جواب کے دو طریقے
Al-Risala, July 1978, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
جب غصہ دلانے والی بات کی جائے تو اس کے جواب کے دو طریقے ہیں ۔ ایک یہ کہ آدمی بپھر اٹھے اور ناقد پر طعن طعن کرنے لگے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ناقد کی بات کو بالکل ٹھنڈے ذہن سے سنا جائے ، اس کی بات کے غیر متعلق پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے اصل بات کا جواب بالکل سادہ طریقے سے دے دیا جائے ۔ دونوں طریقوں میں صرف دوسرا طریقہ اسلامی طریقہ ہے۔ اس سلسلے میں یہاں چند مثالیں نقل کی جاتی ہیں ۔ ابن عبد البر اندلسی (م463 ھ) لکھتے ہیں: رویان طاؤس اور وہب بن منبہ التقيا فقال عنت کما کا کویٹ کٹ بانو لوگوں کو بعض لوگوں پر چڑھایا تھا۔ یہ سن کر وہب نے کہا اللہ کی پناہ ۔ پھر دونوں چپ ہو گئے۔ راوی سے پوچھا۔ کیا دونوں میں بحث ہوئی ۔ جواب دیا نہیں۔
مولانا مولانا احمد علی لاہوری کے صاحبزادہ مولانا حبیب اللہ لاہوری نے مولانا سید حسین احمد مدنی (1956ء - 1869ء) کا ایک واقعہ بیان کیا ہے۔ دارالعلوم دیوبند میں مولانا مدنی کے دورۂ حدیث میں شرکاء د رس میں سے کسی طالب علم کو شرارت اس نے مولانا کے پاس ایک رقعہ بھیجا اور اس کے ذریعہ تحریری طور پر یہ سوال کیا کہ آپ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آپ حرامی ہیں۔ مولانا مدنی نے رقعہ لے کر رکھ لیا طاوس لوهب يا ابا عبد اللہ بلغني عنك امرعظیم۔ قال تقول ان الله حمل قوم لوط بعضهم على بعض۔ قال اعوذ بالله۔ فقلت هل اختصما قال لا۔
جامع بیان العلم وفضلہ، جزء ثانی، صفحه ۹۵ ہم سے بیان کیا گیا کہ طاؤس اور وہب بن منبہ دونوں ایک دوسرے سے ملے۔ طاؤس نے وہب سے کہا۔ ابو عبد اللہ، آپ کے بارے میں مجھے ایک بڑی سنگین بات انھوں نے پوچھا وہ کیا۔ طاؤس نے کہا، میں نے سنا کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ ہی نے تو قوم لوط کے بعض اور پاسنت میں نوٹی جواب ہیں دیا۔ میں جب طلبہ جمع ہوئے تو آپ نے فرمایا " کسی دوست نے مجھ کو رقعہ لکھا ہے کہ تو اپنے باپ سے نہیں ہے ۔ یہ سنتے ہی تمام مجلس میں ہیجان بر پا ہو گیا۔ غیظ وغضب سے بھر گئے کہ کس گستاخ نے یہ حرکت کی ہے۔ مولانا مدنی نے فرمایا " خبر دار کسی کو غصہ کرنے کی ضرورت میرا حق ہے کہ میں سوال کرنے والے کی تسلی کروں " پھر سنجیدگی کے ساتھ فرمایا۔ " میں ضلع فیض آباد قصبه ٹانڈہ کارہنے والا ہوں ۔ اس وقت بھی میرے والدین کے نکاح کے گواہ زندہ ہیں ۔ خط بھیج کر یا وہاں جاکر سمجھ