پہلا قدم : اسلامی درس گاہ
Al-Risala, June 1978, pp. 46–48
By Maulana Wahiduddin Khan
سر آر تھر کیتھ (1855 - 1956) نے مصر کی قدیم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
THE EGYPTIANS WERE CONQUERED NOT BY THE SWORD, BUT BY THE KORAN Sir Arthur Keith, A New Theory of Human Evolution London, Watts & Co. 1950, P. 303 مصریوں کو کسی تلوار نے فتح نہیں کیا بلکہ قرآن نے فتح کیا۔ انگریز مبصر نے مصر کے سلسلے میں اسلام کی جس نظریاتی طاقت کا اعتراف کیا ہے، وہ تاریخی اور افریقہ کے اس پورے خطے کے لئے صحیح ہے جس کو آج ہم اسلامی دنیا کے نام سے جانتے ہیں۔ ایسا کیوں کرو ہوا کہ یہ ساری قومیں نہ صرف اپنا مذہب بلکہ زبان تک بدل کر اسلامی برادری میں شامل ہو گئیں۔ جواب یہ ہے کہ مدرسوں کے ذریعہ۔ دورِ اول کے مسلمان عرب سے نکل کر اطراف کے تمام ملکوں میں پھیل گئے۔ انھوں نے اپنی اسلامی ہم کے مرکز کے طور پر جگہ جگہ اسلامی مدرسے قائم کئے ۔ ان مدرسوں میں لوگوں کو عربی زبان سکھائی جاتی تھی اور قرآن و حدیث پڑھایا جاتا تھا۔ ان مدرسوں سے جو لوگ پڑھ کر نکلتے، وہ اپنی اپنی بستیوں میں جاکر دوبارہ اسی قسم کے ادارے قائم کرتے۔ مدرسوں کو بنیاد بنا کر کام کرنے کا یہی طریقہ تھا جس نے ایک سو برس کے اندر اندر اس وقت کی آباد دنیا کے بڑے حصے کے مذہب، تہذیب اور زبان کو بدل ڈالا۔
قرآن ایک دائمی معجزہ ہے۔ خالق کائنات نے اس کے ذریعے اپنے بندوں سے کلام کیا ہے وہ اس دنیا میں خدا اور بندہ کا مقام اتصال ہے، وہ دلوں کو گرما تا ہے اور شعور کو بیدار کرتا ہے۔ اس کے اعلی مضامین اور اس کا آسمانی ادب اتنا اثر انگیز ہے کہ جو شخص بھی قرآن کو سمجھ کر پڑھتا ہے، اس کی صداقت کو ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اسی طرح رسول کی زندگی اور آپ کے اصحاب کے حالات انسانی تاریخ کا انتہائی حیرت ناک انقلابی واقعہ ہیں جو زندگیوں کو گرمانے کی بے پناہ صلاحیت دورِ اول کے مدرسے بس انہی چیزوں کو زندہ کرنے کے ادارے تھے۔ وہ سادہ طور پر عربی زبان سکھا کر آدمی کا قرآن و حدیث سے وابستہ کر دیتے تھے۔ اس کے بعد آدمی ایمان اور حرارت کے ان خزانوں سے براہ راست اپنا دین اخذ کرنے علم دین اس کے لئے صحبت رسول اور صحبت صحابہ کے مہم معنی بن جاتا تھا ۔ خدا کی کتاب اس کی فطرت کو جگاتی تھی۔ رسول اور آپ کے اصحاب کی انقلابی زندگیاں اس کے سینہ میں عمل کی آگ بھر دیتی تھیں۔ اس طرح زندہ انسانوں کی وہ فوج تیار ہوتی تھی جوز کے لئے جینے اور خدا کے لئے مرنے کے سوا کوئی اور بات اس دنیا میں نہ جانتی تھی۔
