جائے ، اس کی اسی اہمیت کی بنا پر امام غزالی (۱۱۱۱۔ ۱۰۵۹) نے علماء کے تعلیمی نصاب میں خالص دینی موضوعات کے ساتھ علوم آلہ کے طور پر معقولات کا جوڑ لگایا تھا تاکہ اسلامی درس گاہوں سے ایسے لوگ تیار ہوں جو ایک طرف لغوی، فقہی کا بخوبی علم رکھتے ہوں ۔ دوسری طرف وقت کے اسلوب میں اسلام کی نمائندگی کر سکیں ۔
مگر علم کلام ، عین اپنی نوعیت کے اعتبار سے ، ایک زمانی علم ہے۔ وہ اسلام کی دائمی حقیقت کو زمانی اصطلاحوں میں بیان کرتا ہے ۔ اس لئے اس کی اہمیت اس وقت خود بخود ختم ہو جاتی ہے جب کہ وہ زمانہ ختم ہو جائے جس کے اندر وہ
وجود میں آیا تھا۔ مگر یہاں بھی اسی انسانی کمزوری نے کام کیا جس کے اثرات ہمیں دوسری چیزوں میں نظر آتے ہیں۔ کہ کوئی چیز جب ایک بار وجود میں آجائے اور اس کے ساتھ کچھ قابل احترام شخصیتوں کے نام وابستہ ہو جائیں تو ڈھیربے ڈھیرے وہ مقدس بننا شروع ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ اس میں ترمیم و اصلاح کی بات سوچنا بھی لوگوں کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ گناہ ہو۔
یہی حال اسلام کے اس کلامی لٹریچر کا ہوا جو عباسی دور میں پیدا ہوا تھا۔ یہ علم کلام اس وقت اتنا موثر ثابت ہوا کہ جو علوم اسلام کے لئے چیلنج بن کر ظاہر ہوئے تھے وہ خود اسلام کے خادم بن گئے۔ مگر زمانہ کی تبدیلی نے اب ان کی اہمیت قطعی طور پر ختم کر دی ہے۔ آج ”معقولات“ کے نام سے جو چیز ہمارے دارالعلوموں میں پڑھائی جاتی ہے اس کو نامعقولات کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔ اس کی بنیاد ایسے عقلی قیاسات پر قائم ہے جو آج مشاہدہ اور تجربہ کے ذریعہ غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ جو چیز محض ایک وقتی تدبیر کی حیثیت رکھتی تھی، اس کو بعد کے لوگوں نے دینی نصاب کا مستقل جزو بنا لیا۔ اس طرح اگرچہ اسلام کا متن نہیں مگر اسلام کا نظام تعلیم ٹھیک اسی غلطی کا شکار ہو گیا جس کا شکار عیسائیوں نے اپنی کتاب مقدس کو بنایا تھا۔
یہی وہ صورت حال ہے جس نے اسلام کے اس امکان کو بروئے کار آنے نہیں دیا کہ وہ موجودہ زمانہ میں ایک برتر فکری قوت کی حیثیت سے ظاہر ہو سکے۔ ہمارے دینی مدارس نہایت اخلاص کے ساتھ ایسے انسان تیار کرتے ہیں جو صرف پانچ سو برس پہلے کی دنیا میں کام کر سکتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگ موجودہ بدلے ہوئے زمانہ میں اسلام کا فکری اظہار نہیں کر سکتے۔ وہ اپنے ذہن ومزاج کی وجہ سے صرف یہی کر سکتے ہیں کہ اسلام کی کمتر نمائندگی کرکے یہ ثابت کریں کہ اسلام دور سائنس سے قبل کی چیز ہے وہ آج کے انسان کے لئے نہیں۔ موجودہ زمانہ میں اٹھنے والی بعض تحریکوں نے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی۔ مثال کے طور پر وہ تحریکیں جنھوں نے اسلام کی تعلیمات کو سیاسی اصطلاحوں میں بیان کیا۔ ان تحریکوں سے وقتی فائدے بھی ہوئے۔ سے ان تحریکوں میں آغاز ہی سے ایک خرابی شامل ہو گئی۔ یہ تحریکیں باعتبار حقیقت متکلمانہ تحریکیں تھیں جو انیسویں صدی کے مغربی افکار کے ہنگامہ میں اس لئے اٹھیں کہ اسلام کو لوگوں کے لئے قابل قبول بنائیں۔ مگر ان کے پرجوش داعیوں نے صرف اس پر اکتفا نہیں کیا کہ وہ اسلام کو سیاسی زبان میں بیان کرتے بلکہ انھوں نے تفسیر اور سیرت بھی اسی نہج پر مرتب کر ڈالی۔ حتی کہ یہ اعلان بھی کر دیا کہ مختلف زمانوں میں جو انبیاء آئے وہ اسی لئے آئے تھے کہ دنیا میں خدا کی حکومت اس طرح انھوں نے اپنے کلامی لٹریچر کو دین کی تشریح کا عنوان دے دیا۔ یہ نہ صرف دین میں ایک جسارت تھی بلکہ اس کے ذریعہ سے انھوں نے اپنے پیرووں کو دوبارہ اسی جمود میں مبتلا کر دیا جس میں ہمارے قدیم دینی ادارے مبتلا چلے آ رہے تھے۔ انیسویں صدی کا سیاسی انداز فکر، جس میں یہ لٹریچر پیدا ہوا تھا، دوسری جنگ عظیم کے ساتھ ختم ہو گیا۔ اب ضرورت تھی کہ نئے ذہنی تقاضوں کی روشنی میں دوسرا کلامی لٹریچر تیار کیا جائے۔ مگر یہ گروہ آج بھی بے سود طور پر اسی سیاسی لٹریچر کی تلاوت میں مصروف ہے، جس طرح عربی مدارس یونانی معقولات کے درس د
اور اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اپنے اس لٹریچر کو دین کی مطلق تشریح سمجھ رہا ہے نہ کہ محض وقتی طور پر پیدا شدہ علم کلام۔
صلیبی جنگوں کے زمانہ میں شام ومصر میں ہتھیار تیار کرنے کی جو بھٹیاں بنائی گئی تھیں، آج ان کا کہیں وجود نہیں ہے۔ کیونکہ وقت گزرنے کے بعد ان کی اہمیت ختم ہو گئی۔ اسی طرح قدیم معقولات کو بھی اسلام کی علمی فہرست سے خارج ہو جانا چاہیے تھا۔ جو چیز وقتی ضرورت کے تحت آتی ہے، وہ وقت ختم ہونے کے بعد خود بخود چلی جاتی ہے۔ مگر قدیم معقولات سے ہم بھی تک نجات حاصل نہ کر سکے۔
اس کی وجہ قدیم معقولات کا ہماری فنون کی کتابوں میں شامل ہو جانا ہے۔ جس زمانہ میں یہ اجنبی علوم اسلام کے معاشرہ میں داخل ہوئے، یہ وہی زمانہ تھا جب کہ اسلامی علوم کی تدوین ہو رہی تھی۔ قدیم منطقی انداز لوگوں کے لئے اتنا مسحور کن ثابت ہوا کہ انھوں نے سمجھا کہ اسلامی علوم کی تدوین کے لئے بھی یہی انداز سب سے زیادہ چنانچہ اسلامی فنون کی کتابیں قدیم منطقی انداز میں لکھی جانے لگیں۔ اس واقعہ نے قدیم منطق کو اسلامی کتب خانہ کا لازمی جزو بنا دیا۔ کسی بھی عالم کو بآسانی اس رائے سے متفق کیا جا سکتا ہے کہ قدیم معقولات کو مدارس دینیہ کے نصاب سے خارج کر دیا جائے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ فوراً ہی یہ سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ ہماری کتب فنون کو سمجھنے والے لوگ کیسے تیار ہوسکیں گے۔ قدیم معقولات کو دنیا سے مٹا دیا جائے تو قرآن وحدیث کو سمجھنے میں کسی کو زحمت کیوں کہ قرآن وحدیث کی ترتیب قدیم منطق کی اصطلاحات میں کی ہی نہیں گئی ہے۔ مگر علم عقائد اور اصول فقہ کی بنیادی کتابوں کو کوئی شخص بخوبی طور پر سمجھ نہیں سکتا جب تک قدیم منطقی اصطلاحات سے اس کو آگاہی نہ ہو۔
