علومِ اسلامی کی تدوین
Al-Risala, June 1978, pp. 34–40
By Maulana Wahiduddin Khan
عقبہ بن نافع تابعی ۶۲ھ) یزید بن معاویہ کی خلافت کے زمانہ میں افریقہ میں اسلامی فوجوں کے سپہ سالار تھے، وہ مغربی افریقہ کے ملکوں کو فتح کرتے ہوئے اٹلانٹک کے ساحل تک پہنچ گئے بشر اسطی ان کی آخری منزل تھی۔ وہاں انھوں نے اپنا گھوڑا سمندر میں ڈال دیا اور اس کے پانی میں کھڑے ہو کر کہا :
اللهم اني لو اعلم وراء هذا البحر بلد اًلخضته اليه خدایا، اگر میں جانتا کہ اس سمندر کے اُس پار بھی کوئی ملک حتی لا یعبد احد دونک ہے تو میں سمندر میں گھس کر وہاں جاتا یہاں تک کہ تیرے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔
وہ لوگ جو دورِ اول میں قرآن پر ایمان لائے، اور جنہوں نے براہِ راست پیغمبرِ خدا سے تربیت حاصل کی تھی، اُن کے اندر سب سے زیادہ ابھرا ہوا جذبہ یہ ہی تھا کہ وہ خدا کے پیغام کو خدا کے تمام بندوں تک پہنچا دیں۔ ان کا یہ جذبہ اس وقت تک تھمتا ہوا نظر نہ آتا تھا جب تک سارے جہان کے لوگوں کو اللہ کا بندہ نہ بنا لیں۔ بعد کی صدیوں میں اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کرنے والا انتہائی حیرت کے ساتھ دیکھتا ہے کہ یہ جذبہ دھیرے دھیرے ختم ہو گیا۔ قریبی صدیوں میں جب اسلام کو زوال ہوا تو اس کو از سرِ نو زندہ کرنے کے لئے کتنی ہی عالی شان تحریکیں اٹھیں، مگر کوئی بھی قابلِ ذکر تحریک دعوتِ الی اللہ کے مقصد کے لے کر اٹھنے والی نہیں تھی۔
جو قرآن صحابہ و تابعین نے پڑھا تھا، وہی قرآن بعد کے لوگوں نے بھی پڑھا، پھر کیا وجہ ہے کہ جس قرآن نے اپنے اولین مخاطبین کے اندر دعوتِ اسلام کی آگ لگا دی تھی وہی قرآن بعد کے لوگوں کو دعوت کے عنوان پر کھڑا کرنے کا باعث نہ بن سکا۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ صدرِ اول میں قرآن براہِ راست طور پر لوگوں کے لئے علمِ دین کا ماخذ تھا۔ جب کہ بعد کے دور میں وہ انسانوں کے پیدا کردہ علوم کے پالہ میں چھپ گیا۔
قرآن ایک اساسی کتاب ہے جس میں دین کے تمام بنیادی مسائل بتائے گئے ہیں ۔ اب ضرورت ہے کہ ان اساسات کی بنیاد پر اس کی مزید تبئین (نخل ۔ ۴۴) کر کے اس کو لوگوں کے لئے ’یسیر الفہم‘ بنا دیا جائے۔ اس تبئین کا واضح نمونہ سنتِ رسول اللہ میں موجود تھا۔ مگر بعد کے دور میں قرآن کی تبئین و تفصیل سے سنت کے سادہ طریقے کے بجائے فنی طریقہ اختیار کر لیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیدھے سادے دینِ محمدی کے بجائے ایک پیچیدہ قسم کا متوازی دینِ وجود میں آ گیا جس کا تانا بانا فقہی اصطلاحات ، متکلمانہ مو شگافیوں اور تصوفانہ اسرار و رموز سے تیار ہوا تھا، تابعین، جنھوں نے اصحابِ رسول سے دین کو پایا تھا، انھوں نے دین کو اس طرح فن بنانے پر سخت احتجاج کیا۔ ان کے نزدیک یہ یہود و نصاری کی نقل تھی نہ کہ سنتِ محمدی کی پیروی۔ مگر عوام اور حکراں چونکہ کیفیاتِ دین سے خالی ہو چکے تھے، اس لئے مشکل دین ان کے زیادہ حسبِ حال تھا، ان کی تائید کے زور پر وہ بڑھتا رہا۔ تاریخ کا تجربہ ہے کہ جب طویل مدت گزر جائے تو ماضی
