Al-Risala · July 1978

کیا جائے۔“

Al-Risala, July 1978, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

ہفت روزہ خدام الدین لاہور ۔ جنوری ۱۹۵۸ء، صفحہ ۳۸ اب ایک برعکس مثال لیجئے ۔

ایک بزرگ کی تقریروں اور اجتماعات میں ایک شخص کثرت سے آتا تھا۔ وہ بزرگ کا بہت معتقد ہو گیا۔ تاہم بعد کو وہ کسی وجہ سے بگڑ گیا اور بزرگ کے خلاف تنقیدیں کرنے لگا۔ اس سلسلے میں بزرگ موصوف لکھتے ہیں : ” بات یہ ہے کہ اس شخص کے دل میں مرزا غلام احمد قادیانی کی عقیدت شدت کے ساتھ موجود تھی، میں نے اپنی ایک تقریر میں ڈنکے کی چوٹ کہا کہ جو شخص حضرت مسیح کی ولادت بن باپ کے نہیں مانتا، میرے نزدیک قرآن مجید پر ایمان ہی نہیں رکھتا۔ میری یہ بات اس شخص کے نہان خانہ قلب کے بت خانہ پر ٹھیک نشانہ اس نے میرے اجتماعات میں آنا بند کر دیا اور مرزائیانہ ہتھکنڈوں سے کام لے کر میرے خلاف لوگوں کو بھڑکانے اور اکسانے لگا۔ اس کے بعد مذکورہ شخص کو خطاب کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

”یہ تیری وہ دبی ہوئی قادیانی رگ ہے جس کو چھیڑنے کا میں مرتکب ہوا ہوں، پھر اگر کوئی مردانگی شمہ بھی ہے تو سامنے آ اور اصل مسئلہ پر بات کر! باختہ عورتوں کے مانند ”بھائیوں“ کا نام لے لے کر اصل میں ”یاروں“ کے لئے رونے سے کیا حاصل ؟ اب جو یہ جملہ قلم سے نکلا تو ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ یہ مردانگی کا ”شُبہ“ بھی اس شخص کے بارے میں کیسے ہو گیا ؟ کی ہڈیوں کی ٹی بی کا مارا ہوا اور چہرے اور سرد دنوں کے کے اعتبار سے بالکل ’فارغ البال‘ اور خارش زدہ انسان جو ساری عمر شادی کے بارے میں سوچ بھی نہ سکا، اب آخری عمر میں گشتیوں کا سا کردار اور بھس میں آگ لگا کر تما شادیکھنے کا انداز نہ اختیار کرے تو آخر اور کیا کرے ؟ ماہنامہ - - مئی ۱۹۷۸ء ، صفحہ ۲۷ وہ انھیں کھلاڑیوں کی بی ٹیم ہوگی پائی اندرا حکومت میں وزیر کا بینہ ان سے موجودہ جنتا حکومت کے بارے میں پوچھا گیا کہ سرجوی مشین کی سست رفتاری اور اس کا طریقہ کار پہلے تھا وہی اب بھی کیوں ہے۔ حکمران پارٹی کی تبدیلی کے باوجود اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ مسٹر پائی نے جواب دیا "لوگوں نے موجودہ حکومت سے کسی بہتر چیز کی توقع کیوں کر لی تھی۔ وہ آخر ہماری ہی "بی ٹیم" تو ہیں۔ اس میں ان مسلمانوں کے لئے بھی سبق ہے جو ایک ملکی پارٹی کو ہٹا کر دوسری ملکی پارٹی کو برسر اقتدار لانے میں ملت کے مستقبل کا سیاسی خواب دیکھا کرتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ایک کو ہٹا کر جس دوسرے کو وہ اوپر لائیں گے، وہ بھی پچھلے کھلاڑیوں ہی کی "بی ٹیم" ہوگی۔

Printed page