عقلیاتِ اسلام
Al-Risala, June 1978, pp. 31–33
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں کہا گیا ہے کہ اللہ تدبیر امر کر رہا ہے اور تفصیل آیات بھی (رعد - ۲) ۔ تدبیر سے مراد کائناتی انتظام ہے جس کے خارجی پہلوؤں کے علم کا نام سائنس ہے۔ تفصیل آیات سے مراد وحی ہے جس کا آخری اور مکمل متن قرآن کی صورت میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔ علم کلام اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ الہامی علم اور کائناتی علم کی وحدت کو سمجھا جائے ، نا معلوم کائنات کو معلوم کائنات کی مدد سے قابل فہم بنایا جائے ۔
اس حیثیت سے دیکھئے تو اسلامی علم کلام کا کوئی قدیم وجدید نہیں ۔ متکلمینِ اسلام کی ایک غلطی تھی جس نے علم کلام میں قدیم وجدید کی تقسیم پیدا کی۔ علمِ کلامِ حقیقتہً قرآنی عقلیات کو مرتب کرنے کا نام تھا۔ مگر عباسی دور کے متکلمین نے اس کو انسان کی وضع کردہ فلسفیانہ عقلیات پر ڈھالنے کے ہم معنی سمجھ لیا ۔ یہی وہ غلطی ہے جس نے علم کلام میں قدیم وجدید کے تصورات پیدا کئے۔ کیونکہ فلسفیانہ عقلیات قیاسی ہونے کی وجہ سے تغیر پذیر تھیں ، جب کہ قرآنی یا کائناتی عقلیات میں تغیر و تبدل کا کوئی سوال نہیں ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کا طریق استدلال تمام تر کائناتی ہے۔ وہ محسوس واقعات کے ذریعہ غیر محسوس حقائق پر استدلال کرتا ہے۔ قرآنی علم کلام کی بنیاد زمین و آسمان کے ان قوانین پر ہے جو اٹل ہیں، جن میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ اس لئے قرآنی علم کلام بھی اٹل ہے، اس میں تبدیلی کا کوئی سوال نہیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قرآنی علم کلام بھی، قرآنی اعتقادیات کی طرح ، غیر تغیر پذیر ہے۔ مگر جب علم کلام کو انسان کے پیدا کردہ علوم کی بنیاد پر مرتب کیا گیا تو فی الفور علم کلام میں قدیم وجدید کا مسئلہ پیدا ہوگیا کیونکہ یہ علوم تمام تر قیاس کی بنیاد پر تھے ، وہ کبھی یکساں نہیں رہ سکتے ۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں ، اگر کلی طور پر نہیں تو ایک خاص حد تک ، ہم اس پوزیشن میں سچکے ہیں کہ علم کلام کو اس کی قطعی اور آفاقی شکل میں مرتب کر سکیں ۔ قدیم زمانہ میں عالم افلاک اور علم افلاک دونوں الگ الگ چیزیں تھیں۔ حقائق پر مبنی تھا اور علمِ افلاک قیاسات پر۔ آج یہ دونوں چیزیں ایک ہوتی جارہی ہیں۔ یہی معاملہ قرآن کا ہے۔ میں قرآن اور علم کلام دونوں الگ الگ تھے ۔ قرآن آیات محکمات پر مبنی تھا اور علم کلام فلاسفہ کے قیاسات پر۔ آج علم انسانی کے ارتقا نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ قرآن اور علم کلام دونوں کو ایک کیا جاسکے۔ اگر کوئی چیز ہے جس کو ” علمِ کلام جدید“ کہا جائے تو وہ یہی علم کلام ہے جس کو مرتب کیا جانا چاہئے ، اگرچہ وہ ابھی تک مرتب نہیں کیا گیا ہے۔ یہاں میں مختصر طور پر چند کاموں کا ذکر کروں گا جو علم کلام کی جدید ترتیب وتتدوین کے سلسلے میں کو انجام دینا ہے ۔ سب سے پہلا کام قرآن کی بنیاد پر ایک نظریہ علم کو مرتب کرنا ہے یعنی طریق استدلال کا علم ۔ قدیم زمانہ میں قیاسی مفروضات و مسلمات پر استدلال قائم کیا جاتا تھا۔ تحقیق و تجربہ کے جدید طریقوں کے ظہور میں آنے کے ابتدائی زمانہ میں مشاہدا تی استدلال پر زور دیا گیا۔ مگر آئن سٹائن کے بعد علم انسانی کا جو دور شروع ہوا ہے ، اس میں زیادہ سے زیادہ یہ بات واضح ہوتی جارہی ہے کہ حقیقت اپنی آخری صورت میں انسان کے لئے نا قابل مشاہدہ ہے۔ اب یہ بات تقریباً مان لی گئی ہے کہ