کی ہر چیز مقدس بن جاتی ہے۔ چنانچہ وقت گزرنے لے کر ساتھ اس متوازی دین میں تقدس کا عنصر بھی شامل ہوتا چلا گیا۔ حتیٰ کہ اب کوئی شخص یہ سوچ نہیں سکتا کہ فقہ کی کتابوں میں کوئی مسئلہ ایسا بھی ہو سکتا ہے جو قرآن و سنت کی منشا کے مطابق نہ ہو۔ اور صوفیا کے ملفوظات اور قصوں میں کسی غلطی کا بھی امکان ہے۔ یا مزید معقولات میں بھی کوئی چیز ایسی ہو سکتی ہے جس کو غیر منقول کہا جائے ــــــــ اس کے بعد قرآن کو جہاں جگہ مل سکتی تھی، وہ صرف برکت کا خانہ تھا۔ برکت کی حیثیت سے کتاب تلاوت بن کر وہ گیا۔ حتیٰ کہ جن لوگوں نے قرآن کی تفسیریں لکھیں، ان کے سامنے بھی یا تو "ثواب" حاصل کرنا تھا یا یہ تھا کہ فقہ، تصوف یا معقولات میں اپنے مخصوص نقطہ نظر کو خدا کی کتاب سے ثابت کر دکھایا الا ماشاء اللہ۔
یہ کہنا صحیح ہوگا کہ فقہ اور تصوف اور علم کلام کی شکل میں جو اضافے اسلام میں ہوئے، ان کا سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ قرآن کا سرا امت کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ ان اضافوں نے دین کو ایک قسم کا فن بنا دیا۔ کتاب الہیٰ میں جو چیز ساوہ اور فطری انداز میں بتائی گئی تھی، اس میں اپنی طرف سے موشگافیاں کر کے نئے نئے مسئلے پیدا کئے اور بطور خود بے شمار اصطلاحات وضع کیں تاکہ ان کو فنی انداز میں بیان کیا جاسکے۔ اس طرح دین خداوندی ایسے احکام و مسائل کا مجموعہ بن گیا جوصرف فنی کتابوں کے مطالعہ سے جانا جا سکتا ہو نہ کتاب الہیٰ کے ذریعہ اس کو معلوم کرنا ممکن نہ ہو۔ آج کسی کو نماز کے "مسائل" جاننا ہوں تو اس کے حاشیہ خیال میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ وہ اس مقصد کے لئے قرآن کا مطالعہ کرے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ نماز کے مسائل تو فقہ کی کتابوں میں ملیں گے۔ کسی کو روحانی ترقی مطلوب ہو تو اس کو کبھی یہ خیال نہیں آئے گا کہ خدا کی کتاب کے بیٹھے اور اس میں روحانی سلوک کے طریقے تلاش کرے۔ یہ کرتا ہے کہ کسی "بزرگ" کے پاس پہنچ جاتا ہے، کیونکہ اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ فن روحانیت کے آداب تو فن روحانیت کے کسی ماہر ہی سے معلوم کئے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح کسی کو یہ شوق ہو کہ دہ اسلام کی دعوت کو عقلی طور پر مدلل کرے تو وہ قرآن میں اس کے نکتے نہیں ڈھونڈے گا بلکہ معقولات میں غرق ہو جائے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس فن کی باریکیاں صرف معقولات کی کتابوں سے حاصل کی جا سکتی ہیں ــــــــ قرآن اس لئے اتارا گیا تھا کہ لوگ اس میں تدبر (ص - (۲۹) کرکے اپنے لئے رہنمائی حاصل کریں مگر قرآنی تعلیمات کو فن بنانے کا نتیجہ ہوا کہ قرآن کتاب تدبر نہ رہا، کتاب تلاوت بن گیا جس کا آخری استعمال یہ تھا کہ اس کو ہر روز یا ہر ہفتہ میں "ختم" کر لیا جایا کرے لوگ اپنے دین کو اپنے اخبار و مہمان سے اخذ کرنے لگے اور قرآن کو برکت کی چیز کی حیثیت سے جزو دان میں لپیٹ کر رکھ دیا۔ ایسا ہونا بالکل فطری تھا کہ کیوں کہ جن نکتوں اور موشگافیوں کو انھوں نے دین سمجھ رکھا تھا، وہ قرآن کے اندر موجود ہی نہ تھے۔ خدا کی کتاب سے محرومی کا یہ معاملہ اسی حد پر نہ رکا بلکہ وہ ہماری پوری زندگی پر چھا گیا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے تمام ضروری امور کی تفصیل بیان کر دی ہے (اسرار - ۱۳) وہ ہر معاملہ میں مومن کی ذہنی غذا ہے۔ مگر مذکورہ عمل کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ ذہن ہی ختم ہو گیا کہ اسلام اور ملت اسلام کے تمام مسائل کو ہم قرآن میں تلاش کریں، قرآن کو خالی الذہن ہو کر دیکھیے تو بلا اشتباہ نظر آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ رہ اس بات کو جانے کہ مرنے کے بعد اسے
اپنے رب کے سامنے حساب کے لئے کھڑا ہونا ہے۔ اس آنے والے دن سے تمام قوموں کو باخبر کرنا ہی امت محمدی کا اصل مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس دور اٹھنے والی بے شمار تحریکوں میں سے کوئی بھی قابل ذکر تحریک ایسی نہیں جو اس خاص مقصد کو لے کر اٹھی ہو۔
موجودہ زمانہ میں جو لوگ احیائے اسلام کے لئے اٹھے، وہ اگرچہ عالم تھے اور قرآن کو پڑھتے تھے مگر ان کا شکا نقطہ اور تصوف اور علم کلام نے بنایا تھا یہی چیز ہے جس نے قرآن کی صراط مستقیم سے لوگوں کو ہٹا دیا۔ ان میں سے جس کے اوپر کلامیات کا غلبہ تھا، اس کے ذہن میں خدمت دین کے شوق نے مناظرہ کی صورت اختیار کر لی۔ جو لوگ متصوفانہ ذہن رکھتے تھے، وہ خانقاہی طرز کی تعلیم و تربیت میں ملت کا مستقبل تلاش کرنے لگے۔ اسی طرح جن کا ذہن فقہ کے سانچے میں بنا تھا، وہ اسلام کو بطور ایک "نظام" کے دیکھنے لگے جس کو بروئے کار لانے کی واحد شکل یہ تھی کہ حکومت الہیہ قائم کر کے اسلام کے دیوانی اور فوجداری قوانین کو نافذ کیا جائے۔ یہ نقطہ نظر عوام تک میں اس طرح سرایت کر گیا کہ اسلام کے اصل کام کے لئے ان کے اندر کوئی اپیل نہیں رہی۔ ان کی فہرست میں صرف دو کام ثواب کے کام کی حیثیت سے باقی رہ گئے ۔ مسجدوں اور مدرسوں کی تعمیر کے لئے چندے دینا، یا بزرگوں کی خدمت میں نذرانے پیش کرنا۔ ان کے سوا کوئی اور کام انھیں دینی کام نظر نہیں آتا، اس لئے اس میں ان سے تعاون کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔
ایک خالی الذہن شخص ہمارے اسلامی کتب خانہ کو دیکھے تو وہ حیرت انگیز طور پر ایک اختلاف کا مشاہدہ کرے گا۔ یہ دینِ مستقل اور دینِ مدون کا اختلاف ہے جو بہت بڑے پیمانے پر اسلام کے اندر پیدا ہو گیا ہے۔ خدا کا دین قرآن و حدیث میں، ایک سادہ اور فطری چیز نظر آتا ہے۔ وہ دلوں کو گرما تا ہے اور عقل میں جلا پیدا کرتا ہے۔ مگر یہی الہی علوم جب انسانی کتابوں میں مدون ہو کر ہمارے سامنے آتے ہیں تو اچانک وہ ایک ایسی شکل اختیار کر لیتے ہیں جس میں خشک بحثوں کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ ان میں نہ دلوں کے لئے گرمی ہے اور نہ عقل کے لئے روشنی ۔ قرآن میں بھی فقہ ہے مگر وہ کنز الدقائق (ابو البرکات نسفی) کی فقہ سے مختلف ہے۔ قرآن میں میں بھی تصوف ہے مگر ضیاء القلوب (حاجی امداد مہاجر کی) کے تصوف سے اس کو کوئی مشابہت نہیں۔ اسی طرح قرآن میں بھی معقولات ہیں مگر شمس باز غه (ملا جیون جونپوری) کی معقولات سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ علوم اسلامی کی تدوین بذات خود کوئی غیر مطلوب چیز تھی ۔ وہ بلا شبہ مطلوب تھی۔ اس نے بعد کی صدیوں میں جو رخ اختیار کر لیا وہ صحیح نہ تھا۔ اسلامی علوم کی تدوین تذکیری طرز پر مطلوب تھی نہ کہ فنی طرز پر جیسا کہ عملاً وقوع میں آیا۔ دین کو ذکر و نصیحت کی خاطر آسان (قمر - 17) بنایا گیا تھا ۔ مگر ہم نے اپنی پیچیدہ بحثوں سے اس کو شکل بنا دیا۔
قرآن کو ذکر یعنی نصیحت (لیس - (۶۹) کہا گیا ہے۔ قرآن میں غور وفکر (ص - (۲۹) اور علمی اضافہ (زمر- ۳۹) بھی مطلوب ہے جس سے ذکر اور نصیحت حاصل ہو۔ مزید یہ کہ علوم قرآنی کی تفصیل و تبیین کس طرح کی جائے اس کا بھی واضح نمونہ سنت رسول میں موجود تھا کیونکہ آپ اس کے لئے خدا کی طرف سے مامور تھے (نحل - (۴۴) اور آپ نے اس کو
انتہائی مکمل شکل میں انجام دیا۔ یہ تمام چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ علوم اسلامی کی تدوین کا یہ مطلب ہرگز یں ہے کہ اس میں فنّی اضافہ کیا جائے یا اللہ اور رسول نے جو احکام دئے ہیں، ان میں مزید استخراج کرکے نئے نئے سائل وضع کئے جائیں اور قرآن، جس میں امام غزالی کے نزدیک صرف پانچ سو احکام ہیں، اس کو پانچ سو ہزار احکام کا مجموعہ ب دیا جائے۔ نہ علوم اسلامی کی تدوین کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس میں بطور تمہید و تفصیل وہ چیزیں شامل کی جائیں جن میں ذکر اور نصیحت کا سامان ہو۔ قرآن میں ہم کو جو باتیں بتائی گئی ہیں، ان کے بارے میں جہاں یہ ہے کہ ان کو مضبوطی سے پکڑو، اسی کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ قرآن کے بیانات پر غوراور تدبر کرو (ص۔ 29)قرآن قرآن میں تفصیلات اور معانی کی تلاش بجائے خود ایک نا پسندیوہ چیز ہے۔ مگر یہ تلاش تذکیر و نصیحت کے اجزاء تلاش کرنے کے لئے ہونا چاہئے نہ کہ فنی تعینات اور قانونی فروعات ڈھونڈنے کے لئے۔
آج اگر کسی بستی کے لوگ دار الافتاء کو یہ مسئلہ لکھ کر بھیجیں کہ ہماری مسجد کا مسقف حصہ نمازیوں کی بڑھی ہوئی تعداد کے لئے تنگ ہورہا تھا اور مسجد کے موجودہ رقبہ میں اضافہ کی صورت نہ تھی۔ اس لئے ہم نے مسجد کے پورے صحن پر چھت اب مشکل یہ پیش آگئی کہ مسجد میں صحن باقی نہ رہا۔ ایسی حالت میں کیا موسمی ضرورت کے تحت مسجد کی کھلی چھت کو نماز کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے، تو ہمارا مفتی فوراً ایک شرعی مسئلہ کی حیثیت سے اس کا جواب دینے بیٹھ جائے گا اور لکھے گا کہ فلاں فلاں شرطوں کے ساتھ مسجد کی چھت کو نماز کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حالاں کہ ہر چیز کو ”شرعی مسئلہ“ بنانا قطعاً اسلام کے خلاف ہے۔ یہ تو وہ یہودیت ہے جس کو مٹانے کے لئے نبی آخر الزماں کو مبعوث کیا گیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے زمانے میں یہ حال تھا کہ جب اس قسم کا کوئی سوال کیا جاتا تو مسائل کو کوئی متعین جواب نہ دیا جاتا بلکہ یہ کہا جاتا کہ یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے۔ اپنے حالات کے لحاظ سے جیسا مناسب سمجھو ویسا کرلو۔ احادیث و سیر کی کتابوں میں کثرت سے اس قسم کی مثالیں ملتی ہیں کہ کسی سوال کے جواب میں ”مسئلہ“ بتانے کے بجائے خود سوال کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ مگر آج کے فقیہہ اور مفتی کے یہاں اس قسم کا کوئی خانہ نہیں۔ اس کے یہاں ہر چیز ایک شرعی مسئلہ ہے اور ہر بات کے جواب میں وہ اپنی فقہ کی کتابوں سے کوئی نہ کوئی جزئیہ دریافت کر لیتا ہے جس کی روشنی میں وہ سائل کو مسئلہ کی شرعی صورت بتا سکے۔ نزول قرآن کے وقت یہود سے کہا گیا تھا:
وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ١٥٧ [اعراف۔ ١٥٧] یہ نبی ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور دہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔
مطلب یہ کہ یہودی فقیہوں نے اپنی قانونی موشگافیوں سے اور ان کے روحانی مقتداؤں نے اپنے تورع کے مبالغوں سے ان کی زندگی کو جن بوجھوں کے نیچے دبا رکھا ہے اور جن خود ساختہ بندشوں میں انھیں جکڑ رکھا ہے، یہ پیغمبر ان سے انھیں آزاد کرتا ہے اور دین خداوندی کو اس کی بے آمیز شکل میں ان کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ آج پیغمبر آخر الزماں کی امت
خود ساختہ " عصر دا غلال " کے نیچے دب چکی ہے ۔ ان کے فقہاء و مشائخ نے اسلام میں وہ سارے اضافے کر ڈالے ہیں جو یہودی فقیہوں اور فریسیوں نے شریعت موسوی میں کئے تھے۔ آج اسلام کی تجدید کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ اسلام کو ان تمام اضافوں سے پاک کر دیا جائے۔ جب تک یہ کام نہ ہو اسلام کو زندہ نہیں کیا جا سکتا۔ خدا کے دین کو فن بنانا بظاہر ایک حسین یا کم از کم بے ضرر چیز معلوم ہوتا ہے۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے وہ نہایت یہ دلوں کے اندر رفاوت پیدا کرتا ہے اور لطیف احساسات کو آدمی سے چھین لیتا ہے۔ قرآن و حدیث میں خدا کا دین جس زبان میں ہے ، وہ انذار و تبشیر کی زبان ہے ، وہ تذکیر و نصیحت کی زبان ہے۔ یہ دونوں انداز ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف ہیں اور بالکل مختلف قسم کے نتائج پیدا کرتے ہیں۔ قرآن و حدیث کا انداز آدمی کو حقائق و معانی کی طرف متوجہ کرتا ہے ، جبکہ ہمارے فنی علوم اس کو جزئیات میں مشغول کر دیتے ہیں۔ قرآن و حدیث کے انداز سے آدمی کے اندر تفکر و تدبر پیدا ہوتا ہے جب کہ فنی علوم بحث و جدال کے لامتناہی دروازے کھول دیتے ہیں۔ حدیث کا انداز آدمی کے احساسات کو اس طرح جگاتا ہے کہ یوم الحساب کا مسئلہ اس کو سب سے بڑا مسئلہ نظر آنے لگتا اس کے برعکس فنی علوم آدمی کو لایعنی قسم کی منطقی موشگافیوں میں الجھا کر اس کو زندگی کے اصل سوالات سے دور کر دیتے ہیں۔ اس طرح یہ فنی علوم ، بظاہر ہر جائز علوم ہونے کے باوجود ، باعتبار نتائج اس مقصد کے لئے قاتل بن گئے ہیں جس کے لئے اللہ نے قرآن اتارا اور اپنا رسول بھیجا تھا۔
