آخرت کی دنیا
Al-Risala, July 1978, pp. 10–13
By Maulana Wahiduddin Khan
قطب جنوبی کے سمندروں میں برف کے بہت بڑے تودے ہوتے ہیں جن کو آئس برگ (Iceberg) کہا یہ برفانی پہاڑ سطح سمندر پر تیرتے رہتے ہیں۔ ان کے حجم کا دس میں تقریبا نو حصہ پانی کے اندر ڈوبا رہتا ہے اور صرف ایک حصہ پانی کے اوپر دکھائی دیتا ہے۔ ایسی ہی کچھ مثال ہماری زندگی کی ہے۔ خدا نے انسان کو ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ پھر اس کی عمر کا لگ بھگ سو سال موجودہ دنیا میں رکھ کر بقیہ تمام عمر کو موت کے بعد آنے والی دوسری دنیا میں ڈال دیا۔ ہم ماں کے پیٹ میں پرورش پا کر اس دنیا میں آنکھ کھولتے ہیں۔ اور پھر بچپن ، جوانی اور بڑھاپا کے مرحلوں سے گزر کر مرجاتے ہیں۔ تاہم موت ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں۔ موت ہم کو دوبارہ ایک نئے پیٹ، کائنات کے پیٹ میں ڈال دیتی ہے۔ اس کے بعد انسان ایک اور عالم میں آنکھ کھولتا ہے۔ یہ آخرت کا عالم ہے۔ دنیا عارضی ہے، آخرت کی دنیا ابدی ہے۔ موجودہ دنیا کی تکلیفیں بھی معمولی ہیں اور لذتیں بھی معمولی۔ مگر اگلی دنیا میں دونوں چیزیں اپنی آخری انتہا پر ہوں گی۔ وہاں جس کے حصہ میں تکلیف آئے گی، وہ بدترین عذاب میں ہمیشہ کے لئے تڑپتا رہے گا، جس کے حصے میں راحتیں آئیں گی، وہ کمال درجہ کی راحتوں میں ابدی طور پر خوشیوں اور لذتوں کا لطف اٹھاتا رہے گا۔
امتحان کی مصلحت کی بنا پر آخرت کی دنیا کو ہماری نظروں سے اوجھل کر دیا گیا ہے۔ مگر ہمارے گردوپپیش آدمی اگر یہ جان لے کہ موت کے دوسری طرف بھی ایک دنیا ہے جو زیادہ مکمل ہے تو موجودہ زندگی اس کے لئے بے حد مانمنی ہو جائے گی۔ وہ اپنی جدوجہد کی منزل کو پالے اس کی زندگی ــــــــ آخرت رخنی زندگی ہو جائے گی (Akhirat Oriented Life)
بالآخر ایک شان دار کامیابی پر ختم ہوگی۔ برعکس جو شخص موت کے بعد آنے والی دنیا کو نہ دیکھ رہا ہو اس کی زندگی دنیا رخی زندگی ہوگی۔ کوششیں اسی دنیا میں بھٹکتی رہیں گی۔ بعد جب وہ اگلی وسیع تر دنیا میں داخل ہوگا تو اچانک اس کو معلوم ہوگا کہ یہاں کے لئے اس کے پاس کچھ نہیں وَمَالَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقِ (بقرہ ۲۰۰)
ایسی نشانیاں ہیں جن کے ذریعہ سے ہم آخرت کی دنیا کو سمجھ سکتے ہیں۔
ایک کمرہ ہے ۔ اس میں کچھ آدمی بیٹھے ہوئے ہیں ۔ دیوار ، فرنیچر ، آدمی وغیرہ کی صورت میں جو چیزیں کمرہ کے اندر نظر آرہی ہیں ، بظاہر وہی کمرہ کی کل دنیا ہے ۔ اس کے سوا کوئی اور دنیا وہاں موجود نہیں۔ لیکن جب کمرہ میں رکھا ہوا ہیویل ورژن سٹھ کھولا جاتا ہے تو اچانک معلوم ہوتا ہے کہ ہماری اسی دنیا کے اندر ایک اور دنیا اپنے تمام اجزاء کے ساتھ موجود تھی ۔ اس میں حرکت تھی ، آوازیں تھیں ۔ اس میں انسان جیسی ہستیاں تھیں ۔ واقعات ہو رہے تھے ۔ یہ سب مکمل طور پر موجود تھا مگر وہ دیکھنے والوں کے لئے غیر موجود بنا ہوا تھا۔ جب ہیڈیل ورژن کھولا گیا تو معلوم ہوا کہ ہماری محسوس دنیا کے اندر ایک اور مکمل دنیا موجود تھی۔ اگر چہ اس سے پہلے وہ ہم کو دکھائی نہیں دے رہی تھی ۔