انسان کی محدود صلاحیتوں کی وجہ سے، مشاہداتی استدلالی حصہ اس کے لئے ممکن نہیں۔ ہم صرف اس پوزیشن میں ہیں کہ استنباطی استدلال قائم کر سکیں۔ ہم حقائق کو دیکھ نہیں سکتے، ہم صرف یہ کر سکتے ہیں کہ ظاہر اشیاء پر غور کر کے یہ مستنبط کریں کہ یہاں فلاں چیز پائی جاتی چاہئے۔
اب موجودہ زمانہ میں ایک نیا نظریہ علم وجود میں آیا ہے جو حیرت انگیز طور پر قرآنی نظریہ علم کے عین مطابق ہے۔ میں کہا گیا تھا کہ انسان کو علم قلیل (بنی اسرائیل - ۸۵) دیا گیا ہے۔ اس لئے اس کو بالواسطہ علم پر قناعت کرنی چاہئے نہ کہ وہ براہ راست علم کے لئے اصرار کرنے لگے۔ اس طرح وحی اور علم انسانی دونوں ایک نقطہ پر پہنچ گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید نظریہ علم نے قرآنی طرز استدلال کو جدید اصطلاح میں، عین سائنٹفک استدلال کا درجہ دے دیا ہے موجودہ زمانہ میں علم کلام کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ اس اہم ترین دریافت کو مدوّن کرے دوسرا کام قرآنی علم الآثار کی تدوین ہے۔ قرآن میں پچھلے انبیاء اور گزری ہوئی تہذیبوں کا ذکر ہے۔ یہ قرآن کا وہ حصہ ہے جس کو ایام اللہ (ابراہیم - ۵) کہا گیا ہے۔ تاریخ انسانی کے یہ واقعات قرآن کے نقطہ نظر سے بے صداہم ہیں، وہ ثابت کرتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے۔ وہ ہر دور میں اپنے نمائندے بھیجتا ہے اور اپنے اٹل قوانین کی بنیاد پر قوموں کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے۔
یہ اگر چہ تاریخ کا مضمون ہے۔ مگر قرآن میں اس کا ذکر معروف تاریخی انداز میں نہیں ہے، بلکہ دعوتی اور اجمالی انداز میں ہے۔ ان واقعات کے بارے میں قرآن سے باہر جو ریکارڈ ہے، وہ قدیم زمانے میں بڑی حد تک لامعلوم تھا۔ قدیم زمانے میں قرآن کے ان اجزاء کی تدوین خالص تاریخی انداز میں ممکن نہ تھی۔ اب ان واقعات سے متعلق بے شمار دبے ہوئے ریکارڈ دریافت ہو گئے ہیں، اس طرح اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ایام اللہ کے بارے میں قرآنی حوالوں کو منضبط کیا جائے، قرآن کی دعوت کو تاریخ کی زبان میں مدون کر دیا جائے ۔
تیسرا کام آیات آفاق (سجدہ - -53) کو جدید دریافتوں کی مدد سے ترتیب دینا ہے۔ قرآن کے مطابق کائنات میں بے شمار نشانیاں ہیں جو اپنے خالق کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اور اس حکمت کو بتاتی ہیں جس کے تحت یہ کارخانہ بنایا قرآن میں بار بار ان نشانیوں کے حوالے دیئے گئے ہیں اور ان سے قرآن کی دعوت کو مدلل کیا گیا ہے۔ تاہم یہ حوالے اشاراتی زبان میں ہیں۔ قدیم زمانہ میں ایسی معلومات حاصل نہ تھیں جن سے ان اشارات کو تفصیلی انداز میں سمجھا جا سکے۔ سائنس کے ارتقاء نے یہ مواد بڑی حد تک جمع کر دیا ہے۔ شاید یہ کہنا مبالغہ نہ ہو کہ سائنس موجودہ زمانہ میں اسلام کی تھیالوجی بن چکی ہے۔ تاہم اس کو مدون کرنے کا کام ابھی باقی ہے۔ ضرورت ہے کہ خدا کی یہ نشانیاں، جو طبعی دنیا میں چھپی ہوئی ہیں، جدید دریافتوں کی مدد سے ان کو مفصل شکل میں مرتب کیا جائے۔
