کتاب ”زلزلہ قیامت‘ کا ایک صفحہ
Al-Risala, July 1978, pp. 8–9
By Maulana Wahiduddin Khan
موجووہ زمانہ کے بعض ملحد مفکرین نے دیکھا کہ انسان کسی طرح مذہب کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتا۔ انھوں نے مذہب کو ایک ناگزیر نفسیاتی ضرورت کے طور پر مان لیا۔ البتہ انھوں نے کہا کہ مذہب کی بنیاد خدائی الہام پر نہیں ہونی چاہیے۔ اس فکر کی ترجمانی کرتے ہوئے جولین ہکسلے نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے: RELIGION WITHOUT REVELATION (مذہب بغیر الہام)۔ اس قسم کا مذہب تو ابھی علاؤدین نہیں آیا۔ تاہم ”اسلام بغیر آخرت‘، کے بہت سے نسخے ہمارے یہاں رایج ہو گئے ہیں۔ اس اسلام میں سب کچھ ہے مگر جہنم کا اندیشہ نہیں۔ اصحاب رسول کو جو اسلام ملا تھا، اس نے انھیں اس درجہ بے قرار کر دیا تھا کہ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا جہنم کی آگ انھیں کے لیے بھڑکائی گئی ہے۔ اب اسلام کے مجاہدین نے ایسا اسلام دریافت کر لیا ہے جس کے خزانے میں صرف جنت ہی جہنم کا اس میں کہیں گزرنہیں۔
کچھ لوگوں کے لئے ان کی دنیا کی کامیابی ہی اس بات کی یقینی علامت ہے کہ ان کی آخرت بھی ضرور کچھ لوگوں نے ایسے زندہ یا مردہ بزرگ پالئے ہیں جن کا دامن تھام لینے کے بعد اب ان کے لئے آخرت کا کوئی خطرہ نہیں۔ کچھ لوگ اتنے خوش قسمت ہیں کہ معمولی معمولی باتوں پر صبح و شام ان کے لئے جنت کے محلات رزرو ہورہے ہیں، پھر ان کو آخرت سے ڈرنے کی کیا ضرورت۔ کچھ لوگوں کو اسلام نے عالیشان سیاسی منصوبے دئے ہیں اور دہ قائدانہ اعزازات کے زیر سایہ جنت کا راستہ طے کر رہے ہیں۔ نے اور بھی زیادہ آسان راستہ تلاش کر لیا ہے ۔ جگمگاتے پنڈالوں میں تقریر کے کرتب دکھاؤ اور سیدھے جنت الفردوس میں پہنچ جاؤ۔
اس قسم کا اسلام خواہ دنیا میں کتنا ہی دلفریب نظر آتا ہو، آخرت میں اس کی کوئی قیمت نہ ہوگی۔ آخرت میں کام آنے والا اسلام وہ ہے جو آدمی کی زندگی میں بھونچال بن کر داخل ہوا ہو۔ جو قیامت کے زلزلہ سے پہلے آدمی کے لئے زلزلہ ثابت ہو۔ اس قسم کا اسلام جب کسی کو ملتا ہے تو اس کے لئے ہر معاملہ خدا کا معاملہ بن جاتا ہے۔ ”چھوٹے“ کو بے عزت کرتے ہوئے اس کو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا وہ رب العالمین کے سفیر کو بے عزت کر رہا ہے۔ ”بڑے“ کی خوشامد کرتے ہوئے اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ خدا کی غیرت کو چیلنج کر رہا ہے۔ حق واضح ہونے کے بعد اس کو نظر انداز کرنا اس کے نزدیک ایسا ہی بن جاتا ہے جیسے کوئی شخص جنت اور جہنم کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھے، پھر بھی جنت کو چھوڑ کر جہنم میں کو دپڑے ۔
مولانا وحید الدین خاں ادارہ الرسالہ کی تازہ پیشکش جس کو پڑھ کر دل دہل اٹھیں اور آنکھیں آنسو بہائیں جمعیۃ بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ دہلی 110006