اصلاحی و تجدیدی کوششیں
Al-Risala, June 1978, pp. 41–45
By Maulana Wahiduddin Khan
دورِ جدید اور اس کے مقابلہ میں اسلام کے مسئلہ کا آغاز سولھویں صدی عیسوی میں ہوتا ہے جبکہ پرتگالیوں نے یورپ اور ہندوستان کے درمیان سمندری راستہ دریافت کرکے بحرِ ہند اور بحرِ عرب پر قبضہ کر لیا اور عربوں کی تجارت مشرقی ایشیا سے کاٹ دی۔ سترھویں صدی میں اسٹیم انجن کی دریافت اور اٹھارویں صدی میں جدید سائنس کا وجود میں آنا یورپ کے لئے طاقت کا نیا میدان کھل جانے کے ہم معنی تھ1۔ اس کے بعد ۱۸۶۹ میں جب نہرِ سوئز بنی اور اس نے بحرِ روم اور بحرِ احمر کے درمیان سیدھا راستہ کھول دیا تو عالمِ اسلام پر مغرب کے غلبہ کا عمل اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ جب تک یہ عمل تجارتی منڈیوں پر قبضہ اور غیر سیاسی میدانوں میں نفوذ کی صورت میں ہورہا تھا، لوگ اس سے بے خبر رہے۔ مسلم رہنماؤں کو اس واقعہ کی خبر صرف اس وقت ہو سکی جب اس نے اپنے استیلا کو مکمل کرکے عالمِ اسلام کے اوپر اپنا سیاسی جھنڈا لہرا دیا۔
انیسویں صدی کے آخر میں مسلم دنیا میں مختلف قسم کی تحریکوں کا ظہور ہوتا ہے۔ مگر اس پوری مدت میں جو بے شمار تحریکیں مسلمانوں کے درمیان اٹھیں، تقریباً سب کی سب ردِ عمل کی نفسیات کے تحت اٹھنے والی تحریکیں نظر ان میں کوئی تحریک ایسی نہیں ملتی جو ایجابی فکر کے تحت پیدا ہوئی ہو۔ خارجی طاقت کی دراندازی نے مسلم معاشرہ کے لئے جو مسائل پیدا کئے، ان سے متاثر ہو کر کچھ لوگ بس جوابی ذہن کے تحت اٹھ کھڑے ہوئے وہ اصلاً خارجی حالات کی پیدا وار تھے نہ کہ اسلامی تعلیمات اور سیرتِ رسول پر مثبت غور و فکر کی پیدا وار۔ ردِ عمل کی یہ نفسیات جن جن صورتوں میں ظاہر ہوئی، ان کو سمجھنے کے لئے ہم چار عنوانات کے تحت ان کا مطالعہ کر سکتے ہیں:
تعمیر و استحکام مقابلہ آرائی کے ذہن نے سیاسی آزادی کی تحریکوں کی صورت اختیار کی۔ سید جمال الدین افغانی (۱۸۳۸ء سے لے کر ابوالکلام آزاد (۱۸۸۸ء - ۱۹۵۸ء) تک بے شمار ایسے قائدین پیدا ہوئے جنھوں نے - اپنی تقریروں اور تحریروں سے پوری مسلم دنیا کو جوش و خروش سے بھر دیا۔ جمال الدین افغانی کا نعرہ تھا: مصر لِلمصريين (مصر مصر یوں کے لئے)۔ لیبیا میں اٹلی کے سیاسی اقتدار (۱۹۱۱-۱۳۳۰) کے زمانہ میں سلیمان البارونی نے آواز لگائی: موتوا اليوم اعزار قبیل ان تموتوا غدا (آج عزت کے ساتھ مر جاؤ قبل اس کے کہ تم ذلت
کے ساتھ مرو) الفاظ بدل کر اس وہر کے تمام سسی لیڈروں کا نعرہ یہی تھا کہ کروڑوں لوگوں نے اجنبی اقتدار سے رہائی حاصل کرنے کے نام پر اپنی جانیں دے دیں اور کھربوں روپے کے نقصانات کو برداشت کیا۔ آج یہ جد و جہد اپنے مقررہ نشانہ کے مطابق تقریباً تمام ملکوں میں کامیاب ہو چکی ہے۔ مگر چہ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ جس چیز نے مغربی استعمار سے آزادی کی جد و جہد کو کامیاب بنایا یا وہ بڑی حد تک خود مستعمرین کی با ہمی لڑائیاں تھیں، جنزی طور پر جنگ عظیم اول اور زیادہ بڑے پیمانے پر جنگ عظیم ثانی تاہم آزادی کی تحریکوں کی کامیابی ان امیدوں کو پورا نہ کر سکی جن کے لئے انجزائر میں ۲۵ لاکھ اور ہندستان میں دو لاکھ مجاہدین نے اپنے کو قربان کر دیا تھا۔ مسلم قوموں پر مغربی قوموں کا غلبہ آج بھی بدستور باقی ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ پہلے یہ غلبہ فوجی اور سیاسی معنوں میں تھا، اب اس نے اقتصادی اور صنعتی روپ اختیار کر لیا ہے یہ دوسرا غلبہ اتنا شدید ہے کہ مسلم ملکوں کی سیاسی پالیسیاں بھی حقیقی معنوں میں آزاد پالیسیاں نہیں ہیں۔ وہ عملاً انہیں مغربی قوموں کے ہاتھ میں ہیں جن سے ہتھیار خرید کر وہ اپنا دفاع کرتے ہیں، جن کی ٹیکنیکل امداد سے وہ اپنے تمدنی شعبوں کو چلا ان کے اثرات اب بھی اتنے گہرے ہیں کہ وہ جب چاہیں احمد و بلو بلو(1966) یا شاہ فیصل فیصل(1975)کو کو قتل اردن (۱۹۷۱) اور شام (۱۹۷۶) کے ہاتھوں فلسطینی تحریک کو کچل ڈالیں۔ ایران کے عوامی انقلاب (۱۹۷۱) کو ناکام بنا دیں۔ مصر کو اپنے اس دشمن سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور کر دیں جس کے بارے میں جمال عبد الناصر نے فخر یہ کہا تھا: «نحن ابناء الفراعنة سنریکم فی البحر ہم فرعونوں کی اولاد ہیں، ہم تم کو سمندر میں پھینک دیں گے) وغیرہ۔ تحفظ کی تحریکوں نے عام طور پر تعلیم دین کا رخ اختیار کیا مولانا شبلی نعمانی (۱۹۱۴- ۱۸۵۷) نے دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو میں اپنی تقریر میں کہا تھا: ” دوسری قوموں کی ترقی یہ ہے کہ وہ آگے بڑھیں، آگے بڑھیں، ہماری ترقی یہ ہے کہ ہم پیچھے بیٹھیں، پیچھے بیٹھیں ۔ یہاں تک کہ دور نبوت سے جا ملیں " اس ذہن کے تحت تمام ملکوں میں بے شمار مدارس قائم کئے گئے۔ ان مدارس کا مقصد یہ تھا کہ مسلم نسلوں کو عربی زبان اور اسلامی علوم کی تعلیم دی جائے اور ان کو، کم از کم ذہنی حیثیت سے دور نبوت تک پہنچا دیا جائے۔ توقع یہ تھی کہ جو لوگ ان مدارس میں تربیت پا کر نکلیں گے، وہ زمانہ کے اثرات سے اپنے کو بچانے کے لائق بن سکیں گے۔
یہ تحریک ان معنوں میں پوری طرح کامیاب رہی کہ اس نے ساری مسلم دنیا میں دینی مدرسوں کا جال بچھا دیا اور کوئی بستی ایسی نہ رہی جو ان درس گاہوں میں تعلیم پائے ہوئے علما رو فضلا ر سے خالی ہو۔ مگر جہاں تک اسلامی ذہن اندر اسلامی طرز فکر کا سوال ہے، ان مدارس کی کامیابی صد درجہ مشکوک ہے۔ ان مدارس سے فراغت کے بعد جن خوش نصیبوں کو خودان مدارس یا ان سے ملتے جلتے کسی ادارہ میں جگہ مل گئی، انھوں نے بلاشبہ مدرسہ کے دیئے ہوئے ظاہری لبادہ کو باقی رکھا کیونکہ ان اداروں میں قیام و ترقی کے لئے یہی لبادہ ان کی قیمت تھی۔ مگر جن لوگوں کے حالات انھیں ان اداروں سے باہر لے گئے ۔ دو کسی بھی معنی میں غیر دینی مدارس کے فارغین سے مختلف ثابت نہ ہو سکے ۔ (CAREERISM) ان کا دین بھی رہا اور ان کا بھی۔
اس کی دو بڑی وجوہ ہیں ۔ اول کہ دینی تعلیم کے رہنما اس واقعہ کا پوری طرح اندازہ نہ کر سکے کہ اسلامی تعلیم کا مسئلہ موجودہ زمانہ میں ، صرف اسلامی زبان یا اسلامی احکام سے واقف کرانے کا مسئلہ نہیں ہے ۔ نظام حاضر کے فکر میں اسلام کو اس کی جگہ دلانے کا مسئلہ ہے ۔ انھوں نے اپنے اداروں میں جو نسل تیار کی ، وہ اگر چہ اسلام کے روایتی علوم کی ماہر تھی ، مگر اسلام اس کے حقیقی ذہن کا جزو نہیں بنا تھا ۔ کیونکہ وہ اس کو اس فکری مستویٰ کے مطابق دکھائی نہیں دیتا تھا جس کے اندر وہ عملاً سانس لے رہا تھا ۔ جو اسلام اسے دیا گیا وہ اس کے لئے ایک قسم کا معلوماتی ضمیمہ تھا نہ کہ فکری غذا۔ ظاہر ہے کہ عالمی افکار کے سیلاب میں کوئی شخص اس قسم کے ذہنی ضمیمہ کو دیر تک باقی نہیں رکھ سکتا ۔ دوسرے یہ کہ یہ جدید تہدید یوں نے مروجہ دینی تعلیم کا رشتہ اقتصادیات سے کاٹ دیا اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کوئی تعلیمی نظام جو اقتصادی بنیادوں سے محروم ہو ، زندگی کے نظام میں مؤثر مقام حاصل نہیں کر سکتا ۔
۳ - 3۔ احیاء کی تحریکوں سے میری مراد وہ تحریکیں ہیں جو اسلامی نظام کے قیام کا مقصد لے کر اٹھیں۔ کی ماشومی پارٹی ، مصر کی الاخوان المسلمون ، پاکستان کی جماعت اسلامی اس کی مثالیں ہیں ۔ ان تحریکوں کا کہنا تھا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جتنے مسائل پیش آرہے ہیں ، وہ صرف اس لئے ہیں کہ اسلامی قانون کی حکومت زمین پر قائم نہیں ہے ۔ اگر مسلم ملکوں میں اسلامی قانون کی بنیاد پر معاشرہ کی تنظیم کر دی جائے تو نہ صرف ہمارے تمام اندرونی مسائل حل ہو جائیں گے بلکہ عالمی سطح پر مسلمان دوبارہ وہی مقام حاصل کر لیں گے جو ماضی میں ایک ہزار برس تک انہیں حاصل تھا ۔
ان تحریکوں نے اسلام کی تعلیمات کو جس طرح سیاسی اصطلاحوں میں بیان کیا وہ ، خاص طور پر موجودہ صدی کے نصف اول کے ماحول میں ، بہت سے مسلمانوں کو اسلام کے حق میں وقت کا بہترین قصیدہ معلوم ہوا ۔ وہ سیاسی مشاعرہ کے اس اسلامی پنڈال میں آسانی سے جمع ہوگئے ۔ تاہم یہ مشاعرہ دیر تک باقی نہ رہ سکا ۔ ان تحریکوں کا ذہن چوں کہ اسلام کی سیاسی تشریح سے بنا تھا ، قدرتی طور پر ایسا ہوا کہ وہ بہت جلد اپنے ملکوں کی "غیر اسلامی" حکومتوں سے ٹکراگئیں ۔ یہ ٹکراؤ ہر ایک کے حق میں چھری اور خربوزے کا ٹکراؤ ثابت ہوا۔ مصر کے انور السادات نے اقتدار پر قبضہ کے بعد (۱۹۷۱ء) اپنے سیاسی حریفوں کو انتباہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ جو میری مخالفت کرے گا ، میں اس کو قیمہ بنا دوں گا (حاضر مہ مسلم حکمرانوں کے یہ ارادے سب سے زیادہ جن کے حق میں صحیح ثابت ہوئے ہیں ، وہ یہی اسلامی نظام کی علم بردار جماعتیں ہیں ۔ انھوں نے ہر ملک میں ان جماعتوں کو قیمہ بنا کر رکھ دیا ہے ، اب کسی بھی ملک میں ان کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ۔
اسلامی نظام کی علم بردار جماعتوں کی یہ ناکامی محض ان کے سیاسی حریفوں کی شقاوت کا نتیجہ نہیں ہے۔ خود ان کے رہنماؤں کا یہ انتہائی غلط اندازہ شامل ہے کہ انھوں نے سمجھا کہ وہ مقامی مسلمانوں کے ووٹ سے اسلامی حکومت بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں ۔ وہ اس تاریخی حقیقت کو بھول گئے کہ حکومتیں ہمیشہ وقت کے غالب افکار ۔
