Al-Risala · July 1978

Why life could not have been more perfect

Al-Risala, July 1978, pp. 15–16

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان کے دیوتا مسکرا اٹھتے ہیں جب وجے نگر | کرو اس سے جدا بنو گئی ۔

بہنوں کے گھونگر بجتے ہیں ۔ | " و بے نگر سسٹرس " کا جگمگاتا ہوا امکان اب فروری ۱۹۷۹ میں دونوں " رقص را نیوں‘‘ " کی | تاریک ہو چکا ہے ۔ دو جوان لڑکیوں کے کھونے کے بعد شادی روایتی جشن کے ساتھ ہو گئی ۔ | ماں باپ کو زندگی بے معنی نظر آتی ہے۔ ہر طرف مایوسی شادی کے صرف دو دن بعد جے شری کے آئینے نے | پھیلی ہوئی ہے۔ " نرتہیہ نندرنی " اسکول اگرچہ نومبر بتایا کہ اس کی ٹھوڑی کے پاس ایک گو منرا ابھر رہا ہے ۔ | ۱۹۷۵ سے دیبے شری آرٹس انٹرنیشنل " میں تبدیل دواؤں اور آپریشن کے بعد گھر والوں نے سمجھا کہ ان | ہو چکا ہے۔ مگر تیسری بہن پدما اپنی ظاہری کامیابیوں کی جے شری اچھی ہو چکی ہے ۔ مگر مقررہ جگہ پر درد کا باقی | کے باوجود ہر آن اپنے کو اسی راستہ پر پاتی ہے جدھر رہنا جے شری کو پریشان کئے ہوئے تھا۔ " بے خوف | اس سے پہلے اس کی محبوب بہنیں جا چکی ہیں ۔ نہ ہو جے شری " ڈاکٹر نے کہا " تمھارے جیسی جوان | سوال اس کو بھی بے چین کئے ہوئے ہے جس کو لے کر اور تندرست عورت کو کینسر کس طرح ہو سکتا ہے " اس | اس کی دونوں بہنیں اس دنیا سے چلی گئیں ۔ کے بعد گوڑ ٹا ایک ٹٹا ٹا میموریل اسپتال (بمبئی) کو جانچ | نہ زیادہ مکمل اور نہ بے عیب نہیں " ، اس کی نفسیاتی کے لئے بھیجا گیا ۔ رپورٹ نے بتایا کہ نندنی کے بعد اب | حالت کو رپورٹر (مسٹر ایس گنگولی) نے ایک جملہ میں اس کی بہن کو بھی کینسر ہو چکا ہے ۔ مرض ٹھوڑی اور سینہ | اس طرح ادا کیا ہے : سے گزر کر پیروں تک پہنچ گیا۔ ہر قسم کے بہترین علاج | A PSCHOLOGICAL AMPUTATION IS NO کے باوجود تکلیف بڑھتی گئی ۔ یہاں تک کہ ۱۸ مارچ ۱۹۷۴ | Eve's Weekly (Bombay) 2.6.1978 کو جے شری کی روح بھی ایک بھیانک جسم کو بستر پر چھوڑ | نفسیاتی قتل کسی بھی حال میں جسمانی قتل سے کم نہیں ہوتا۔ اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان (۸۵ - ۲۳ ھ) کا انتقال ہوا تو اس کے ایک بیٹے نے یہ شعر پڑھا : وما كان قيس هلكه هلك واحد | ولكنه بنيان قوم تمد ما قیس کی موت ایک شخص کی موت نہیں ۔ بلکہ قوم کی بنیاد گر گئی ہے ۔

عبد الملک کے بیٹے ولید بن عبد الملک (۹۶ - ۵۰ھ) نے سنا تو اس نے اپنے بھائی کو تنبیہ کی اور کہا کہ یہ تو مایوسی کی باتیں ہیں تم کو یوں کہنا چاہئے :