یہ ایک معلوم مثال ہے جس سے آخرت کے معاملہ کو سمجھا جا سکتا ہے ۔ ہماری دنیا ایک وہرا وجود کی حیثیت رکھتی ہے ۔ یہاں ہماری محسوس دنیا کے اندر ایک اور دنیا چھپی ہوئی ہے ۔ یہ آخرت کی دنیا ہے ۔ ہم اپنی زندگی کا ابتدائی حصہ نظر آنے والی دنیا میں گزارتے ہیں ۔ اس کے بعد موجودہ دنیا میں ہماری آنکھ بند ہو جاتی ہے اور ہم کو ایک اور دنیا میں پہنچا دیا جاتا ہے ۔ انسانی زندگی کا اصل مسئلہ یہی ہے کہ وہ آئندہ آنے والی دنیا میں کامیابی حاصل کرے ۔ کیوں کہ وہ دنیا ابدی بھی ہے اور حقیقی بھی۔ اُس دنیا کی تکلیفوں اور راحتوں کے مقابلہ میں موجودہ دنیا کی تکلیفوں اور راحتوں کی کوئی حقیقت نہیں۔
موجودہ دنیا میں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان آزاد ہے کہ جو چاہے کرے ۔ مگر یہ آزادی صرف اس لئے ہے کہ انسان حالت امتحان میں ہے ۔ یہاں آدمی کو جانچ کر دیکھا جا رہا ہے کہ کون اچھا ہے ، کون برا ۔ اس جانچ کے لئے آزادانہ فضا ضروری تھی ۔ ضروری تھا کہ آدمی کو اس بات کا کھلا موقع دیا جائے کہ وہ جس طرح چاہے رہے اور جس قسم کی چاہے زندگی گزارے ۔ موجودہ ابتدائی دنیا اسی خاص ضرورت کے تحت خاص ڈھنگ سے بنائی گئی ہے۔ حالات یہاں جمع کئے گئے ہیں جو کسی آدمی کو عمل کا موقع دینے اور اس کے بعد اس پر حجت قائم کرنے کے لئے ضروری ہیں۔ اس طرح لوگوں کو کسوٹی پر رکھ کر دیکھا جا رہا ہے کہ کون اگلی دنیا میں عزت کی جگہ دیئے جانے کے قابل ہے اور کون اپنے ظلم اور نالائقی کی بنا پر اس کا مستحق ہے کہ اس کو ذلت کے گڑھے میں ڈال دیا جائے ۔ موجودہ دنیا میں دونوں قسم کے آدمی ملے جلے ہیں ۔ آخرت کی دنیا میں دونوں کو ان کے آج کے ریکارڈ کے مطابق چھانٹ دیا جائے گا۔ ایک طرف تکلیفوں اور مصیبتوں کا جہنم ہو گا اور برے لوگوں کو اس میں پر عذاب زندگی گزارنے کے لئے ڈال دیا جائے گا۔ دوسری طرف ہر قسم کی راحتوں اور خوشیوں کی جنت ہو گی اور نیک لوگوں کو اس کا دائمی وارث بنا دیا جائے گا کہ دہ اس میں اپنا ٹھکانا بنائیں اور خوشیوں بھری زندگی گزاریں ۔
اب آخرت کے مسئلہ کو ایک اور پہلو سے دیکھئے ۔