کے جلو میں بنتی ہیں۔ موجودہ زمانہ کا فکری ڈھانچہ تمام تر سیکولر بنیادوں پر قائم ہے۔ ایسی حالت میں کسی کے لئے ممکن نہیں وہ اپنے ملک میں اسلام کا سیاسی جزیوہ بنا سکے، جب تک کہ وہ زمانی افکار کے ڈھانچہ کو توڑنے میں کامیاب نہ ہو گا۔ تعمیر و استحکام سے میری مراد رہ فکری حلقہ ہے جس کا کہنا یہ تھا کہ اجنبی اقتدار سے براہ راست سیاسی تصادم نہ کیا جائے، اس کو بطور چھتری استعمال کرتے ہوئے غیر سیاسی دائرہ دل میں اپنے کام کو جاری رکھا جائے۔ بد قسمتی سے یہی وہ ذہن ہے جو موجودہ دور کے مسلمانوں میں سب سے کم پایا گیا ہے۔ مفتی محمد عبدہ نے پیرس میں زمانہ قیام (مرسم 1888) سے متعلق اپنے استاد جمال الدین افغانی کا ایک تاثر نقل کیا ہے۔ محمد عبدہ نے ایک گفتگو کے دوران اپنے استاد سے کہا کہ انگریزوں اور فرانسیسیوں سے سیاسی تصادم کا بظاہر کوئی فائدہ دکھائی نہیں دیتا۔ جب کہ دوسری طرف ہمارے لئے کام کا ایک ایسا میدان کھلا ہوا ہے جس میں ہم یقینی نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ اور امریکہ میں اسلام کی تبلیغ۔ ہم کیوں نہ ایسا کریں کہ اپنے کو سیاسی نشانہ سے ہٹا دیں اور خاموشی سے تبلیغ و تعلیم کے کام میں لگ جائیں۔ جمال الدین افغانی کی انقلابی طبیعت کو یہ تجویز حقیر معلوم ہوئی۔ انھوں نے کہا: امن انت مثبت (تم پست حوصلگی کی باتیں کرتے ہو)
اس پورے دور میں تعمیر و استحکام کے مقصد کے تحت اٹھنے والی کوئی قابل لحاظ تحریک نظر نہیں آتی۔ رہنماؤں کا حال یہ رہا کہ وہ "۔ زمانہ با تو نساز تو با زمانہ ستیز" جیسے رومانی تصورات پر فدا ہوتے رہے، کسی کی سمجھ میں وہ حقیقت پسندانہ طریق کار نہ آسکا جس کو بد نام طور پر حالی - ۱۸۳۷) نے ان لفظوں میں بیان کیا تھا: چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی ۔
ہندوستان میں اس سلسلہ میں دو کشتی مثالیں ملتی ہیں، وہ بھی بد نام شخصیتوں کی میری مراد سر سید احمد خاں (۱۸۹۸ - ۱۸۱۷) اور مرزا غلام احمد قادیانی (۱۹۰۸ - ۱۸۳۰) سے ہے۔ اول الذکر کا کہنا تھا کہ انگریز نے اگرچہ سیاسی کام کا راستہ بند کر رکھا ہے مگر سیاست کے علاوہ دوسرے میدانوں میں تعمیر و ترقی کے دروازے کھلے ہوئے ہیں: حکومت نے آزادیاں تم کو دی ہیں ترقی کی راہیں سراسر کھلی ہیں تعلیم اور اقتصادیات جو نقبیہ چیزوں کی اساس ہے، ان میں ہم کسی رکاوٹ کے بغیر آگے بڑھ سکتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسی امکان کو ایک اور میدان میں تلاش کیا۔ یہ دعوت و تبلیغ کا میدان تھا۔ ان کا خیال تھا کہ دعوت کی راہ سے ہم نہ صرف ملک کے طبقات میں اپنے لئے کام کے مواقع پاسکتے ہیں بلکہ حکمراں قوم کے اندر بھی ہمارے لئے جدو جہد کا میدان کھلا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ یہ کام خود اسلام کا اہم ترین مقصود ہے اور بالا خراس غلبہ تک بھی پہنچانے والا ہے جہاں ہم سیاسی زور آزمائی کے ذریعہ ناکام طور پر پہنچنا چاہتے ہیں۔
یہ دونوں تحریکیں، اپنی ابتدائی شکل میں، نہایت مفید اور دور رس تحریکیں تھیں مگر بد قسمتی سے وہ عام مسلمانوں کو اپنے ساتھ نہ لے سکیں۔ اس کی وجہ دو طرفہ تھی۔ ایک طرف ہمارے رہنماؤں کا ذہن سامراج دشمن خیالات سے اتنا زیادہ ماؤف ہو چکا تھا کہ کسی اور انداز سے سوچنا ان کے لئے ممکن نہ رہا تھا۔ ہر وہ شخص انھیں سامراج کا ایجنٹ
دکھائی دیتا تھا ، جو سامراج سے سیاسی مقابلہ کی بات نہ کرے ۔ اس کی آخری حد یہ ہے کہ علی گڑھ کے سابق استاد پروفیسر آرنلڈ کی قیمتی کتاب پر یچنگ آف اسلام ہمارے رہنماؤں کو سامراجی اغراض کے تحت لکھی ہوئی کتاب نظر آئی۔ کیونکہ اس میں تلوار کے بجائے پرامن تبلیغ کو اسلام کی اشاعت کا ذریعہ بتایا گیا تھا !