یونانی معقولات، جس کو اب خود یونان بھی چھوڑ چکا ہے، دین کے ساتھ جوڑنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ دین میں تدبر اور دینی مسائل کو بیان کرنے کا ایک ایسا نہج بن گیا جو رسول اللہ کی سنت اور صحابہ کرام کے انداز سے بالکل مختلف تھا۔ حنفیہ نے امام کے پیچھے فاتحہ کی قرآت کے ترک کا فتویٰ دیا ہے۔ مولانا رشید احمد گنگوہی کے کے سامنے اس مسلک کے خلاف یہ حدیث پیش کی گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اصحاب سے کہا، شاید تم لوگ امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے قرآت کرتے ہو۔ انھوں نے کہا ہاں یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا: لا تفعلوا الا بام القرآن نہ پڑھو سوا سورہ فاتحہ کے مولانا رشید احمد گنگوہی نے حنفی مسلک پر اس اعتراض کو رد کرتے ہوئے جواب دیا:
هذا دليل الاباحة لا دليل الوجوب (تحفتہ العنبر) یہ اباحت کی دلیل ہے نہ کہ وجوب کی دلیل یہ ایک سادہ سی مثال ہے اس بات کی کہ بعد کے زمانے میں ہمارے یہاں مذہبی بحث وگفتگو کا جو انداز پیدا ہوا، وہ کس طرح اسلام کے ابتدائی سادہ اسلوب سے ہٹا ہوا تھا۔ چنانچہ وہی شخص آج عالم سمجھا جاتا ہے جو اس قسم کی فنی زبان اور منطقی اسلوب میں دینی مسائل کو بیان کر سکتا ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دینی مباحث کا یہ انداز
فنی حیثیت سے بظاہر بڑا وقیع معلوم ہوتا ہے مگر اسی میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ دین وہ نہیں جس کو عرب کے پیغمبر ہمارے لئے چھوڑ کر گئے تھے ۔ آپ نے فخر کے ساتھ فرمایا تھا ۔ نحن امۃ امیۃ ( ہم تو سیدھی سادی امت ہیں) بعثت بالحنيفية السمحة ، ( میں سہل دین کے ساتھ بھیجا گیا ہوں) مگر یہودیوں اور عیسائیوں کے اتباع میں ہم نے دین کو ایک پیچیدہ فن بنا ڈالا جس طرح انھوں نے موسیٰ اور عیسی کے دین کو فن بنا دیا تھا۔ اس ” فنی دین“ کا غیر دینی ہونا اس سے واضح ہے کہ صحابہ کرام میں سے کوئی بزرگ اگر آج زندہ ہوں تو وہ ہمارے، مدارس عربیہ میں سے کسی مدرسہ میں "شیخ الحدیث" کے منصب پر فائز نہیں کئے جا سکتے ۔ کیونکہ آج ان مدارس میں علم حدیث جس طرح پڑھایا جاتا ہے وہ اس کے لئے بالکل ناموزوں ثابت ہوں گے ۔ حتیٰ کہ نعوذ باللہ شاید خود اللہ کے رسول بھی ۔ خالص علمی اعتبار سے بھی بحث کا یہ طریقہ موجودہ زمانہ میں بے وزن ہو چکا ہے۔ قدیم منطق کی بنیاد ذہنی قیاس آرائیوں پر قائم تھی۔ مگر موجودہ زمانہ میں منطق کی بنیاد سائنس ہے جو حقیقی حوالوں اور واقعاتی تجزیہ سے کسی بات کو ثابت کرتی ہے ۔ مگر مدارس دینیہ میں جو کتا بیں پڑھائی جاتی ہیں، وہ چونکہ قدیم منطقی اسلوب پر لکھی گئی ہیں، اور اساتذہ اپنے درسوں میں اسی اسلوب پر مسائل کی تشریح کرتے ہیں، اس لئے ان اداروں سے جو افراد تربیت پا کر نکلتے ہیں، وہ اپنے طرز فکر اور انداز استدلال کے اعتبار سے موجودہ زمانہ کے لئے اجنبی ہوتے ہیں ۔ "منطق اسلحہ" سے لیس ہونے کے باوجود آج کے انسان کو علمی اور منطقی طور پر اپنا دین سمجھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے آج کی دنیا میں جب وہ داخل ہوتے ہیں تو، احساس کمتری کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں یا جرات کر کے اسلام کے داعی بننے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی اسلامی تشریحات آج کے علمی انسان کو یہ غلط تاثر دیتی ہیں کہ اسلام صرف قدیم دور کے انسان کو مطمئن کر سکتا تھا، آج کے انسان کے ذہنی اطمینان کے لئے اس کے پاس کچھ نہیں۔ علم کلام کے بارے میں مزید گفتگو اگلے باب میں آرہی ہے۔