قرآن کے استدلال کا ایک پہلو وہ ہے جس کو آیات النفس (حم سجدہ - ۵۳) کہا گیا ہے یعنی نفسیات انسانی کے اندر خدا کی نشانیاں۔ یہ جز بھی قدیم زمانہ میں بڑی حد تک مخفی تھا۔ صوفیاء نے اس پہلو سے بہت کچھ لکھا ہے مگر وہ علم حقائق سے زیادہ قیاسات پر مبنی ہے اور اس کا بڑا حصہ موجودہ زمانے میں بے قیمت ہو چکا ہے۔ تاہم علم انفس کی تحقیقات
نے موجودہ زمانے میں بہت سی ایسی معلومات فراہم کر دی ہیں جن کی روشنی میں قرآن کے اشارات کو اگر پوری طرح نہیں تو بڑی حد تک مفصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ کام اگر علمی سطح پر ہو جائے تو وہ قرآنی نظریات کے حق میں ایک عظیم نفسیاتی تصدیق
آخر میں ایک ایسے علمی کام کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو رواجاً علم کلام میں شمار نہیں کیا جاتا۔ کے اعتبار سے اس کو علم کلام کا سب سے اہم جزو ہونا چاہئے۔ یہ ہے سائنٹفک انداز میں اسلام پر تعارفی لٹریچر تیار کرنا۔ موجودہ زمانے میں اسلام پر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مگر تقریباً تمام کتابوں پر کسی نہ کسی طرح، کلامی انداز غالب رہا ہے۔ تفسیر سیرت، عام اسلامی لٹریچر کا جو ذخیرہ موجودہ زمانہ میں تیار ہوا ہے، تقریباً سب کا سب، علم کلام کے خانہ میں رکھا اس سے قطع نظر کہ ان کتابوں کی علمی قدر و قیمت کیا ہے، خود یہ بات عصری تقاضے کے خلاف ہے کہ تفسیر اور سیرت کو علم کلام بنا دیا جائے۔
موجودہ زمانہ آزادی فکر کا زمانہ ہے۔ آج کا انسان یہ چاہتا ہے کہ اصل بات، کسی تعبیری یا کلامی اضافہ کے بغیر اس کے سامنے رکھ دی جائے ۔ اور جانچنے پرکھنے کا معاملہ خود قاری کے اوپر چھوڑ دیا جائے یہی وجہ ہے کہ کتابوں کے ہجوم کے باوجود ساری دنیا میں نئی اسلامی کتابوں کی مانگ ہے۔ آج کا انسان اسلام کو سمجھنا چاہتا ہے۔ مگر ایسی کتابوں کے ذریعہ جن میں اسلام کو اس اسلوب میں پیش کیا گیا ہو جس کو موجودہ زمانہ میں سائنٹفک اسلوب کہا جاتا ہے۔ آج کا انسان عقلیاتی اسلوب سے زیادہ سائنٹفک اسلوب کا دلدادہ ہے۔ مگر بدقسمتی سے کسی بھی اسلامی زبان میں اب تک سائنٹفک اسلوب رواج نہ پا سکا۔ سائنٹفک اسلوب سے مراد معروف کلامی اسلوب نہیں ہے۔ بلکہ ایسا سادہ اور مثبت اسلوب ہے جس میں زبان و بیان دونوں اعتبار سے حقیقت نگاری کو ملحوظ رکھا گیا ہو۔
موجودہ زمانہ میں ہمارے لکھنے والوں نے بے شمار کتابیں اسلام پر لکھی ہیں۔ مگر میرے علم کی حد تک کسی بھی زبان میں کوئی ایسا تعارفی سٹ تیار نہیں ہوا ہے جس میں سادہ، مثبت اور حقیقت پسندانہ انداز میں اسلام کی تعلیمات اور پیغمبر اسلام کی سیرت کو مرتب کیا گیا ہو، حالانکہ آج سب سے زیادہ ضرورت اسی قسم کی کتابوں کی ہے۔ میں یہ کہنے کی جرات کروں گا کہ اگر ہم کچھ اور نہ کریں، صرف اتنا کریں کہ تعلیمات قرآن، سیرت، حدیث، حالات صحابہ اور تاریخ اسلام (نہ که تاریخ فتوحات) پر خالص علمی اسلوب اور حقیقت نگاری کی بنیاد پر کتابوں کا ایک سٹ تیار کروائیں اور اس کو تمام زبانوں میں چھاپ دیں تو ہم علم کلام کے مقصد کو، کم از کم آج کی دنیا میں، زیادہ بہتر طور پر حاصل کر سکیں گے۔ نوٹ: دسمبر ۱۹۷۰ء کے آخری ہفتہ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے زیراہتمام ایک سیمینار ہوا عنوان تھا: "فکر اسلامی کی تشکیل جدید کا مسئلہ" اس موقع پر ۲۸ دسمبر کی نشست میں یہ مقالہ پڑھا گیا۔