دوسری وجہ یہ ہوئی کہ اس نظریہ کے دونوں علم بردار اس اہلیت کا ثبوت نہ دے سکے کہ وہ اپنے نقطہ نظر کی صحیح وکالت کر سکتے ہیں۔ سرسید احمد خاں نے اپنے موقف کی حمایت کے لیے یہ نادانی کی کہ قرآن کو انیسویں صدی کے مغربی افکار پر ڈھالنا شروع کر دیا، ان کے اخلاص کے ثبوت کے لیے یہ کافی ہے کہ انہوں نے تہذیب الاخلاق کو اپنے ذاتی فکر کا فائدہ قرار دے کر اس کو علی گڑھ کالج سے علیحدہ رکھنے کی کوشش کی۔ مگر یہ تقسیم عملی طور پر ممکن نہ ہوسکی اور ایک صحیح کام کے لئے غلط استدلال نے ان کے مشن کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ بنا دیا۔
اسی قسم کی غلطی دوسری شکل میں مرزا غلام احمد قادیانی نے کی ۔ انہوں نے اپنے کام کا آغاز کیا تو یہ وہ وقت تھا جبکہ سارے مسلم رہنما انگریز کے خلاف جہاد حرّیت میں مصروف تھے۔ ان پر جوش مجاہدین کو محسوس ہوا کہ قادیانی مشن مسلمانوں کو مقدس جہاد کے محاذ سے ہٹا کر پر امن تبلیغ کے میدان میں لگا دینا چاہتا ہے ۔ مرزا صاحب نے اس کے جواب میں کہا کہ جہاد (یعنی سیاسی مقابلہ) کوئی مستقل شرعی حکم نہیں ہے۔ وہ صرف دفاعی ضرورت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ مجاہدین حریت کے لئے یہ جواب تسلی بخش ثابت نہ ہو سکا ۔ انہوں نے فتویٰ دیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی انگریزوں کے ایجنٹ اب مرزا صاحب نے ایک اور قدم بڑھایا ۔ انھوں نے اپنی بات کو مستند ثابت کرنے کے لئے کہنا شروع کیا کہ ان پر وحی آتی ہے اور وہ جو کچھ بولتے ہیں خدا کی طرف سے بولتے ہیں۔ یہ دعویٰ اپنی تمام تر غلطی کے باوجود، قدیم زمانہ میں انوکھا نہ تھا کیونکہ ہمارے بہت سے بزرگ، مثال کے طور پر شاہ ولی اللہ (۶۳ ۱۷ – ۱۸۰۳ء) بھی: الہمنی ربی (میرے رب نے مجھ کو الہام کیا) جیسی زبان میں کلام کرتے ہیں۔ تاہم مرزا صاحب کی غلطی میں مزید شناعت اس لئے پیدا ہوگئی کہ انھوں نے صاف لفظوں میں اپنے رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کر دیا جو ختم نبوت کے بعد، اجماعی طور پر کفر کو مستلزم ہے۔ ان چیزوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ دو فریقوں کے درمیان جو گفتگو " حالات کے لحاظ سے اسلامی عمل کی منصوبہ بندی" کے عنوان پر ہونی چاہئے تھی ، وہ قرآن کی تفسیر جدید اور نبوت محمدی کے بعد دوسری نبوت جیسے مسائل پر مرکوز ہوگئی۔ میں اگر سرسید احمد خاں اور مرزا غلام احمد قادیانی کے مخالفین غلطی پر تھے تو آخر میں سرسید اور مرزا قادیانی شدید تر غلطیوں کا شکار ہو گئے اور ملت کے حصہ میں کفر و فسق کے فتووں کے سوا اور کچھ نہ آیا۔
مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے زیر اہتمام ۲۳ - ۲۵ جنوری ۱۹۷۸ء کو ایک سیمینار ہوا ۔ عنوان تھا : "اسلام ایک تغیر پذیر دنیا میں" ISLAM IN A CHANGING WORLD یہ مقالہ اس موقع پر ۲۵ جنوری کی نشست میں پڑھا گیا ۔