اذا سید منا خلا قام سید | قؤل لما قال الكرام فعول جب ہمارا کوئی سردار اٹھ جاتا ہے تو دوسرا سردار اس کی جگہ لے لیتا ہے جو قول و عمل میں ہمارے بڑوں کا جانشین ہوتا ہے

عن ابی امامۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ ابو امامہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یقول: ما استفاد المومن بعد تقوی اللہ خیراً اللہ کے خوف کے بعد مومن جو سب سے بہتر چیز پاتا ہے لہ من زوجۃ صالحۃ ان امرہا وہ ایک صالح بیوی ہے۔ اگر وہ اس سے کوئی بات اطاعتہ وان نظر الیہا سرته د کہتا ہے تو وہ اس کی تعمیل کرتی ہے۔ اگر وہ اس کی طرف ان اقسم علیہا ابرته وان غاب دیکھتا ہے تو وہ اس کو خوش کر دیتی ہے۔ اگر وہ اس عنہا نصحتہ في نفسہا وماله کے اوپر کوئی قول دے دیتا ہے تو وہ اس کو پورا کرتی ہے (ابن ماجه ) اگر وہ اس سے دور ہوتا ہے تو وہ اپنے آپ کی اور اس کے مال کی حفاظت کرتی ہے۔

مکمل عورت وہ ہے، جو اپنے شوہر کی مکمل رفیق بن سکے • فرینک بورمن (FRANK BORMAN) ایک امریکی خلا باز ہیں۔ انھوں نے ایک ایسی خلائی کشتی میں پرواز کی تھا جس میں ان کے علاوہ ایک خاتون خلا باز بھی سوار کرائی گئی تھی۔ مسٹر بورمن نے ایک بیان میں کہا : HAVING WOMEN ON SPACE-CRAFT WAS OKAY EXCEPT THAT IT WOULD BE UPSETTING TO PUT A MALE AND A FEMALE TOO CLOSE TOGETHER FOR A LONG TIME. خلائی کشتی میں عورت کو بٹھانا اچھا ہے۔ البتہ ایک عورت اور ایک مرد کو دیر تک اتنا زیادہ قریب رکھنا ابتری کا باعث ہو گا مسٹر بورمن کے اس بیان نے مساوات مرد وزن کے بہت سے علم برداروں کو بوکھلا دیا ہے۔ ایک امریکی خاتون نے اپنی پر جوش تقریر میں کہا :

” مسٹر فرینک بورمن کا وجود کہاں ہوتا اگر ان کے ماں اور باپ اکٹھا نہ ہوتے ہوتے “ سائنسی تحقیقات نیز علی زندگی کے حقائق نے مساوات مرد وزن کے قدیم تصور کو سخت جھٹکا پہنچایا ہے۔ ایک امریکی خاتون مسز مارگن (MARABEL MORGAN) دو بچوں کی ماں ہیں۔ انھوں نے حال ہی ایک کتاب شائع کی ہے جس کا نام ہے : مکمل عورت (TOTAL WOMAN)

اس کتاب میں انھوں نے اپنی امریکی بہنوں کو ”خوش گوار ازدواجی زندگی“ کے لئے یہ سادہ گر بتایا ہے : BE NICE TO YOUR HUSBAND, STOP NAGGING HIM AND UNDERSTAND HIS NEEDS. اپنے شوہر کی اچھی رفیق بنو۔ اس کو ملامت کرنا چھوڑ دو، اس کی ضرورتوں کو سمجھو۔ یہ کتاب ایک سال سے بھی کم عرصہ میں تین ملین کی تعداد میں فروخت ہو چکی ہے۔ موصوفہ کے نزدیک مرد کی رفیق بننا عورت کی تکمیل ہے نہ کہ آزادانہ زندگی کا مالک بننا۔ (ٹائمس آف انڈیا ۔ ۲ فروری ۱۹۷۰ء)

Printed page