اس صورت حال کی اصلاح کی کوئی بھی شکل اس کے سوا نہیں ہے کہ قرآن و حدیث کو حقیقی معنوں میں لوگوں کے لئے دین اخذ کرنے کا ذریعہ بنا دیا جائے ، جس طرح اب وہ فنون کی کتابوں سے اپنا دین اخذ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر نماز کے بارے میں تمام بنیادی باتیں قرآن میں موجود ہیں۔ اس کے بعد اس کے ضروری مسائل حدیث اور آثار صحابہ میں مل جاتے ہیں۔ اب مسائل نماز پر ہماری جو کتاب لکھی جائے ، وہ بس انھیں تینوں چیزوں ( قرآن ، سنت ، آثار صحابہ ) پر مشتمل ہو۔ اس کے سوا کسی بھی چیز کو نماز کے مسائل میں شمار نہ کیا جائے حتی کہ ترجیح اور تفضیل کو بھی نہیں۔ کیونکہ صحابہ کے درمیان کسی مسئلہ میں اختلاف ہونا اس مسئلہ میں دینی توسع کو بتاتا ہے۔ نہ یہ کہ ایک صحیح ہے اور دوسرا غلط ، ایک افضل ہے ، دوسرا غیر افضل۔
ہمارے عربی کتب خانہ کی " امہات کتب " کا بیشتر حصہ وہ ہے جو اسی فنی زبان میں مرتب کیا گیا ہے۔ فنی فقہ ، فن معقولات اور فن تصوف ، بعد کو پیدا ہونے والے اسلامی لٹریچر پر اسی طرح چھائے ہوئے ہیں جس طرح ہالہ چاند کو گھیرے ہوئے ہوتا ہے۔ نتیجہ اگر چہ متن اسلام نہیں مگر عملی اور روایتی اسلام ٹھیک اسی طرح انسانی آمیزش کا شکار ہو گیا جس طرح دوسرے مذاہب اس کا شکار ہوئے تھے۔ جب تک یہ کتابیں علم دین کا ماخذ ہیں ، کبھی یہ ممکن نہیں کہ صحیح تصویر دین لوگوں کے دماغوں میں جگہ پا سکے۔ صحیح دینی فکر پیدا کرنے کے لئے ناگزیر طور پر ضروری ہے کہ قرآن و حدیث اور آثار صحابہ کو علم دین کا ماخذ بنایا جائے نہ کہ ان کتابوں کو جو ہمارے دار العلوموں میں پڑھائی جاتی ہیں۔ اسلام کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے پہلا ناگزیر قدم یہ ہے کہ علوم قرآن ، علوم حدیث اور آثار صحابہ کو از سر نو سادہ علمی انداز میں مرتب
کیا جائے اور فقہی اور معقولاتی اور متصوفانہ انداز کو ہمیشہ کے لئے ایک تاریخی چیز بنا دیا جائے۔ خدائی دین کو جب تک انسانی آمیزشوں سے پاک نہ کیا جائے، اسلام کا احیاء نہیں ہو سکتا۔
اسلام کی تدوین کا کام ایک دو شخص کے کرنے کا نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی مجلس ہی کے ذریعہ انجام پاسکتا ہے جس میں معقول تعداد میں ایسے اہل علم جمع کئے جائیں جو نہ صرف قرآن و حدیث کو بخوبی جانتے ہوں بلکہ خالص علمی انداز سے مسائل کی تحقیق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس طرح کی ایک ٹیم ایک ادارہ میں اکٹھا ہو کر مسلسل کام کرے اور اس کو اس مقصد کی تکمیل کے لئے ہر قسم کے وسائل با فراط حاصل ہوں تو انشاء اللہ دس برس میں وہ ذخیرہ کتب تیار ہو سکتا ہے جو اسلام کو از سرِ نو زندہ کرنے کی ایک حقیقی جد و جہد کے لئے فکری بنیاد کا کام دے، یہ ریاست اگر چاہتی ہے کہ قیامت میں اس کو امت محمدی کی حیثیت سے شمار کیا جائے تو اس کا پہلا لازمی فریضہ ہے کہ "ہدی محمدی" کو انسانی آمیزش سے پاک کر کے اس کی خالص شکل میں لوگوں کے سامنے رکھ دے۔ موجودہ حالت میں اگر ارادہ نہیں تو علاوہ کتمان حق کی مجرم بن رہی ہے اور اس بات کو اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ کسی حامل کتاب گروہ کے لئے کتمان حق کے ساتھ کوئی بھی عمل اللہ تعالی کے یہاں مقبول نہیں ہوتا۔