کسی درخت پر کوئی پتھر اٹکا ہوا ہے، آپ اس کے نیچے سے گزرے، یکایک پتھر آپ کے اوپر گرا اور آپ کا سر ٹوٹ گیا، کیا آپ اس درخت پر خفا ہوں گے اور اس سے لڑائی کریں گے۔ خاموشی سے اپنا سر پکڑے ہوئے گھر چلے جائیں گے یا اسپتال جاکر اپنا علاج کرائیں گے۔ اس کے برعکس اگر کوئی آدمی جان بوجھ کر آپ کے اوپر ایک پتھر کھینچ مارے اور آپ کا چہرہ زخمی ہو جائے تو آپ اس کے اوپر برس پڑتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کا بھی سر توڑ ڈالیں جس طرح اس نے آپ کا سر توڑا ہے اور اگر خود اس کا سر توڑ نہیں سکتے تو ملہ کو عدالت میں لے جاتے ہیں اور وہاں اس کو قانون کے مطابق سزا دی جاتی ہے۔ اسی طرح ایک اور مثال لیجئے ۔ آم کا ایک بڑا درخت ہے جس پر فصل کے موقع پر ہزاروں کی تعداد میں پھل آتے ہیں۔ یہ پھل پکتے ہیں اور ایک ایک کرکے گر جاتے ہیں یا توڑ لئے جاتے ہیں ، خود آم اپنے ایک پھل کو بھی نہیں کھاتا۔ مگر کوئی شخص کبھی یہ کہتا ہوا نہیں سنا گیا کہ افسوس کہ آم نے اتنے پھل پیدا کئے مگر وہ خود اپنے پھل کو نہ کھا سکا؛ اس کے برعکس ایک آدمی زندگی بھر کی کمائی سے اپنے لئے ایک شاندار مکان بنائے اور مکان کی تعمیر مکمل ہوتے ہی مر جائے تو ہر دیکھنے والا شخص کہے گا کہ کیسا افسوسناک ہے یہ واقعہ کہ آدمی نے محنت کرکے ایک گھر بنایا اور اس کے اندر رہنا اس کو نصیب نہ ہوا۔
معلوم ہوا کہ درخت اور انسان میں بہت بڑا فرق ہے، درخت کوئی "برائی" کرتا ہے تو اس کو اس برائی کی سزا نہیں دی جاتی ۔ اسی طرح درخت کوئی "نیکی" کرتا ہے تو یہ ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ اس کو اس کی نیکی کا انعام دیا جائے، جب کہ انسان کے لئے ہم دونوں چیزیں چاہتے ہیں ۔ پکارتا ہے کہ انسان کوئی بُرا عمل کرے تو اس کو ضرور اس کی سزا دی جائے اور انسان کوئی اچھا عمل کرے تو ضرور اس کو اس کا انعام ملے۔
سارے انسانوں کی فطرت یہی مانگ رہی ہے اور تمام علوم متفقہ طور پر اس کی اہمیت کی تصدیق مگر کیسی عجیب بات ہے کہ یہی چیز اس دنیا میں حاصل کرنا ممکن نہیں۔ ہٹلر نے ایک ایسی جنگ چھیڑی جس میں پانچ کروڑ آدمی ہلاک ہو گئے۔ کیا کوئی بھی حکومت ہٹلر کو اس کے اس جرم کی سزا دے سکتی ہے۔ ہم زیادہ سے زیادہ یہ سکتے ہیں کہ ہٹلر کو گولی مار کر ختم کر دیں حالانکہ یہ جرم اتنا بڑا ہے کہ ہٹلر اگر ۵ کروڑ بار زندہ ہواور5کروڑ بارگولی مار کر ہلاک کیا جائے تب بھی اس کی سزا مکمل نہیں ہوگی۔ پھر یہ معاملہ ہٹلر اور اسٹالن جیسے ظالموں کا ہی نہیں حقیقت یہ ہے کہ ایک عام معمولی آدمی بھی جب کوئی جرم کرتا ہے تو اس کے جرم کے اثرات اتنے وسیع ہوتے ہیں کہ نہ کوئی دنیوی عدالت، اس کے سارے پہلوؤں کی تحقیق کر سکتی اور نہ کوئی جیل خانہ اس کو اس کے جرم کی پوری پوری سزا دے سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص جو اس دنیا میں کوئی جرم کرتا ہے' وہ اپنے جرم کی حقیقی سزا پائے بغیر مر جاتا ہے۔ حالانکہ ساری انسانیت پکار رہی ہے کہ اس کو اس کے جرم کی پوری پوری سزا
یہی معاملہ انعام کا بھی ہے۔ ایک شخص کو اقتدار ملے مگر اقتدار پا کر وہ فرعون نہ بنے بلکہ عام
