Al-Risala · July 1978

ابعد نا هم عن الحق وطرد نا هم عن الہدیٰ

Al-Risala, July 1978, pp. 4–5

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی خدا نے ان کو ہدایت کے راستے سے ہٹا دیا اور حق سے دور کر دیا ۔ اس لعنت“ کے بہت سے درجے ہیں ۔ جب بھی خدا پرستی کا کوئی دعوے دار گروہ اپنے دعوے کے تقاضے پورے کرنا چھوڑ دیتا ہے تو اس کے اوپر اس عمل کی ابتدا ہو جاتی ہے اور مسلسل بڑھتی رہتی ہے ۔ یہ عمل جب تک درمیانی مرحلوں میں ہوتا ہے واپسی کا امکان باقی رہتا مگر جب لوگ اپنے انحراف میں اس انتہائی درجے تک پہنچ جائیں جس درجے تک یہود پہنچ گئے تو خدا کی طرف سے ان کے اوپر لعنت کی تکمیل کر دی جاتی ہے ۔ اس کے بعد ان کا حق کی طرف واپس آنا ممکن نہیں رہتا۔ لعنت کا یہ عمل کن شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے ، اس کے پانچ خاص مظاہر قرآن میں بتائے گئے ہیں۔ دل کا سخت ہو جانا ــــــــ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص یا گروہ خدا پر ایمان رکھنے کے باوجود اس کے تقاضوں کو مسلسل نظر انداز کرتا رہتا ہے تو اس کا ضمیر کُند ہو جاتا ہے ۔ اس کے اندر سے وہ لطیف احساسات ختم ہو جاتے ہیں جو آدمی کو باطل کے خلاف بے چین رکھتے ہیں اور حق کی طرف اسے کھینچتے رہتے ہیں۔ حق پرستی کی قوی ترین دلیلیں اس کو بے وزن معلوم ہوتی ہیں ، خدا اور رسول کے صریح ارشادات سامنے آنے کے باوجود اس کے اندر یہ جذبہ نہیں ابھرتا کہ وہ اپنی غلط روش کو چھوڑ دے۔

کلام الہی میں تحریف ــــــــ یعنی ان کے اندر اتنی ڈھٹائی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بدلنے کے بجائے خدا کے کلام کو بدلنا شروع کر دیتے ہیں ۔ کلام الہی کی حیثیت ان کے نزدیک یہ نہیں رہتی کہ وہ انھیں راستہ بتائے بلکہ اس کا کام یہ ہو جاتا ہے کہ وہ ان کے غلط اعمال کی تصدیق کرے۔ اس مقصد کے لئے وہ اس کی غلط تاویلیں کرتے ہیں ، وہ خدا کے قانون کے ساتھ اس قسم کا عمل کرنے لگتے ہیں جو وکالت خانوں میں انسانی قانون کے ساتھ ہوتا ہے ، وہ خدا کے کلام کو اس کی صحیح جگہ سے ہٹا دیتے ہیں ۔