حکمت کا تقاضا ہے کہ اس کام کو اجتماعی اہتمام کے ساتھ انجام دیا جائے۔ زندہ علوم جو اجتماعی اہمیت کے حامل ہوں ان کی تدوین اجتماعی سطح پر ہی ہونا چاہئے تاکہ پوری ملت کے اندر ان کو مستند مقام حاصل ہو اور سارے لوگ ان کو قبول حضرت ابو بکر صدیق رضہ کے زمانہ میں جب ریاست کے تحت قرآن کی جمع و ترتیب کا کام انجام دیا گیا اور اس کے بعد جو نسخے بچے ان کو جلا دیا گیا، تو اس کے اندر یہی حکمت تھی۔ جمع قرآن کا کام اگر انفرادی شخصیتوں کے ذریعہ انجام پاتا تو سخت اختلاف ہو جاتا اور پھر قیامت تک ختم نہ ہوتا۔
حدیث کی جمع و تدوین کے لئے بھی حضرت عمر بن عبدالعزیز نے غالباً یہی منصوبہ بنایا تھا۔ انھوں نے مدینہ کے گورنر محمد بن عمر بن حزم اور دوسرے گورنروں کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث اور سنت ملے ان کو جمع کر کے ضبط تحریر میں لائیں۔ مگر ان کی جلد موت کی وجہ سے خلافت کی ماتحتی میں یہ کام انجام نہ پا سکا۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ لوگ "ثواب" کے جذبہ کے تحت انفرادی طور پر اس کو کرنے میں لگ گئے۔ بہتر طریقہ یہ تھا کہ محدثین، خلفاء کے ذریعہ، جان کے بے حد عقیدت مند تھے، سرکاری انتظام کے تحت ایک ادارہ قائم کراتے جس میں محدثین کی منتخب جماعت اکٹھا ہو کر حدیث کی جمع و ترتیب کے سلسلے میں وہی کرتی جو قرآن کے سلسلے میں زید بن ثابت انصاری اور ان کے ساتھیوں نے کیا تھا۔ آغاز ہی میں معتبر احادیث کا ایک مجموعہ تیار کر کے باقی تمام" احادیث" کو نذر آتش کر دیا جاتا، تو امت بے شمار فتنوں سے بچ جاتی۔ فقہ کی تدوین کے سلسلے میں بھی صحیح طریقہ اسی اسوہ صدیقی پر عمل کرنا تھا بجائے اس کے کہ مختلف فقہاء الگ الگ مدرسہ فکر لے کر بیٹھ جائیں اور ایک خداوندی مذہب کو دس الگ الگ مذاہب میں تبدیل کر ڈالیں، اسی طرح علوم اسلامی کی تدوین کا جو کام ہمارے ذمہ ہے اس کو انجام دینے کا بھی صحیح طریقہ یہ ہے کہ اہل علم کی ایک ٹیم مقرر کی جائے اور وہ اپنی اجتماعی جد و جہد سے کتابوں کا ایک سٹ مرتب کرے۔ انفرادی طور پر اگر یہ کام کیا گیا تو اصل مدعا حاصل نہ ہوگا۔
ہمار7 پاس اسلامی کتابوں کا ایک ایسا سٹ ہونا چاہیے جو اسلام کے مکمل مطالعہ کے لئے کسی کو دیا اس سلسلہ میں علوم اسلامی کی تدوین کی ایک تجویز یہ ہوسکتی ہے : 1 غیر عربی دانوں کے لئے ترجمہ (بغیر تفسیر) شائع کرنا ، مختلف زبانوں میں ۔ 2 قرآن میں مذکور انبیاء اور قوموں کے حالات تاریخی انداز سے مرتب کرنا ، قدیم معلومات اور جدید اثر یات کی مدد سے۔
3 قرآن میں مظاہر کائنات کے جو حوالے ہیں، ان کی تفصیلات جدید علوم کی مدد سے ۔ ۴ قرآن کی تعلیمات کتابی ابواب کی صورت میں۔