انسانوں کی طرح اپنے کو ایک انسان سمجھے اور اقتدار کو لوگوں کی حقیقی خدمت میں لگائے، کیا اس دنیا میں اس کو اس عمل کا بدلہ دیا جا سکتا ہے۔ ایک شخص اپنی محنت سے دولت کمائے اور اس دولت کو غریبوں اور محتاجوں کی ضرورتیں پوری کرنے میں صرف کر دے کیا اس کو اس عمل کا انعام دینا ممکن ہے۔ علم میں کمال پیدا کرتا ہے اور اس علم کو انسانیت کی تعمیر میں لگا دیتا ہے، کیا اس کو اس خدمت کا معاوضہ دیا جا سکتا ہے۔ ی نہیں بلکہ ایک شخص کے ایک چھوٹے سے نیک عمل کا انعام دنیا بھی اس دنیا کے محدود حالات میں ممکن نہیں جس طرح ایک بُرا عمل بے شمار طریقوں سے انسان کے لئے مصیبت بنتا ہے۔ اسی طرح ایک نیک عمل بے شمار طریقوں سے انسانیت کے لئے خیر و فلاح کا باعث ہوتا ہے۔ کون ہے جو اس کے اعداد و شمار جمع کر سکے اور اس کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دے۔ اسی کے ساتھ ایک بات اور بھی ہے۔ میں آدمی بیماری، بڑھاپا، موت اور اس طرح کے دوسرے ناموافق قوانین سے بندھا ہوا ہے۔ کسی کے حسن عمل کا اندازہ کر کے اس کے لئے اس کے کارناموں کے مطابق ایک "جنت" بنا دی جائے، جب بھی وہ اس سے حقیقی طور پر لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔ بے شمار انسانوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں بالفرض کسی کو مسرت مل جائے، جب بھی وہ چند لمحات سے زیادہ اس کا لطف نہیں اٹھا سکتا۔ ہر انسان اپنے لئے ایک "جنت" چاہتا ہے مگر تجربہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں جنت نہیں بن سکتی۔ جنت بنانے کے لئے کوئی اور دنیا درکار ہے جو موجودہ دنیا کی محدودیتوں اور نقائص سے
یہ صورت حال پکا رہی ہے کہ موجودہ دنیا نامکمل ہے اور اس دنیا کی تکمیل کے لئے ایک اور دنیا وجود میں آنی چاہئے۔
جب ہم کائنات کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ بے پناہ حد تک وسیع معلوم ہوتی ہے۔ اس کے امکانات لا محدود یہ زمین، جس پر انسان اپنی زندگی بناتا ہے، وہ عظیم کائنات کے اتھاہ امکانات کا ایک بے حد حقیر ہماری یہ زمین، کائنات کا اس سے بھی زیادہ چھوٹا حصہ ہے جتنا سارے سمندروں کے کنارے پائی جانے والی ریت کے مقابلہ میں ایک ذرہ۔ کائنات نے اپنے اتھاہ امکانات میں سے صرف ایک حقیر جزو ہی کو زمین پر کیوں ظاہر کیا۔ عقیدہ اسی سوال کا جواب ہے۔ انسان کے لئے یہاں جو امکانات ہیں، ان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ اس کا ابتدائی حصہ موجودہ دنیا میں ہم کو مل رہا ہے اور اس کا آخری اور کامل حصہ آخرت کی دنیا میں دیا جائیگا۔ معلوم ہوا کہ کچھ لوگ الرسالہ کی طرف سے اجازت نامہ دکھا کر رقم وصول کر رہے ہیں۔ ہم نے کسی کو اس قسم کا اجازت نامہ نہیں دیا ہے۔ ایسی کوئی تحریر محض فرضی ہے۔