مغربی دنیا میں اسلام
Al-Risala, July 1978, pp. 19–20
By Maulana Wahiduddin Khan
پہلے ”اونٹوں“ کے ذریعہ داخل ہوا تھا اب وہ یہاں ”پٹرول“ کے ذریعہ داخل ہو رہا ہے چیزیں دراصل اس بات کا نشان ہیں کہ آسٹریلیا مسلم ملکوں خاص طور پر عربوں سے تعلقات بڑھا رہا ہے۔ پٹرول نے آج کی دنیا میں عربوں کی اہمیت بڑھا دی ہے اور اسی کے ساتھ اسلام کی بھی۔
۱۹۵۱ء سے مسلمانوں کی نئی قسم آسٹریلیا میں داخل ہونا شروع ہوئی ہے۔ یہ مختلف مسلم ملکوں کے طلبہ ہیں۔ 1978 میں ان کی تعداد تقریباً پانچ ہزار تھی۔ مسلم سفارت خانوں کا عملہ بھی مسلمانوں کی تعداد بڑھا برسبین (BRISBANE) میں ۱۹۰۷ء میں ایک مسجد بنائی گئی تھی جو اب خستہ حالت میں تھی۔ کے مسلم طلبہ نے اس کی نئی تعمیر کا منصوبہ بنایا اس کی لاگت کا اندازہ ۷۵ ہزار آسٹریلیائی ڈالرتھا۔ 1970 میں بن کر تیار ہو گئی مگر اس کی لاگت اصل اندازہ کے مقابلہ میں صرف نصف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مقامی مسلمانوں نے رضا کارانہ طور پر مزدوروں کا کام کیا۔ سڈنی نہ صرف آسٹریلیا کا سب سے بڑا شہر ہے بلکہ یہاں مسلم آبادی بھی سب سے زیادہ ہے یہاں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ۵۰ ہزار ہے۔ آسٹریلیا کی سب سے بڑی مسجد بھی جلد ہی یہاں مکمل ہو جائے گی۔ اس کی لاگت کا اندازہ پانچ لاکھ آسٹریلیائی ڈالر ہے۔ اسی طرح ملبورن میں پانچ لاکھ آسٹریلیائی ڈالر کی لاگت سے ایک مسجد تیار ہوئی ہے ۔ اس کی لاگت زیادہ تر بیرونی مسلم ملکوں کے عطیات سے پوری کی گئی ہے ۔ مثلاً صباح ، سعودی عرب، بحرین ، کویت ۔
سعودی عرب نے آسٹریلیا میں مساجد کی تعمیر کے لئے خصوصی طور پر پچاس ہزار ڈالر کی رقم دی ہے ۔ آسٹریلیا کے مختلف مقامات پر جو مساجد ہیں ، ان کا نقشہ یہاں دیا جارہا ہے ۔
یہ معلومات آسٹریلین ہائی کمیشن کے ایک بلیٹن سے لی گئی ہیں جو اپریل ۱۹۷۸ میں دہلی سے شائع کیا گیا ہے ۔ بلیٹن کا عنوان ہے :
MUSLIMS IN AUSTRALIA دفتر کو الرسالہ کے حسب ذیل شمارے درکار ہیں :
جو لوگ فراہم کر سکتے ہوں، براہ کرم مطلع فرمائیں جمعيتہ بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ دہلی ۔
کائنات میں ماورائے انسان ذہانت کے آثار مل رہے ہیں آج کل سائنسی حلقوں میں بالائے خلا ذہانت (Extraterrestrial Intelligence) کا بہت چرچا مختلف شعبوں میں ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ زمین کے علاوہ خلا کے دوسرے حصوں میں بھی ذہین ہستیاں، اغلباً انسان سے زیادہ زمین موجود ہیں۔ حتیٰ کہ بہت سے سائنس داں اس سنہری صبح کے منتظر ہیں جب کہ وہ خلائی ریڈیو کا پیغام (Extraterrestrial Radio Message) وصول کر سکیں گے۔ بالائے خلا ذہانت سے سائنس دانوں کی مراد یہ ہوتی ہے کہ زمین کے علاوہ کائنات کے دوسرے مقامات پر بھی ہماری جیسی مخلوقات پائی جاتی ہیں۔ دو امریکی فلکیات دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہماری کہکشاں میں اربین ستارے ایسے ہیں جو نظام شمسی کی مانند سیاراتی نظام رکھتے ہیں۔ ان نظامات میں زندگی کا وجود اسی طرح ممکن ہے جس طرح موجودہ زمین پر۔ ابھی تک ایسا کوئی کرہ دریافت نہیں ہوا ہے جہاں زمین جیسی زندگیاں پائی جاتی ہوں۔ سائنسی دریافتوں کا قافلہ بہت تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔ سائنس ماورائے انسان "ذہانت" تک پہنچ چکی اگر کسی دن وہ دریافت کرے کہ یہ ماورائے انسان ذہانت اپنی نوعیت کے اعتبار سے اتنی زیادہ ممتاز ہے کہ اس کو انسان جیسی ذہین ہستی کہنے کے بجائے خدا کہنا زیادہ صحیح ہوگا تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ اکثر خواب دیکھنے لگی کہ کوئی شخص آتا ہے اور اس کے ہونے والے بچہ کے بارے میں عجیب عجیب باتیں بتاتا ہے۔ بالآخر اس کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا۔ یہی وہ مشہور شاعر ہے جس کو دنیا عمروبن کلثوم کے نام سے جانتی ہے۔ تاریخ ادب کے ناقدین اس قصہ کو من گھڑت ان کے نزدیک یہ قصہ عمروبن کلثوم کی شہرت کے بعد فرضی طور پر بنا لیا گیا ہے۔ مگر اسی قسم کے، اس سے زیادہ من گھڑت قصے "بزرگوں" کے بارے میں تصنیف کر لئے گئے ہیں اور ان کو لوگ اس طرح پڑھتے اور سنتے ہیں جیسے وہ وحی آسمانی ہو۔ جس چیز کے ساتھ تقدس کا عنصر شامل ہو جائے وہ ہر جانچ سے غذائیں کھلائی جائیں۔
بالا تر ہو جاتی ہے۔ بالکل بے اصل کہانیوں کو لوگ اس طرح ماننے لگتے ہیں جیسے وہ کوئی حقیقی تاریخ ہو۔