آج ہمارے یہاں پہلے سے بھی زیادہ بڑی تعداد میں مدرسے قائم ہیں مگر آج ان مدرسوں کا وہ فائدہ ظاہر نہیں ہو ا ہے جو دور اول میں ظاہر ہو رہا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مدرسے اپنے ڈھانچے کے اعتبار سے اس سے بالکل مختلف ہیں جو صحابہ و تابعین نے قائم کئے تھے۔ موجودہ زمانہ کے مدرسوں میں تعلیم دین کو ایک فن بنا دیا گیا ہے۔ قرآن اس لئے اترا کہ اس کو پڑھ کر لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوں اور ان کے دل خدا کی یاد سے دہل اٹھیں۔ مگر ان مدرسوں کے نصاب میں قرآن کو صرف ضمنی مقام رسول کی زندگی اور صحابہ کے حالات جو تاریخ انسانی میں آتش فشاں کی حیثیت رکھتے ہیں ان کو سرے سے پڑھایا ہی نہیں جاتا۔ احادیث و آثار کا مقام ہمارے مدارس میں صرف یہ ہے کہ ان کو عنوان بنا کر جزئیات فقہ کے کچھ خود ساختہ مسائل پر لامتناہی بحثیں جاری رکھی جاسکیں۔ اس کے ساتھ "علوم آلیہ" کے نام پر جو فنون پڑھائے جاتے ہیں وہ اتنے فرسودہ
ہیں کہ ذہن کو جمود اور لایعنی موشگافیوں کا عادی بنانے کے سوا کوئی دوسری خدمت انجام نہیں دے سکتے۔ اسلامی مدرسہ کی فضا کو اللہ کی بڑائی کے چرچے سے معمور رہنا چاہئے۔ مگر ہمارے موجودہ تعلیمی ادارے زوال کی جس سطح پر ہیں وہ یہ ہے کہ ہر ایک نے اپنے کچھ زندہ یا مردہ اکابر بنالیے ہیں اور مدرسہ کی تمام سرگرمیاں بس، انھیں بزرگوں کی کبریائی کا سبق دینے کے لئے وقف رہتی ہیں۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ یہاں لوگوں کو ایمانی حرارت کا سبق ملے، یہاں اعلیٰ انسانی کردار ڈھلیں۔ یہاں خدا و آخرت کی تڑپ رکھنے والے لوگ پیدا ہوں، یہاں سے اسلام کا وہ سیلاب اٹھے جو دور اول کے مدرسوں سے اٹھا تھا اور ایک عالم پر چھا گیا تھا۔
چڑیا گھر میں لوگ ہنسی خوشی گھوم رہے ہیں۔ اچانک ذمہ داروں کی طرف سے اعلان ہوتا ہے کہ ایک شیر کٹہرے سے باہر آگیا ہے۔ اس وقت اس خبر کو جاننے کے معنے کیا ہوں گے صرف ایک : جلد سے جلد بھاگ کر شیر سے بچنے کی اس خبر کا علم ہوتے ہی چڑیا گھر کی تمام سرگرمیاں شیر کے مسئلہ کے گرد سمٹ آئیں گی۔ شیر کا علم اور شیر کا خوف، دونوں اس وقت ہم معنی الفاظ بن جائیں گے۔
اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ دینی تعلیم کا مطلب کیا ہے۔ دینی تعلیم کا مقصد بندے کو اس کے خدا سے متعارف کرنا ہے۔ انسانی شعور کو تربیت دے کر اس سطح پر لانا ہے جہاں وہ اپنے خالق اور مالک کو جان سکے اور اس کے ساتھ وہ تعلق قائم کرے جو حقیقت واقعہ کے اعتبار سے مطلوب ہے۔ یہ آگہی اگر کسی کے اندر پیدا ہو جائے تو تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ وہی واقعہ بدرجہ نہایت شدت کے ساتھ ظہور میں آئے گا جو شیر کے چھوٹنے کی خبر سن کر چڑیا گھر کے ٹرین میں ہوتا ہے۔ شیر کا خالق شیر سے بھی زیادہ طاقت ورہے۔ ہم شیر کو گولی مار سکتے ہیں کسی بند مکان میں گھس کر شیر سے بچ سکتے ہیں۔ مگر رب العالمین کی پکڑ سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ اس لئے حقیقی دینی تعلیم جس ماحول میں وجود میں آجائے، وہ خوف خدا کا ماحول بن جائے گا۔ خدا کا علم اور خدا کا خوف دونوں ہم معنی الفاظ بن جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس تعلیمی ادارہ میں خوف خدا کی فضا پیدا نہ ہو، وہ اور جو کچھ بھی ہو، دینی تعلیم کا ادارہ نہیں ہوسکتا۔ قرآن کی رو سے عالم وہی ہے جو خدا سے ڈرنے والا ہو:
إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰؤُ (فاطر - ۲۸) اللہ سے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
اعلمكم بالله اشدكم له خشية (تغیر نسفی ) تم میں سب سے زیادہ عالم وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرتا ہے۔
یہاں اس سلسلہ میں چند مزید اقوال نقل کئے جاتے ہیں :
ابن مسعود: ليس العلم بكثرة الرواية إنما العلم خشية الله علم کثرت روایت کا نام نہیں ہے۔ علم نام ہے اللہ سے خوف کا جامع بيان العلم وفضله - جزء ثانی ، صفحه ۲۵ مجاہد : الفقيه من خاف الله (۴۹) فقیہ وہ ہے جو اللہ سے ڈرے عطا ء: من خشى الله فهو عالم (۴۹) جو اللہ سے ڈرے وہی عالم ہے
حسن بصری : العالم من خشی الرحمٰن بالغیب (تفسیر ابن کثیر) عالم وہ ہے جو دیکھے بغیر اور سے ڈرے موجودہ اسلامی درس گاہوں کو اس معیار جانچا جائے تو وہ اس کیفیت سے بالکل خالی نظر آئیں گی۔ وجہ یہ ہے کہ ان مدرسوں اور دارالعلوموں کی بنیاد " خوف خدا " پر رکھی ہی نہیں گئی۔ ان کا مقصد بعض " فنون" کی تعلیم ہے اور ان فنون کے علمابہر حال ان اداروں سے کثیر تعداد میں نکل رہے ہیں۔ اپنے تاسیسی مقصد کے اعتبار سے ممکن ہے وہ ناکام نہ ہوں۔ مگر حقیقی علم دین پیدا کرنے کے اعتبار سے بلاشبہ وہ مکمل طور پر وہ ناکام ہیں۔ امام مالک کا قول ہے : لن یصلح آخرھان الامۃ الا بما صلح بہ اولھا ( اس امت کے آخر کی اصلاح بھی اسی طریقہ کی پیروی سے ہوگی جس سے امت کے اول کی اصلاح ہوئی تھی ) یہ قول موجودہ حالات کے لئے مکمل طور پر صادق آتا ہے۔ اس امت کے ابتدائی حصہ کے اندر جو زندگی اور انقلاب آیا تھا۔ وہ قرآن اور رسول کے ذریعہ آیا تھا۔ آج بھی قرآن اور رسول کی سنت کو بنیاد بنا کر دوبارہ امت کے اندر انقلاب لایا جاسکتا ہے۔ اسلام کے احیاء کے لئے بہترین قابل عمل آغاز یہ ہے کہ قدیم طرز کی درس گاہیں قائم کی جائیں جن میں تعلیم کی بنیاد قرآن اللہ سیرت ہو نہ کہ بعد کے پیدا شدہ فنون۔
ضرورت ہے کہ دوبارہ دور اول کے طرز کے مدرسے قائم ہوں اور ان کو بنیاد بنا کر اصلاح امت کا کام کیا ان مدارس کا نصاب بالکل سادہ اور غیر فنی ہونا چاہئے ۔ موجودہ حالات کے لحاظ سے ہم اس کو چار مرحلوں پر تقسیم کرسکتے ہیں :