تعلیمات تعلیمات الہی کے بڑے حصے کو بھلا دینا۔ یہاں بھلا دینے سے مراد ترک کر دینا ہے۔ یعنی دین کی بعض شکلیں تو ضرور اب بھی ان کے یہاں موجود رہتی ہیں، مگر اس کے بڑے حصے یا دوسرے لفظوں میں اس کی روح کو وہ چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔ کسی صاحب کتاب گروہ کی یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب دین مقصد زندگی کی حیثیت سے ان کے درمیان باقی نہیں رہتا۔ جب ایمان ایک زندہ شعور کے بجائے ایک روایتی عقیدے کی حیثیت اختیار کرلیتا ہے۔ اس وقت ان لوگوں کی زندگی کے حقیقی مسائل کچھ اور ہوتے ہیں۔ اس وقت ان کے ذہن اور ان کے جذبات کسی اور سمت میں کام کرنے لگتے ہیں۔ البتہ دین کا اقرار اور دین کی بعض خارجی شکلیں اب بھی ان کے یہاں موجود رہتی ہیں، مگر وہ محض ایک نسلی اور روایتی چیز کی حیثیت سے ان کے اوپر چکی ہوئی ہوتی ہیں، اسے زیادہ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ خیانت یہ چوتھی چیز ہے جن کو ان لفظوں میں ظاہر فرمایا ہے " اور تم برابر ان کی خیانتوں سے مطلع ہوتے " خیانت کے معنی ہیں۔ کسی شخص سے جس عمل کی توقع کی جائے اس کے خلاف کام کرنا۔ مثلاً عربی میں کہتے ہیں۔ سَیْفُہَ ٗ اس کی تلوار نے خیانت کی) یعنی آدمی نے اپنے دشمن کے مقابلے میں تلوار پر جو بھروسہ کیا تھا، اس میں تلوار پوری اس سے معلوم ہوا کہ لعنت زدہ گروہ سے اس کا کردار رخصت ہونے لگتا ہے، اس کے قول و فعل میں مطابقت باقی نہیں رہتی۔ وہ وعدہ کرتا ہے مگر اس سے وفا نہیں کرتا۔ دوسروں سے فائدہ اٹھا کر دوسروں کے جو حقوق وہ اپنے اوپر عائد کرتا ہے ان کو پورا کرنے کی اسے کوئی فکر نہیں ہوتی۔ وہ نہ تو ان حقوق کو تسلیم کرتا جو مالک کی طرف سے بندے کے اوپر عائد ہوتے ہیں اور نہ اس اعتماد میں پورا اترتا جو ایک انسان دوسرے انسان سے کرتا ہے۔ باہمی عناد اور بغض۔ یعنی جب انہوں نے خدا کی رسی چھوڑ دی تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر شخص کا قبلہ الگ الگ ہو گیا۔ وہ باہم جڑے رہنے کے بجائے باہم متفرق ہو گئے۔ دینی معاملات میں ایک دوسرے کی تکفیر و تفسیق اور دنیوی معاملات میں ایک دوسرے کی لوٹ کھسوٹ ان کا طریقہ بن گیا۔ ان میں سے ہر شخص کے سامنے صرف ذاتی اغراض ہیں۔ اور جب ذاتی اغراض کسی گروہ کا قبلہ بن جائیں تو اختلافات اور کش مکش کا پیدا ہونا لازمی ہے۔ ذاتی اغراض کی پرستش کے ساتھ اتحاد باقی نہیں رہ سکتا۔ خدا کی رسی سے بندھا رہنا اتحاد و اتفاق پیدا کرتا ہے اور خدا کی رسی کو چھوڑ دینے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ آپس میں بغض و عداوت پھوٹ پڑے۔

اس تفصیل کے بعد بتایا گیا کہ جو لوگ ایسے کسی گروہ کی اصلاح کے لیے اٹھیں، ان کا اخلاق کس قسم کا ہونا چاہیے۔ "ان کو معاف کر دو اور ان سے درگزر کرو، اللہ یقیناً محسنین کو پسند کرتا ہے" ، یعنی ایسے گروہ کی نفسیات اس قسم کی ہو جاتی ہیں کہ جب انہیں کچھ خدا کے بندے ان کے بھولے ہوئے سبق کی طرف بلاتے ہیں تو ان کی طرف سے جو جواب ملتا ہے وہ نہایت اشتعال انگیز اور داعی کے لئے سخت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ داعی خود بھی اسی قسم کا جواب نہ دینے لگے جو بگڑے ہوئے گروہ کی طرف سے اس کو مل رہا ہے بلکہ وہ ایسی باتوں کو نظر انداز کر کے اپنا کام جاری رکھے۔ آخر میں فرمایا۔ "بہت جلد اللہ انہیں بتائے گا کہ وہ کیا کر رہے ہیں" ، یعنی داعی کو اپنے فرض کی ادائیگی کی فکر ہونی چاہیے، نہ کہ مخاطب کے انجام کی۔ یہ کام اللہ کے ذمہ ہے اور وقت آنے پر وہی اس کا فیصلہ کرے گا۔

Printed page